بیاد: پنڈت ہری چند اختر

98

احمد امیر پاشا، بحرین
اپنے طاقتور اظہارئے اور متنوّع مزاج کی وجہ سے اُردو نے سماجی یگانگت اور علمی اشتراکِ عمل کا فریضہ جس حسن و خوبی سے سر انجام دیا ہے اس کی مثال زبانوں کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔مختلف النوع سماجوں، تہذیبوں اور نظریاتی اختلاف کے باوجود اُردو نے کئی صدیوں تک برِّ صغیر جنوبی ایشیاء میں با معنی عمرانی ہم آہنگی اور معاشرتی اشتراک کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ اس کو ایک قیمتی لسّانی اثاثے کے طور پر اگلی نسلوں کو بھی منتقل کیا۔
مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو،بحرین کا، مطمعِ نظر بھی یہی ہے کہ اس توانا زبان کا فروغ بھی اسی مادے اورثقافتی اصول کے مطابق ہونا چاہیئے جو اس کے ارتقاء کا ابتدائی سبب بنا۔حالانکہ ثقافتی تال میل زبانوں کا ہی مرہونِ منت ہوتا ہے تاہم بعد ازاں اپنے فروغ کے لئے زندہ زبانیں سماجی فراخدلی اور ثقافتی افہام و تفہیم کی محتاج ہوتی ہیں۔مذہبی اور مخصوص سیاسی نظریات کی رگڑ سے زبانوں کا اجتماعی کردار محدود ہو جاتا ہے اسی لئے اس کے فروغ میں معاشرتی بالغ نظری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ علمی اشتراکِ عمل کا دائرہ زیادہ وسیع ہو، اس حسّاس پس منظر میں مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردوکا لا ئحہِ عمل انتہائی مثبت اور قابلِ تعریف ہے کہ برِّ صغیر کے ان تمام علمائے اُردو کی فنّی خدمات کو ان کے حا لاتِ زندگی اور ادبی کمالات کے تناظر میں مئوثر اشاعتی کوششوں سے اجاگر کیا جائے ۔اس حوالے سے مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کی ادبی روش یہ ہے کہ ایک سال کسی مسلم شاعر تو اگلے سال کسی غیر مسلم شاعر کی یاد میں عالمی مشاعرے کا انعقاد عمل میں لایا جائے ۔اس دوران پورا سال اس شاعرِ موصوف کی غزلوں سے مصرعے منتخب کر کے تین طرحی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، مملکتِ بحرین کے مقامی شعراء کے علاوہ ہند و پاک سے ممتاز شعراء اپنی غزلیں ارسال کر کے ان طرحی نشستوں میں شریک ہوتے ہیں اس طرح ان طرحی نشستوں سے مقامی شعراء کو فنّی تحریک ملتی ہے اور نئے شعراء کو تربیت کے مواقع میسر آتے ہیں۔اس کے علاوہ عالمی مشاعرے کے لئے نامزد شاعر کے کلام و خدمات کے حوالے سے ہندوستان کی کسی معرووف جامعہ میں دو روزہ سیمینار منعقد کیا جاتا ہے جس میں اُردو کے نامور اساتذہ، نقاد اور اہلِ فن اپنی قیمتی نگارشات کے ساتھ شریک ہو تے ہیں۔بعد ازاں ان نگارشات کو کتابی شکل میں ایک مستقل علمی سرمائے کے طور پر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔اس قیمتی تصنیف کی رسمِ اجراء عالمی مشاعرے میں ادا کی جاتی ہے۔مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کی اس اشاعتی کاوش کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے، اس کا بھر پور ثبوت یہ کہ اس سال کے اوائل میں برِّ صغیر کے معروف شاعر اور نغمہ نگار مجروع سلطان پوری کی یاد میں عالمی مشاعرہ منعقد کیا گیا ، اس عالمی مشاعرے میں شریک شعراء کے کلام پر مشتمل ایک دیدہ زیب مجلّے کے علاوہ مجروح فہمی کے حوالے سے ممبئی یونیورسٹی میں منعقدی دو روزہ سیمینار سے حاصل شدہ قیمتی نگارشات کو ’’ مجروح فہمی ‘‘ کے عنوان سے مجلس فخرِ بحرین کے شعبہ اشاعت کے زیرِ اہتمام کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔ اس سیمینار میں مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کے سرپرست اور بانی شکیل احمد صبر حدی بنفسِ نفیس شریک ہوئے اور سیمینار کے شرکاء سے خطاب بھی کیا۔گزشتہ دنوں مجروح فہمی کا ایک نسخہ سرپرست وبانیِ مجلس شکیل احمد صبر حدی نے صدرِ جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کو بھی ایوانِ صدر میں پیش کیا،صدرِ جمہوریہ ہند نے بھی مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کی شائع کردہ اس کتاب کے بارے مین پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کوششوں کو نہ صرف سراہا بلکہ یہ کہا کہ آپکی علمی کوششوں کی بازگشت یہاں تک آ رہی ہے۔
آئندہ عالمی مشاعرے کے لئے اردو کے معروف شاعر اور صحافی پنڈت ہری چند اختر کا نام منتخب کیا گیا ہے ۔پنڈت ہری چند اختر شاعری میں مولانا ظفر علی خان کے شاگرد تھے۔ بسااوقات ان کا شعری اسلوب ناقدین کی نظر میں متنازعہ رہا تاہم ان کے اشعار قارئین کو دعوتِ فکر دیتے ہیں۔جدوجہدِ آزادی میں ان کی صحافیانہ خدمات بھی قابلِ ذکر تھیں۔ مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کے زیرِ اہتمام بیادِ پنڈت ہری چند اختر دوسری طرحی شعری نشست کا انعقاد ۱۹ ستمبر۲۰۱۹ء بروز جمعرات ، ایوانِ اُردو ، بمقام منطقہ سنَدعمل میں لایا گیا۔اس طرحی نشست کے لئے ہری چند اختر کے کلام سے دو مصرعوں کا انتخاب کیا گیا۔پہلا مصرعہ طرح، ’’ امیدوں سے دلِ برباد کو آباد کرتا ہوں ‘‘ دوسرا مصرعہ طرح ، ’’ محبت میں تپاکِ ظاہری سے کچھ نہیں ہوتا ‘‘
اس نشست کی صدارت عربی ادب کے معروف سکالر ڈاکٹر شعیب نگرامی نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی مجتنیٰ برلاس تھے۔اس نشست کی نظامت کے فرائض خرم عباسی نے سر انجام دئے۔اس طرحی نشست بیادپنڈت ہری چند اختر کے شرکاء سے اپنے استقبالیہ خطاب میں بانی و سرپرست شکیل احمد صبر حدی نے مجلس فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کی ادبی حکمتِ عملی اور صدرِ جمہوریہ ہند سے اپنی ملاقات کے حوالے سے بات کی۔انہوں نے علمی و ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے مجلس کی ادبی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس طرحی نشست کی ایک خاص بات سامعین کی کثیر تعداد میں شرکت تھی جس سے اس کا ادبی لطف دوبالا ہو گیا۔
اس طرحی نشست میں شریک شعراء کے طرحی کلام کی جھلک قارئین کی نذر کی جاتی ہے۔

احمد عادل-بحرین
میں اکثر اہتمامِ خاطرِ صیّاد کر تا ہوں
گنوا کر اپنے بال و پر قفس آباد کر تا ہوں
سجاتا ہوں کسی کی یاد سے میں غم کدہ اپنا
امیدوں سے دلِ برباد کو آباد کر تا ہوں

رخسار ناظم آبادی- بحرین
بھنور میں سب سے پہلے تو خدا کو یاد کرتا ہوں
ضروری کوششیں ساحل کی اس کے بعد کر تا ہوں
محبت سے پرندوں کی قفس میں پرورش کر کے
جب ان کے پر نکل آئیں ، انہیں آزاد کر تا ہوں

احمد امیر پاشا – بحرین
تم اپنا گائوں ، گھر نمبر ، سڑک بھی لازماً لکھنا
پتے میں اک پرانی سی گلی سے کچھ نہیں ہوتا
ہے پورے چاند سے جشنِ وصالِ یار کی رونق
دریچوں میں بھٹکتی روشنی سے کچھ نہیں ہوتا

ڈاکٹر سعدیہ بشیر -لاہور
کہاں اب دل سنبھلتا ہے ہنسی سے کچھ نہیں ہو تا
نہ ہو زندہ دلی تو زندگی سے کچھ نہیں ہوتا
وہی سجدہ گراں ہے جو ابھی دل پر نہیں اترا
محبت میں تپاکِ ظاہری سے کچھ نہیں ہوتا

طاہر عظیم – بحرین
اتنی زمیں ہے میری
جتنا دھرا ہوا ہوں
ہے موسمِ تمنّا
کیسا ہرا ہوا ہوں

ریاض شاہد- بحرین
خلوصِ دل نہ ہو تو بندگی سے کچھ نہیں ہوتا
جہاں حق ہو،بتانِ آزری سے کچھ نہیں ہوتا
صدائیں دو نہ بستی میںیہاں سب کے ہیں سب بہرے
جو مردہ دل ہیں ان کو زندگی سے کچھ نہین ہوتا

سعید سعدی – بحرین
وہ کہہ دے کُن تو ہو جائیں سبھی کی مشکلیں آساں
نہ ہو اس کی رضا شامل، کسی سے کچھ نہیں ہوتا
غموں نے ہم کو دیمک کی طرح کھایا ہے اندر سے
ہنسی سے کچھ نہیں ہوتا ،خوشی سے کچھ نہیں ہوتا

اسد اقبال – بحرین
پرندے روز اس کے نام پر آزاد کر تا ہوں
امیدوں سے دلِ برباد کو آباد کرتا ہوں
مجھے منظور ہے مرنا کہ توہینِ قفس ہے یہ
بہاروں سے اگر میں شکوہِ صیاد کر تا ہوں

انور کمال – بحرین
قفس کے ان پرندوں کو میں یوں آباد کر تا ہوں
جہاں صیّاد ہو تا ہے وہاں آزاد کرتا ہوں
تھے جتنے چارہ گر سب نے کہا اب کچھ نہیں ہوگا
چلو اچھا ہوا میں بھی کہاں فریاد کرا ہوں

نعیم رضا- بحرین
نہیں ہوتے عیاں چہرے اگر دن کے اجالے میں
چراغوں کی وہاں پر روشنی سے کچھ نہیں ہو تا
چلا جائے کبھی اپنا کوئی رخ کو چھپا کر جب
گلہ پھر تو کسی بھی اجنبی سے کچھ نہیں ہو تا

مانی عباسی – بحرین
میں اپنی شامِ تنہائی کو یوں آباد کر تا ہوں
لگا کر گیت نصرت کا تمھیں ہی یاد کرتا ہوں
تمھیں بننا ہے تو بے شک بنو سنگِ گراں جاناں
میں اپنے آنسوئوں کو تیشہِ فرہاد کرتا ہوں

ملے گی شیخ کو جنت ہمیں دوزخ عطا ہوگا
بس اتنی بات ہے!!جس کے لیے محشر بپا ہوگا

پنڈت ہری چند اختر

حصہ