اہلِ ایمان کا خیمہ

136

سب کچھ تیزی سے ہورہا ہے اور اس میں مزید تیزی آجائے گی، اور اب کھل کر سامنے آنا پڑے گا۔ چمگادڑ کی طرح دونوں جانب کھیلنے کے دن ختم ہوجائیں گے۔ یہ زمانہ اب بہت جلد گزر جائے گا، جس میں ہیوسٹن کے بڑے ہال میں ڈونلڈ ٹرمپ ہندوستان نہیں بلکہ ہندوئوں کو اپنا محبوب قرار دے رہا ہو اور ان کے ساتھ مل کر شدت پسند اسلام کے خلاف جنگ کا اعلان کررہا ہو۔ اسی دوران روس کے شہر ’’اورن برگ‘‘ (Orenburg) میں شنگھائی کارپوریشن آرگنائزیشن کے جھنڈے تلے بھارت اور پاکستان کی افواج عالمی دہشت گردی اور خطے کی سلامتی کے لیے مشترکہ جنگی مشقوں میں شریک ہوں۔
یہ عیاشی اب زیادہ دن نہیں چلے گی۔ آپ کو مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا جائے گا۔ عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے تذکرے میں بہت سے فتنوں کا تذکرہ کیا، یہاں تک کہ فتنہ ’’احلاس‘‘ کا ذکر بھی فرمایا، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ ایسی نفرت و عداوت اور قتل و غارت گری ہے کہ انسان ایک دوسرے سے بھاگے گا، اور باہم برسر پیکار رہے گا، پھر اس کے بعد خوش حالی کا فتنہ ہے جس کا فساد میرے اہلِ بیت کے ایک شخص کے پیروں کے نیچے سے رونما ہوگا، وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے، حالانکہ وہ مجھ سے نہ ہوگا، میرے دوست تو وہی ہیں جو متقی ہوں، پھر لوگ ایک شخص کی بیعت پر اتفاق کرلیں گے جو کم علم، کم عقل اور کم ہمت ہوگا، اس کے بعد ایک سیاہ تاریک فتنے اور اندھی مصیبت کا آغاز ہوگا جو اس امت کے ہر فرد کو پہنچ کر رہے گا، جب کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہوگیا تو وہ اور بھڑک اٹھے گا، جس میں صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا، یہاں تک کہ لوگ خود خیموں میں بٹ جائیں گے، ایک خیمہ اہلِ ایمان کا ہوگا جس میں کوئی منافق نہ ہوگا، اور ایک خیمہ اہلِ نفاق کا ہوگا جس میں کوئی ایمان دار نہ ہوگا۔‘‘ (سنن ابوداؤد، الفتن حدیث 4242، سلسلہ الصحیحہ 972)۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دورِ فتن کو ’’احلاس‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔ حلس اس موٹے اور کالے کپڑے کو کہتے ہیں جو اونٹ کے کجاوے کے نیچے ڈالا جاتا ہے۔ یہ کپڑا ہمیشہ اونٹ کی کوہان اور پیٹ سے چمٹا رہتا ہے اور یہ عموماً سیاہ ہوتا ہے۔ گویا احلاس کے فتنے کا یہ دور ایسا ہوگا جس سے ہماری جان نہیں چھوٹے گی، بلکہ ہم ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے ایک ایسے مقام پر کھڑے ہوں گے کہ ہمارے پاس اورکوئی راستہ ہی باقی نہیں رہے گا کہ یا تو ہم علی الاعلان حق کا ساتھ دینے والے خیمے میں آکر کھڑے ہوجائیں، یا پھر حق کی مخالفت کرنے والے خیمے میں چلے جائیں اور مسلمانوں کے خلاف ان کفارکے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لیں۔ اس آخری معرکے میں منافقت نہیں چلے گی۔ منافقت کی کوئی چھتری، کوئی پناہ گاہ یا کوئی روپ اب پناہ نہیں دے سکے گا۔ دوغلے پن والی اقوام، گروہ اور افراد کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہم کس جانب ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو آج فیصلہ کرلیں کہ وہ حق کے ساتھ ہیں۔ حزب اللہ یعنی اللہ کے گروہ کے ساتھ ہیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب حزب الشیاطین یعنی شیطانوں کے گروہ والے انہیں اپنے سے الگ کردیں گے۔
کس قدر بے شرمی اور ڈھٹائی سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیوسٹن میں بھارت کے ہندوؤں کو مخاطب کیا اور اس نے بالکل منافقت نہ کرتے ہوئے انھیں بھارتی انڈین نہیں کہا۔ اس سے زیادہ واضح تقسیم کیا ہوگی! اور پھر ایک مضحکہ خیز لفظ بولا ’’ہمارے بہادر امریکی فوجی‘‘ (Our brave American Soldiers) آدمی میں حیا، شرم اور غیرت نہ ہو اور سامنے ہجوم میں ستّر ہزار ہندو تالیاں بجانے کے لیے موجود ہوں، تو پھر آپ اس امریکی فوج کو بہادر کہہ سکتے ہیں جو ابھی ابھی اٹھارہ سالہ طویل جنگ میں طالبان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کھا چکی ہے۔ جس کے افغانستان اور عراق سے واپس آنے والے فوجیوں میں سے بائیس روزانہ خودکشی کرتے ہیں، جس کے ساڑھے چار لاکھ کے قریب فوجی ان جنگوں کے بعد اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھیں اور امریکا کو ان کے علاج پر ساٹھ ارب ڈالر سالانہ خرچ کرنے پڑ جائیں۔
یاد رکھو تاریخ کا سبق یہ ہے کہ امریکا کے 1872، برطانیہ کے 444، بھارت کے 293 اور دیگر یورپی ممالک کے کئی ہزار تھنک ٹینک… سب مل کر ایک پیش گوئی کریں کہ افغانستان میں رکھا گیا عالمی قدم اب صرف فتح سے ہی ہم کنار ہوگا، اور پھر ایک دن عقل و خرد کے ان تمام پجاریوں کے تمام دعوے عالمی ٹیکنالوجی کے ساتھ زمین بوس ہوجائیں۔ کیا وجہ ہے، کبھی اس پر کسی نے غور کیا ہے؟ وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ آج کے اس دورِ فتن کے آغاز میں ہی جس قوم نے یہ واضح اعلان کردیا تھا کہ ہم علی الاعلان حق کے خیمے میں ہیں، ہم کسی دوسری طاقت کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے فورم کی اجارہ داری۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بھی احترام کریں اور اللہ کے بھروسے پر جنگ بھی لڑیں۔ ہمیں توکل کی مکمل تصویر بننا ہوگا۔ ورنہ اللہ ہماری نصرت کے لیے نہیں آئے گا۔ کمال کی بات یہ ہے کہ طالبان کے پاس اللہ کی قوت و طاقت کے ساتھ ساتھ کسی دنیاوی قوت پر بھروسا کرنے والے شرک کے لیے بھی کچھ نہ تھا۔ ان کے پاس تو ایٹم بھی نہیں تھا کہ وہ پکارتے اگرآج ہمارے پاس ایٹم بم نہ ہوتا تو لوگ ہم پر چڑھ دوڑتے۔ یا پھر ہمیں تو ایٹم بم نے بچا لیا۔ ٹیکنالوجی اور اسلحے کی قوت کو نجات دہندہ اور تحفظ سمجھنے سے بڑا شرک اور اس سے بڑا نفاق کیا ہو سکتا ہے! اللہ نے انہیں اس شرک اور نفاق سے بھی بچایا۔ اللہ نے ان کے سامنے اپنی نشانیاں دس سال پہلے ہی واضح کردی تھیں کہ جب سوویت یونین ٹوٹا، ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوا تو اُس وقت اُس کے پاس45 ہزار ایٹمی ہتھیار تھے، ’’میرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نے نوازی‘‘ سب دھرے کے دھرے رہ گئے اور روس کے سرکاری راشن ڈپوؤں پر ڈبل روٹیاں لینے والوں کی لائنیں لگ گئیں۔
اقوام متحدہ کی راہ داریاں، انسانی حقوق کے فورم، عالمی برادری کے اجتماعات اب بے معنی ہوکر رہ جانے والے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے اقوام متحدہ نے عراق پر حملے کی اجازت نہیں دی تھی مگر امریکا اپنے حواریوں کے ساتھ وہاں حملہ آور ہوگیا۔ یاد رکھو وہ وقت قریب ہے جب تمہارا کوئی ساتھی نہ ہوگا، سوائے اہلِ ایمان کے، اور ایسے اہلِ ایمان جو صبح و شام اہلِ ایمان ہوں گے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’صبح ایمان والا شام کو، یا شام کو ایمان والا صبح کافر، یعنی وہ دنیاوی نفع کی خاطر اپنا دین بیچ ڈالے گا۔‘‘ (صحیح مسلم) ۔
اس سے پہلے کہ کفر اور نفاق کے خیمے والے تمہیں اپنی صفوں میں ناقابلِ بھروسا قرار دے کر خود نکال دیں، تمہارا روہنگیا مسلمانوں کی طرح کوئی وطن، شہریت اور پاسپورٹ بھی نہ رہے، خود نکل آؤ۔ اس سے پہلے کہ تمہیں اُن کے خیمے میں کھڑے رہنے کے لیے ایمان کا واضح انکار کرنا پڑے۔ ابھی تو تم اپنے مسلمان بھائی کو دہشت گرد کہہ کر قتل کررہے ہو، پھر تمہیں اپنے ہی مسلمانوں کو اپنا حریف اور مقابل سمجھ کر قتل کرنا پڑ جائے گا۔ ایسے وقت سے پہلے اعلان کردو کہ ہم اس خیمے کے لوگ ہیں جس میں مکمل ایمان ہوگا اور کوئی نفاق نہیں۔ سب اہلِ ایمان ہوں گے کوئی منافق نہیں۔

حصہ