آبادی کے لحاظ سے کراچی کو 150میوزیم کی ضرورت ہے

52

ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی منظور احمد کناسرو کی جسارت سے گفتگو

عارف میمن

محکمہ آثار قدیمہ ملک کا ایک گمنام ادارہ ہے جوانتھک محنت اوربنا فنڈز اورسائل کے آج بھی اپنے کام میں جتا ہوا ہے‘ اس کے باوجود یہ ادارہ اپنی پہچان بنانے میں ناکام رہا ۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ لوگوں میں آگاہی نہ ہونا بھی شامل ہے‘ جب کہ دوسری بڑی وجہ حکومتوں کی جانب سے اسے مسلسل نظرانداز کیاجانا بھی ہے۔ وطن عزیز میں اس ادارے کو اس کے شایان شان عزت ووقار دینے کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیاگیا۔ باہر کی دنیا میں محکمہ آثار قدیمہ کو ایک خاص مقام حاصل ہے وہاں لوگ محکمہ آثار قدیمہ کی محنت اورقابلیت کو نہ صرف سراہتے ہیں بلکہ انہیں وہ عزت وومقام بھی دیتے ہیں جو ان کا حق ہے ۔ سندھ میں محکمہ آثار قدیمہ کا حال چند برسوں تک انتہائی پسماندہ رہا‘تاہم منظور احمد کناسرو کی محنت اورقابلیت نے اس ادارے کو ایک جلا بخشی ۔ منظور احمد کناسرو مختلف ادوار میں مختلف پوسٹوں پر تعینات رہے جن میں وفاقی ادارے اسٹیٹ سیمنٹ میں بطور جی ایم ، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ڈائریکٹر ریونیو ، ایم ڈی سائٹ ،چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف ، ایم ڈی ٹورازم اوراب ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی ہیں تاہم ڈی جی کلچر کا اضافی چارج بھی انہیں کے سپرد ہے۔ روزنامہ جسارت نے قومی ورثے اورسیاحت کے حوالے سے ان مکمل انٹرویو کیا جو قارئین کی نذر ہے۔

جسارت میگزین: آرکیا لوجی ڈپارٹمنٹ کا قیام کب اورکن وجوہات کی بنیاد پرکیاگیا؟
منظور احمد کناسرو: سندھ آرکیالوجی کا قیام سندھ گورنمنٹ کی کاوشوں سے 2011ء میں عمل میں آیا۔ اس سے قبل یہ ادارہ وفاق کے تحت رہا ہے اورمیری تعیناتی بطور ڈائریکٹر جنرل 2016ء میں ہوئی ۔ جب میں یہاں تو آرکیا لوجی کا نہ تو کوئی آفس تھا نہ ہی اسٹاف موجود تھا۔ میں نے اسے ایک چیلنج کے طورپر لیا اورسب سے پہلے آفس کا قیام عمل میںلے کرآیا ‘انتھک محنت کے بعدآ ج اس ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی دنیا کے سامنے ہے، اس سے قبل2002ء سے 2016ء تک آفس سیکرٹری ہی اس ڈپارٹمنٹ کے کام دیکھ رہا تھا‘ ادارے کے قیام کا مقصد قومی ورثے کو محفوظ بنانا اور ان کی تاریخ کا درست تعین کرنا ہے۔
جسارت میگزین: سندھ میں کتنی عمارتوں کو قومی ورثہ میں شمارکیاگیا؟
منظور احمد کناسرو: میرے یہاں آنے سے قبل کئی سروے کیے گئے تاہم آخری سروے میرے آنے کے بعد ہوا اوریہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر کیاگیا۔ سندھ میں چار ہزار بلڈنگ اورسائٹ ہیں جنہیں قومی ورثہ ڈیکلیئر کیاگیا‘ صرف کراچی میں ہی 1700عمارتیں ایسی ہیں جنہیں قومی ورثہ میں شمار کیاگیا ہے۔ تاہم اب تک یہ سروے مکمل نہیںہوا‘ کئی اضلاع میں اب بھی کام باقی رہتا ہے ۔
جسارت میگزین: اب تک کتنی ایسی سائٹ ہیں جہاں کام چل رہا ہے؟
منظور احمد کناسرو: 2018ء میں 6سائٹ پر تاریخ میں پہلی مرتبہ کام شروع ہوا ہے۔ ان میں دو سائٹ ایسی ہیںجن پرمیرے آنے کے بعد کام شروع ہوا۔ اس سے قبل چار سائٹ کا کام رکا ہوا تھا۔ان میں مشہور سائٹ لاکھن جوڈرو‘چاہیوں جو دڑو‘نویہڑوشامل ہیں ‘ یہ موئن جو جودڑوکے ہم اثر سائٹس ہیں۔
جسارت میگزین: قومی ورثے کی دیکھ بھال اوراسے محفوظ بنانے کیلیے کتنا فنڈ ملتا ہے؟
منظور احمد کناسرو: بہت مشکل سوال ‘مگر بہت آسان جواب ہے ۔قومی ورثے کی دیکھ بھال اوراسے محفوظ بنانے کے لیے یوں سمجھ لیجیے کہ کوئی فنڈ رکھا ہی نہیں جاتا۔2017-18ء کے بجٹ میں ہمیں محض 20 کروڑ روپے ملے تھے جسے ہم نے انتہائی کفایت شعاری سے استعمال کیا اور اس فنڈ سے ہم نے بے شمارکام کیے جو اس سے قبل نہیں کیے گئے تھے۔ ہم نے مختلف سائٹ کا وزٹ کیااوراسے محفوظ بنانے کے لیے پلان ترتیب دے کر وہاں کام شروع کروایا‘ ایسے مقبریں جو انتہائی خستہ حال میں تھے ان کی مرمت کروائی ‘ آفس کاکام کروایا ۔ ساتھ ہی ہم نے دو عالمی کانفرنس کا انعقابھی اسی فنڈ سے کروایاجس میں موئن جوڈرو میں ہونے والی عالمی کانفرنس بھی شامل ہے جو 42سال بعد ہم نے اپنی محنت اورکوششوں سے منعقد کروائی اوراس کانفرنس میں دنیا بھر کے مندوبین اسکالراورماہرین نے شرکت کی۔ اسی طرح مکلی میں بھی ہم نے پہلی عالمی کانفرنس منعقد کرنے کا اعزاز حاصل کیا اوریہاں بھی دنیا بھر سے ماہرین نے شرکت کی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ 2018-19میں ہمیں بجٹ ہی نہیں دیاگیا‘بلکہ بجٹ میں اس حوالے سے کوئی رقم ہی مختص نہیں کی گئی۔
جسارت میگزین: موئن جودڑو سے ملنی والی اشیاء پر درج زبان اب تک نہیں پڑھی جاسکی ‘اس کی کیا وجہ ہے؟
منظور احمد کناسرو: اصل میں ہمارے یہاں اس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی‘قومی ورثے کو وقت کا ضیاع سمجھاجاتا ہے ،یہ ہی وجہ ہے کہ اب تک اس پرکوئی خاص تحقیق نہیں کی گئی ۔ تاہم اب ہم اس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اورجنوری 2020ء کے پہلے ہفتے میں موئن جو دڑو کی اسکریپ پڑھنے کے لیے سمپوزیم اورکشاپ کا انعقاد کررہے ہیں‘ یہ قوم کے لیے کسی خوش خبری سے کم نہیں کہ ہم موئن جو دڑو کی زبان سمجھنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
جسارت میگزین: سندھ میں کتنی جگہوں کو عالمی ورثے میں شمارکیاگیا؟
منظور احمد کناسرو: مکلی کو 1998ء یونیسکو نے عالمی ورثے کے طورپر شمار کیا۔ تاہم اس کی بہتر دیکھ بحال نہ ہونے پر یونیسکو نے وفاق کو وارننگ دی تھی کہ اگر اس سائٹ کی بہتر دیکھ بھال نہ کی گئی تو اسے عالمی ورثے کی فہرست سے نکال دیاجائے گا۔ ہماری کوششوں سے سندھ حکومت نے جو فنڈ مہیا کیا تھااس سے ہم نے 15سال پرانا رکا ہوا کام شروع کیااورالحمداللہ جہاں ہم نے صرف 5ماہ کے قلیل عرصے میں اس سائٹ کو پھر سے اس کی اصل شکل دلانے میں کامیاب رہے وہیں عالمی سطح پر شرمندہ ہونے سے بھی بچ گئے۔باکوورلڈ کانفرنس میں ہماری پیش کی گئی رپورٹ پر بحث ہوئی اورہماری طرف سے بھیجی گئی درخواست پر اس سائٹ کو مکمل طورپر ہیرٹیج سائٹ ڈکلیئر کیاگیاجو ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے ۔اس کے علاوہ موئن جودڑو عالمی ورثہ میں شمار ہے ساتھ ہی اب ہم نے کئی سائٹ کی ڈاکومیشن تیار کرلی ہیں جنہیں جلد ہی یونیسکوکو بھیجا جائے گا اورہمیں امید ہے کہ وہ سائٹ بھی جلد ہی عالمی ورثہ میں شمار کردی جائیں گیں۔
جسارت میگزین: سندھ میں نور محمد کلہوڑو کے مقبرے کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے‘اس پر آپ کیاکہیں گئے؟
منظور احمد کناسرو: نور محمد کلہوڑو کے حوالے سے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ہم نے اس جگہ کا مکمل سروے کرلیا ہے اوراس کی بحالی نو کا تخمینہ بھی لگادیاگیا ہے لیکن جیسا کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ اسی طرح بھنبھورکی سائٹ بھی عدم توجہ کے باعث کافی خستہ حال ہوچکی تھی ‘جس پر ہم نے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا اورکھدائی اورڈویولپمنٹ کاکام شروع کردیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہاں پر میوزیم کو اپ گریڈ بھی کیاجائے گا‘بھنبھور میں حالیہ برسات کے باعث ایک دیوار گرگئی تھی اس کی دوبارہ اصل حالت میں بحالی کاکام بھی جاری ہے۔ہم بھنبھو ر کو بھی یونیسکو میں لے جانے کی تیاری کررہے ہیں ‘تاکہ اسے بھی ہیرٹیج سائٹ ڈیکلیئر کیاجائے ۔جب کہ بھنبھور کی سائٹ کی مکمل بحالی نو کے سلسلے میں جرمنی کے اسکالررینٹ ایپک سے بھی ہماری بات ہوچکی ہے جو جلدہی وہاں کام شروع کردیں گے۔ اس سے قبل 2018ء میں ہم نے اس سائٹ کو ہیرٹیج ڈیکلیئر کرنے کے حوالے سے درخواست دی تھی جس پراعتراضات لگا کر مسترد کردی گئی،ا ب ہم نے اس پر لگنے والے اعتراضات کو دور کردیاگیا ہے، امید ہے اب یہ سائٹ جلد ہی ہیرٹیج میں شمار کردی جائے گی۔
جسارت میگزین: پاکستان میں عالمی ورثے پر خاص توجہ نہیں دی جاتی ‘اس کی کیا وجہ ہے؟
منظور احمد کناسرو: یہ تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ بدقسمتی سے آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کو پورے ملک میں نظرانداز کیاگیا‘جب کہ باہر کی دنیا میں ایسا نہیں‘وہاں پر اس ڈپارٹمنٹ کو عزت واحترام کی نظر سے دیکھاجاتا ہے ‘وہاں باقاعدہ اس حوالے سے ریسرچ سینٹر بنائے گئے ہیں جہاں چھوٹی کلاسز سے لے کر یونیورسٹی لیول تک کے طلبہ وطالبات کو رسائی حاصل ہوتی ہے۔ تاہم پاکستان میں اس شعبے پر جہاں توجہ نہیں دی گئی وہیں یونیورسٹی میں بھی کوئی شعبہ نہیں رکھاگیا‘سندھ میں صرف تین یونیورسٹیز ایسی ہیں جہاں پر آرکیالوجی پڑھائی جاتی ہے ‘جن میں شاہ لطیف یونیورسٹی‘کراچی یونیورسٹی اورسندھ یونیورسٹی شامل ہیں۔ ہم نے دیگر یونیورسٹیز کو بھی اس حوالے سے خطوط لکھے ہیں کہ وہ بھی آرکیالوجی کے سبجیکٹ کو یونیورسٹی میں لازمی حصہ بنائیں‘ساتھ ہی کالج لیول پر اس سبجیکٹ کولازمی قرار دینے کے لیے ہم نے انٹربورڈ کوبھی خط لکھا ہے۔
جسارت میگزین: لوگوں کی تاریخ سے دوری کی وجہ کیا ہے ؟
منظور احمد کناسرو: عدم دلچسپی ہی بڑی وجہ ہے ‘جیسا کہ میں نے بتایا کہ اس حوالے سے نظام موجود ہی نہیں تو لوگوں کی کیسے دلچسپی بڑھے گی‘جب اسکول ‘کالج اوریونیورسٹیز میں اس سبجیکٹ کو پڑھایاجائے گاتب ہی لوگوں کے دل ودماغ میں یہ بات آئے گی کہ یہ ہمارا قومی ورثہ ہے ۔ موئن جو دڑو میں لوگ موٹرسائیکلیں چلایاکرتے تھے‘جب میں نے چارج سنبھالاتو فوری طورپر وہاں چہل قدمی اورموٹرسائیکل چلانے پر پابندی عائد کردی‘ساتھ ہی عام تعطیل پر بھی لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی کم آگاہی کی بناء پر پوری سائٹ کو برباد کردیتے ہیں ‘ا ور ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔
جسارت میگزین: موئن جودڑو کی اب تک کتنی کھدائی ہوچکی ہے ؟
منظور احمد کناسرو: اب تک دس فیصد کھدائی ہوئی ہے جب کہ نوے فیصد اب بھی زمین میں دفن ہے۔ مزید کھدائی پر یونیسکو نے بھی پابندی عائد کررکھی ہے ‘ان کا کہنا یہ ہے کہ پہلے اس دس فیصد حصے پر ریسرچ مکمل کرکے اسے محفوظ بنایاجائے اس کے بعد مزید کھدائی کی جائے ۔ ورنہ آپ لوگ دفن حصے کو بھی برباد کردیں گے۔
جسارت میگزین: آپ کے آنے کے بعد کیا کیا کام سرانجام دیے گئے؟
منظور احمد کناسرو: میں نے قلع عمر کوٹ جو تباہ حال تھا اس کی مرمت کرواکر اسے بہتر بنایا‘ ساتھ ہی وہاں آٹھ سے دس فٹ اونچی دیواریں تعمیر کروائیں‘اسی طرح کوٹ ڈیجی قلعے پر بھی کام چل رہا ہے ‘یہاں پرنصب توپیں افسران بالا نے کئی اداروں اور لوگوں کو گفٹ کردی تھیں ‘جن کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں ‘صرف 80توپیں لاہور جاچکی ہیں جن کی واپسی کے لیے اداروں کو خطوط لکھ دیے ہیں ‘ساتھ ہی 4000کے قریب توپ کے گولے تھے جن میں سے سینکڑوں گولے لوگوں کے گھروں میں ہیں جو ہم ان سے خرید کر واپس اپنی جگہ پر نصب کریں گے۔ننگر پارکر میں نیا میوزیم بنایا جو چند روز میں عوام کے لیے کھول دیاجائے گا۔اس میوزیم کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے ننگرپارکر اورتھرپارکر کے کلچر کو اجاگرکیاگیا ہے۔ سیاحت کے فروغ پر بھی کام ہورہا ہے ‘مختلف اہم سائٹ پر 8ہوٹل تعمیر کیے جارہے ہیں ۔ جب کہ رنی کوٹ میں آرکیالوجی کا ریسٹ ہائوس بھی عوام کے لیے کھول دیاگیا ہے ‘تھرپارکر میں ہوٹل کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے جب کہ مٹھی میں ابھی کام چل رہا ہے۔ اسی طرح وقار لیک اورنہڑی میں بھی گیسٹ ہائوس تعمیر کیے جارہے ہیں کینجھر جھیل کواپ گریڈ کیاجارہاہے ‘سمبھارا میں ہوٹل کی تعمیر بھی مکمل ہونے کو ہے ‘منچھر جھیل پر گیسٹ ہائوس کی تعمیر کا کام بھی چل رہا ہے ، موئن جو دڑو میں آرکیالوجی کا گیسٹ ہائوس عوام کے لیے کھول دیاگیا ہے۔یہ سب ہماری ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔
جسارت میگزین: کراچی میں میوزیم کی کمی ہے ‘اس پر کیا کہیں گے؟
منظور احمد کناسرو: کراچی کے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے یہاں 150میوزیم ہونے چاہیے تھے ‘مگر بدقسمتی سے جو تین میوزیم ہیں لوگوں کو ان کاایڈریس بھی معلوم نہیں ۔باہر ممالک میں ہر چیز پر میوزیم بنایاگیا ہے ‘مثال کے طورپر کھانے پینے سے لے کر رہن سہن کے طریقے کار پر بھی میوزیم موجود ہیں ‘ہمیں بھی یہاں ان چیزوں پر توجہ دینے اورساتھ ہی آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے سے قدیم رسوم ورواج کا خاتمہ بھی لمحہ فکریہ ہے ‘ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کچھ نہیں بچارہے۔
جسارت میگزین: طلبہ وطالبات کو کیا پیغام دینا چاہیں گے اورحکومت سے کیا مطالبہ کریں گے؟
منظور احمد کناسرو: طلبہ وطالبات کے حوالے سے یہ بتاتاچلوں کہ ہم یونیورسٹیز کے طلبہ وطالبات کو ان سائٹ پر ریسرچ کے حوالے سے مکمل آگاہی اورایکوپیمنٹ فراہم کررہے ہیں ‘ساتھ انہیں مکمل سہولیات بھی دے رہے ہیں ‘جب کہ حکومت سندھ سے اتنی سی گزارش ہی کرسکتا ہوں کہ ہمیں فنڈمہیا کیے جائیں تاکہ ہم اپنا ادھورا کام مکمل کرسکیں اورجن سائٹ کا سروے مکمل ہوچکا وہاں کام شروع کرسکیں۔

حصہ