قصور سے گھوٹکی

159

شاہنواز فاروقی کہتے ہیں کہ ’’جن باتوں کو ہم آج سے 20 سال پہلے سوچتے بھی نہیں تھے وہ آج عام ہوگئی ہیں۔ اسی طرح جو کام اب ہم سوچتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا وہ اگلے5 سال میں ہمیں عام نظر آئے گا‘‘۔ مغرب سے پورنو گرافی و اخلاقی اقدار کی گراوٹ کا سیلاب مختلف چھوٹی بڑی اسکرینوں کی صورت اذہان پر جو کچھ اثرات مرتب کررہا ہے اس کے یہی نتائج نکلیں گے۔ ایک دوست لکھتے ہیں کہ ’’ہماری کیمیکل ملی بے شمار غذائیں خود انسانی جسم میں جنسی خواہشات کو بڑھاوا دینے کا سبب بن رہی ہیں‘‘۔ اس پر ایک دوست جواب دیتے ہیں کہ ’’اگر ایسا ہوتا تو ہمارے شہر بلکہ ملک بھر کے اہم شہروںکی دیواروں پر ’مردانہ طاقت بانٹتے حکیم‘ نہ نظر آتے‘‘۔ تیسرے نے جواب دیا کہ ’’غذا والی بات خارج از امکان نہیں قرار دی جا سکتی، کیونکہ ’زیادہ استعمال اور غلط استعمال ‘ بھی حکیموں کے پاس ہی لے کر جاتا ہے‘‘۔ ان سب کے باوجود سوشل میڈیا پر اعداد تو یہ بتا رہے ہیں کہ 2018ء میں بچوں سے زیادتی کے 3832 کیسز ملک بھر میں ریکارڈ ہوئے ہیں۔ جانتے ہو اس کی شدت انسان کو کس حد تک پستی و ذلت کے گڑھے میں گرا دیتی ہے ۔ یہ دیکھو، ’’امریکہ میں تحریم کے رشتوں میں جنسی تعلق کے دو کروڑ کیس موجود ہیں۔ فرانس یورپ کا سب سے لبرل ملک ہے جہاں ایسے 20 لاکھ کیس موجود ہیں۔ اب سنو کہ 1980ء کی دہائی میں ہمارے معاشرے کا یہ حال تھاکہ پی ٹی وی کی انائونسر کے سر سے دوپٹہ اتر جاتا تو لوگ احتجاج کرتے تھے۔ یہ جو فلموں اور انٹرنیٹ پر دستیاب ننگی فلموں یا Pornography نے مغربی ملکوں میں برپا جنسی طوفان کو ہمارے معاشرے میں داخل کردیا ہے، یہ سب اس ناپاک درخت کے کڑوے پھل ہیں۔ کتاب و حکمت کی تعلیم سے محروم، خوفِ خدا سے عاری، نفسِِ امارہ میں ڈوبے ہوئے لوگ آسان اور سستا ترین شکار بچوں کو ہی بناکر جنسی درندہ ہونے کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ مطلب یہی ہے کہ مغرب کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی مرحلہ وار طریقے سے جنسی جرائم کی سنگینی اور شدت بڑھ رہی ہے۔ اس کا ایک ٹھوس ثبوت روزنامہ جنگ اور روزنامہ جسارت میں شائع ہونے والی خبر ہے۔ روزنامہ جنگ کراچی کی 30 جنوری 2018ء کی اشاعت میں صفحہ اول پر موجود خبر کے مطابق کوئٹہ میں 13 سالہ لڑکی طیبہ کے ساتھ زیادتی اور اس کے قتل کا معمّا حل ہوگیا ہے اور لڑکی کے بھائی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اس گھنائونے جرم کا مرتکب ہوا ہے اور اُس نے اس خیال سے اپنی بہن کو مار ڈالا کہ وہ زندہ رہی تو اس کے کرتوت سب کو بتادے گی۔‘‘
اب اسی منظرنامے میں قصور میں ایک اور کیس سامنے آگیا۔ بے چارا چھوٹا سا قصور ایک بار پھر خبروں میں آگیا۔ ہے تو چھوٹا شہر، لیکن کام ایسے ایسے ہوتے ہیں کہ بڑے بڑے شہروں کے جرائم کو بھی کبھی مات دے دیتا ہے۔ 2015ء میں پیسوں اور جنسی تسکین کی خاطر دو سو سے زائد بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز بناکر والدین کو بلیک میل کرنے والے شیطانی گروہ کے اثرات ختم نہیں ہوئے تھے کہ زینب کیس سامنے آگیا۔ اس پر خوب شور مچا تھا۔ قاتل پکڑا گیا، اسے سزائے موت بھی ہوگئی، لیکن واقعات تسلسل سے جاری رہے، یہاں تک کہ اس ہفتے مزید چار معصوم بچوں کے اغواء، زیادتی و قتل کی لرزہ خیز واردات سامنے آگئی۔ قصور کے نام سے ہیش ٹیگ ٹویٹر کی ٹرینڈ لسٹ میں شامل ہوگیا۔
اس کے علاوہ HangRapistsSaveChildren، قصور کے اصلی مجرم محفوظ، ریپ کی سزا موت اور حجاب کے حوالے سے ہیش ٹیگ اسی ٹرینڈ میں زیر بحث آگئے۔ ٹی وی چینلزکی ہیڈلائن چلتی رہی۔ وزیراعظم عمران خان نے اگلی صبح طویل ٹویٹر پیغام میں بتایا کہ ’’قصور واقعے پر سب کا محاسبہ ہوگا، جنہوں نے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام نہیں کیا اُن سے بازپرس کی جائے گی۔ پنجاب پولیس اور صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک درج ذیل اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں :1۔ DPO قصور کو ہٹایا جارہا ہے،2۔ ایس پی انویسٹی گیشن قصور خود کو قانون کے حوالے کرچکے ہیں اور چارج شیٹ کے بعد ان کے خلاف کارروائی جاری ہے، 3۔ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کیا جاچکا ہے، 4۔ قصور پولیس کی ازسرِنو صف بندی کی جارہی ہے،5۔ ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تحقیقات کے لیے احکامات دیے جاچکے ہیں۔‘‘ حیرت مجھے یوں ہوئی کہ عمران خان کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر ان کی اس ٹویٹ کے نیچے کوئی 3200 افراد کے کمنٹس تھے۔ وزیراعظم کے ان اہم نمائشی اقدامات کو دیکھ کر سماجی میڈیا پر لوگوں نے عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا، اکثریت مجرموں کی پھانسی کا مطالبہ کرتی رہی۔ فیض اللہ خان لکھتے ہیں کہ ’’قصور واقعے کا نوٹس لے لیا، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کردیا، ایس پی انوسٹی گیشن کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ قصور پولیس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ بیان شہبازشریف نے دیا ہوتا تو انصافین نے شور مچا مچا کر گھنگھرو توڑ دینے تھے، لیکن یہ شاندار مکالمہ ریاست مدینہ کے والی جناب عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیا ہے۔ معیشت و کشمیر تو خیر آپ کے بس کا کھیل نہیں، کاش ایک سال میں پنجاب پولیس کے جانوروں کو ہی انسان بنادیتے۔ مدینہ بنے نہ بنے، یہی صورتِ حال رہی تو ہم افریقہ کا کوئی تباہ حال ملک ضرور بن جائیں گے ۔ اب سمجھ نہیں آتا کہ نمرتا کماری پہ روئیں؟ قصور سے ملنے والی تین معصوم بچوں کی لاشوں پہ آنسو بہائیں؟ شکارپور میں کتے کے کاٹنے سے دوا نہ ہونے پہ ماں کی گود میں اٹکتی سانس کے ساتھ دم توڑنے والے بچے کا نوحہ لکھیں؟ میرپورخاص میں ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے موٹر سائیکل پہ بچے کی لاش لے جانے والے باپ اور اُس کے بھائی کی ایکسیڈنٹ میں ہلاکت پہ شور کریں جو بچے کی لاش لے جاتے لے جاتے خود بھی لحد میں اتر گئے؟ نارووال کے اُن سات بچوں پہ کہرام مچائیں جن کے رکشے پہ ٹرک الٹ گیا تھا؟ ان قبائلی بچوں کا غم تازہ کریں جو آئے روز بارودی سرنگ پہ پیر رکھ کر زندگیاں ہار رہے ہیں؟‘‘
فیض اللہ نے تو ہفتہ بھر کے ایشوز پر بات کرلی جس میں لاڑکانہ کے ڈینٹل کالج کی ہندو طالبہ نمرتا کماری کی خودکشی کا کیس بھی ہے۔ تادم تحریر اس کی موت کی وجہ پراسرار ہی ہے، موبائل فون ڈیٹا کی بنیاد پر تحقیقات کے لیے دو ساتھی طلبہ کو پکڑا ہے۔ مرحومہ کا ڈاکٹر بھائی اس خودکشی کو قتل قرار دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر دو دن تک نمرتا کماری کی تصاویر، لاش کی ویڈیو، بھائی کا بیان افسوس و دکھ کے بیانات کے ساتھ شیئر ہوتے رہے۔ اس سے ایک دن قبل سندھ کے اہم شہر گھوٹکی میں ایک اور افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس کی تفصیل اس پوسٹ سے جانیے: ’’گھوٹکی کے طالب علم نے نہ استاد کو قتل کیا، نہ اسکول جلایا، نہ ہی کسی غیر قانونی عمل میں ملوث ہوا۔ اس نے گستاخی کو اپنے بڑوں سے رپورٹ کیا۔ بجائے یہ کہ اس عمل کو appreciate کیا جائے ہم لبرل سیکولر جھوٹوں کی تحریر کردہ من گھڑت کہانیاں شیئر کررہے ہیں کہ اس نے ہوم ورک نہیں کیا تھا، اس کو پرنسپل سے کوئی مسئلہ تھا، اس نے جھوٹ بولا! بھائی، طالب علم صاف بول رہا ہے کہ پرنسپل نے کلاس میں سب طالب علموں کے سامنے گستاخی کی۔ پولیس کا کام تھا کہ اُسی وقت تفتیش شروع کرتی، طالب علموں کو جمع کرتی، بیان ریکارڈ کرتی تاکہ سچ اور جھوٹ کا معاملہ کلیئر ہوجاتا۔ لیکن پولیس نے بروقت ایف آئی آر درج نہ کی، جس کی وجہ سے گھوٹکی کے مسلمانوں میں اشتعال پھیلا اور مشتعل ہجوم نے ایک مندر پر پتھراؤ کیا (جو یقینا غلط عمل ہے اور اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں)۔ ذرا سوچیے کہ اگر حکومت بروقت مجرم کے خلاف کارروائی کرتی تو ایک مندر کو پتھراؤ سے بچایا جاسکتا تھا، لیکن کیا اب اشتعال کی ’’وجہ‘‘ کو چھوڑ کر ساری بحث ردعمل پر ہونی چاہیے؟ مسئلے کی بنیاد گستاخی ہے، اس پر سارا دن ایف آئی آر کے اندراج کے لیے احتجاج ہوتا رہا، لیکن پولیس اور گھوٹکی کی انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا۔ انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے ایک مندر پر پتھراؤ ہوا، اور اب اس ہنگامے کو بنیاد بناکر گستاخی کے معاملے کو ہی دبایا جارہا ہے۔ اگر گستاخی پر کارروائی نہیں ہوئی تو یہ حکومت کی ناکامی ہے، اگر حکومت مشتعل ہجوم کو روکنے میں ناکام ہوئی تو یہ بھی حکومت کی ناکامی ہے، اگر مندر میں توڑ پھوڑ ہوئی تو یہ بھی حکومت کی نااہلی ہے۔ بحث کرنی ہی ہے تو حکومت کی نااہلی اور ناکامی پر کریں جس نے نہ تو گستاخ کے خلاف بروقت ایف آئی آر درج کی اور نہ ہی مجرم کو گرفتار کیا، جس کی وجہ سے گھوٹکی میں ہنگامہ ہوتا رہا۔‘‘ اسی تناظر میں قائمخانی لکھتے ہیں کہ ’’ویسے تو فیس بک کے ایک ایک ایونٹ نے بہت کچھ سکھایا ہے… جھوٹ، سستی شہرت، پروپیگنڈہ، تہمتیں… ہر ایونٹ کے پیچھے یہی سب نکلا، لیکن جتنا کچھ میں نے گھوٹکی واقعے سے سیکھا ہے اُس کے بعد یہی کہنا کافی ہے کہ فیس بک kingsman فلم کی وہ فری سم ہے جس کی کالر ٹیون بالآخر ہمیں ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کروائے گی۔ اتنا فساد برسرِزمین نہیں ہوا جتنا فیس بک پر نام نہاد دانشوروں نے مچا رکھا ہے۔ اس سارے معاملے کے ساتھ پوری طرح connected رہنے کے بعد یہ جانا کہ ہندو کمیونٹی، ان کی تنظیموں اور لیڈرشپ نے جس سمجھ داری کا مظاہرہ کیا اتنا ہی ہماری مذہبی و سیاسی قیادت و تنظیموں نے بھی کیا۔ پیر آف بھرچونڈی شریف نے فوراً پریس ریلیز جاری کی اور معاملہ حکومت کے اوپر چھوڑتے ہوئے اپنے مریدین کو پُرامن رہنے کی تلقین کی۔ راشد محمود سومرو چونکہ کراچی میں تھے اس لیے ایک ویڈیو پیغام بنوا کر اپنے لوگوں کو بھجوایا کہ پُرامن رہا جائے، ایف آئی آر کٹ چکی ہے لہٰذا کوئی احتجاج، روڈ بلاک اور انتشار نہیں ہونا چاہیے، جمعیت علمائے اسلام نے کسی احتجاج کی کال نہیں دی۔ اگلے ہی لمحے اپنی مقامی لیڈرشپ کو پیغام بھیجا کہ رینجرز کے ونگ ہیڈکوارٹر، ایس پی آفس اور ڈی سی آفس سے نکل کر ہندو بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اس مندر پر جائیں جہاں توڑپھوڑ ہوئی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر ہوش مندی کا مظاہرہ ہندو تنظیموں نے کیا، اپنے کسی آفیشل پیج اور اکاؤنٹ سے کچھ بھی شیئر نہیں ہونے دیا۔ آل پاکستان ہندو پنچایت کونسل کی لیڈرشپ بالکل مثبت رہی اور ذمہ داری کے ساتھ معاملے کو سلجھانے میں لگی رہی۔ شام چھ بجے ماسٹر نوتن لعل کو حیدرآباد سے surrender کروایا گیا۔ ایک مندر کو جزوی نقصان پہنچایا گیا لیکن کسی مورت کو نہیں توڑا گیا۔ اس سارے معاملے میں فیس بک کے بڑے بڑے دانشوروں اور تنخواہ دار تجزیہ نگاروں نے گرم تیل میں پانی کے جو چھینٹے مارے ہیں اس سے اُن کے اندر کا چھوٹا انسان نکل کر سامنے آگیا ہے۔ چندلائکس کی مار مذہبی پیشہ وروں اور جسمم و جسقم کے شرپسند علیحدگی پسندوں نے جو چاشنی لگائی تھی اچھے بھلے انسان بھی اس کے اوپر مکھی، چھپکلی، چوہا، بلی اور پھر کتے کی طرح لپکے ہیں۔
سندھ میں مسلمانوں اور ہندوؤں کا مسئلہ فیس بک پر جتنا اٹھایا جاتا ہے، حقیقت میں اس کا دس فیصد بھی نہیں۔ بس یوں سمجھ لیںکہ اس سے کئی لوگوں کا روزگار لگا ہوا ہے۔‘‘
اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم مرکزی رہنما سید خورشید شاہ کی نیب کے ہاتھوں آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتاری بھی اہم سیاسی موضوع بن گئی، چنانچہ سندھ حکومت کو بھی اس موقع پر آڑے ہاتھوں لیا گیا، ’’کتا کاٹ لے، کماری کا قتل،گھوٹکی، بارش میں کرنٹ لگنے سے ہلاکتیں اور تھر میں بچے بھوک اور پیاس سے مرنے پر بھی افسوس نہیں ہوا۔ اگر ہوا تو باپ کی چوری، پھوپھی کی چوری، میٹر بادشاہ بلکہ پورے سندھ کی چوری اور ڈاکا زنی پر افسوس ہوا۔ افسوس ہمیں یہ ہے کہ قزاقوں، ڈاکو، لٹیروں کی حکومت ہے سندھ میں۔‘‘
اسی طرح پنجاب میں ڈینگی کی وبا ایک بار پھر بے قابو ہوگئی، ابھی یہ بڑا موضوع نہیں بنا، تاہم بن جائے گا جس پر حکومت کو خاصی مشکلات بھی نظر آرہی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان شہبازگل و دیگر مشیروں کی برطرفی کو لے کر پہلے ہی بہت باتیں جاری تھیں، ایسے میں ارشاد بھٹی صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’وزیراعظم…یہ ڈینگی پہلے کیوں کنٹرول، اب کیوں آؤٹ آف کنٹرول؟ وزیراعلیٰ… پچھلوں نے ڈینگی کو مصنوعی طور پر قابوکررکھا تھا۔ وزیراعظم۔۔اوکے۔۔ اب کیاکررہے ہو؟ وزیراعلیٰ…یاسمین راشد کا ڈی جے بٹ سے رابطہ ہوچکا، جلدہی پورے پنجاب میں ’ڈینگی جاجا پنجاب سے نکل جا‘ چلائیں گے، بس تین مہینے اور دے دیں۔‘‘۔

حصہ