کراچی والو! اپنے لیے ماتم کرو!۔

332

کراچی پر ایک عذاب ہے جو مسلسل تین دہایوں سے مسلط ہے۔ اس عذاب کو دعوت دینے والے بھی کراچی والے ہیں اور بھگتنے والے بھی کراچی والے ہی ہیں۔
یہ عذاب مسلسل ، ایک آکا س بیل اور بھوکے گدھ کی مانند گزشتہ تیس سالوں سے کراچی کے شہریوں کو اپنے منحوس پنجے میں جکڑے ہوئے ہے کراچی والوں یہ عذاب تم نے اپنی خوشی سے خریدا ہے اس کا ماتم بھی ہنسی خوشی کرنا ہوگا۔ اگر اس کا حوصلہ نہیں تو پھر اس ظالمانہ نظام کے خلاف ا ٹھ کر اپنا حق واپس چھیننا ہوگا ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمارے اوپر ماتم کرنے والے بھی نہ رہیں !
اس کراچی نے بہت دکھ جھیلے ، بہت لاشے اٹھائے اپنے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی پاداش میں بطور کفارہ جید علمائے کرام کی شہادتیں ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیں ، صاحبان علم و فضل کراچی کی شاہراہوں پر قتل ہوکر ماضی بنتے چلے گئے ، شہید حکیم سعید، حکیم محمود احمد برکاتی شہید ہوئے۔ فرقہ واریت کے ناسور میں مبتلا قوم نے ہر فرقے کے شہیدوں جوانوں اور بچوں کو ایدھی کی میت گاڑیوں میں قبرستانوں میں منتقل ہوتے دیکھا ، ایک ایک کرکے ڈاکٹر ، انجینیرز ، طالب علم ، پروفیسر سب کے سب اس لسانیت و فرقہ واریت کی آگ کی لپیٹ میں آتے چلے گئے۔
مدیر تکبیر مولانا صلاح الدین کے قتل سے شروع ہونے والا یہ عذاب کسی نہ کسی صورت آج تک جاری ہے۔جناب صلاح الدین نے مسلم قومیت اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کی جنگ بڑی پامردی سے لڑی۔ اس دوران ان کے گھر اور ان کے دفتر کو نذرآتش بھی کیا گیا اور ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا مگر وہ لسانی سیاست اور دہشت گردی کے مستقل مذمت کرتے رہے۔ انہیں آزادی صحافت کے لیے قربانیاں دینے کے سلسلہ میں کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیاتھا۔ حکومت پاکستان نے بھی 14 اگست 1997ء کو انہیں ہلال امتیاز کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔
4 دسمبر 1994ء کی شام نامعلوم دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے پاکستان کے یہ بے باک اور معروف صحافی جناب محمد صلاح الدین کو شہید کردئیے گئے۔
مفتی نظام الدین شامزئی پاکستان کے نامور علمائے دیوبند میں سے ہیں جنہیں 30 مئی 2004ء کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔
متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان کو اس سلسلے میں گرفتار بھی کیا گیا اور اس سلسلے میں سابق گورنر سندھ عشرت العباد کا نام خاص طور پر لیا جاتا ہے مگر عشرت العباد کے گورنر سندھ بن جانے کے بعد یہ کیس دبا دیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سندھ ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ایم کیو ایم کے تین کارکنوں کو جو اس کیس میں نامزد تھے، بری کیا۔
یہ سلسلہ مزید آگے بڑھا اور نامعلوم مسلح افراد نے صدارتی انعام یافتہ نامورحکیم محمود احمد برکاتی کو ان کی مطب میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ستاسی سالہ مقتول حکیم برکاتی چالیس کتابوں کے مصنف تھے اور انہیں2001ء میں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
کراچی جو کبھی روشنیوں، محبتوں اور علم دوستوں کا شہر تھا ، غریب پرور شہر جب آسیب کے چنگل میں پھنستا چلا گیا۔ پھر اس کی پہچان چھن گئی۔ اس کا نام ماضی بن گیا اس کی تاریخ اپنا چہرہ نوچ کر خونی درندے کا روپ دھا رتی چلی گئی۔ اور ان تین دہایوں میں کراچی کا نام آتے ہی جبر و تشدد اور قتل وغارت سے بھرپور شب وروز، ٹارچر سیل، بوری بند لاشیں اور ہیبت ودہشت سے لبریز واقعات ذہن میں تازہ ہوجاتے ہیں۔
کراچی کے شہریوں کو یاد ہوگا کہ سانحہ 12 مئی 2007ء کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے استقبال کے لیے آنے والے سیاسی و سول سوسا ئٹی سے تعلق رکھنے والے افراد پر فائرنگ کی گئی ، صحافیوں کے دفاتر پر حملے کیے گئے۔ جلاؤ گھیراؤ، اقدامِ قتل اور کا راستہ روکنے کے جرم میں نامزد 16 دیگر ملزمان کو عدالت اشتہاری قرار دے چکی ، اور اس حوالے سے میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر ملزمان پر سانحہ 12 مئی کے سات مختلف مقدمات درج ہیں۔ بارہ مئی 2007ء کو اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کو کراچی کا دورہ اور وکلا سے سندھ ہائی کورٹ میں خطاب کرنا تھا لیکن انہیں روکنے کے لیے شہر میں کی جانے والی ہنگامہ آرائی میں 50 سے زائد افراد کی جانیں چلی گئی تھیں۔( واضح رہے کہ وسیم اختر سانحے کے وقت اس وقت کے وزیرِ اعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم کے مشیر برائے امورِ داخلہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔)
پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جماعتِ اسلامی اور دیگر جماعتوں نے چیف جسٹس کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ سے ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا، جب کہ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے اس ریلی کی مخالفت میں ایم اے جناح روڈ پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس قتل و غارت گری کے بعد رات کو صدر مملکت پرویز مشرف نے اسلام آباد میں مکہ لہرا کر کراچی والوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ “کراچی میں ہم نے اپنی طاقت کا مظا ہرہ کرکے دکھا دیا ہے۔”
اس کرا چی پر یہ عذاب کیا کم تھے کہ اسے کراچی میں ہی اتوار کی صبح 30 مئی کو ممتاز عالم دین مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کی شہادت کی صورت رونما ہوا۔
سانحہ 12 مئی سے متعلق مقدمات تقریباً دس سال تک سیاسی مصلحت کا شکار ہوکر سرد خانے میں پڑے رہے۔ گزشتہ سال ان مقدمات میں نامزد ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد کمزور شواہد کی بنیاد پر 19 ملزمان کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔ لیکن ان پر مقدمہ اب بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ وسیم اختر نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے، امکان اس بات کا ہے کہ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کی مہربانی سے سانحہ بارہ مئی کے ملزمان بھی سانحہ بلدیہ کے مجرمان کی طرح ناکافی ثبوت کی بناء پر آسانی سے باہر آجائیں گے۔
12 بارہ مئی کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے موقع پر فائرنگ اور تشدد آمیز واقعات میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ اور جو نمازی شہدا کا جنازہ پڑھنے مزار قائد پہنچے ان پر بھی فائرنگ کی گئی اور اندھا دھند فائرنگ سے بچنے کے لیے لوگوں نے سڑک پر لیٹ کر جان بچائی جبکہ جماعت اسلامی کے امیر محترم قاضی حسین احمد کے گرد کارکنوں نے گھیرا ڈال کر انہیں بمشکل بچا یا۔
گیارہ ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری علی انٹرپرائیز میں لگنے والی آگ اور بھتہ مافیا کی خونی کہانی 259 مزدوروں کے خون سے لکھی گئی۔ اس جرم میں ملوث دو اقراری مجرمان کو فروغ نسیم وزیر قانون کی ایڈوائز پر حال ہی میں رہا کردیا گیا۔ اصل کردار بابر غوری اور دیگر متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ابھی تک آزاد گھوم رہے ہیں۔
عالمی و سیاسی مفادات تبدیل ہونے سے اس دہشت گردی میں تو خاطر خواہ کمی ہوگئی لیکن کراچی کا وہ سابقہ امن و امان اور تجارتی حیثیت دوبارہ بحال نہ ہوسکی۔ اس دہشت گردی نے قوم سے لا تعداد نابغہ روزگار فرزندوں کا خراج لیا۔ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والی شخصیات میں مولانا یوسف لدھیانوی، زہیر اکرم ندیم، منور سہروردی ، اسلم مجاہد ، مزدور رہنما پاشا گل ، ڈاکٹر پرویز محمود ، عظیم طارق، خالد ولید، سلیم قادری، ظہور الحسن بھوپالی،عبداللہ شاہ اور جسٹس نظام احمدسے لے کر میرمرتضیٰ بھٹو، مدیر تکبیر جناب صلاح الدین اور حکیم محمد سعید جیسی قد آور شخصیات شامل ہیں۔
کراچی اب بھی آزاد نہیں ہے۔ اس کی تقدیر کے فیصلے کسی اور کے ہاتھوں میں ہیں۔ تیس سال پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ کراچی پر مشترکہ حکمران رہے ہیں، ایک کی بلدیہ عظمی پر اجا رہ داری تھی تو دوسرے حلیف کی سندھ پر۔ یک جان دو قلب والی بات تھی۔ ‘تم دن کو اگر رات کہو ، رات کہیں گے‘۔ جیسا معاملہ تھامگر کراچی پھر بھی عبرت سرا بنا رہا۔ پھر منصوبہ سازوں نے نئی تدبیر سوچی اور کراچی کی با گ ڈور نو آموز سیاسی جماعت تحریک انصاف کے ہاتھوں میں دینے کا فیصلہ کیا اور الطاف حسین کے بے قابو جن کو بوتل میں واپس بند کرنے کا معاملہ کیا۔ جن بوتل میں جاتے جاتے اپنے چیلے باہر ہی رکھ کر گیا تھا۔ جن میں مصطفی کمال، وسیم اختر، عامر خان، فاروق ستار سب شامل تھے۔ حصے بخرے کرنے کے بعد تین دھڑے بنائے گئے۔ ہر دھڑے میں ایک ماضی کا بھا ری بھرکم ڈان کو فٹ کیا گیا۔ ویسے ہی جگاڑ جسے پرانی ‘ہارلے ڈیوڈسن’ میں 70-CD کا انجن لگا کر کام چلایا جاتا ہے۔
ایک دھڑے کی قیادت مصطفی کمال کو سونپی گئی اور قائم خانی کو فٹ کیا تاکہ اندرون سندھ بھی کا م نکلا جاسکے۔ ورنہ الطاف سے بغاوت کے بعد دونوں باغی راہنماؤں کو تو بحریہ پروجیکٹ حیدر آباد کے لیے ملک ریاض صاحب نے دبئی میں اعلی ترین ملازمت سے نواز رکھا تھا۔ اسی طرح عامر خان ایک نظریاتی گروپ کو لیڈ کر رہے تھے اور فاروق ستار صاحب خاص الطاف گروپ کی نمائندگی کرتے رہے۔
ان تینو ں دھڑوں کو ڈیلی کی بنیاد پر اسائنمنٹ دیے گئے تاکہ بلدیاتی انتخابات سے پہلے پہل اپنی کارکردگی دکھائیں اور کراچی کی سیاست میں اپنا اپنا حصہ پائیں۔
کراچی پر حالیہ عذاب کچرے ، گندگی اور ابلتے ہوئے گٹروں کی صورت میں ہے۔ قوم بنی اسرائیل کی طرح کراچی پر بھی ہر دور میں عذاب کی ایک نئی شکل نازل ہورہی ہے۔ سابق کچرا فیم وزیر اعلی قائم علی شاہ کے بعد یہ عزت و شہرت مئیر کراچی وسیم اختر کے حصے میں آئی۔
متحدہ کے وسیم اختر یہ ملبہ سندھ حکومت پر ڈال رہے ہیں ، سندھ حکومت بلدیہ کراچی پر۔ مگر مسئلہ جوں کا توں ویسے کا ویسا ہی ہے رہا۔
ایک ماہ بعد منظر نامے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر جناب ‘علی زیدی ‘ المعروف ” سڑک تمہارے باپ کی ہے ” کی انٹری ہوئی اور انہوں نے کراچی والوں سے چندے کی اپیل کرتے ہوئے کراچی کی صفائی کا ٹھیکہ ایف ڈبلیو او کے سپرد کیا۔ جس نے پندرہ دن خوب ڈمپر لوڈر چلائے ، ادھر کا کچرا ادھر ، ادھر کا ادھر کی مانند بارہ کروڑ روپے صاف کئے۔
جب یہ ڈرامہ فیل ہوا تب منظر نامے میں نیا موڑ آیا اور فروغ نسیم کو سامنے لا یا گیا ، جو متحدہ اور تحریک انصاف کے چھ چھ ممبران پر مشتمل ٹیم سے کچرا سیاست میں نئی انداز کو متعا رف کروائیں گے۔
کراچی میں عمران خان نے بطور وزیر اعظم اپنا الو سیدھا کرنے کی ابتدا کی اور کراچی کو اپنے کنٹرول میں کرنے کے لیے تازہ ترین واردت ڈالی ، وہ یہ کہ کراچی کی بہتری کے لیے ایک بارہ رکنی کمیٹی وزیر قانون فروغ نسیم کی سربراہی میں قائم کی جو کراچی کے مسائل کو دیکھے گی۔
ہمارے بہت اچھے دوست جناب شکیل خان موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘بساط بچھ گئی ہے،مہرے سجادیے گئے ہیں پہلے پیادوں کو لایا گیا تھا اب فرزین کو بڑھایا گیا ہے.بادشاہ ہمیشہ کی طرح پردہ کے پیچھے ہے۔
مصطفی کمال، وسیم اختر، علی زیدی کی *فلاپ اینٹری* نے بادشاہ سلامت کو کچھ مایوس کردیا ہے, تبدیلی سرکار تو کراچی کو “گھنٹا” بھی نہیں دے سکی اور نہ دے سکے گی۔ اس لیے کہ بادشاہ سلامت کبھی کراچی کو اس کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے، ان کے منہ چڑھے حاضر باش وظیفہ خوار جو صرف شامل باجہ ہیں وہ راگ درباری میں بادشاہ سلامت کے ہر فعل کو الہامی ثابت کرنے کی قوالی گائے جاتے ہیں، کہ جناب عالی یہ کراچی والے تو ہیں ہی ناشکرے، کچرے، غلاظت اور تعفن میں رہنا ہی نہی سیکھتے۔ہم تیس سال سے انکو بتا رہے ہیں کہ یہ پاکستان کے سوتیلے بیٹے ہیں۔لیکن یہ چریا کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان بنایا ہے،ہم اس پاکستان کی سگی اولاد ہیں اور ہم ہی اس کے اصل وارث ہیں،ان کی محبت پاکستان سے کم ہی نہیں ہوتی۔
تیس سال سے نامعلوم افراد نے کراچی والوں کو عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے اس کے باوجود یہ زندہ ہیں بات کررہے ہیں آواز اٹھا رہے ہیں، اپنا حق مانگ رہے ہیں۔
پردے کے پیچھے رہنے والے کراچی کو صرف کچرا دیتے ہیں۔ تیس سال سے بادشاہ سلامت نے کراچی کو صرف کچرا دیا ہے۔اور یاد رہے بادشاہ سلامت سے مراد کوئی کٹھ پتلی” ہینڈسم” نہیں ہے۔
سندھ حکومت کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے، ہانکا لگایا جارہا ہے۔ وظیفہ یاب پیادے ، تنخواہ دار ڈھولچی، ‘روٹی توڑ نقارچی نقارہ بجارہے ہیں، ہر طرف ہاہاکار مچی ہے۔کراچی والوں کو نیا منجن بیچا جا رہا ہے۔

حصہ