نکھٹو میاں

60

بچو! میری باجی کی سنائی ہوئی کہانیوں میں سے ایک اور مزے کی کہانی میں آپ کو سنانے لگا ہوں۔
ایک صاحب گھر میں رہنے کے اتنے عادی تھے کہ کبھی کسی کے گھر گئے ہی نہیں۔ حد یہ ہے کہ کسی کی دعوت کو بھی کبھی قبول نہیں کیا۔ ان کے گھر والے ان کی اس بات سے بہت ہی پریشان رہتے تھے۔ کوئی کام کاج بھی نہیں کیا کرتے تھے بس ہر وقت یا تو سوتے رہتے یا چار پائی پر لیٹے رہتے۔ ان کی اسی مردم بیزاری اور کاہلی کی وجہ سے انھیں ان کی بیوی، ماں، باپ، بہنیں اور بھائی، نکھٹو میاں کہہ کر پکارا کرتے تھے۔
ایک دن نکھٹو میاں کے ایک دوست ان سے ملنے آئے۔ نکھٹو میاں کی بیوی نے ان کے دوست سے شکایت کی کہ آپ کے یہ دوست کیسے نکھٹو اور کاہل ہیں۔ ہر وقت گھر میں پڑے رہتے ہیں۔ مجال ہے جو گھر سے نکل کر کسی عزیز، رشتے دار یا دوستوں کے گھر جائیں۔ ہر وقت یا تو سوتے رہتے ہیں یا خوامخواہ چارپائی توڑتے رہتے ہیں۔ ان کے دوست نکھٹو میاں کی عادت سے بہت اچھی طرح واقف تھے اور آج تو وہ عہد کرکے آئے تھے کچھ بھی ہو جائے وہ نکھٹو میاں کو دعوت میں لے کر ہی جائیں گے۔ وہ صاحب جو نکھٹو میاں سے ملنے آئے تھے ان کے ایک اور دوست نے انھیں اپنے گھر دعوت پر بلایا تھا۔ دوست نے اپنے دوست کی بیوی سے کہا، بھابی آپ فکر نہ کریں، آج تو میں انھیں اپنے ساتھ لے جاکر ہی دم لوںگا۔ ہمارے ایک دوست نے ہمیں دعوت پر بلایا ہے اور کہا ہے کہ میں نکھٹو میاں کو بھی ضرور ساتھ لے کر آؤں۔ یہ سن کر نکھٹو میاں کے چہرے پر زلزلے کے سے آثار پیدا ہوگئے۔ اور کہا کہ میں تو کبھی نہیں جاؤں گا۔ نکھٹو میاں خود تو منحنی سے تھے یعنی بہت ہی دبلے پتلے جب کہ ان کے دوست کافی لمبے چوڑے اور طاقتور تھے۔ انھوں نے ہنس کر کہا کہ نکھٹو میاں اگر آپ نے انکار کیا تو میں آپ کو گود میں اٹھا کر لے جاؤں گا۔ یہ سننا تھا کہ چہرے کا زلزلہ پورے بدن پر چھا گیا اور یوں کانپنے لگے جیسے سردی لگ کر بخار آجاتا ہے۔ بہت مچلے، بہت ضد کی کہ وہ نہیں جائیں گے لیکن اپنے دوست کے خطرناک ارادے دیکھ کر جانے کی حامی بھرنا ہی پڑ گئی۔
بے دلی سے اٹھے، غسل خانے کی راہ لی اور نہادھوکر تیار ہوگئے۔ سارے گھر والے ان کی حالت دیکھ دیکھ کر اور ان کی باتیں سن سن کر بہت ہنس رہے تھے۔ جب وہ گھر سے رخصت ہوئے اس وقت بھی ان کے ہاتھ پاؤں کپکپا رہے تھے لیکن دوست کی ضد کے آگے وہ اپنی چلانہ سکے۔
یہ پرانے وقتوں کی بات تھی۔ گلیاں اور بازار کچے ہوا کرتے تھے اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تو کھیتوں کی پکھڈنڈیوں پر چل کر فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا۔ جہاں دعوت کا اہتمام تھا وہ گھر کافی فاصلے پر تھا اس لیے کافی دیر میں راستہ طے ہوا۔ نکھٹو میاں کیونکہ چلنے پھرنے کے اتنے عادی نہ تھے اس لیے کچھ ہی دیر میں ان کے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے۔ بچو! پیٹ میں چوہے دوڑنے کا مطلب بہت زیادہ بھوک لگنا ہوتا ہے۔ جب کسی کو بہت زیادہ شدت سے کھانے کی خواہش ہو تو کہا جاتا ہے کہ پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔ جس دوست کے گھر دعوت تھی وہاں پہنچنے میں کافی وقت لگا لیکن پھر بھی دوپہر کے کھانے میں ابھی دیر تھی۔ نکھٹو میاں کا بھوک کے مارے برا حال تھا لیکن یہ ان کا گھر تو نہیں تھا کہ بیوی، ماں یا بہن پر اپنا رعب جھاڑ کر کام نکال لیتے۔ خدا خدا کرکے کھانا دستر خوان کی زینت بنا۔ نکھٹو میاں نے کھانا چنے جانے کی دوران کئی مرتبہ ہاتھ بڑھا کر یہ چاہا کہ اپنی پلیٹ میں کھانا انڈیل لیں لیکن ان کے دوست نے کمالِ ہوشیاری سے انھیں ایسا کرنے سے باز رکھا۔ جب سارا کھانا دسترخوان پر سج گیا تو کھانے پر موجود افراد نے اپنی اپنی پسند اور بھوک کے مطابق اپنے لیے کھانا اتارا، نکھٹو میاں کے سامنے “کھچڑی” کی ڈش آئی تو اس میں سے اٹھتی ہوئی چاولوں کی مہک سے ان کی رال کئی بار ٹپکتے ٹپکتے رہ گئی۔ ان کو چاول بہت ہی پسند تھے لیکن ان کے گھر میں کھچڑی کبھی نہیں پکی تھی۔ ایک جانب تو کِھلے کِھلے چاول، پھر مونگ کی دال کی اجلی رنگت اور پھر اصلی گھی کی خوشبو، نکھٹو میاں پر تو جیسے جادو ہوگیا۔ چاول بیشک ان کی کمزوری تھے لیکن کچھڑی کا نام تو انھوں نے کبھی سنا ہی نہیں تھا۔ بھوک جب زوروں پر ہو اور کوئی من بھاتی ڈش آنکھوں کے سامنے ہو تو پھر ہاتھ کیسے رک سکتا تھا۔ انھوں نے اپنی پلیٹ کھچڑی سے بھر لی اور دل میں سوچا کہ دعوت کھانے کے بعد جب گھر جارہے ہونگے تو میں اس ڈش کا نام اپنے دوست سے ضرور معلوم کرونگا تاکہ گھر میں اپنی بیوی سے فرمائش کر سکوں۔ کھچڑی کو دوست کے گھر والوں نے خاص ڈش کے طور پر مہمانوں کے سامنے پیش کیا تھا اور پکانے والے کے ہاتھ میں بھی ایسا جادو بھرا ذائقہ تھا کہ جس نے بھی کھچڑی کھائی اپنی انگلیاں ہی چاٹتا رہ گیا۔ سب کی طرح نکھٹو میاں کو بھی کھچڑی کھانے میں وہ مزا آیا کہ بھوک سے کچھ سوا ہی کھا بیٹھے۔
کھانے سے فارغ ہو کر نکھٹو میاں اور ان کے وہ دوست جو انھیں اپنے ہمراہ لے کر آئے تھے، میزبان سے باتیں کرتے رہے۔ ان کے گھر والوں، سب چھوٹے بڑوں کی خیریت معلوم کرتے رہے اور اپنے اپنے گھر والوں کا حال احوال بتاتے رہے پھر ان کا شکریہ ادا کرکے جانے کی اجازت چاہی۔
بچو! کھانے کے بعد میزبان کے ساتھ تھوڑا سا وقت ضرور گزانا چاہیے لیکن دعوت کھانے کے بعد بہت دیر تک مہمان کے گھر بیٹھنا اور اس کا وقت لینا مناسب نہیں تاکہ آپ کے جانے کے بعد گھروالے سارا سامان سمیٹ سکیں اور آرام کر سکیں۔ ایسا کرنا سنت بھی ہے اور آپؐ کا پسندیدہ عمل بھی۔
گھر سے روانہ ہونے کے فوراً بعد نکھٹو میاں نے اپنے دوست سے دریافت کیا کہ وہ جو دعوت میں ہم نے سفید سفید اور پیلا پیلا کھایا تھا اس کا نام کیا تھا۔ پہلے تو ان کے دوست کو ان کی بات سمجھ میں نہیں آئی لیکن جب سمجھ میں بات آئی تو وہ زوردار طریقے سے ہنسے اور ہنس کر کہنے لگے کہ وہ تو کھچڑی تھی۔ ان کی بات سن کر نکھٹو میاں نے سوچا کہ کہیں میں اس ڈش کا نام نہ بھول جاؤ اسی لیے دل ہی دل میں کھچڑی کھچڑی کی تکرار کرنے لگے۔ کچھ راستہ طے کر کے ان کے دوست نے اپنا گھر کا راستہ پکڑا اور نکھٹو میاں تنہا ہی اپنے گھر کے راستے پر مڑ گئے۔ بھول جانے کے ڈر سے وہ کھچڑی کھچڑی کہتے کہتے کچھ بہک سا گئے اور کھچڑی کی بجائے کھاچڑی کھاچڑی کہنے لگے۔ آس پاس تھا تو کوئی نہیں اس لیے ذرا بلند آواز سے کھا چڑی کھا چڑی کہتے جاتے اور گھر کی جانب بڑھتے جاتے۔ راستے میں ایک کھیت کے قریب سے گزرے تو ان کو کھیت والوں نے پکڑ لیا۔ کھیت والے اپنی فصل کو چڑیوں سے محفوظ رکھنے کیلیے صبح سے چڑیاں اڑاتے اڑاتے تھک چکے تھے۔ جب ان کے کانوں کو “کھاچڑی کھاچڑی” کا شور سنائی دیا تو ان کو بہت غصہ آیا کہ وہ تو چڑیاں اڑا اڑا کر تھک چکے ہی اور کوئی “کھاچڑی کھاچری” کہہ کر ان کا مذاق اڑا رہا ہے۔ وہ سمجھے کہ کوئی ان کا ساتھ دینے کی بجائے یہ کہہ رہا ہے کہ چڑیائیں کھاؤ۔ سب نے مل کو ان کی اچھی خاصی پٹائی کی اور کہا کہ کھاچڑی کھاچڑی مت کہو، اڑ چڑی اڑ چڑی کہو۔ اب وہ کھاچڑی کھاچڑی کی بجائے اڑچڑی اڑ چڑی کہتے آگے بڑھتے رہے۔ ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا اور وہ اڑچڑی اڑچڑی کہتے ہوئے جارہے تھے کہ کہیں قریب ہی کچھ شکاری چڑیائیں پکڑنے کیلیے ایک بڑا سا جال لگائے بیٹھے تھے۔ بدقسمتی سے صبح سے ایک چڑیا بھی ان کے جال کے قریب نہیں پھٹکی تھی۔ قسمت سے اب کافی تعداد میں چڑیائیں منڈلا رہی تھیں اور وہ سب جال کے نیچے پڑے دانوں کی جانب بڑھ ہی رہیں تھیں کہ اچانک نکھٹو میاں کے زور زور سے “اڑچڑی اڑچڑی” کہنے کی وجہ سے وہ سب کی سب اڑ گئیں۔ چڑیوں کے شکاریوں کو بہت ہی غصہ آیا اور وہ سب کے سب نکھٹو میاں پر پل پڑے۔ صبح سے ناکامی کا منہ دیکھتے دیکھتے ویسے ہی وہ بہت پریشان تھے کہ نکھٹو میاں کی اڑچڑی اڑچڑی کے شور نے جال کے قریب آجانے والی چڑیوں کو بھی جال سے بہت دور بھگادیا۔ سب نے ان کی خوب پٹائی کی اور کہا اب اڑچڑی اڑ چڑی مت کہو بلکہ “آتے جاؤ پھنستے آتے جاؤ پھنستے جاؤ” کہو۔ اب بیچارے نکھٹو میاں روتے جاتے اور یہی کہتے جاتے کہ آتے جاؤ پھنستے جاؤ آتے جاؤ پھنستے جاؤ۔ وہ یہی کہتے جاتے اور گھر کی جانب بڑھتے جاتے۔ ابھی وہ ایک اور گاؤں کے قریب سے گزر ہی رہے تھے کہ اس گاؤں سے کچھ چور چوری کا مال لیکر فرار ہو رہے تھے۔ جب ان کے کانوں میں یہ آواز گونجی کہ آتے جاؤ پھنستے جاؤ آتے جاؤ پھنستے جاؤ تو وہ سب ڈر گئے اور سمجھے کہ کسی پولیس والے نے انھیں چوری کرتے اور چوری کا سامان لیجاتے دیکھ لیا ہے۔ وہ سب درختوں کے پیچھے چھپ کر آواز کی سمت دیکھنے لگے۔ جب انھوں نے غور سے دیکھا تو ان کو ایک پاگل سا آدمی آتے جاؤ پھنستے جاؤ آتے جاؤ پھنستے جاؤ کہتا اور ان ہی کی جانب بڑھتا نظر آیا۔ سب چور اچانک ان کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور سب نے ان کی خوب پٹائی کی اور کہا کہ بد بخت آتے جاؤ پھنستے جاؤ آتے جاؤ پھنستے جاؤ مت کہو بلکہ یہ کہو کہ “لاتے جاؤ دھرتے جاؤ لاتے جاؤ دھرتے جاؤ”۔ نکھٹو میاں کا پٹ پٹ کر اور رو رو کر برا حال پہلے ہی ہوا ہوا تھا، شکل بھی پاگلوں جیسی ہو چکی تھی اس لیے چوروں نے انھیں چھوڑ دیا۔ وہ لاتے جاؤ دھرتے جاؤ لاتے جاؤ دھرتے جاؤ کہتے جاتے، روتے جاتے اور آگے بڑھتے جاتے۔
ایک اور گاؤں کے نزدیک سے نکھٹو میاں کا گزر ہوا تو وہاں ان کی بدقسمتی سے ایک جنازہ آرہے تھا۔ جب جنازے والوں نے دیکھا کہ کوئی شخص یہ کہتا جارہا ہے کہ لاتے جاؤ دھرتے جاؤ لاتے جاؤ دھرتے جاؤ تو ان کو تو بہت رنج ہوا۔ ایک تو وہ اپنے ایک عزیر کی موت پر پہلے ہی بہت رنجیدہ تھے اور دوسری جانب کسی کی یہ بک بک کہ “لاتے جاؤ دھرتے جاؤ لاتے جاؤ دھرتے جاؤ” سن کر وہ سب طیش میں آگئے اور سب نے ہی حسب توفیق نکھٹو میاں کی خوب پٹائی کی۔ نکھٹو میاں جو اب کھچڑی کو بالکل ہی بھول چکے تھے، زور زور سے رونے لگے اور جنازے والوں سے پوچھا کہ پھر میں لاتے جاؤ دھرتے جاؤ لاتے جاؤ دھرتے جاؤ نہ کہوں تو کیا کہوں۔ جنازے والوں کہا، یہ تو بہت غم اور دکھ کا موقع ہے اس لیے تم یہ کہو خدا یہ دن کسی کو نہ دکھائے خدا یہ دن کسی کو نہ دکھائے۔
شام کے سائے پھیلتے جارہے تھے اور سورج غروب ہونے ہی والا تھا اور ابھی گھر کا فاصلہ کافی باقی تھا۔ تھوڑی دیر میں سورج غروب بھی ہو گیا تھا لیکن اس کا چاندنا اتنا تھا کہ راستہ دکھائی دے رہا تھا۔ نکھٹو میاں “خدا یہ دن کسی کو نہ دکھائے خدا یہ دن کسی کو نہ دکھائے” کہتے جاتے، روتے جاتے اور گھر کی جانب بڑھتے جاتے تھے۔ ایک اور گاؤں کے قریب سے گزرے تو ایک بارات اپنے ڈھول باجوں کے ساتھ جارہی تھی۔ جب وہ بارا ت کے قریب سے گزرے اور باراتیوں نے ان کی یہ بک بک کہ خدا یہ دن کسی کو نہ دکھائے خدا یہ دن کسی کو نہ دکھائے، سنا تو باراتیوں کو آگ لگ گئی۔ خوشی کا موقع ہے اور ایک شخص ہاتھ ہلاہلا کر چلا چلا کر یہ کہتا جارہا ہے کہ خدا یہ دن کسی کو نہ دکھائے خدا یہ دن کسی کو نہ دکھائے تو سب باراتیوں نے ان کو گھیر لیا اور خوب ہی پٹائی کی۔ نکھٹو میاں کا پٹ پٹ کر حال برا ہوچکا تھا اس لیے بارات میں شامل سمجھدار لوگوں نے مارنے والوں کو سمجھایا کہ یہ کوئی دیوانہ اور پاگل لگتا ہے، اسے چھوڑ دو۔ مارنے والوں کو سمجھانے والوں کی بات سمجھ میں آگئی اور انھوں نے نکھٹو میاں کو چھوڑ دیا۔ نکھٹو میاں نے روتے روتے پوچھا کہ پھر انھیں کیا کہنا چاہیے۔ سب نے سمجھایا کہ دیکھو یہ خوشی کا موقع ہے اس لیے کہو کہ خدا یہ دن سب کو دکھائے خدا یہ دن سب کو دکھائے۔ نکھٹو میاں روتے جاتے، چلتے جاتے اور یہی کہتے جاتے کہ خدا یہ دن سب کو دکھائے، خدا یہ دن سب کو دکھائے۔
رات کے سائے پھیل چکے تھے، یہ چراغ بتی کا زمانہ تھا، بڑے بڑے شہروں میں بھی ابھی بجلی نہیں آئی تھی اس لیے تاریکی جلدی غالب آجایا کرتی تھی۔ گھر پہنچتے پہنچتے رات کی تاریکی اور بھی گہری ہو چکی تھی۔ نکھٹو میاں بہت بری طرح تھک چکے تھے، پورے راستے پٹائی بھی خوب ہوئی تھی، جگہ جگہ خراشیں آئی ہوئی تھیں، منہ بھی کئی جگہ سے سوج چکا تھا، رو رو کے آواز بھی بدل چکی تھی اور کپڑے بھی جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے اس عالم میں جب گھر کے دروازے تک پہنچے تو دہلیز پر ہی ڈھیر ہوگئے۔ بڑی مشکل سے دروازے پر دستک دی تو کچھ دیر کے بعد کسی نے اندر سے پوچھا کہ کون ہے۔ جواب کیا دیتے کیونکہ ان کے لبوں پر تو خدا یہ دن سب کو دکھائے خدا یہ دن سب کو دکھائے کے علاوہ اور کچھ تھا ہی نہیں۔ ایک تو آواز بالکل بدلی ہوئی تھی دوسرے یہ کہ حلیہ بھی عجیب بنا ہوا تھا اور پھر رات کی تاریکی، گھر والوں نے ہمت کرکے کسی دریچے سے جھانک کر دیکھا تو یہی سمجھے کہ کوئی پاگل یا مجذوب ہوگا اس لیے دوبارہ کنڈی لگا کر سو رہے۔
نکھٹو میاں رات پھر جاگتے سوتے رہے۔ جب جب بھی آنکھ کھلتی یہی ورد زبان پر ہوتا کہ خدا یہ دن سب کو دکھائے خدا یہ دن سب کو دکھائے۔ صبح دم گھر والوں نے دروازہ کھولا تو کسی کو دہلیز پر سوتا جاگتا پاکر پریشان ہو گئے۔ غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ نکھٹو میاں ہی ہیں۔ بڑی مشکل سے گھسیٹ گھساٹ کے گھر کے اندر لائے۔ لاکھ پوچھا کہ یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے، آپ کو کیا ہو گیا ہے، کن بد بختوں نے آپ کا یہ حال کردیا ہے لیکن ہر سوال کے جواب میں وہ اپنی بیوی کو دیکھتے اور یہی کہتے کہ بیگم خدا کے لیے ہمیں “خدا یہ دن سب کو دکھائے خدا یہ دن سب کو دکھائے” پکا کر دو ورنہ ہم مر جائیں گے۔ ان کی مسلسل فرمائش اور لایعنی باتوں سے پورا گھر پریشان ہوگیا۔ بیوی اور ماں رونے دھونے لگیں کہ اس کے بیٹے کو اور بیوی کے شوہر کو آخر ہو کیا گیا ہے۔ کیا یہ پاگل ہو گیا ہے اور پاگل سمجھ کر ہر جگہ اس کی پٹائی ہوتی رہی ہے۔ کیسی دعوت تھی۔ اس میں کیا کھالیاتھا جس نے دماغ ہی الٹ کر رکھ دیا۔ سب رو رو کر ان سے پوچھتے رہے کہ آخر نکھٹو میاں آپ کو یہ ہو کیا گیا ہے لیکن وہ سب کے ہاتھ پاؤں جوڑ جوڑ کر ایک ہی فرمائش کرتے رہے کہ ان کو “خدا یہ دن سب کو دکھائے خدا یہ دن سب کو دکھائے” پکا کر کھلائے۔
یہ حالت دیکھ کر ماں کو خیال آیا کہ کیوں نہ ان کے اس دوست کو بلاکر پوچھا جائے جو ان کو دعوت میں ساتھ لیکر گیا تھا اور پوچھا جائے کہ آخر ان کے ساتھ یہ ہو کیا گیا۔ کیا کھلادیا دعوت میں کہ میرے بیٹے کی یہ حالت ہوگی۔ کہاں سے گزرے کہ کوئی خطرناک جن چڑھ گیا۔ انھوں نے ان کے دوست کو بلا بھیجا۔ نکھٹو میاں کے دوست بھی نکھٹوں میاں کے حال احوال سن کر پریشان ہو گئے کیونکہ وہ جب ان سے علیحدہ ہوئے تھے تو اس وقت تک تو نکھٹو میاں ٹھیک ٹھاک تھے۔ پریشانی کے عالم میں جتنی جلد ممکن تھا وہ نکھٹو میاں کے گھر پہنچے۔ گھروالوں نے دروازہ کھلا ہی چھوڑا ہوا تھا۔ جب نکھٹو میاں کے دوست ان کے کمرے کے قریب پہنچے تو نکھٹو میاں اسی خوشامد میں لکھے ہوئے تھے کہ خدا کیلیے ان کیلیے “خدا یہ دن سب کو دکھائے خدا یہ دن سب کو دکھائے” پکا دیں اور ان کی یہ فرمائش سن سن کر سب ہی زور زور سے رو رہے تھے کہ آخر کون سا جن ہے جو نکھٹو میاں کے سر سے اتر کر ہی نہیں دے رہا ہے۔ نکھٹو میاں کی باتیں سن کر تو ایک مرتبہ خود ان کے دوست بھی گھبرا گئے۔ ان کے حلیے پر نظر پڑی تو خوف کی وجہ سے وہ خود بھی کانپنے لگے اس لیے کہ نکھٹو میاں کی حالت پاگلوں سے بھی زیادہ بدتر تھی۔ نکھٹو میاں کے دوست کو دیکھ کر جو لوگ بھی ان کے کمرے میں موجود تھے سب نے نکھٹو میاں سے کہا کہ دیکھو تمہارے دوست آئے ہیں۔ نکھٹو میاں نے گردن اٹھا کر اپنے دوست کو دیکھا تو ایک دم پلنگ سے اچھل کر کھڑے ہوگئے اور اس سے پہلے کہ مارے خوف کے ان کے دوست واپسی کا راستہ پکڑتے، نکھٹو میاں ان سے جاچمٹے۔ ان کے دوست کی تو جان ہی نکل کر رہ گئی۔ نکھٹو میاں ان سے لپٹ کر بس ایک ہی بات کہے جا رہے تھے کہ یار بتاؤ وہ جو ہم نے دعوت میں سفید سفید اور پیلا پیلا کھایا تھا وہ کیا تھا۔ خوف کی وجہ سے نکھٹو میاں کی بات ان کو بہت دیر میں سمجھ میں آئی۔ ان کے منہ سے ڈری ڈری آواز میں نکلا وہ تو “کھچڑی” تھی۔ یہ سننا تھا کہ نکھٹو میاں نے اپنے دوست کو تو اپنے سے دور کیا اور بیوی کے گلے میں جھول گئے اور زور زور سے کہنے لگے کہ بیگم جلدی سے کھچڑی پکاؤ۔ ہم نے اس کچھڑی کی وجہ سے بہت ہی مار کھائی ہے۔ یہ کہہ کر سب کو حیران و پریشان چھوڑ کر اپنے اجلے کپڑے نکالے اور غسل خانے کی راہ لی۔
دوست کو اب ہر بات سمجھ میں آگئی تھی۔ ڈر دور ہوگیا تھا اور گھر والے بھی پر سکون ہوچکے تھے۔ بیوی کھچڑی پکانے جا چکی تھی اور ماں اپنے بہتے آنسو پونچھ رہی تھی۔
اِدھر کھچڑی تیار ہوچکی تھی اْدھر نکھٹو میاں نہادھو کر اور حلیہ بدل کر سب کے درمیان بیٹھے اپنا ساری کہانی بیان کر رہے تھے۔ ان کی کہانی سن کر کبھی کوئی اظہار افسوس کر رہا تھا، کبھی مسکرارہا تھا اور کبھی کوئی ان کی بے پناہ معصومیت پر دل میں اللہ سے ان کے حق میں نیک دعائیں مانگ رہا تھا۔

حصہ