ناکام

45

ہادیہ امین
۔”یہ ہیں وہ بچے جنہیں اگلی کلاس میں پروموٹ نہیں کیا جا سکتا، ان کے مختلف مضامین میں بری طرح فیل ہونے کی وجہ سے”پرنسپل کی سکریٹری نے نتائج کے اعلان (رزلٹ ڈے) والے دن ان کے آفس لے جا کر کہا۔
“یہ بچے ناکام ہوئے ہیں، یہ ان کی رپورٹ کارڈز ہیں جنہیں آپ دیکھ سکتے ہیں”
رپورٹس کی بس جھلک ہی دکھائی دے رہی تھی۔ شرمندگی کی وجہ سے کوئی بھی سر نہیں اٹھا پا رہا تھا۔سب خوفزدہ تھے کہ پرنسپل نہ جانے کیا سلوک کرینگے۔
“یہ بچے ناکام نہیں ہوئے مس شہلا” پرنسپل نے سکریٹری سے کہا۔
“جو بچہ علم حاصل کرنے کے لئے گھر سے آئے وہ ناکام نہیں ہو سکتا،علم کو اہمیت دینا ان بچوں کو ایک دن کامیاب بنا دیگا،یہ بچے ناکام ہرگز نہیں ہوئے،بلکہ ایک سال اور پڑھ کے اور پکے ہونگے، اور مہارت حاصل کرینگے”
مس شہلا حیرت زدہ تھیں۔۔انکو پرنسپل کے ان تاثرات کی توقع نہ تھی۔
“فاتح کون ہے؟” پرنسپل کے سوال سے فاتح کا دل زور زور سے نہیں،مگر ذرا تیز دھڑکنے لگا۔
“میں سر!”
“اچھا” پرنسپل نے بس “اچھا” کہنے پر اتفاق کیا۔
“آپ لوگ اگر کسی ایک مضمون میں فیل ہیں تو یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ ہمیشہ فیل ہی رہیں گے”
فاتح سوچنے لگا میرا کیا ہوگا! بیچارہ تمام مضامین میں ہی فیل تھا۔
“قدرت نے کوئی انسان بے کار نہیں بنایا،آپ کی کوئی صلاحیت ایسی ضرور ہوگی،جو صرف آپکی ہوگی”
فاتح نے سوچا میرے اندر تو کوئی صلاحیت نہیں ہے،سرے سے ہی نہیں ہے،گھر میں بھی سب نالائق کہتے ہیں،اب کیا ہوگا جب میں رپورٹ کارڈ دکھائوںگا۔
“مزید محنت کریں،فارغ نہ رہیں،آپ۔بہت کچھ کر سکتے ہیں” یہ بات خصوصا فاتح کی طرف دیکھ کر کہی گئی جس کی پوری رپورٹ ہی لال تھی۔ساتھ ہلکی مسکراہٹ بھی فاتح کو دی گئی۔
گھر پہنچ کر فاتح کو خوب ڈانٹ پڑی۔ وہ رات میں بھی بستر پر لیٹا روتا رہا۔
“میں کیوں ہوں ایسا،پڑھتا ہوں پھر بھی فیل ہو جاتا ہوں”
“یہ مطلب نہیں کہ آپ ہمیشہ فیل ہی رہینگے” کہیں دور سے پرنسپل کی آواز نیند میں بند ہوتی آنکھوں میں اسکے کانوں کو سنائی دی۔
“کوئی انسان بیکار نہیں ہوتا” خواب میں بھی پرنسپل کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی۔
اگلے دن فاتح نئی کلاس میں بیٹھا،کلاس میں بچے اس سے ایک سال چھوٹے تھے،مگر سب فاتح کے دوست تھے،اردو میں فاتح کمزور تھا اور کمزور ہی رہا مگر سائنس اور حساب میں وہ اچھا جا رہا تھا۔
وقت اسی طرح گزرتا رہا۔۔فاتح نے گزرتے لڑھکتے تعلیم حاصل کی اور پھر مستقبل کے بارے میں سوچنے لگا۔۔ایک طرف اسکو نالائق کہنے والے لوگ تھے جن میں وہ خود بھی شامل تھا، دوسری طرف پرنسپل صاحب کے برسوں پہلے کہے گئے الفاظ تھے کہ کوئی انسان بیکار نہیں ہوتا۔۔فاتح ان دونوں کے بیچ میں کھڑا تھا۔
“اے اللہ! مجھے تو نے بنایا ہے اور پرنسپل صاحب نے کہا تھا کہ تو نے بے کار کسی کو نہیں بنایا۔۔رزق تو صرف تیرے ہاتھ میں ہے،میں پڑھائی میں اچھا نہیں ہوں مگر میں انسان بہت اچھاہوں،کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا،مجھے ترقی عطافرما”
بارہ سال بعد۔۔۔
آج غریب بچوں کے لیے کھولے جانے والے اسکول کی افتتاحی تقریب تھی۔ پرنسپل صاحب زمانے پہلے جاب سے ریٹائر ہو گئے تھے۔۔گھٹنے اور آنکھیں بہت زیادہ کام نہیں کرتے تھے مگر اس افتتاحی تقریب میں انکو بہت اسرار سے بلایا گیا تھا۔۔وہ وہیل چئیر پہ بیٹھے،انکے پاس ایک پلیٹ میں فیتہ کاٹنے کیلئے قینچی لائی گئی۔۔انہوں نے فیتہ کاٹا،اسکول کے اندر داخل ہوئے تو جلی حروف میں لکھا تھا،”پرنسپل محمد عنایت اسکول بائے فاتح انڈسٹریز”
آنکھیں کمزور ہونے کے باوجود پرنسپل صاحب پڑھ سکتے تھے۔۔ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔۔فاتح نے اللہ سے دعا مانگنے کے بعد اپنا چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔۔شروع میں ناکامیوں کو دیکھنا پڑا مگر انتھک محنت اور اچھی نیت نے فاتح کو خوب ترقی دی،آج بہت قابل لوگ فاتح کے آفس میں کام کرتے تھے،سب فاتح سے خوش تھے۔یہ سچے دل سے کہے گئے پرنسپل صاحب کے الفاظ کی طاقت تھی جنہوں نے فاتح کو ہمت نہیں ہارنے دی۔۔آج فاتح نے پرنسپل کے نام سے ایک اسکول کھولا ہے جس میں غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی اور پھر یہاں سے جو بھی قابل انسان بن کر نکلے گا،اسکا سہرا فاتح اور پرنسپل صاحب کے سر بھی ہوگا۔۔ان شاء اللہ۔ ۔اللہ تمام بچوں کو سنتوں پر عمل کرنے والا اچھا انسان بنائے اور علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

حصہ