معما

60

عروج دبیر
ساری حکومتی مشینری حرکت میں تھی مگر کسی طور بھی مظفر علی کے قتل کا معما حل نہیں ہورہا تھا۔ مظفر علی عرصہ درز سے ملک بھر میں ایک پراسرار مجرم کے طور پر مشہور تھا مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔ تمام ملکی ایجنسیاں اس کے تعاقب میں تھیں۔
مظفر علی کے بارے میں رائے مستند سمجھی جاتی تھی کہ وہ ملک میں ہونے والی تمام دہشت گردیوں میں ملوث ہے اور اس میں غیر ملکی طاقتیں اس کی معاون ہیں۔ اس کے بے شمار کاروبار تھے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر ممکن کوشش کے بعد اس کے کسی کاروبار کو غیر قانونی یا غیر اخلاقی ثابت نہ کرسکے تھے۔
بالآخر برسوں کی محنت کے بعد خفیہ ایجنسیاں مظفر علی کے خلاف ملک دشمنی کے ثبوت اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو ہی گئیں اور اس کو گرفتار کرلیا گیا۔ حکومت کی پوری کوشش تھی کہ مظفر علی کی گرفتاری ظاہر نہ کی جائے مگر میڈیا نے تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ میڈیا کے دبائو پر حکومت کو مظفر کی گرفتاری ظاہر کرنی پڑی۔
کافی عرصہ تک مظفر کی گرفتاری کی خبر گرم رہی مظفر کو جیل منتقل کردیا گیا اور جیل میں ہی اس سے تفتیش کی جاتی رہی۔اس نے بہت سے راز اُگل دیے۔ مگر ابھی بھی تفتیشی ٹیم کو یقین تھا کہ وہ بہت کچھ چھپا رہا ہے۔ اس کو سخت حفاظتی تحویل میں رکھا گیا تھا۔
اس سے راز اُگلوانے کے لیے اس پر سختی بھی بہت کی گئی۔ بھوکا پیاسا بھی رکھا گیا، مار بھی خوب پڑی، مگر مظفر علی اس راز سے پردہ نہیں اُٹھا رہا تھا کہ ملک میں کون کون سی بڑی مچھلیاں اس کی مددگار ہیں۔ ظاہر ہے بغیر کسی بڑی اثر و رسوخ والی ٹیم کو شامل کیے وہ اس قدر دہشت نہیں پھیلا سکتا تھا۔
چونکہ ملک کی پولیس کا نظام ایسا ہے کہ پیسہ خرچ کرکے ہر چیز حاصل کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا مظفر علی زیر تفتیش تو تھا مگر اس کو تمام سہولتیں حاصل تھیں۔
وہ سخت پہرے میں تھا، وہ جس کمرے میں قید تھا اس میں کوئی کھڑکی بھی موجود نہ تھی۔ اس کو جب بھی کسی ضرورت کے تحت باہر لے جایا جاتا تو اس کے ساتھ ایک درجن سے زائد پولیس اہلکار ہوتے جب سے وہ قید ہوا تھا۔ اس کو جیل سے باہر نہیں لے جایا گیا، رات کو اس کے ہاتھوں کی بیڑیاں کھول دی جاتی تھیں ورنہ اس کے پیروں اور ہاتھوں میں بیڑیاں تھیں۔ اس کے کمرے میں صرف انسپکٹر لیول کا آفیسر ہی جاسکتا تھا وہ بھی محافظوں کے ساتھ۔
ایک دن جب صبح ایک انسپکٹر اسے تفتیش کے لیے پہنچا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مظفر علی فرش پر بے سدھ پڑا ہے اور اس کے گلے میں ایک سوراخ ہے۔ تقریباً ایک سے دو انچ کا۔ سارے فرش پر خون ہی خون ہے وہ نہ جانے کون سے پہر قتل کردیا گیا تھا۔
سارے ملک میں کھلبلی مچ گئی۔ میڈیا کی سب سے بڑی خبر بن گئی۔ مظفر علی کا قتل ہوگیا۔ وہ بھی پولیس کی کسٹڈی میں، کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ فوری طور پر جیل کے تمام عملے کو معطل کردیا گیا، جیلر سمیت کئی افسر گرفتار کرلیے گئے۔
اعلیٰ سطح کے کمیشن بنائے گئے۔ مکمل تحقیقات کی گئی۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے بے پناہ دبائو کو حکومت جھیل رہی تھی۔ طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہورہی تھیں، کوئی کہہ رہا تھا حکومت کی نااہلی ہے کہ جیل کسٹڈی میں ملزم کو قتل کردیا گیا تھا۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی خوب واویلا مچا رہی تھیں۔ دشمن ملک بھی خوب بھڑاس نکال رہا تھا، ماورائے عدالت قتل پر مظاہرے بھی شروع ہوچکے تھے۔
میں بھی ایک عام شہری کی طرح اس واقعہ میں دلچسپی لے رہا تھا۔ میں ایک سپاہی ہوں اپنی سروس کے دوران میں نے بہت پیچیدہ پیچیدہ کیس نہ صرف دیکھے بلکہ حل بھی کیے ہیں۔ میری آنکھ موبائل کے مسلسل بجنے کی وجہ سے کھلی تھی۔ میرے ہیڈ آفس سے فون تھا مجھے فوری رپورٹ کرنے کا کہا گیا تھا۔ جب میں ہیڈ آفس پہنچا تو مظفر علی قتل کیس کی فائل مجھے دے کر کیس مجھے سونپ دیا گیا تھا۔
میں نے اپنے باس سے پوچھا سر یہ کیس تو بہت ہائی پروفائل ہے مجھے یہ کیوں سونپا گیا ہے۔ تو میرے باس نے ہمیشہ کی طرح بے اعتنائی سے کہا۔ حکم صرف حکم ہوتا ہے اس کی کوئی وجہ نہیں ہوتی وہ پورا کرنا ہوتا ہے کبھی میرے باس نے کسی سے سیدھے منہ بات ہی نہیں کی تھی۔
بہرحال میں فائل کے مطالعے میں غرق ہوگیا۔ مظفر علی کو قتل ہوئے 3 ماہ ہوچکے تھے اس قتل کا معمہ حل کرنے کے لیے اعلیٰ ترین افسر 4 مرتبہ تبدیل ہوچکے تھے۔ میں نے بار بار کیس کا مطالعہ کیا میں بُری طرح چکرا کر رہ گیا۔ کیس کی تفصیل میں نے نوٹ کرلی۔
مظفر علی کو کسی تیز دھار آلے سے بہت قریب سے حلق میں زخم مارا گیا تھا۔ زخم تقریباً 2½ انچ گہرا اور 2 انچ چوڑا تھا۔ زخم کی نوعیت سے لگ رہا تھا کہ کسی موٹے سوئے سے ضرب لگائی گئی ہے۔ یعنی آلہ قتل کی بناوٹ یکساں نہیں تھی وہ آگے سے پتلا اور پیچھے سے تھوڑا چوڑا تھا۔
زخم لگنے سے شریان کٹ گئی تھی جو فوری موت کا سبب بنی۔ مظفر علی کے جسم پر کسی زخم کا اور کوئی نشان نہیں تھا۔ اس کے کمرے سے ملنے والی اشیاء میں ایک پانی کی بوتل جو لاش سے 3 فٹ کے فاصلے پر ملی تھی۔ اس بوتل کے ساتھ مقتول کے ایکسرے کا تقریباً 4 انچ کا پھٹا ہوا حصہ اور ایکسرے کا ایک بڑا حصہ ملا تھا۔
مقتول نے ایک ہفتہ قبل سینے میں درد کی شکایت کی تھی پھر اس کا طبی معائنہ جیل میں ہی کرایا گیا تھا اور ایکسرے بھی اس ہی کمرے میں لیا گیا تھا۔
کمرے میں اس کے علاوہ مقتول کے استعمال کی کچھ چیزیں تھیں۔ مجھ سے پہلے والے تفتیشی افسران نےامکان ظاہر کیا تھا کہ آلہ قتل مقتول کے نیل کٹر میں موجود چاقو بھی ہوسکتا ہے۔ مگر یہ قیاس بھی غلط ثابت ہوگیا کیونکہ مقتول کے پاس موجود نیل کٹر میں چاقو نہیں تھا۔ مظفر علی کا بیرونی دنیا سے تمام رابطہ منقطع تھا اس کو ابھی وکیل کی سہولت بھی نہیں دی گئی تھی۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں بھی صرف یہی بات درج تھی کہ حلق میں لگنے والا زخم موت کا سبب بنا اور موت کا وقت رات 3 اور 4 کے درمیان تھا۔
رات 10 بجے آخری مرتبہ مظفر علی کو زندہ دیکھا گیا تھا جب اس کو معمول کے مطابق رات کا کھانا دیا گیا تھا۔ اس کی موت کا صبح 8 بجے علم ہوا جب اس کا نوشتہ دینے کے لیے ایک نسپکٹر اندر گیا۔
فارنزک رپورٹ کے مطابق کمرے کے اندر موجود ہر چیز پر صرف مظفر علی کی انگلیوں کے نشانات تھے یا پھر پولیس کے۔ سرکاری طور پر مظفر علی کو جس کمرے میں رکھا گیا تھا اس میں صرف ایک بستر موجود تھا۔
میں نے جب تحقیقات کی تو کچھ ایسی چیزیں بھی سامنے آئیں جن کا کسی بھی رپورٹ میں اندراج نہیں تھا۔ مظفر علی کو کمرے میں ٹی وی اور فریج بھی دستیاب تھا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے یہ تھی کہ وہ بہت اثر و رسوخ والا آدمی تھا۔ یہ سب تفصیلات جمع کرکے میں بُری طرح چکرا گیا۔ بار بار میرے ذہن میں متعدد سوالات اُبھر رہے تھے، جن کا جواب صرف مظفر علی دے سکتا تھا مگر اب یہ جواب مجھے خود تلاش کرنے تھے۔ وقوع کے مطابق پانی کی بوتل میں مظفر علی کے ایکسرے کا ایک ٹکڑا دوہرا پھنسا ہوا تھا۔ جب مظفر علی کی لاش دریافت ہوئی تو بوتل میں وہ ٹکڑا بھی موجود تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید یہ ایکسرے کا ٹکڑا جس چیز سے بھی علیحدہ کیا ہے اس ہی چاقو سے مظفر علی پر وار کیا گیا ہوگا مگر میرے اس سوال کے جواب نے مجھے مزید چکرا دیا۔ ڈیوٹی پر موجود سپاہی نے اعتراف کیا ایکسرے کا ٹکڑا اس نے مظفر علی کے کہنے پر 6 دن قبل اس نے پھاڑ کر دیا تھا۔ اس ٹکڑے کو مظفر علی انگلیوں میں پھنسا کر اس سے میوزک پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔
یہ بات واضح تھی کہ مظفر علی کا زندہ رہنا بہت سارے لوگوں کے لیے ناقابل برداشت تھاکیوںکہ اگر مظفر علی ملک میں موجود لوگوں کا بتادیتا تو سب کے سب پکڑے جاتے۔ یعنی قتل کی وجہ تو موجود تھی۔ مگر وہ کیسے قتل کیا گیا معما حل ہی نہیں ہورہا تھا۔ CCTV کیمرے کی ریکارڈنگ سے بھی یہ بات ثابت تھی کہ مظفر علی کے کمرے میں کوئی آیا نہ گیا۔
آلہ قتل اگر مل جاتا تو شاید یہ معماحل ہونے کا امکان ہوتا۔ اس قتل میں ہر امکان کا میں نے بغور جائزہ لیا۔ میں غیر مرئی قوتوں یعنی جنات وغیرہ کے وجود کا قائل تھا مگر میری رائے میں یہ مخلوق کیا ہے کیسی ہے اس کا ادراک کسی کو نہیں ہوسکتا۔ میں نے اپنے عقیدے کے برخلاف اس پہلو پر بھی غور کیا کہ کیا یہ جنات کا کام ہے تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ایسا ناممکن ہے۔
مجھے اس کیس پر کام کرتے ہوئے 2 ماہ مکمل ہوچکے تھے مگر اب میں تھکتا جارہا تھا۔ بے زار ہورہا تھا، میری راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں۔ ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد میں کوئی سرا تلاش کررہا تھا۔ مگر مسلسل ناکامی کا سامنا کررہا تھا، سامنے کی بات یہ تھی کہ اس قدر سخت پہرے میں قاتل کس طرح قتل کرکے غائب ہوگیا کہ کوئی زرہ نشان بھی نہ ملا۔
نہ جانے رات کس پہر نیند آئی کہ میں دیر تک سوتا رہا۔ میری آواز اپنی بیوی اور ماسی کی باتوں سے کھلی تھی، مجھے اپنی بیوی کافی خوش لگ رہی تھی میں نے سوچا چلو چل کر دیکھتا ہوں یہ کس بات پر خوش ہورہی ہے۔
میری بیوی کچن میں ماسی کے ساتھ کھڑی تھی اور فاتحانہ انداز میں ایک کونے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ میں نے پوچھا کیا ہوا تو اس نے بتایا کہ جو چوہا ایک ماہ سے ہر چیز کو تہس نہس کررہا تھا آج اس نے مار دیا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا تم نے یہ کارنامہ کیسے سرانجام دے لیا۔ تو میری بیوی نے بتایا کہ اس نے رات کو فریج بند کردیا تھا کہ وہ صبح ماسی کے ساتھ مل کر فریج کو دھوئے گی۔ صبح جب ماسی آئی تو انہوں نے فریج سے برف صاف کی، جگہ جگہ برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بکھر گئے تھے کہ اچانک وہ چوہا ایک کونے میں بیٹھا نظر آیا۔ میری بیوی نے موقع سے فائدہ اٹھانے کا سوچا سب سے قریب ترین چیز جو اس کو چوہے کو مارنے کے لیے مل سکی وہ برف کا ٹکڑا تھا۔ میری بیوی نے وہی ٹکڑا چوہے کو دے مارا۔ شاید قدرت کو چوہے کی موت منظور تھی کہ میری بیوی کا نشانہ ٹھیک لگا وہ برف کا نوکیلا ٹکڑا چوہے کی کمر میں پیوست ہوگیا۔ جس سے چوہا زخمی ہوگیا اپھر زخمی چوہے کو مارنا بہت آسان ثابت ہوا۔
میں ہکا بکا بیوی کے کارنامے میں اُلجھ گیا۔ میرا دماغ نہایت تیزی سے کام کرنے لگا۔ مجھے بہت اہم نکتہ مل گیا تھا۔ بیوی کے لاکھ روکنے کے باوجود بغیر ناشتہ کے میں کام پر نکل گیا۔
4 دن کی محنت کے بعد مجھے زبردست کامیابی ملی۔ چوہے کی موت نے مجھے ایک مفروضہ دیا میں نے اس پر کام کیا۔
میں نے مظفر علی کی موت کا معما حل کرلیا۔ مظفر علی نے خودکشی کی تھی وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ ملک میں موجود اپنے لوگوں کے نام لینا نہیں چاہتا تھا۔ جب اس کو بچنے کی کوئی اُمید نظر نہ آئی تو اس نے خودکشی کا ارادہ کرلیا۔ اس کے پاس خود کو مار دینے کے لیے کوئی ہتھیار موجود نہیں تھا۔ اس نے فریج میں موجود بوتل کو ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے بہانے سے سپاہی کے ذریعے ایکسرے کے ٹکڑے کو دوہرا کرکے بوتل میں پھنسا کر پوری بوتل پانی سے بھرلی اور فریج میں جمنے کے لیے چھوڑ دیا۔ جب دو سے تین دن میں بوتل میں برف جم گئی تو اس نے بوتل میں سوراخ کرلیا اور آدھی بوتل پھاڑ لی۔ جس سے بوتل کے اگلے حصہ میں جمی ہوئی برف ایک تیز دھار آلے میں تبدیل ہوگئی تھی۔
اس آلے کو مظفر علی نے اپنے حلق میں اپنے ہاتھوں سے دے مارا۔ نتیجتاً وہ زخمی ہو کر گرا اور کچھ دیر میں مر گیا۔ کچھ ہی دیر میں وہ برف پگھل گئی اور آلہ قتل کا نام و نشان تک نہ رہا۔
میں نے یہ تمام واردات عملی تجربہ کرکے دکھا دی۔ ہر جگہ میری دھوم مچ گئی۔ مجھے اگلے عہدے میں ترقی مل گئی۔ تعریفی سند اور انعام بھی مل گیا۔ مگر آج تک یہ خلش دل سے نہیںجاتی کہ کاش مظفر علی خودکشی نہ کرتا تو آج ملک میں دہشت گردی کی جڑ یںختم ہوچکی ہوتیں۔

صدیوں تک اہتمامِ شبِ ہجر میں رہے
صدیوں سے انتظارِ سحر کر رہے ہیں ہم

رئیس امروھوی

حصہ