مجلّہ جامعۃ المحصنات کی تقریبِ رہنمائی

98

افشاں نوید
الحمدللہ جامعات المحصنات کے چوتھے علمی وتحقیقی مجلہ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کراچی کے پانچ روزہ دورے کے انتہائی مصروف شیڈول میں اس تقریب کو شامل کیا۔ ڈاکٹر شگفتہ نقوی میلبورن سے ہفتہ بھر کے لیے تشریف لائیں۔ جب ان سے گزارش کی کہ مجلہ کی تقریب رونمائی میں شرکت فرمائیں، تو کمالِ شفقت سے انھوں نے دعوت قبول کی اور کہا کہ علمی کاوشوں کی حوصلہ افزائی کرنا میں اپنا فرض سمجھتی ہوں۔
کراچی کی علمی و ادبی شخصیات کی شمولیت نے تقریب کو چار چاند لگادئیے۔
مجلہ، جامعات المحصنات کے شعبۂ تحقیق کی کاوش ہے۔ اس میں فارغ التحصیل طالبات کے تحقیقی مقالات کو بالخصوص جگہ دی جاتی ہے تاکہ المحصنات میں تحقیقی رجحان کی حوصلہ افزائی ہو۔

اداریہ مدیرہ 07
مخطوطات کا تعارف و اہمیت اور تاریخی پس منظر گل ناز عبدالغفور 08
شام اور مشرق وسطیٰ کا حال اور مستقبل
(احادیثؐ کی روشنی میں)
میر بابر مشتاق 21
الہامی وغیر الہامی مذاہب میں ذبیحہ کا تصور کنیز فاطمہ 34
اقبال کا تصورِ اجتہاد… تحقیقی جائزہ تہمینہ پرویز 47
معجزاتِ محمدِ عربیؐ۔ ایک جائزہ سمیرا چشتی 66
قرآن کا سائنسی انڈیکس انجینئر شفیع حیدر صدیقی 86
عربی مقالات
الارہاب…
کلمۃ حق اریدبھا باطل
عالم خان 99
حکم حضور النسآء لصلاۃ الجماعۃ فی المسجد الدکتورۃ جہاں آراء لطفی 114

آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔
ڈاکٹر سمیحہ راحیل نے مجلہ پر اپنا قیمتی تبصرہ تحریر کیا ہے،جو مجلہ کی ٹیم کے لیے انتہائی حوصلہ افزائی کا سبب ہے۔
اداریہ
آج اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے ہر میدان میں تحقیق کی ضرورت ہے۔ دینی اصولوں کو جدید دور کے مسائل پر منطبق کرکے ان مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ بلاشبہ تحقیق ایک گراں قدر اور محنت کا کام ہے، نئے اور اچھوتے موضوعات پر کام کرنا، موضوعات کی چھان پھٹک جہاں تھکا دینے والے کام ہیں وہیں نہ جانے کتنے مطالعہ کرنے والوں کی ذہنی آبیاری کا سبب بنتے ہیں۔ یہ جستجو ایسی ہی ہے جیسے سمندر سے قیمتی موتی تلاش کرنا۔ آج کا محقق آنے والے کل کی تعمیر کرتا ہے، بے چین روحوں کے اضطراب کو دور کرکے ایمان و آگہی کی دلیلیں فراہم کرتا ہے۔
مجلہ المحصنات کی ٹیم کی حقیر مگر انتھک کوششوں، آپ کی دعائوں، اور سب سے بڑھ کر رب کی عطا سے چوتھا مجلہ آپ کے علم اور ذوقِ مطالعہ و تحقیق کی نذر ہے۔ ہم اہم سے اہم تر کی طرف گامزن اللہ سے عاجزی کے ساتھ اپنی مغفرت کے طالب ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علم سے محبت اور خوشنودیٔ رب کے حصول میں کامیابی عطا فرمائے۔
آپ سب کے تعاون کی طلب گار
مدیرہ
ڈاکٹر عابدہ سلطانہ
نگراں شعبہ تحقیق
جامعات المحصنات پاکستان
٭…٭…٭
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترمہ افشاں نوید صاحبہ، محترمہ ڈاکٹر عابدہ سلطانہ صاحبہ
السلام علیکم و رحمتہ اللہ
المحصنات کے شمارہ نمبر 4کی رونمائی کا اعزاز دینے کے لیے شکر گزار ہوں۔ آنے کے بعد اس کو بہت شوق سے پڑھا۔ میں آپ سب کو مبارک باد دینا چاہوں گی کہ میں نے بہت عرصے بعد تحقیقی مقالوں کو اتنے غور اور شوق سے پڑھا۔ ذہنی آبیاری کے اس دقیق کام کو آپ سب نے اتنا سہل اور اتنا پُرلطف بنایا۔ آپ لوگوں کے لیے دلی دعائیں!
میں نے آپ کے مجلے میں سے کچھ قیمتی موتی اپنے لیے چُنے اور اسے آپ کی نذر کرتی ہوں۔ میرا دل چاہتا ہے اسے ایک دو ورقے کی صورت میں چھاپ دوں۔ بہت ہی خوبصورت الفاظ جو واقعی آگاہی کی ایمان افروز منزلوں سے آشنا کرنے والے ہیں۔
٭عابدہ بہن کا چھوٹا مختصر سا اداریہ صفحہ نمبر 7 پر فوری طور پر شوق کے دریچے وا کرتا ہے۔
٭صفحہ نمبر 8 پر مخطوطات کا تعارف خاصے کی چیز ہے۔ مسودہ کا مطلب پہلی بار سمجھی ہوں۔ شکر گزار ہوں۔Manu Script بھی وضاحت سے سمجھ میں آیا ہے۔ مخطوطات معاشرے کے ارتقاء کے سنگِ میل اور نشاناتِ منزل کو واضح کرتے ہیں۔ انسانی تہذیبوں کی داستانوں کو رقم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ معاشرہ مستقبل میں ترقی و کمال کی کن بلندیوں سے آشنا ہوگا، اس کی بشارت بھی کتابوں کے اوراق ہی میں ملی ہے۔
٭صفحہ نمبر 11پر کتاب شناسی اور کتاب داری کی خوبصورت اصطلاحوں سے واقفیت ہوئی۔
مخطوطات انسانی معاشرے کی اقدار و روایات کے امین ہوتے ہیں۔ ریکارڈ ہوتے ہیں۔ درسِ عبرت، حوصلے اور نظریات کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مذہب اور عقیدے کے مظاہر ہوتے ہیں۔ عیسائی مؤرخ چرجی زیدان کا قول نقل کیا گیا ہے’’مسلمانوں کی یہ عجیب و غریب خصوصیت ہے کہ انہوں نے اُس وقت کے رائج علوم کو اپنی زبان میں منتقل کرلیا تھا اور تمدن کے تمام اسباب حیرت انگیز عجلت میں مہیا کرلیے جو کہ کسی اور قوم نے نہیں کیے‘‘۔ اس جملے کو دیکھ کر حسرت و اندوہ کی ایک ناقابلِ بیان کیفیت میں مبتلا ہوگئی کہ اس لیے ثریا نے ہم کو آسمان سے زمین پر دے مارا ہے۔
٭صفحہ نمبر 15 پر تاریخ کے اس المیے سے آگاہی ہوئی کہ غیر مسلم اقوام نے مسلمانوں کی لائبریریوں کو سب سے پہلے تاخت و تاراج اسی لیے کیا کہ انہیں ان کی علمی اور ثقافتی میراث سے محروم کرکے ان کی آنے والی نسلوں کو ان کی تاریخ سے غافل کردیا جائے۔ انہوں نے کتابوں کو انسانوں سے زیادہ اہمیت دی۔
٭صفحہ 18 پر تحقیق، تعلیق، تدوین اور تخریج کا پتا چلا، اور عرب دنیا کی کتابوں کی جامع فہرست اور پی ایچ ڈی کے بیشتر مو ضوعات کا بھی علم ہوا۔
٭صفحہ 18 پر حرفِ آخر بہت ہی علمی انداز میں تحریر کیا گیا ہے کہ مخطوطات ہماری میراثِ گم گشتہ، متاعِ عہدِ رفتہ، سرمایہ تاریخ، دولتِ بے بہا اور علمی اداروں کی طرف سے نگاہِ التفات کے منتظر ہیں۔ میر بابر مشتاق صاحب کے قلم کی مداح بھی ہوں اور شکر گزار بھی کہ میرے پی ایچ ڈی کے لیے مجھے بہت اچھی رہنمائی فراہم کی تھی۔ انہوں نے احادیث کی روشنی میں مشرق وسطیٰ کا حال بیان کیا ہے۔ بہت خوبصورت جملے صفحہ نمبر 21 پر تحریر نظر آتے ہیں کہ ’’کتنی تعجب خیز بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمینی سفر تو کعبہ مکرمہ سے شروع ہوا اور آسمانی سفر کا نقطہ آغاز بیت المقدس بنا۔‘‘
شام کی سرزمین کو پانچ ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا بیان بھی ہماری تاریخ کی بدنصیبی ہے۔ فلسطین، اردن، لبنان، اسرائیل کا علاقہ بھی سرزمینِ شام ہی کہلاتا ہے۔ قرآنی آیات سے شام کی سرزمین کی فضیلت معلوم ہوئی۔ احادیث کے ذریعے سے حالات کی آگاہی حاصل ہوئی۔
میرے بزرگ کہا کرتے تھے کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر دور کے رسول تھے۔ انہوں نے ماضی اور مستقبل کی ہلکی جھلکیاں ضرور بتادی تھیں مگر حال کی جدوجہد پر آمادہ کیا۔ ہم سے ہماری کوششوں کا سوال ہوگا۔
لیس للانسان الا ماسعی۔۔
٭الہامی اور غیر الہامی مذاہب میں ذبیحہ کا تصور بہت سائنسی اور علمی انداز میں میں بیان کیا گیا ہے۔ صفحہ نمبر 42 پر موجودہ زمانے میں ذبیحہ اور غیر ذبیحہ کے جانور پر اثرات کا بیان ہے۔
٭اقبال کا تصورِ اجتہاد تو اتنا علمی مقالہ ہے کہ اسے پمفلٹ کی صورت میں چھپنا چاہیے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس مقالے کی اہمیت بڑھانے کے لیے ان کی رموزِ بے خودی نظم جو فارسی زبان میں ہے، اس میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ زمانۂ انحطاط میں تقلید اجتہاد سے بہتر ہے،کو ضرور شامل کرنا چاہے۔
صفحہ پچاس پر اجتہاد کے تین مدارج بیان کیے گئے ہیں: 1۔ قانون سازی کا مکمل اختیار، 2۔ اضافی اختیار جو فقہاء سے کسی مسئلے کے بیان میں رہ گیا ہو، 3۔ خصوصی اختیار۔
اقبال نے اجتہاد کے خطبے میں پہلی قسم اجتہادِ مطلق کے بارے میں بیان کیا ہے اور یہ ایک عجیب فلسفہ ہے کہ انہوں نے انگریزی میں اجتہاد کے بارے میں کچھ اور خیالات کا اظہار کیا ہے مگر فارسی میں جو ان کا اصل کلام ہے، اس میں تقلید کو اہمیت د ی ہے۔
صفحہ نمبر51 پر اجتہاد کے بارے میں مولانا مودودیؒ کی رائے بیان کی گئی کہ مجتہد استفادہ ہر ایک سے کرے اور پرہیز کسی سے نہ کرے۔ مولانا جلال الدین عمری کی رائے بھی بیان کی گئی ہے کہ نئے مسئلے پر اجتہاد واجب ہے اگر لوگ شریعت سے ہی ہٹنے پر آمادہ ہوجائیں۔
صفحہ 52 پر علامہ اقبال کی وضاحت کرتے ہوئے سید محمد جعفری کی رائے لکھی گئی ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے ماضی کے بے جا احترام پر اپنے عہد کے تقاضوں کو قربان نہیں کیا، اگر قوم کے زوال کو روکنا ہے تو یہ طریقہ نہیں کہ گزشتہ تاریخ کو احترام کی نگا ہ سے دیکھیں یا اس کا احیاء خودساختہ ذرائع سے کریں۔ اقبال ایک جگہ اعتراف کرتے ہیں کہ اہلِ سنت اجتہادِ مطلق کے امکان کی نفی نہیں کرتے مگر اس قدر شرائط لگا دیتے ہیں کہ وہ عملاً ممکن نہیں ہوتا۔ صفحہ 55پر اصولِ اجتہاد کا جائزہ اتنی خوبصورت تحریر ہے کہ دل و دماغ روشن ہوجاتے ہیں۔ اجتہاد کے لیے زبان، اس کے قواعد، محاوروں اور ادبی نزاکتوں کا سمجھنا ضروری ہے۔ ایک کاما اِدھر اُدھر ہونے سے معنی کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور نظریاتی کونسل کی ممبر رہنے کی وجہ سے قانون سازی کے مرحلوں سے گزری ہوں۔ کتنے دن ایک بل پر بحث ہوتی تھی، مگر یہاں قرآن اور حدیث کی تعبیر اور اس پر اجتہاد وہ لبرل لوگ کرنے بیٹھ جاتے ہیں جن کو عربی زبان کی شدبد بھی نہیں، اور جو ترجموں سے قرآن اور حدیث کو سمجھتے ہیں اور پھر اس پر اپنی اپنی تعبیریں بیان کرنا شروع کردیتے ہیں۔
صفحہ 60 پر ’’اجتہاد احتیاط کا متقاضی‘‘ کے عنوان سے سیر حاصل بحث کی گئی ہے کہ اسلام میں آزاد خیالی کا تصور تاریخِ اسلام کا ایک نازک لمحہ بھی ہے۔
لبرل ازم میں یہ رجحان موجود ہے کہ یہ انتشار کی قوتوں کو فروغ دے۔ مزید اس بات کا امکان ہے کہ ہمارے مذہبی اور سیاسی مصلح لبرل ازم کے نہ رکنے والے جوش میں اصطلاحات کی مناسب حدود کو بھی پار کر جائیں۔
صفحہ 62 پر خلاصۂ بحث نے پورے خطبے کو شاندار الفاظ میں سمیٹا ہے۔ اور رموزِ بے خودی کا یہ باب بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔
’’در زمانہ انحطاط تقلید اجتھاد اولیٰ تراست‘‘ زمانۂ انحطاط میں تقلید اجتہاد سے اولیٰ تر ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات، قرآن کا سائنسی انڈیکس، دہشت گردی کے بارے میں مقالے بہت اہمیت کے حامل ہیں، اور محترمہ جہاں آراء لطفی نے میری پسند کا موضوع منتخب کرکے میری دُکھتی رگ کو چھیڑا ہے۔ میری اپنے والدِ محترم سے اکثر اس پر بات ہوتی تھی، وہ فرماتے تھے کہ جو عورتیں گھر سے بالکل باہر نہیں نکلتیں اُن کے لیے گھر پر نماز افضل ہے، مگر جو سارا دن باہر پھرتی ہیں اور پھر انہیں علماء کہتے ہیں کہ مسجد نہ آؤ، یہ ظلم ہے۔
وہی عورتیں اپنی نسلوں کی اچھی تربیت کرسکیں گی اور مسجدوں کو آباد رکھ سکیں گی جن کا تعلق مسجد سے مضبوط ہوگا۔ مسجد ایک عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی مرکز بھی بنے، تب ہی ہم ترقی کرسکیں گے۔
میں اس مجلے پر آپ سب کو دوبارہ مبارک باد دیتی ہوں اور مخطوطے کی اس قدر اہمیت پڑھ کر اپنے قلم والا اصلی مشورہ آپ کی خدمت میں بھیج رہی ہوں کہ اسے میں نے بہت دل سے پڑھا اور لکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کی اس کاوش کو اپنے دربار میں شرفِ قبولیت بخشے اور ہم سب سے راضی ہوجائے۔آمین
والسلام
آپ کی بہن
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
صدر انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین

حصہ