قرآنی اندازِ دعوت: جاہلوں سے نہ اُلجھو

110

سید مہرالدین افضل
سورۃ الاعراف آیت 199 سے 202 میں اِرشاد ہوا:۔ اے نبیؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔ اگر کبھی شیطان تمہیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے۔ حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی بُرا خیال انہیں چھُو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر اُنہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ اُن کے لیے صحیح طریقِ کار کیا ہے۔ رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند تو وہ اُنہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔

معروف کا حکم:۔

تمام تعریف اور شُکر اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ جس نے ہمیں پیدا کیا، عقل مندی بخشی، اچھائی اور برائی کی پہچان عطا کی، اور ہماری ہدایت اور رہنمائی کے لیے اپنے بہترین بندوں کو بھیجا، لاکھوں کروڑوں درود و سلام ہو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر جنہوں نے آدمؑ کی اولاد کو اللہ کا آخری پیغام پنہچایا۔ آدمیت کی تعلیم دی، اُنہیں اچھے اِنسانوں کی طرح رہنا سکھایا، اِنسانی زندگی کے اصل مقصد سے آگاہی (Awareness) دی اور اُنہیں وہ اصول بتائے جن پر چل کر وہ دنیا میں سُکھ، چین اور آخرت میں نجات پا سکتے ہیں۔ یہ ایک عالم گیر حقیقت ہے کہ انسان کے اندر اچھائی کے اچھائی ہو نے اور برائی کے برائی ہونے کا احساس فطری طور پر موجود ہے۔ اس لیے دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ اچھائی اور برائی کے تصورات سے خالی نہیں رہا ہے اور کوئی ایسا معاشرہ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے نہ اب پایا جاتا ہے جس کے نظام میں بھلائی اور برائی پر جزا اور سزا کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار نہ کی گئی ہو۔ سچائی، انصاف، پاسِ عہد اور امانت کو ہمیشہ سے انسانی اخلاقیات میں تعریف کا مستحق سمجھا گیا ہے۔ ہم دردی، رحم، فیاضی اور فراخ دلی کی ہمیشہ قدر کی گئی ہے۔ صبر و تحمل، اخلاق و بُردباری، اولوالعزمی و شجاعت ہمیشہ سے وہ اوصاف رہے ہیں جو داد کے مستحق سمجھے گئے۔ ضبطِ نفس، خودداری، شائستگی اور ملنساری کا شمار ہمیشہ سے خوبیوں ہی میں ہوتا رہا ہے۔ فرض شناسی، وفا شعاری، مستعدی اور احساسِ ذمہ داری کی ہمیشہ عزت کی گئی ہے۔ اسی طرح اجتماعی زندگی کے اچھے اور بُرے اوصاف کے معاملے میں بھی انسانیت کا معاملہ تقریبا متفق علیہ ہی رہا ہے۔ قدر کی مستحق ہمیشہ وہی سوسائٹی رہی ہے جس میں نظم وانضباط ہو، تعاون اور امداد باہمی ہو، آپس کی محبت اور خیر خواہی ہو، اجتماعی انصاف اور معاشرتی مساوات ہو، ایسا ہی معاملہ کردار کی نیکی کا بھی ہے۔ والدین کی خدمت، رشتہ داروں کی مدد، ہمسایوں سے حسنِ سلوک، دوستوں سے رفاقت، یتیموں اور بے کسوں کی خبر گیری، مریضوں کی تیمارداری اور مصیبت زدہ لوگوں کی اعانت ہمیشہ نیکی سمجھی گئی ہے۔ پاک دامن، خوش گفتار، نرم مزاج اور انسانوں کا بھلا چاہنے والے لوگ ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھے گئے ہیں۔ انسانیت اپنا اچھا عنصر انہی لوگوں کو سمجھتی رہی ہے جو راست باز اور کھرے ہوں۔ جن پر ہر معاملے میں اعتبار کیا جا سکے۔ جن کے معاملات شفاف ہوں، کھلے اور چھپے ہر حال میں ایک جیسے ہوں، اور جن کا عمل ان کے قول سے مطابقت رکھتا ہو۔ جو اپنے حق پر مطمئن ہوں اور دوسروں کا حق کھلے دل سے ادا کریں۔ جو امن سے رہیں اور دوسروں کو امن دیں۔ جن کی ذات سے ہر ایک کو خیر کی امید ہو اور کسی کو برائی کا اندیشہ نہ ہو۔

قرآنی اندازِ دعوت:۔

قرآن مجید کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب سے پہلے انسان کی اسی فطری اخلاقی حس کو بے دار کرتا ہے اور دعوت دینے والے کے لیے بھی یہی طریقہ تجویز کرتا ہے۔ مکہ مکرمہ کے تیرہ سالہ دور میں نازل ہونے والی قرآنی آیاتِ مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے عام اِنسانوں کو مَعروف اختیار کرنے کی دعوت دی ہے اِنسانوں کی اچھی صفات اور اعلیٰ اخلاق و کردار کو واضح کیا ہے اور انہیں اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ اور یہ بتا یا ہے کہ یہ اَعلیٰ اَخلاق و کردار اِنسان میں پیدا ہو نہیں سکتے جب تک وہ اپنے خالق، مالک اور پروردگار کو نہ پہچانے اور صرف اُسی کی بندگی کے لیے آمادہ نہ ہو۔ یہ بتایا گیا ہے کہ عقیدہ توحید اور اللہ کے سامنے جواب دہی (عقیدہ آخرت) کا احساس ہی اِنسانی زندگی کو حُسن و خوبی عطا کرسکتا ہے۔ اِس کے برعکس شرک اور مشرکانہ عقائد اِنسانی تہذیب، معاشرے اور تمدن کی تباہی کا سبب اور ذریعہ ہیں۔ لوگوں کے سامنے موازنہ کرنے کے لیے محمد ﷺ کی زندگی کو پیش کیا گیا ہے اور اُن پر ایمان لانے والے لوگوں کی زندگی میں پسندیدہ تبدیلیوں کو روشن نشانیاں قرار دیا ہے کہ دیکھ لو محمد ﷺ کے ساتھ جُڑ جانے والے لوگوں کی زندگی میں کیسی خوشگوار تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اب اگر تم چاہتے ہو کہ تمھاری زندگی میں امن، چین اور خوشحالی آئے اور اس دنیا کی زندگی کے بعد نہ ختم ہونے والی زندگی میں انعام کے حق دار بنو تو تم محمدﷺ کی پیروی کرو۔

اور جاہلوں سے نہ اُلجھو:۔

اس دعوت کے کام میں جہاں یہ بات ضروری ہے کہ عام انسانوں کو معروف کی تلقین کی جائے وہاں یہ بات بھی اتنی ہی ضروری ہے کہ جاہلوں سے نہ اُلجھا جائے۔ چاہے وہ اُلجھنے اور اُلجھانے کی کتنی ہی کوشش کریں۔ داعی کو اس معاملے میں سخت محتاط ہونا چاہیے کہ اس کا خطاب صرف ان لوگوں سے رہے جو معقولیت کے ساتھ بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہوں۔ اور جب کوئی شخص جہالت پر اُتر آئے اور حجت بازی، جھگڑالوپن، اورطعنے دینا اور گالی دینا شروع کر دے تو داعی کو اس کا مقابلہ کرنے سے انکار کر دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس جھگڑے میں اُلجھنے سے حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ بلکہ نقصان یہ ہے کہ دعوت دینے والے کی قوت اور صلاحیت جس سے وہ عام لوگوں تک بات پنہچانے کا کام لے سکتا تھا اور ان کی اصلاح کر سکتا تھا اس فضول کام میں ضائع ہوجاتی ہے۔

اگر کبھی شیطان تمہیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو:۔

اس سلسلے میں انتہائی اہم ہدایت یہ ہے کہ جب کبھی داعی حق مخالفین کے ظلم اور ان کی شرارتوں اور ان کے جاہلانہ اعتراضات و الزامات پر اپنی طبیعت میں غصہ اور اشتعال محسوس کرے تو اسے فوراً سمجھ لینا چاہیے کہ یہ شیطان کی اکساہٹ ہے اور اسی وقت خدا سے پناہ مانگنی چاہیے کہ اپنے بندے کو اس جوش میں بہہ نکلنے سے بچائے۔ اور ایسا بے قابو نہ ہونے دے کہ اُس سے دعوتِ حق کو نقصان پہنچانے والی کوئی حرکت سرزد ہو جائے۔ دعوت حق کا کام بہر حال ٹھنڈے دل سے ہی ہو سکتا ہے اور وہی قدم صحیح اُٹھ سکتا ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر نہیں بلکہ موقع و محل کو دیکھ کر، خوب سوچ سمجھ کر اُٹھایا جائے۔ لیکن شیطان جو اس کام کو فروغ پاتے ہوئے کبھی نہیں دیکھ سکتا، ہمیشہ اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ اپنے بھائی بندوں سے داعی حق پر طرح طرح کے حملے کرائے اور پھر ہر حملے پر داعی حق کو اکسائے کہ اس حملے کا جواب تو ضرور ہونا چاہیے۔ یہ اپیل جو وہ داعی کے نفس سے کرتا ہے، اکثر بڑی بڑی پر فریب تاویلوں اور مذہبی اصطلاحوں کے غلاف میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے لیکن اس کی تہہ میں سوائے نفسانیت کے اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اسی لیے ارشاد ہوا کہ جو لوگ متقی (یعنی خدا ترس اور بدی سے بچنے کے خواہش مند) ہیں وہ تو اپنے نفس میں کسی شیطانی تحریک کا اثر اور کسی بُرے خیال کی کھٹک محسوس کرتے ہی فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آجاتا ہے کہ اس موقع پر دعوتِ دین کا مفاد کس طرزِ عمل کے اختیار کرنے میں ہے اور حق پرستی کا تقاضا کیا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے کام میں نفسانیت کی لاگ لگی ہوئی ہے اور اس وجہ سے جن کا شیاطین کے ساتھ بھائی چارے کا تعلق ہے، تو وہ شیطانی تحریک کے مقابلے میں نہیں ٹھر سکتے اور اس سے مغلوب ہو کر غلط راہ پر چل نکلتے ہیں۔ پھر جس جس وادی میں شیطان چاہتا ہے انہیں لیے پھرتا ہے اور کہیں جا کر ان کے قدم نہیں رُکتے۔ مخالف کی ہر گالی کے جواب میں ان کے پاس گالی اور ہر چال کے جواب میں اس سے بڑھ کر چال موجود ہوتی ہے۔
اس ارشاد کا سادہ اورعام مفہوم یہ بھی ہے کہ اہلِ تقویٰ کا طریقہ عام طور پر اپنی زندگی میں غیر متقی لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ جو لوگ حقیقت میں خدا سے ڈرنے والے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ برائی سے بچیں۔ اُن کاحال یہ ہوتا ہے کہ بُرے خیال کا ایک ذرا ساغبار بھی اگر ان کے دل کو چھو جاتا ہے تو انہیں ویسی ہی کھٹک محسوس ہونے لگتی ہے جیسی کھٹک اُنگلی میں پھانس چُبھ جانے یا آنکھ میں کسی ذرے کے پڑ جانے سے محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہ بُرے خیالات، بُری خواہشات اور بُری نیتوں کے عادی نہیں ہوتے اور یہ چیزیں ان کے مزاج کے خلاف ہوتی ہیں۔ پھر جب یہ کھٹک انہیں محسوس ہو جاتی ہے تو اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کاضمیر بے دار ہو کر برائی کی اس دھول کو اپنے اوپر سے جھاڑ دینے میں لگ جاتا ہے۔ جب کہ جو لوگ نہ اللہ سے ڈرتے ہیں، نہ برائی سے بچنا چاہتے ہیں۔ شیطان ان کے قریب آ جاتا ہے، ان کے نفس میں بُرے خیالات، بُرے ارادے، بُرے مقاصد پکتے رہتے ہیں اور وہ ان گندی چیزوں سے کوئی اجنبیت اپنے اندر محسوس نہیں کرتے، بالکل اسی طرح جیسے کسی دیگچی میں سور کا گوشت پک رہا ہو اور وہ بے خبر ہو کہ اس کے اندر کیا پک رہا ہے۔
اللہ سُبٰحانہٗ و تعٰالٰی ہَم سَب کو اَپنے دین کا صحیح فہم بخشے، اَور اُس فہم کے مُطابق دین کے سارے تقاضے، اَور مُطالبے پُورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

حصہ