عشق فاتح ِ عالم

110

سیدہ عنبرین عالم
مولانا احتشام الدین شہر کے بہت بڑے عالم تھے، مگر علما کی اکثریت کو اُن سے اختلاف رہتا تھا۔ ان کے اچھوتے خیالات اور ناممکن تجویزیں اکثر انہیں مذاق کا نشانہ بھی بنادیتی تھیں، مگر اب بھی بہت لوگ ان کی تعظیم کرتے تھے، انہی میں سے ایک نام مولانا شمس الاسلام کا تھا، جو ایک جامع مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسے کے منتظم اعلیٰ تھے۔ انہوں نے مدرسے کی تقسیم انعامات کی تقریب میں مولانا احتشام کو تقریر کے لیے مدعو کیا۔ اس تقریب میں طلبہ، ان کے والدین اور علاقے کے معززین شامل تھے۔ خاصا بڑا مجمع تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘مولانا اسٹیج پر تشریف فرما تھے۔ ’’حاضرین! میں چاہتا ہوں کہ مجمع میں سے چند افراد پہلے کچھ سوالات کرلیں۔ گزارش ہے کہ ہاتھ بلند کیجیے تاکہ میں سوالات کے جواب دوں۔‘‘
’’جناب! عورتوں کو بے جا تزئین و آرائش کرنے پر مارا جاسکتا ہے یا نہیں؟‘‘ ایک باریش بزرگ نے سوال کیا۔
’’مولانا صاحب! عورتوں کو جماعت میں جانے پر زیادہ ثواب ملتا ہے یا اکیلے نماز پڑھ کر؟‘‘ ایک لڑکے نے پوچھا۔
’’محترم! کیا ایک ساتھ دو طلاق دینے سے، دو طلاقیں ہوں گی یا ایک؟‘‘ ایک خوش لباس صاحب نے پوچھا۔
’’گزارش یہ ہے کہ روزے کے دوران خون کا ٹیسٹ دینے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟‘‘ ایک طویل قامت حضرت کا سوال۔
مولانا احتشام مسکراتے رہے۔ ’’حضرات! میرا ان سوالات کے جوابات دینے کا کوئی ارادہ نہیں، میں تو بس مجمع کی ذہنی استطاعت معلوم کرنا چاہ رہا تھا۔ اہلِِ بغداد بھی ایسے ہی چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھے ہوئے تھے جب چنگیز خان نے بغداد کو تاراج کردیا۔ ہم اپنی عورتوں پر انتہائی سختی سے اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں، کیا ہم وہ کررہے ہیں جس کی امید ہم مردوں سے رب کو ہے؟ کیا عورتوں کو تزئین و آرائش پر زدوکوب کرنے سے زیادہ ضروری عمل یہ نہیں ہے کہ ہم انہیں اللہ کی کتاب کے علم سے آراستہ کریں، جس سے رفتہ رفتہ ان کی روح اس قدر پُرنور ہوجائے گی کہ وہ خود ہی اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنے لگیں گی۔ کیا مرد کی ذمے داری نہیں ہے کہ اپنی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کرے۔ تو کیا آپ نے امریکا کے بڑھتے قدم روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دے لی ہے، کیوں کہ کفر تو ایک کے بعد ایک مسلم ریاست کو روندتا ہوئے آگے بڑھ رہا ہے؟‘‘ انہوں نے نرم لہجے میں سامعین سے کہا۔
ہجوم پر گہرا سناٹا چھا گیا، مولانا شمس الاسلام مسکرانے لگے۔ انہیں مولانا احتشام کے ملائم انداز میں اصل موضوع کی طرف گامزن ہونے کا انداز بھا گیا تھا۔ مولانا احتشام جوابی مسکراہٹ کے ساتھ تقریر کا باقاعدہ آغاز کرنے لگے:
’’بالفرض اگر انڈیا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ، جو فروری 2019ء میں پاکستان پر کیا گیا، کامیاب ہوجاتا تو کیا آپ کی خواتین تزئین و آرائش کا کوئی سامان خرید پاتیں؟ مسجدیں بھی بمباری میں شہید ہوجاتیں، پھر کیسی جماعت! گھر ہی ٹوٹ جاتے، سب بیوی بچوں کو بچانے کی فکر میں ہوتے۔ طلاقوںکی عیاشی تو بے فکرے کرتے ہیں، ایک سے ناراض تو دوسری، دوسری سے بے زار تو تیسری۔ آج شام جاکر پوچھ لیجیے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد وہاں طلاقوں کی شرح کیا ہے؟ صفر۔ وہ تو صرف یہ سوچتے ہیں کہ گھر کا کوئی فرد کسی طرح زندہ بچ جائے۔ بنے بنائے خاندان توڑنے کی ہمت کس میں ہے؟ اگر حملہ کامیاب ہوجاتا تو چار دن بھی کچھ کھانے کو نہ ملتا۔ روزہ ہی روزہ۔ ابھی آپ فارغ ہو، کوئی ٹینشن نہیں، اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھتے ہو۔ کیا آپ سب نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا؟ کیا آپ نے غیبت کرنی چھوڑ دی؟ کیا آپ سب وہ سب کچھ جو ضرورت سے زیادہ ہے، اللہ کی راہ میں دیتے ہو؟ یہ ہیں واضح اور بڑے احکام۔ جو اتنے اہم احکام ہیں ان پر تو عمل کرتے نہیں، بال کی کھال اتارتے ہو۔ اگر ہم پاکستانی صرف یہ تین احکام ہی مان لیں تو آپ دیکھیے کہ کیسے بدلتی ہے پاکستان کی قسمت۔ لالچ اور خیانت ہمیں لے ڈوبی، بے حیائی اور نفس پرستی کی ہم مثال بن گئے، اور ہم کسی آسمانی قائد کے منتظر ہیں۔ نہیں! سب سے پہلے ہم کو اپنے آپ کو بدلنا ہوگا۔ کم از کم قرآن کے آٹھ دس حکم ہی مان لو سب مل کر۔ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں ان چند احکام کی ہی ایسی برکت ہوگی کہ ہم امریکا، انڈیا اور اسرائیل فتح کرلیں گے۔‘‘
ایک صاحب اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ ’’مولانا صاحب! انڈیا ڈر کر بھاگ گیا، اُن کا ایک پائلٹ ہم نے پکڑ لیا، اور دوسرا جو اسرائیلی پائلٹ تھا وہ ہلاک ہوگیا، ہماری دھاک تمام دنیا پر بیٹھ گئی، اب کس بات کا خوف؟‘‘ وہ گویا ہوئے۔
مولانا احتشام طنزیہ انداز میں مسکرائے، لیکن چہرے پر نہ تو ناگواری تھی، نہ گرج برس۔ وہی پُرسکون نرم ترین لہجہ۔ ’’میرے بیٹے! خطرہ اب بھی سر پرکھڑا ہے، اب یہ سترہویں صدی نہیں ہے کہ بم برسائے، جنگ ہوگئی۔ آپ نے غور نہیں کیا کہ عراق پر حملہ کرنے سے پہلے ایک بین الاقوامی انسدادِ ہتھیار تنظیم سے عراق کا تفصیلی معائنہ کرایا گیا کہ ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں یا نہیں۔ ہتھیار نہیں تھے تو حملہ کیا گیا۔ پاکستان کا انہیں پتا ہے کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ کافر بزدل ہوتا ہے، وہ کبھی ہم پر کھلا حملہ نہیں کریں گے، انڈیا نے جو ذرا سی جرأت کی تھی وہ ایک ٹیسٹ کیس تھا، عالمی طاقتیں دیکھنا چاہتی تھیں کہ ہم کس حد تک تیار ہیں؟ اور جس بہترین انداز میں ہماری افواج نے چوکسی کا مظاہرہ کیا، وہ سمجھ گئے ہیں کہ ہم ناکوں چنے چبوا دیں گے، لہٰذا اب پانچویں جنریشن وارفیئر کا سہارا لیا جائے گا، یعنی ہمیں اندر سے اس قدر کمزور کردیا جائے گا کہ ہم بیرونی محاذ پر لڑنے کے قابل نہ رہیں۔ کیسے؟ جی ہاں نااہل ترین قیادت، معیشت کو برباد کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے ہرکارے، قرضوں کے بے رحم شکنجے… نہ کوئی منصوبہ بندی، نہ کوئی مخلص حکمران۔ یہ مشن شروع ہوچکا ہے۔ ‘‘ انہوں نے فرمایا۔
ایک کم عمر سے لڑکے نے سوال کی اجازت چاہی۔ ’’مولانا صاحب! آج کل کے حالات میں ایک پاکستانی مردِ مومن کی حیثیت سے ہماری کیا ذمے داری ہے، جب کہ کوئی قیادت قابلِ اعتبار بھی نہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
مولانا احتشام غور سے لڑکے کو دیکھتے رہے۔ ’’آپ مجھے بتائو آپ کیا کررہے ہو، ایک مردِ مومن بن کر؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
لڑکے نے کچھ توقف کے بعد کہا ’’میری عمر 17 سال ہے، مجھ پر پڑھائی کا بھی دبائو ہے اور گھریلو حالات کی وجہ سے معاش کی تگ و دو بھی ہے، پھر بھی میں نے چھ کلمے یاد کرلیے ہیں۔ آئینہ دیکھنے کی دعا، لباس تبدیل کرنے کی دعا، غسل کی دعا وغیرہ… تقریباً چالیس دعائیں مجھے یاد ہیں۔ عمہ پارہ کی تقریباً تمام سورتیں ازبر ہیں، نماز کا پابند ہوں، الحمدللہ اہلِ خانہ، اہلِ محلہ یا احباب میں سے کسی کو میرے رویّے سے بھی تکلیف نہیں۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’ماشاء اللہ…‘‘ مولانا احتشام نے دھیمے سے کہا۔ ’’آپ آج کل کے بہت سے بچوں سے بہتر ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر پاکستان کے 22 کروڑ عوام چھ کلمے اور چالیس دعائیں یاد کرلیں تو کیا ہم امریکا کا مقابلہ کرلیں گے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
لڑکا مسکرا اٹھا۔ ’’نہیں! لیکن اس طرح ہم اللہ کو راضی کرلیں گے اور اللہ ہمیں فتح دلوا دے گا۔‘‘ اس نے خیال ظاہر کیا۔
’’ٹھیک ہے…‘‘ مولانا احتشام نے فرمایا ’’یہیں مجمع سے ایک اور لڑکا چن لیتے ہیں جو کردار میں جیسا بھی ہو، مگر اسے 6 کلمے اور 40 دعائیں یاد نہ ہوں، آپ دونوں کی کُشتی کروا لیتے ہیں، دیکھتے ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کی مدد فرماتا ہے یا نہیں؟‘‘ مولانا نے ایک لمبے چوڑے لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ سوال پوچھنے والا لڑکا اس لمبے تڑنگے لڑکے کو دیکھ کر مسکرا اٹھا۔ ’’ایک سوال کی سزا میں آپ میری ہڈیاں تڑوانے کا ارادہ رکھتے ہیں!‘‘ وہ بولا۔
سارا مجمع کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ مولانا احتشام نے بھی زوردار قہقہہ لگایا۔ ’’برخوردار! اللہ 6 کلمے اور 40 دعائوں پر مدد نہیں بھیجتا۔ مدد اُس وقت آتی ہے جب ایمان صحابۂ بدر جیسا ہو۔ اچھا یہ بتائو کہ یہ کلمے اور دعائیں وقت بے وقت، ہر کام سے پہلے پڑھنے کا حکم میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں دیا؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔
لڑکا گہری سوچ میں پڑ گیا۔ ’’میری ناقص رائے میں یہ سب اللہ تعالیٰ سے مسلسل رابطے میں رہنے کے اسباب ہیں۔ ہر کام سے پہلے دعا پڑھیںگے، کلمے دن میں ایک بار پڑھیں گے، تو اس دوران دراصل ہم اللہ کو یاد کررہے ہیں، ہم یہ سب اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے کرتے ہیں، اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’ماشاء اللہ، درست جواب‘‘۔ مولانا احتشام نے زور سے کہا۔ ’’تو کیا آپ کا تعلق استوار ہوا اب تک؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’اللہ کے بارے میں کم سوچتا ہوں، زیادہ تر مسائل ہی دماغ پر حاوی رہتے ہیں، اللہ معاف کرے۔‘‘ وہ بولا۔
’’اگر خودبخود اللہ کے احکام پر عمل کرنے لگو، تنہا بیٹھو تو میرے رب کو سوچو، اپنی تکلیف سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی فکر ہو، سوتے میں اللہ کے نام کا ورد خودبخود زبان پر جاری رہے، ہر دکھ اور خوشی پر میرے اللہ سے باتیں کرنے بیٹھ جائو، تو یہ ہے تعلق، اسے کہتے ہیں رابطہ، پھر آتی ہے اللہ کی مدد۔‘‘ مولانا نے بتایا۔
’’ابھی تو یہ کیفیت نہیں، البتہ کبھی قرآن پڑھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔‘‘ لڑکے نے اپنا حال گوش گزار کیا۔
’’الحمدللہ، یعنی روح میں ابھی زندگی باقی ہے، دل بے قرار ہوتا ہے، عشق کی چنگاری موجود ہے۔ بیٹا! ہر وقت میرے اللہ سے باتیں کرنا بہت ضروری ہے۔ چاہے دعائیں یاد نہ ہوں، ہر کام سے پہلے بسم اللہ ہی پڑھ لو، میرے اللہ کو اپنا حال بتاتے رہو، شکایتیں کرو، مدد مانگو، معافی مانگو، بس باتیں کرو، اسے بھولو نہیں، اسے چوبیس گھنٹے ساتھ رہنے والا دوست بنا لو، کیوں کہ اصل مقصد ہے تعلق بنانا۔ یہی مردِ مومن کی پہلی ذمے داری ہے۔‘‘ مولانا نے کہا۔
’’میرا تعلق میرے اللہ سے استوار ہوجائے تو کیا پاکستان امریکا کو ہرا دے گا کسی جنگ میں؟‘‘ لڑکے نے پوچھا۔
’’نہیں، پھر یہ عشق تم اپنے گھر والوں کے دل میں اتارو گے۔ یاد رکھنا محبت سکھانے کے لیے محبت ہی استعمال کرنی پڑتی ہے میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح، ورنہ دلوں میں بال آجاتا ہے سختی سے۔ اللہ کے بندوں کو اللہ کی رحم کی صفت کا نظارہ کرائو، اپنی ذات میں رحمت بن جائو۔ میرے نبیؐ اگر رحمت للعالمین نہ بنتے تو کبھی بندوں کو ان کے رب سے نہ جوڑ پاتے۔ پھر دوست، رشتے دار، محلے والے سب تم جیسے بننا چاہیں گے، یوں تم جب مجسم محبت بن جائو گے تو لوگوں کے دلوں میں رب کریم کی محبت کا بیج بونا مشکل نہ رہے گا۔ مگر یاد رہے کہ مومن مومنوں کے لیے نرم اور دشمنانِ خدا کے لیے اللہ کا عذاب ہوتا ہے۔ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، اس لیے درست وقت پر درست فیصلہ کرتا ہے۔ قرآن روز ترجمے سے پڑھو، عشق مدھم نہ پڑنے پائے گا۔‘‘ مولانا احتشام نے سمجھایا۔
لڑکا کھڑا ہی رہا۔ ’’یعنی رفتہ رفتہ تمام قوم میرے رب کے عشق میں پاکیزہ ہوجائے گی، پھر سچے قائد بھی ابھریں گے اور ہدایت بھی براہِ راست میرے رب کی طرف سے آئے گی، پھر میدانِ بدر سجے گا اور فتح۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ان شاء اللہ…‘‘ مولانا احتشام نے تائید کی۔ ’’یونہی ہوگا، مگر جہاد کا مرحلہ اتنا آسان نہیں ہوتا، اور جہاد بھی یہود کے شیطانی دماغ کے خلاف… ہمیں مستقل اللہ تبارک وتعالیٰ سے ایسا رابطہ رکھنا ہوگا کہ وہ پاک خدا ہمارا ہوجائے۔ وہ ہمارا ہوگیا تو تمام کائنات بھی ہماری ہوگی، پھر وہ مقام آسکتا ہے کہ دریائے نیل ایک اشارے سے پھٹ جائے، چاند کو انگلی کے زور سے دو ٹکڑے کیا جائے، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمین پر کوڑا مارنے سے آنے والا زلزلہ رک جائے۔ پھر سائنس و ٹیکنالوجی زیر ہوگی اور عشق فاتحِ عالم ہوگا۔‘‘ انہوں نے فرمایا۔
مولانا شمس الاسلام کے چہرے پر تردد صاف نظر آرہا تھا۔ ’’حضرت! آپ انبیاء اور اولیا سا عشق عام انسانوں سے طلب کررہے ہیں، میری ادنیٰ رائے کے مطابق تو یہ ممکنات میں سے نہیں۔‘‘ وہ بولے۔
مولانا احتشام مسکرانے لگے۔ ’’محترم! عرض ہے کہ لمحے بھر کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ رسالت سے اپنی توجہ ہٹاتے ہوئے غور کریں کہ وہ قربانیاں، وہ محنت، وہ تڑپ، وہ عشق، ان سب کے ساتھ کیا وہ میرے رب کے ویسے ہی محبوب نہ بن گئے ہوںگے! ہم سب پیغمبر تو نہیں، لیکن اگر نفس کو بالائے طاق رکھ کر مکمل مجسم عشق ہوجائیں، اللہ کے ہر حکم پر جان نچھاور کردیں تو کیا وہ رحمن رب ہمارے جذبوں کے مان نہ رکھے گا! ہم اس کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے زندگیاں فدا کردیں تو کیا وہ لاج نہیں رکھے گا! ہوں گے معجزے، فرشتے بھی اتریں گے، نظام بھی الٹیں گے، تخت بھی گریں گے۔ میں اپنے رب سے مایوس نہیں ہوں۔‘‘ انہوں نے فرمایا۔
مولانا شمس الاسلام نے اپنے سر کو جنبش دی۔ ’’قوم سدھر جائے اور ان میں سے ایک مخلص اور قابل لیڈر طلوع ہو۔ اوّل تو یہ ایک بہت وقت طلب کام ہے جب کہ مگرمچھ امتِ مسلمہ کو نگلنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ ایک بہترین لیڈر تمام قوم کو بدل کر رکھ دے۔ اخلاق و کردار، ذہنی بلوغت اور عشقِ الی اللہ کی تربیت دے، مامور مِن اللہ ہو، سچا ہو۔ کیا کہتے ہیں؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’اللہ کرے کہ ایسا قائد امتِ مسلمہ کو ملے۔ آج تک تو قائد کی تلاش میں دھوکے ہی کھائے ہیں۔‘‘ مولانا احتشام بولے۔
’’ابھی آپ کیا تجویز کرتے ہیں، جب دشمنانِ اسلام تلے بیٹھے ہیں، وقت کی قلت ہے۔‘‘ مولانا شمس نے کہا۔
’’اگر اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سے ناراض ہے تو ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا، اور اگر میرا رب ہم سے راضی ہے تو فکر کی کوئی بات نہیں، جانی و مالی نقصان بھی اجر کا باعث بنے گا۔‘‘ مولانا احتشام نے کہا۔
’’درست فرمایا۔ چلیے اختتامی دعا کی جانب، اللہ ہماری حامی و ناصر ہو۔‘‘ مولانا شمس الاسلام نے کہا۔
’’حضرت! جنگ جیتنے کے لیے ہمیں اچھے شعرا کی بھی ضرورت ہے، دلیر افواج، ہمت والی مائیں جو قوم کی درست سمت میں تربیت کریں، ایمان دار تاجر، بہترین معیشت دان، اللہ سے ڈر کر فیصلے کرنے والے قاضی، حرام نہ کھانے والے اور محنتی سرکاری اہل کار، ہر شعبے کے محقق اور عالم، اور سب سے بڑھ کر وہ حکمران جو غدار نہ ہوں، بکے ہوئے نہ ہوں، بہترین منصوبہ بندی کرسکیں، اور ان کا اصل مقصد اللہ کی رضا ہو۔ امت کا ہر فرد اہم ہے اور اس کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا، عملی کردار۔ صرف باتیں بنانا، آپس میں لڑنا ہرگز مسئلے کا حل نہیں۔‘‘ مولانا احتشام نے فرمایا۔
مولانا شمس الاسلام نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے: ’’اے ربِ کریم! ہم تیرے عاجز و ناتواں بندے ہیں، ہمیں نادانی اور لاعلمی نے بہت برے مقام پر پہنچا دیا ہے، اب بس تیرا ہی آسرا ہے، ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ہمارے گناہوں کو معاف کردے، ہمارے دلوں میں نور بھر دے، ہمیں ریاکاری اور دھوکے بازی کے ایمان سے بچا، ہمیں انبیا و رسل جیسا ایمان عطا کر، ہمیں دنیا اور آخرت کی کامیابی عطا کر۔ اے اللہ رب العزت! ہمیں اپنے دشمنوں کے ہاتھوں رسوا نہ کر، ہمیں شیطانوں کا لقمہ نہ بنا۔ اے اللہ! ہم اس ارادے سے کھڑے ہوئے ہیں کہ دنیا میں تیرا دین نافذ کریں۔ اے اللہ! ہم مدد کے طلب گار ہیں، تیری نصرت ہمنوا ہو تو فتح دور نہیں، بے شک تُو ہی کائنات کا مالک ہے اور اوّل و آخر تیری حکمرانی قائم ہوکر رہنی ہے، ہم کو اپنی فوج میں کرنا، شیطان کا آلۂ کار نہ بننے دینا۔ اے اللہ! گزارش ہے کہ بھوک، بیماری، بے گھری اور دوسرے مصائب کو ہماری راہ کی رکاوٹ نہ بننے دینا، بے شک تُو ہر شے پر قادر ہے اور صاحبِِ طاقت و عظمت ہے۔‘‘ انہوں نے دُعا ختم کی۔

حصہ