ظلم پھر ظلم ہے

127

قدسیہ ملک
اے آر وائی کے مطابق 4 ستمبر کو لاہور کے علاقے گلشن راوی میں نجی اسکول میں ٹیچر کے تشدد سے طالب علم انتقال کر گیا، اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ 16 سال کا حنین ٹیچر کے تشدد سے بے ہوش ہوا، لیکن اسکول انتظامیہ نے اسے اسپتال نہیں بھیجا۔ پولیس نے طالب علم کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مُردہ خانے منتقل کردیا، پوسٹ مارٹم کے بعد اصل حقایق سامنے آئیں گے۔ حنین دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ٹیچر واقعے کے بعد فرار ہوگیا تھا، تاہم اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اسکول پرنسپل اور انتظامیہ حنین کو فیس کی وجہ سے ذہنی ٹارچر کررہے تھے، حنین کے دوستوں نے بتایا کہ سبق یاد نہ ہونے پر ٹیچر کامران نے تشدد کیا، ٹیچر نے دیوار پر حنین کا سر مارا جس پر وہ زمین پر گر گیا۔ ٹیچر کامران کے تشدد سے حنین کی کلاس میں ہی موت واقع ہوگئی۔ دریں اثنا صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کی ہدایت پر سی ای او ایجوکیشن پولیس کے ساتھ اسکول پہنچے تھے، ٹیچر کو گرفتار کرکے اسکول کو سیل کردیا گیا ہے۔ سی ای او ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ کسی بھی اسکول میں بچوں پر تشدد نہیں کرنے دیا جائے گا۔
اسی طرح کا دوسرا واقعہ بہاولپور میں پیش آیا جہاں بہاولپور گورنمنٹ ہماتیاں ہائی اسکول کے استاد نے بچوں پر تشدد کیا تو ایک طالب علم خوف سے ہی جان کی بازی ہار گیا، جس پر گھر میں کہرام مچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق حسان نامی استاد نے نویں جماعت کے طالب علم طلحہ پر کرسی کی پھٹی سے بدترین تشدد کیا جس کے خوف سے ایک طالب علم جاں بحق ہوگیا۔ نمائندہ اے آر وائی نیوز چوہدری سلیم کے مطابق والد کی جانب سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور پولیس کو درخواست کی گئی ہے لیکن پولیس کی جانب سے واقعے کا نوٹس نہیں لیا گیا اور نہ ہی ٹیچر حسان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب میں بچوں پر تشدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی صوبہ پنجاب کے ضلع چنیوٹ میں استانی نے سبق یاد نہ کرنے پر 15 طالبات کو انوکھی سزا دیتے ہوئے ان کے بال کاٹ دئیے تھے۔ رواں سال فروری میں ملتان کے گورنمنٹ ایم اے جناح اسکول میں سالانہ تقریب کے لیے فنڈ نہ دینے پر طالب علم کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، بعدازاں تشدد کرنے والے 2 اساتذہ کو معطل کردیا گیا تھا۔
مدارس ہوں یا اسکول… تعلیم و تربیت میں مارپیٹ پر انحصارکا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بچے کی کردار سازی اور ذہنی تربیت مقصود نہیں بلکہ صرف تعلیمی ادارے کا نظم و ضبط مقصود ہے۔ آج کل مختلف چینلز پر شاگردوں پر بے انتہا تشدد اور زیادتی کی خبریں عام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ مناسب تربیت کا نہ ہونا ہے۔ والدین اور اساتذہ کے مقدس فرائض میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کو معاشرتی زندگی کا درست تصور دیں اور انہیں معاشرے کا احترام کرنا سکھائیں۔ ہمارے کچھ افعال تو محض انفرادی ہوتے ہیں، لیکن کچھ کا اثر بالواسطہ یا بلاواسطہ ہمارے اردگرد کے لوگوں پر پڑتا ہے، یعنی ہمارے بعض افعال اجتماعی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ آج المیہ یہ ہے کہ بعض اساتذہ بچوں کو بڑی بے رحمی سے مارتے ہیں اور جب چھڑی اٹھاتے ہیں تو پھر روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیتے ہیں، ان کو اس وقت کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ چھڑی بچے کے جسم پر کہاں لگ رہی ہے، اس سے نقصان کا کس قدر اندیشہ ہے۔ بعض اساتذہ کو دیکھا گیا ہے کہ وہ بچوں کی ہڈی پر زور زور سے چھڑیاں مارتے ہیں، بچوں کو تھپڑ، مُکّے، گھونسے اور لاتیں مارتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھ پاؤں کو بے دردی سے مروڑتے ہیں۔ یہ سب چیزیں قرآن وسنت، خلف و سلف کے افکار اور فقہ اسلامی کے سراسر خلاف ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بہترین معلم تھے، آپؐ نے ایک معلم سے فرمایا: ’’تین ضرب سے زیادہ مت مارو، اگر تم تین ضرب سے زیادہ ماروگے تو اللہ تعالیٰ تم سے قصاص لے گا۔‘‘ چہرے پر نہ مارا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ طلبہ کو جرائم پر سزا دی جاسکتی ہے۔ اس طرح علم وادب سکھانے کے لیے بھی بقدرِ ضرورت سزا کی اجازت ہے، جس کے لیے شریعت نے حد مقرر کی ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ’’چہرے پر مارنے کی ممانعت اس وجہ سے ہوئی ہے کہ یہ اعظم الاعضاء ہے اور اجزاء شریفہ اور لطیفہ پر مشتمل ہے، اگر کسی نے چہرے پر تھپڑ مارا تو اس پر ضمان لازم ہے۔‘‘
ابن خلدون نے ابتدائی تعلیم میں مار پیٹ کے مسئلے پر بحث کے لیے ایک فصل مخصوص کی ہے جس کا عنوان ہے ’’طلبہ پر سختی ان کے لیے نقصان دہ ہے‘‘۔ چھوٹی عمر کے جن بچوں کی پرورش تشدد اور مارپیٹ سے ہوتی ہے اُن میں علم اور عمل کا شوق ختم ہوجاتا ہے۔ اکثر مدرسے سے بھاگ جاتے ہیں، ان میں سستی، جھوٹ بولنے، برا سوچنے، مکر، دھوکہ دہی جیسی بری عادتیں پڑتی ہیں، ضمیر مُردہ ہوجاتا ہے۔ خوف اور دہشت کی نفسیات ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرڈالتی ہے۔
ابن خلدون نے اس فصل میں خلیفہ ہارون الرشید کے اس خط کا متن بھی نقل کیا ہے جو اُس نے اپنے بیٹے شہزادہ امین کو خلف بن حیان الاحمر کی شاگردی میں دیتے ہوئے لکھا ’’امیرالمومنین اپنے دل وجان کا نچوڑ اور جگر کا ٹکڑا تمہاری خدمت میں بھیج رہے ہیں۔ براہ کرم اپنے علم کے وقار میں اسے جگہ دیں اور اسے اپنا حکم بجا لانا سکھائیں۔ اس کے ساتھ اسی درجے کا سلوک کریں جو امیرالمومنین نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اسے قرآن کی تعلیم دیں۔ اسے اخبار اور تاریخی واقعات سے آگاہ کریں۔ اسے شعرو ادب کی تربیت دیں۔ اسے علمی میراث سے واقفیت بہم پہنچائیں۔ اس میں پڑھنے اور سمجھنے کا ملکہ پیدا کریں۔ اس کو سکھائیں کہ ہنسنا ہو تو موقع کے مطابق۔ اس کی تربیت کریں کہ یہ بنوہاشم کا، علما کا اور بڑوں کا احترام کرنا سیکھ لے۔ اس کی ایسی تربیت کریں کہ جب سرکردہ لوگ اس سے ملنے آئیں تو ان کے متعلقہ علوم و فنون میں ان کے مراتب کے اعتبار سے ان کا خیرمقدم کرے۔ اس کے ساتھ کبھی ایسا سلوک نہ کریں کہ اسے افسوس اور بے چارگی کا احساس ہو، کیونکہ ایسے سلوک سے دل مُردہ اور عقل ماؤف ہوجاتی ہے۔ تاہم اسے اتنی کھلی چھوٹ بھی نہ دیں کہ وہ سست پڑ جائے اور تعیش کی راہ اختیار کرے۔ اس کی عادات اور رویوں کو بدلنے میں نرمی اور تحمل سے کام لیں۔ ہاں اگر وہ کہنا نہ مانے تو اس کے ساتھ سختی سے پیش آئیں‘‘۔ ابن خلدون نے والدین اور اساتذہ دونوں کو نصیحت کی ہے کہ تادیب میں شدت اختیار نہ کریں۔ ان کتب میں مار پیٹ کے پانچ اسباب کا ذکر ملتا ہے۔ کچھ مثبت ہیں اور کچھ منفی۔ مثبت میں نظم و ضبط قائم کرنے، اطاعت اور ادب کی عادت اور اخلاق کی اصلاح کا ذکر ہے۔ منفی میں استاد کی جانب سے غصے اور انتقام کا رویہ، انکار اور مزاحمت کی عادت کو توڑنا، بچے کے دل میں خوف بٹھانا، اعادہ اور تکرار کے لیے جبر کو اختیار کرنا شامل ہیں۔
محقق محمد بلال خان طالب علم کے فرائض بیان کرتے ہیں:
٭تمام طالب علموں کو اساتذہ کا احترام کرنا چاہیے۔
٭جو استاد صحیح نہ پڑھاتا ہو اس کی شکایت انتظامیہ کو دیں، نہ کہ خود جج بنیں۔
٭استاد جو کہے اسے مکمل خاموشی، غور اور مکمل توجہ سے سنیں۔
٭استاد کو بیرونی طاقتوں سے نہ ڈرائیں۔
٭اپنے سوالات وقفۂ سوالات کے دوران کریں۔
٭کلاسوں میں استاد کی غیر موجود گی میں اسکول کو سر پر نہ اٹھائیں۔
بالکل اسی طرح استاد کو کیا کرنا چاہیے؟
٭استاد کو معلم بن کر پڑھانا چاہیے۔
٭مار پیٹ سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
٭طالب علموں سے حُسنِ سلوک کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔
٭جو سبق پڑھانا ہو اس کی تیاری پہلے کرکے آئیں۔
٭طالب علم پر اپنا غصہ نہ نکالیں۔
٭طالب علم کو صحیح اور غلط کا فرق بتائیں۔
٭شاگرد کو جھوٹ اور سچ کی تمیز سکھائیں۔
علامہ ابن عابدین فرماتے ہیں: ’’استاد کے لیے یہ جائز نہیں کہ شاگرد کو ادب دلانے کے لیے سخت مارے۔ سخت مارنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ہڈی ٹوٹے، کھال اکھڑے یا کھال سیاہ ہوجائے۔‘‘
بچہ استاد یا استانی کے سوال کا جواب سخت لہجے میں دے، یہ بے شک غلط طریقہ ہے، لیکن استاد کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھائے۔ لیکن استاد کہتے ہیں: تم اپنے ماں باپ کے سامنے بھی اسی طرح بات کرتے ہوگے۔ کیوں کہ استاد والدین کی جگہ ہوتا ہے۔ استاد تو واقعی والدین کی جگہ ہوتا ہے لیکن وہ بھی تو بچوں کو والدین کی طرح ہی سمجھائے، نہ کہ ان سے دشمنی مول لے۔ مارپیٹ سے ذہن نشوونما نہیں پاتا بلکہ ماؤف ہوجاتا ہے۔ استاد کے ساتھ ساتھ شاگرد کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ استاد کی عزت کرے۔ اس سے مہذب ترین الفاظ میں بات کرے۔
ترقی یافتہ ملک جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں ہر سطح پر ایک مستقل تربیتی پروگرام رکھا جاتا ہے۔ ہر شعبے میں ایسے ماہرین چنے جاتے ہیں جن کا کام ہی مہینے میں ایک بار نئے تقاضوں کے مطابق اساتذہ اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کی ٹریننگ کرانا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں خصوصاً ہندوستان اور پاکستان میں اب تک وہی فرسودہ غلامانہ طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بعض جگہ صرف اسکول کی خوبصورت عمارتیں اور خوبصورت یونیفارم بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔ استاد کی تربیت کا خاطر خواہ انتظام نہیں ہوتا۔ اگر کہیں استاد نے کوئی ٹریننگ کی بھی ہوتی ہے تو اس کو اپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا بلکہ وہ اپنی پوری سروس اسی ایک ٹریننگ اور ذاتی تجربے پر گزار دیتا ہے۔ ایک طرف یہ صورت حال ہے، تو دوسری جانب بہت سے اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں۔ ہمارے ہاں بعض اسکولوں میں اساتذہ کے لیے ہر سال کورسز کرائے جاتے ہیں۔ یہ ریفریشر کورس کہلاتے ہیں، لیکن بعض اساتذہ اپنی چھٹیوں میں یہ کورسز نہیں کرتے کہ ان کو اپنی چھٹیاں عزیز ہوتی ہیں۔
آج کے دور میں تادیب کے مفہوم کی بھی نئی تشریح کی ضرورت ہے۔ اس کے حوالے سے صرف مار پیٹ، گالی گلوچ، تشدد اور درشتی سے پیش آنے کی ممانعت ہی نہیں ایسے تمام رویوں کی مذمت ضروری ہے جن سے بچے پر کسی بھی قسم کا نفسیاتی دباؤ پڑتا ہو۔ ایسا کوئی بھی سلوک جو بچے کی عزتِ نفس کو مجروح کرے اور اس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کرے مار پیٹ سے زیادہ نقصان دہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے استاد اور طالب علموں کے درمیان تعلقات کو نئے خطوط پراستوار کیا جائے۔ سماجی نفسیات اس چیز کی متقاضی ہے کہ بچے کی گروہی جبلت کی درست تربیت کی جائے تاکہ وہ اپنے اردگرد کی دنیا کے ساتھ صحیح طریقے پر ہم آہنگ ہوسکے اور بڑا ہوکر ایک کامیاب شہری بن سکے۔

حصہ