درویش صفت افسانہ نگار محمد حامد سراج کی “بادشاہوں کی آپ بیتیاں”۔

77

نعیم الرحمٰن
میانوالی کی خانقاہِ سراجیہ کے درویش صفت محمد حامد سراج کا شمار اہم اور مستند افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ماں کے موضوع پر اردو ادب کا بے مثال اور طویل خاکہ ’’میّا‘‘ تحریرکیا، جسے جتنی بار قاری پڑھے ہر بار اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ محمد حامد سراج کے پانچ افسانوی مجموعے ’’وقت کی فصیل‘‘، ’’برائے فروخت‘‘، ’’چوب دار‘‘، ’’بخیہ گری‘‘ اور ’’برادہ‘‘ شائع ہوکر قارئین اور ناقدین سے بھرپور داد حاصل کرچکے ہیں۔ ایک ناولٹ ’’آشوب گاہ‘‘، تمام افسانوی مجموعوں کی کلیات ’’مجموعہ محمد حامد سراج‘‘ اور سوانح خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمدؒ۔
’’ہمارے بابا جی‘‘ بھی حامد سراج کی اہم تصنیف ہے۔ حال ہی میں بک کارنر جہلم نے محمد حامد سراج کے خود منتخب کردہ پچیس افسانوں کو انتہائی خوب صورت انداز میں ’’نقش گر‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔
ان تمام تصانیف کے ساتھ محمد حامد سراج نے دنیا بھر کے بہترین منتخب افسانے ’’عالمی سب رنگ افسانے‘‘ کے نام سے شائع کیے ہیں، جس کے بعد ان کا انتہائی اہم اور وقیع کام اردوکی بہترین آپ بیتیوں کا انتخاب اور تلخیص ہے۔ اس سلسلے کی پہلی کتاب ’’نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ 2017ء میں بک کارنر جہلم نے شائع کی تھی، جس میں باذوق قارئین کے لیے محمد حامد سراج نے دریا کوکوزے میں بند کردیا ہے۔ ماضی اور حال کے نامور ادیبوں اور شاعروں کی اتنی آپ بیتیاں نقوش کے ’’آپ بیتی‘‘ نمبرکے سوا کبھی پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا۔ میر تقی میر، مرزا غالب، منشی پریم چند، جگر مراد آبادی، فراق گورکھپوری، دیوان سنگھ مفتون، جوش ملیح آبادی، ممتاز مفتی، شاہد احمد دہلوی،کنور مہندر سنگھ بیدی، فیض احمد فیض، قتیل شفائی، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور اور امرتا پریتم سمیت 64 ادبا و شعرا کی آپ بیتیاں قاری کو ایک ہی کتاب میں مل جاتی ہیں۔ 2018ء میں محمد حامد سراج کی عرق ریزی کا ایک اور شاہکار ’’مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیاں‘‘ کے نام سے منصۂ شہود پر آیا جس سے مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور جاوید احمد غامدی جیسے مشاہیر کی زندگی اور کارناموں سے آگاہی ہوئی۔ محمد حامد سراج جنرلوں اورسیاست دانوں کی آپ بیتیوں کی بھی تلخیص و ترتیب کا ارادہ رکھتے ہیں۔
حال ہی میں آپ بیتیوں کے انتخاب اور تلخیص کے سلسلے میں محمد حامد سراج کی تیسری کتاب ’’بادشاہوں کی آپ بیتیاں‘‘ منظرعام پر آئی ہے۔ جہلم بک کارنر کی خوب صورت اور عمدہ کتابت اور طباعت نے کتاب میں چار چاند لگا دیے ہیں۔ بڑے سائزکے 248 صفحات کی اس عمدہ کتاب کی قیمت 1,500 روپے انتہائی مناسب ہے۔ قدرے باریک فاؤنٹ کی کتابت نے نہ صرف کتاب کے ظاہری حُسن میں اضافہ کیا ہے بلکہ اس میں 248 صفحات سے کہیں زیادہ میٹر شامل ہے۔ مغل حکمرانوں کی رنگین تصاویر نے کتاب کی خوب صورتی میں بھی اضافہ کیا ہے۔
بادشاہوںکی آپ بیتیاں میں چھ مغل فاتحین امیر تیمور گورگانی، ظہیر الدین بابر، نورالدین محمد جہانگیر، اورنگ زیب عالمگیر، دو مغل شہزادیوں گلبدن بیگم اور جہاں آرا بیگم کی آپ بیتیاں شامل ہیں، جس کے ساتھ لکھنؤکے آخری تاجدار واجد علی شاہ، افغانستان کے امیر عبدالرحمن خان اور ایران کے آخری بادشاہ رضا شاہ پہلوی کی آپ بیتیاں شامل ہیں۔ اس طرح بنیادی طور پر یہ مغل بادشاہوں کا ہی احاطہ کرتی ہے۔ جن تین دیگر آپ بیتیوں کو شامل کیا گیا ہے وہ قدرے مختصر بھی ہیں۔ کتاب میں اگر زارِ روس، فرانس کے کسی بادشاہ، کسی عثمانی سلطان اور برطانیہ کے بادشاہ کی آپ بیتی بھی شامل ہوتی تو کتاب کی دل چسپی اور وقعت بہت زیادہ بڑھ جاتی۔ تاہم ان 9 آپ بیتیوں سے بھی کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی، بلکہ قاری کو ایک ہی کتاب میں مغلیہ دورکی تصویر نظر آ جاتی ہے۔
’’تاریخ کے رو بہ رو‘‘ کے عنوان سے محمد حامد سراج نے ’’بادشاہوں کی آپ بیتیاں‘‘ کا تعارف کرایا ہے اورکیا خوب تعارف ہے۔ موضوع کے حوالے سے کتاب کا انتساب بھی بہت معنی خیز ہے: ’’اقتدار عطاکرنے والے اللہ رب العزت کے نام، جو انصاف کرے تو اسے عمربن عبد العزیزؒ بنا دیتا ہے، جو ظلم روا رکھے تو اسے عبرت بنا دیتا ہے‘‘۔ کتاب کا تعارف ملاحظہ کریں: ’’اس کا نام تیمور ہے۔ امیر تیمور مغلیہ سلطنت کا بانی، وقت نے زمین کے ایک ٹکڑے کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دے دی۔ وہ بلا کا ذہین تھا۔ اللہ نے اس کی شخصیت میں ایک نہیں بے شمارخوبیوں کو ڈال کے اسے زمین کی بادشاہت سے نواز دیا۔ امیر تیمور کی زندگی، اصول اور حکمرانی کرنے کا ڈھنگ جاننے کے لیے ہی تو ہم نے اس کی آپ بیتی ’’تزک تیموری‘‘ کی تلخیص پر محنت کرکے آپ کے لیے انجمن سجائی ہے۔ گھڑ سواری، تیر اندازی اور نیزہ بازی میں اس نے بچپن ہی میں مہارت حاصل کرلی۔ دس سال کی عمر میں تیمور نے قرآن مجید مکمل حفظ کرلیا۔ سولہ سال کی عمر میں وہ بہ یک وقت حفظ قرآن مجید، علوم اسلامیہ، فنونِ ادبیہ، فنون حرب کا حسین امتزاج بن چکا تھا۔ اس کے بعد شہنشاہیت ظہیر الدین بابر کے حصے میں آئی۔ بابر کا اپنا اندازِ حکمرانی تھا۔ وہ زندگی میں جہاں جہاں سیر کو نکلا، یا جنگ کے لیے زرّہ بکتر پہنی، جہاں جس جگہ قیام کیا وہاں کی تہذیب و تمدن، شکاریات کے دوران معمول سے ہٹ کر نظر میں آنے والے جانور، پرندے، حشرات الارض تک کا ذکر اپنی تزک میں مفصل کیا۔ شہنشاہ محمد جہانگیر کی خودنوشت کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہر علاقے میں پھل اور میوہ جات جانچنے، پرکھنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ گلبدن بیگم بنتِ بابربادشاہ کی ’’ہمایوں نامہ‘‘ انتہائی دل چسپ ہے۔ اس سے یہ پہلو بھی کھلا کہ مغل بادشاہ اپنی محرمات کو صرف چار دیواری میں باندھ کر نہیں رکھتے تھے، بلکہ سرسبز علاقوں کی سیر اور اکثر شکار پر بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ ان کے الگ خیمے سجائے جاتے اور چراغاں کیا جاتا، اور تمام مغل بادشاہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ اپنی ماؤں، بیگمات، بیٹیوں، پھوپھیوں، خالائوں اور جو جو رشتے اہم ہیں، اُن کو سالانہ انعامات بھجوائے جاتے اور عیدین پر کپڑوں، قیمتی تحائف کے ساتھ اشرفیاں تک ان میں تقسیم کی جاتی تھیں۔ بادشاہوں کی بولتی زندگی ان کے قلم سے آپ کے سامنے ہے۔‘‘ سب سے طویل تلخیص نورالدین جہانگیر کی 67 صفحات، ظہیر الدین بابرکی 66، گلبدن بیگم 41، امیر تیمور 12، امیر عبدالرحمن 20، واجد علی شاہ 7، جہاں آرا اور رضا شاہ پہلوی کی 4, 4 صفحات پر مبنی ہے۔ لیکن تلخیص کی خوبی یہ ہے کہ پورا دور پردۂ سیمیں کی مانند قاری کے سامنے آجاتا ہے۔
امیر تیمور گورگانی کی پیدائش 9 اپریل 1336ء اور وفات 19 فروری 1405ء کو 69 برس کی عمر میں ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امور ملک گیری وحکمرانی اور دشمن کی شکست اور دشمن کو اپنے دام میں لاکر مخالفین کو دوست بنا لینے اور دوستوں اور دشمنوں سے میل جول اور برتاؤ کی تدبیر و رائے یہ قرار دی کہ بغیر سوچے اور مشورہ کیے ہوئے کوئی کام نہ کروں، کیوں کہ میرے پیر نے مجھے تحریر کیا تھا کہ ’’ابوالمنصور تیمور! تم کاروبارِ سلطنت میں چار باتوں کو ہمیشہ لازم کرلینا: مشورۂ باہمی، ذاتی رائے، دور اندیشی اور بیدار مغزی۔ کیوں کہ جو سلطنت بادشاہ کی زبردست ذاتی رائے اور مشیروں کی نیک صلاح سے خالی ہو وہ بالکل اُس جاہل شخص سے مشابہ ہے جس کے تمام افعال و اقوال سراپا غلط ہوتے ہیں، اور اس کی باتیں اور اس کے کام از اوّل تا آخر پشیمانی اور ندامت ہی کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اپنی سلطنت کے کاروبار کو چلانے میں دانا لوگوں کے مشورے اور اپنی تدبیر پر عمل کرو تاکہ آخر میں پچھتانا نہ پڑے۔
تم کو بھی خوب یاد ہے کہ سلطنت کے کاموں میں ایک حصہ برداشت اور تحمل کا ہے اور دوسرا حصہ جاننے اور سمجھنے کے بعد غافل اور نادان بننے کا۔ مگر پختہ ارادہ، صبر، پامردی و استقلال، دور اندیشی اور انجام بینی کے ذریعے سارے کام سدھرجاتے ہیں۔ والسلام‘‘
یہ خط گویا ایک رہنما تھا جس نے مجھے راہِ راست دکھائی اور بتا دیا کہ سلطنت کے کاموں میں 9 حصے تدبیر و مشورے کے ذریعے ہوتے ہیں اور صرف ایک حصہ تلوارکے وسیلے سے۔ امیر تیمور نے 12 چیزوں کو اپنا شعار بنایا تاکہ با استقلال تمام تخت و سلطنت پر متمکن رہوں اور مجھے اس کا تجربہ ہو گیا ہے کہ جو بادشاہ ان 12 چیزوں سے عاری ہو وہ سلطنت سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا۔ جن میں بادشاہ جوکہتا ہے وہی کرتا ہے، ہر امر میں انصاف لازم ہے، بذاتِ خود حکم دے کسی دوسرے کو دخل دینے کی تاب نہ ہو، ارادے کا پکا ہو، کسی کو حکم سے روگردانی کی جرأت نہ ہو، سلطنت کے امور مستقل کسی کے سپرد نہ کرے، ہر شخص کی بات سنے اور جو اچھی لگے اسے خزینۂ دل میں محفوظ کرلے، امرا و وزرا کی اچھی بری بات سن لے مگر حقیقت واضح ہونے تک اس پر عمل نہ کرے، اپنی سلطنت کا رعب سپاہ و رعایا کے دل میں بٹھا دے، اپنے احکام میں کسی کو شریک نہ کرے اور اپنی مجلس کے لوگوں کے حالات سے باخبر رہے۔ اس کے بعض احکامات آج بھی مثالی ہیں۔ اگر رعایا از خود مال گزاری ادا کردے تو تحصیل دار مقرر نہ کیا جائے۔ وصولی کے لیے حکم اور زبانی دھمکی سے ہی کام لیا جائے۔ جو شخص جنگل کو آباد کرے،کنواں کا ریز لگائے اُس سے پہلے سال کچھ نہ وصول کیا جائے۔
ظہیر الدین بابرکی تزک انتہائی دل چسپ اور معلوماتی ہے۔ اس کی تلخیص آسان نہیں ۔ بابر 12 سال کی عمرمیں 5 رمضان 899 ہجری مطابق 6 جون 1404ء کو فرغانہ کابادشاہ بنا۔

غزلیں

فیصل محمود سید

تلاشِ رزق میں کھویا جہان بھول گیا
پرند قید میں خوش ہے اڑان بھول گیا
میں ڈھونڈنے کو چلا ایک خواب کی تعبیر
اسی تلاش میں اپنا مکان بھول گیا
مجھے گمان تری داستان ازبر ہے
مگر کھلا، جو ہوا درمیان، بھول گیا
خدا ہی جانے یہ وحشت ہے یا دوانہ پن
تری گلی میں جو پہنچا مکان بھول گیا
کبھی تو ان کا بھی نوحہ کوئی لکھے کہ جنہیں
زمین راس نہیں آسمان بھول گیا
میں کوچۂ یار کو نکلا تلاش میں اپنی
جہاں تھی دل کی دوا وہ دکان بھول گیا
ہوا جو عمر کے بعد آج سامنا اس کا
وہ آنکھ پڑھ ہی نہ پایا زبان بھول گیا
نگاہ کی تھی اچانک جو لمحہ بھر کے لیے
بس ایک پل میں میں سدھ بدھ گیان بھول گیا

عروج دبیر

میں بھی یک سطری خبر ہو جائوں گا
تم کہو تو مختصر ہو جائوں گا
مڑ کے دیکھوں گا ہر اک آہٹ پہ میں
اور پھر محوِ سفر ہو جائوں گا
کیا کروں گا رکھ کے پھر اپنی خبر
جب تجھی سے بے خبر ہو جائوں گا
رات آئے گی تو بن جائوں گا نیند
دن نکلتے ہی سفر ہو جائوں گا
کرتے کرتے دوستوں سے دل کی بات
سوچتا ہوں بے اثر ہو جائوں گا
آپ نے مجھ پر کیا جو اعتبار
اچھا خاصا معتبر ہو جائوں گا
رات یہ اچھی نہیں لگتی مجھے
شام ہوتے ہی سحر ہو جائوں گا
مجھ سے مل کر اتنا روئے گا عروجؔ
ہو کے صحرا تر بہ تر ہو جائوں گا

حصہ