بستے ہیں اک ہی وطن میں مگر

34

حیا مشعال

برسوں پہلے ہم نے
نظام مصطفوی کی خاطر
زمیں کا جو ٹکڑا پایا تھا
اسی کے اک حصے کو
ہم نے چھوڑ رکھا ہے
وہاں کے باسی صبح و شام
اب بھی آزادی کی خاطر
سسکتے ہیں تڑپتے ہیں
بہت فریاد کرتے ہیں
مگر ان کو بچانے کو
نہ ہم سسکے نہ ہم تڑپے
نہ ہی اقدام کرتے ہیں
بستے ہیں اک ہی وطن میں مگر
ان کے سسکنے پر
نہ ہم فریاد کرتے ہیں
نہ ہی اقدام کرتے ہیں

حصہ