بارش کا پہلا قطرہ

72

طلعت نفیس
۔’’چلو بھئی! گئیں صفیہ بیگم بھی…‘‘ اماں اندر کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولیں۔ ان کی آنکھیں ابھی تک نم تھیں۔
’’اماں کیوں اتنی پریشان ہورہی ہیں! ظاہر ہے کوئی نہ کوئی تو آئے گا ہی۔‘‘شبانہ ملائمت سے بولی۔
’’کوئی بھی آئے، میں اب کسی سے دوستی نہیں کروں گی۔ ویسے بھی آج کل تو جو نیا آتا ہے وہ گھر کے باہر جھانک کر بھی نہیں دیکھتا۔ کوئی اپنی کھال میں مست، کوئی حال میں۔ کسی کو کسی کی پروا ہی نہیں ہوتی۔ میرا اور صفیہ کا تعلق چالیس سال سے تھا، میری شادی کے دو ماہ بعد وہ بھی رخصت ہوکر آئی تھیں۔ اسی طرح آگے پیچھے بچے ہوئے، مگر اس کے بیٹوں نے گھر بیچ کر ہی دم لیا۔‘‘
’’چلیں آپ کھانا کھالیں، میں آپ کو صفیہ آنٹی سے ملانے لے چلوں گی۔‘‘ شبانہ بولی۔
’’چلو…‘‘ وہ ٹھنڈی سانس لے کر بولیں۔
برابر کے گھر میں سامان اتر رہا تھا، گاڑی میں سے دو باپردہ خواتین باہر آئیں۔
شبانہ سامان اترنے کی آواز سن کر باہر آگئی۔ جلدی سے دوپٹہ سر پر لے کر ٹھنڈے پانی کی بوتل اور گلاس لیا، اور ان کے ساتھ ساتھ گھر میں داخل ہوگئی۔
وہ بہت اخلاق سے ملیں۔ شبانہ نے ان کو پانی دیا اور بولی ’’آنٹی اگر کچھ اور چاہیے ہو تو برابر سے لے لیجیے گا۔‘‘
’’نہیں بیٹا آج کل کون پوچھتا ہے! دس دفعہ گھر تبدیل کیے مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘
’’جی شکریہ آنٹی میں پھر آئوں گی…‘‘ شبانہ یہ کہہ کر باہر نکل گئی۔
دو دن بعد وہ آنٹی آئیں اور بولیں ’’بیٹا کل ہمارے گھر درود شریف کا ختم ہے اور درسِ قرآن بھی ہے۔‘‘ شبانہ کی ساس کو خصوصی دعوت دی، مگر ان کو تو صفیہ کا دکھ تھا۔ شبانہ کا جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ تین منزلہ بلڈنگ، ایک ایک منزل پر تینوں بھائی رہتے تھے۔ شبانہ سب سے چھوٹی تھی اس لیے نچلی منزل پر تھی، اور اس کی ساس بھی اس کے ہی ساتھ رہتی تھیں۔ ایک جیٹھانی نگہت۔ درس میں نگہت کی بڑی بیٹی حمنہ گئی تھی، وہ بھی شبانہ کے بے حد اصرار پر۔ لیکن اب دو سال گزر چکے تھے، شبانہ ان کے ساتھ ہر جگہ درس میں جاتی ہے اور اب وہ اپنا قرآن درست کرنے کے ساتھ ساتھ معنی سے پڑھ رہی تھی۔ روبینہ آنٹی کی کوئی بیٹی نہیں تھی، وہ شبانہ کو اپنی بیٹی کی طرح مانتی تھیں۔
شبانہ کی بیٹی عریشہ کی برتھ ڈے بڑے دھوم دھام سے ہوتی تھی۔ عریشہ گیارہ سال کی ہونے والی تھی۔
’’مما! میری برتھ ڈے اس سال کیسے سیلیبریٹ کرنی ہے؟‘‘ وہ اسکول سے آئی تو بہت پُرجوش ہورہی تھی۔
’’بیٹا دیکھو، ہمارے دین میں کوئی ڈے نہیں ہوتا، نہ برتھ ڈے نہ مدرز دے، نہ فادرز ڈے… یہ سب انگریزوں کے ڈھکوسلے بازیاں ہیں۔‘‘ شبانہ بولی۔
’’مگر پہلے تو آپ…‘‘ عریشہ کی بات کاٹ کر شبانہ بولی ’’میں اَن پڑھ تھی… اب میں نے پڑھ لیا ہے۔‘‘
’’ہیں…!‘‘ عریشہ انگلش میں ماسٹرز کی ہوئی ماں کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔
’’ہاں بیٹا! میں قرآن سے نابلد تھی، اب سب سمجھ میں آرہا ہے۔ اچھا تم کپڑے تبدیل کرو، پھر بعد میں اس موضوع پر بات کریں گے۔‘‘
یکم ستمبر کو عریشہ کی سالگرہ تھی۔
قرآن پاک ترجمے سے پڑھنے کے بعد شبانہ میں بہت سی تبدیلیاں آگئی تھیں۔ اس کے سسرال والے اس کو کچھ نہیں بولتے تھے، اور محسن تو تھے ہی اس کے ہمنوا، کبھی کسی چیز کو منع نہیں کرتے تھے۔ اگر کبھی ساس اور جیٹھانیاں مذاق میں کچھ بولتیں تو فوراً کہتے ’’اچھا کام ہی کررہی ہے، برا کام تو نہیں کررہی‘‘۔ گھر میں بھی سر پر دوپٹہ لیے رہتی تھی اور عبایا اور اسکارف بھی لازمی ہوگیا تھا۔
’’امی روبینہ آنٹی کی کال ہے۔‘‘ عریشہ نے موبائل اس کے ہاتھ میں تھمایا۔
’’جی آنٹی‘‘۔
’’شبانہ! حجاب ڈے پر لڑکیوں کے لیے ٹیبلو تیار کرلیتے ہیں۔‘‘
’’حجاب ڈے کا پتا تو ہے مگر تاریخ کا نہیں معلوم، اور پوری کہانی کا نہیں پتا۔‘‘
’’اچھا تم آئو تو میں تم کو سب کہانی بتادوں گی، اور اپنے گھر کی بچیوں کو بھی لے آنا، انہی کو ٹیبلو میں لے لیں گے۔‘‘
’’حجاب ڈے 4 ستمبر کو منایا جاتا ہے، اس پر ہی ہم ٹیبلو تیار کرلیتے ہیں۔ اور حمنہ تم اس میں کردار ادا کرو گی۔‘‘ روبینہ آنٹی بولیں۔ ’’فیس بک اور سوشل میڈیا سے پتا چلا ہے کہ جرمنی کی رہائشی مصری نژاد مسلم مروہ الشربینی حجاب پابندی سے لیتی تھیں۔ ان کا جرمن یہودی پڑوسی ان کے اسکارف سے نفرت کرتا تھا، کبھی لفٹ میں ان کو ستاتا، کبھی پارک میں ان کا مذاق اڑاتا۔ الشربینی کا تین سالہ بیٹا تھا اور وہ حاملہ تھیں۔ الشربینی نے تنگ آکر عدالت میں یہودی پڑوسی کی شکایت کردی۔ بھری عدالت میں اس شخص نے تیز دھار چاقو سے الشربینی پر حملہ کیا۔ ان کا شوہر جب بچانے آیا تو اس کو بھی شدید زخمی کردیا۔ پولیس اس دوران خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی اور الشربینی حجاب کے لیے پہلی شہید کہلائیں۔ اس لیے 4 ستمبر کو عالمی برادری اس کی یاد میں یہ دن مناتی ہے۔‘‘ روبینہ آنٹی اتنا بول کر خاموش ہوگئیں۔ باقی سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
’’اب تم ٹیبلو میں الشربینی بنو گی، کیوں کہ تم بہت پیاری ہو۔‘‘ روبینہ آنٹی حمنہ کو پیار کرتے ہوئے بولیں۔
روبینہ آنٹی چائے لینے گئیں تو حمنہ بولی ’’شکر الحمدللہ کہ ہم مسلمان ملک میں ہیں، مگر ہم لوگ حجاب کو زبردستی کی چیز سمجھتے ہیں۔ اب میں تو لازمی اسکارف لوں گی چاہے کہیں بھی جائوں… ایک مروہ تھی جس نے حجاب کے لیے جان دے دی اور ایک ہم ہیں…‘‘
’’اور جب میری بیٹی اسکارف لے گی تو چھوٹی بہنیں خودبخود اسکارف لیں گی۔‘‘ شبانہ حمنہ کو گلے لگاتے ہوئے بولی۔ ’’بیٹا تم بھی خاندان کی پہلی باحجاب لڑکی بنو گی ان شاء اللہ۔‘‘ شبانہ نے رب کا شکر ادا کیا کہ بارش کی پہلی بوند تو ٹپکی۔

حصہ