ایمازونیا عالمی سانحہ اور جنگلات کی کمی

83

انشال راو
نظام شمسی میں موجود سیاروں میں سے زمین پر مناسب و موزوں درجہ حرارت، پانی، ہوا اور مٹی ہونے کے باعث زندگی کا وجود ہے باالفاظ دیگر کرہ ہوائی Atmosphere,کرہ آب Hydrosphere, کرہ حجر Lithosphere کے باہمی تعلق سے کرہ حیات Biosphere تشکیل پاتا ہے۔
زمین پر موجود جاندار اور بے جان کا آپس میں گہرا تعلق ہے اسی کو انوائرنمنٹ کا نام دیا گیا ہے، جانداروں کو دو اہم اور بڑے گروہ نباتات و حیوانات ہیں، نباتات کرہ ارض پر زندگی کی علامت ہیں، نباتات ماحول کو صاف رکھنے، خوراک، شیلٹر و دیگر بہت سی مفید ضروریات کا بڑا ذریعہ ہیں، کسی علاقے میں موجود نباتات کے بڑے مجموعے کو جنگلات کہا جاتا ہے، جنگلات قدرتی طور پر بھی پائے جاتے ہیں اور مصنوعی بھی، پاکستان میں چھانگامانگا، چیچہ وطنی کا جنگل، میانی جنگلات وغیرہ مصنوعی طور پر لگائے گئے جنگلات ہیں، جنگلات قدرت کا انمول تحفہ ہیں جو انسانی زندگی و ماحول پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں اس لیے لوگوں میں اس کی بقا اور تحفظ کا احساس اجاگر ہوا ہے۔
نباتات آب و ہوا، بارش اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اگر جنگلات کو نقصان پہنچتا رہا تو اس کے اثرات بڑے گہرے ہونگے جن کا حقیقی طور پر اندازہ لگانا ناممکن ہے جیسا کہ نباتات تازہ آکسیجن مہیا کرتے ہیں اور ماحول سے کاربن کو جذب کرتے ہیں اگر جنگلات یونہی ختم ہوتے رہے تو نہ صرف آکسیجن میں کمی واقع ہوگی بلکہ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ ہوجائے گا نتیجتاً کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھ جائیگا، گلیشئرز پگھل جائینگے، سمندر کی سطح بلند ہوجائے گی، بہت سے ساحلی علاقے غرق آب ہوجائینگے، بہت سے جزیرے ڈوب جائینگے، آب و ہوا اور موسم میں تبدیلیاں واقع ہونگی، سیلاب، طوفان، خشک سالی و دیگر بہت سی ماحولیاتی تبدیلیاں پیدا ہوجائینگی جو دور رس اثرات مرتب کرنے کا باعث بنیں گی نتیجہ یہی ہوگا کہ کرہ ارض رہیگا مگر ہم نہیں رہیں گے اس لیے زندگی کی بقا کے لیے یہ دنیا میں بسنے والے تمام افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنگلات کا تحفظ یقینی بنائیں اور ماحول دشمن سرگرمیوں سے گریز کریں۔
ایمازون دنیا کا سب سے بڑا Rainforest ہے یہ قدرتی جنگلات دنیا کا پھیپھڑا کہلاتے ہیں، اس کا 60 فیصد سے زائد رقبہ برازیل میں واقع ہے اور باقی کا تقریباً 40 فیصد بولیویا، پیرو، وینزویلا، کولمبیا وغیرہ میں پھیلا ہوا ہے، ایمازون کے جنگلات Amazonia دنیا کی آکسیجن کا 20 فیصد مہیا کرتے ہیں اور بہت بڑا حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا جذب کرکے عالمی درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، دنیا کی کل بائیوڈی ورسٹی یعنی کرہ حیات کا دس فیصد ان جنگلات پر مشتمل ہے جن میں تین ملین سے زائد نباتات و حیوانات کی species موجود ہیں اور عالمی Fresh Water کا 15 فیصد ان جنگلات میں موجود ہے، صدیوں سے یہ جنگلات خوراک و دیگر وسائل کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہیں جن سے بہت سی انواع و اقسام کے پھل، قیمتی لکڑیوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر ادویات کی تیاری کا بھی ذریعہ ہیں مگر انسانی سرگرمیوں کے باعث ایمازون کے جنگلات میں روز بہ روز کمی ہورہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 1970 سے تقریباً ساتھ لاکھ مربع میل پر مشتمل Deforestation عمل میں لائی جاچکی ہے، صرف 1980 سے 2005 تک سالانہ 20 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل جنگلات مٹائے جاتے رہے جوکہ بیلجیم کے رقبے کے برابر ہے جس کے پیچھے ڈویلپمنٹ کے نام پر انسانیت کے ساتھ کھیلواڑ ہے، Drought سیزن میں ان جنگلات میں آگ لگتی رہتی ہے جن پر کنٹرول کیا جاتا رہا مگر گزشتہ بیس برسوں سے لگنے والی آگ میں زیادہ تر انسانی ہاتھ شامل رہا ہے، جس میں Mercusor اکنامک بلاک کی کرپٹ حکومتوں کی منشا و مرضی شامل رہی ہے جن کا مقصد زیادہ سے زیادہ جنگلات کی زمین کو زرعی، فارمنگ و دیگر حصول کے لیے استعمال میں لانا ہے۔
برازیل میں Bolsonar حکومت میں اس عمل میں شدید تیزی آگئی ہے جس پر عالمی سطح پر تشویش و احتجاج کیا جارہا ہے، گزشتہ تین ہفتوں سے لگنے والی آگ اب تک کی سب سے خطرناک آگ ہے جسے عالمی سانحہ قرار دیا جارہا ہے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ریسرچ کے دعوے کے مطابق یہ آگ لگائی گئی ہے، اس آگ کی شدت اور پھیلائو کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ساو پالو اور ریوڈی جنیریو شہر ان جنگلات سے 2500 میل دور ہیں مگر ان سے اٹھنے والے دھویں نے دونوں شہروں کو فضا پر دھواں چھا جانے کی وجہ سے تاریکی کی لپیٹ میں لے لیا جس پر نیویارک ٹائمز سے منسلک صحافی شینن سمس نے ہیش ٹیگ #PrayForAmazonia کے ساتھ ٹویٹ کیا تو دنیا میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی اور عالمی میڈیا کی توجہ مرکوز ہوئی، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ برازیلین حکومت کی ترجیحات میں ان جنگلات کا زیادہ سے زیادہ صفایا شامل ہے جس کے ذریعے وہ اس زمین کو زرعی و مویشی فارمنگ کے لیے استعمال کرکے وسیع زرمبادلہ حاصل کرسکتی ہے۔
برازیل دنیا کا سب سے بڑا گوشت کا ایکسپورٹر ہے اور اب سویابین کا بھی بڑا ایکسپورٹر بن گیا ہے یہی وجہ ہے کہ برازیل کی حکومت نے کبھی جنگلات کے خاتمے کی روک تھام کے لیے کوئی سنجیدہ قانون سازی یا اقدام نہیں اٹھائے بلکہ ایسا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی، یہی وجہ ہے کہ دنیا اب ایمازون جنگلات کے 20 فیصد سے زائد رقبے سے محروم رہ گئی ہے، 2019 میں اب تک آگ کے تقریباً 75 ہزار واقعات ریکارڈ ہوچکے ہیں جوکہ 2018 کے مقابلے میں 84 فیصد زائد ہیں، 2016 Drought سیزن کے لحاظ سے بدترین سال مانا جاتا ہے اس میں بھی اتنے بڑے پیمانے پر واقعات ریکارڈ نہیں ہوے جبکہ 2019 اس کے مقابلے میں انتہائی قابل تشویش ثابت ہوا ہے۔
ناروے اور جرمنی کی حکومتوں نے احتجاجی طور پر ایمازون جنگلات کی بحالی کے لیے مختص فنڈ کی مد میں 72.27 ملین ڈالر کی امداد روک لی ہے اور یورپی یونین پر Mercusor بلاک کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کے لیے زور دیا ہے، Mercusor بلاک جس میں برازیل، ارجنٹینا، پیراگوئے، یوراگوئے شامل ہیں جبکہ بولیویا، وینزویلا، پیرو، کولمبیا اس کے الحاق میں شامل ہیں، یورپی یونین کا Mercusor کے ساتھ تجارتی معاہدے کو صدی کی سب سے بڑی تجارتی ڈیل کہا جارہا تھا جو اب خطرے میں پڑگئی ہے۔ اس کے علاوہ فرانس نے اس قدرتی تحفے کے بے دریغ زیاں پر احتجاج کرتے ہوئے G-7 کی حالیہ ہونے والی summit میں بھی اٹھایا ہے اور دنیا سے اس مسئلے پر سخت ایکشن لینے کے لیے زور دیا ہے جبکہ دوسری طرف اس سانحے کو برازیلوی صدر کا امریکا کو جواب سے تعبیر کیا جارہا ہے، فی الحال اس سانحے کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں آسکی ہیں البتہ NASA, Inpe و دیگر تحقیقی اداروں کی طرف سے جاری کردہ سیٹلائٹ امیجز کے مطابق یہ غیرمعمولی سانحہ ہے جس کے سیارہ زمین پر انتہائی خطرناک اور دور رس مہلک اثرات مرتب ہوں گے، ان جنگلات کا صفایا کرنے میں انسانی سرگرمیوں کا ہی کردار ہے جس میں مائننگ، ہائیڈرو پاور پراجیکٹ وغیرہ بھی شامل ہیں۔
لاطینی امریکی ممالک کی کوشش ہے کہ ان جنگلات کو زیادہ سے زیادہ ختم کرکے زمین کو زرعی و کیٹل فارمنگ کے لیے استعمال کرے جس کے باعث دنیا اپنے پھیپھڑے سے محروم ہوجائے گی اور آہستہ آہستہ تباہی کی طرف بڑھے گی، اس قسم کی کوشش کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ان ممالک پر سخت سے سخت پابندیاں عائد کی جائیں اور اقوام عالم گوشت کے استعمال کا بائیکاٹ کریں۔ چین‘ جوکہ اس وقت برازیل سے Soy کا سب سے بڑا خریدار ہے‘ عالمی بہتری کی خاطر برازیل سے Soy کی تجارت فوری طور پر بند کرے، اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو جنگلات کی کٹائی کی روک تھام اور تحفظ کے لیے فوری اور سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ورنہ کرہ ارض رہے گا مگر ہم نہیں رہیںگے۔
اس عظیم سانحے پر ایکشن کے ساتھ ساتھ اقوام عالم کو بھارت کی طرف سے پاکستان و بنگلہ دیش میں کی جانے والی آبی دہشت گردی کا بھی فوری نوٹس لینا چاہیے جس کے نتیجے میں مقبوضہ جموں و کشمیر، پاکستان اور بنگلہ دیش میں کئی ملین ایکڑ جنگلات میں کمی واقع ہوئی ہے اور بہت سی قیمتی species خاتمے کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں صحرازدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے اور پانی کی سطح غیرمعمولی حد تک نیچے جا رہی ہے، سمندر میں مطلوبہ مقدار میں فریش پانی نہ جانے کے باعث آلودگی میں اضافہ اور مینگروو جنگلات میں بھی تیزی سے کمی واقعی ہورہی ہے نتیجتاً پاکستان کا علاقائی درجہ حرارت روزافزوں بڑھتا جارہا ہے جس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ گلوبل میں بھی ظاہر ہوں گے، اس کے علاوہ حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت ماحول میں سلفر آکسائیڈز کا اخراج کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ سلفر آکسائیڈز بہت ہی مہلک گیس ہے جونہ صرف انسانی بلکہ جانوروں اور پودوں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ بھارت کی آبی دہشت گردی و ماحولیاتی دہشت گردی پر لگام ڈالے اور عالمی قوانین کی پابندی کرنے کے لیے مجبور کرے تاکہ کرہ ہوائی کو مزید نقصان پہنچنے سے بچایا جاسکے۔
جنگلات کا خاتمہ ایمازون میں ہو یا کسی اور ملک میں، آگ لگانے سے ہو، درختوں کی بے دریغ کٹائی سے یا پھر آبی دہشت گردی سے، یہ محض جنگلات کا خاتمہ نہیں بلکہ پوری نوع انسانیت پر حملہ ہے کیوں کہ جنگلات کا ماحولیاتی تبدیلیوں، بائیو لوجیکل ڈائیورسٹی، مختلف انواع و اقسام کے نباتات و حیوانات، واٹرٹیبل، درجہ حرارت وغیرہ سے براہ راست گہرا تعلق ہے، بڑے پیمانے پر جنگلات کا خاتمہ تازہ آکسیجن میں کمی کے ساتھ ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ گلوبل وارمنگ کا ایک اہم سبب ہے جس کے اضافے سے کرہ ارض کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے گا جوکہ دنیا کی تباہی کا سبب بنے گا۔

حصہ