آزادی کی لگن

50

عالیہ زاہد بھٹی
۔’’تڑ… تڑ… تڑ…‘‘ گولیوں کی نہ تھمنے والی آوازوں کے ساتھ رات کا سناٹا بول اٹھا۔ حجاب زہرہ ہڑبڑا کر اٹھی اور اپنے پہلو میں لرزتی کانپتی بتول بی بی پر اس کی نظر پڑی۔
’’اماں! آج پھر وہ لوگ وادی میں آگئے؟‘‘ حجاب نے لرزتی آواز میں سوال کیا تو بتول بی بی نے اثبات میں سر ہلا کر دوبارہ تسبیح گھمانی شروع کردی۔ حجاب اٹھ کر وضو کرکے باورچی خانے میں گئی، وہاں خالی برتن، خالی ڈبے اور خالی الماری اس کے سامنے تھی۔ اس نے پتیلی میں پانی بھرا، چولہے میں آگ جلائی اور پتیلی چولہے پر رکھ دی، اور خود گھٹنوں میں منہ دے کر گنتی کرنے لگی۔ آج بائیسواں روز تھا کرفیو کا، وادی میں ہر طرف پکڑ دھکڑ جاری تھی، بھارتی فوجی درندے دیواریں پھاند کر گھروں میں گھس جاتے، جوانوں کو اٹھا لے جاتے اور عورتوں کی عزتیں پامال کرجاتے۔ ابھی تک ان کا علاقہ بچا ہوا تھا جہاں ان درندوں کی رسائی نہیں تھی۔ وجہ یہ تھی کہ اس علاقے کی طرف آنے والے تینوں راستے مجاہدوں نے بلاک کررکھے تھے اور مستقل چوبیس گھنٹے سخت پہرہ دے رہے تھے جس کے باعث دراندازوں سے فی الحال یہ علاقہ محفوظ تھا۔
حجاب کا بھائی احرار بھی انہی پہرے داروں کے ساتھ ڈیوٹی میں مصروف تھا۔ مگر کب تک؟ اب تو خوراک بھی ختم ہوتی جارہی تھی۔ پانی کے اُبال کے ساتھ ہی حجاب کی سوچوں کا سلسلہ رک گیا۔ وہ کچن سے باہر نکلی اور کچن کی دیوار سے ملحق بیل سے کچھ پتے اتارے اور دھو کر ابلتے پانی میں ڈال دیے۔ کچھ دیر مزید جوش دینے کے بعد پتیلی اتارکر دو کپوں میں ان پتوں کا پانی ڈالا اور صحن میں لگے درخت سے دو پکے ہوئے سیب دھوکر قاشیں کرکے کمرے میں بتول بی بی کے پاس ٹرے سجا کر لے آئی۔
’’اماں شکر ہے کہ ہمارے گھروں میں تھوڑے بہت پھل اور سبزیاں کاشت ہوتی ہیں تو ہمارا گزارا ہورہا ہے، ورنہ تو ان 22 دنوں میں ہم فاقوں مر جاتے۔‘‘ حجاب نے ٹرے ماںکے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں بیٹا! وادی کے حالات کے باعث عرصۂ دراز سے ہمارا یہی کام رہا ہے، ہمیں عادت ہے آئے دن کے کرفیو اور خونریزی کی، اسی لیے اپنے گھروں کے آنگن کی چھوٹی سے چھوٹی زمین پر بھی اناج ، پھل اورسبزیوں کی کاشت ہماری عادت ہے، اور اللہ کا کرم تو دیکھو کہ زمین کتنی زرخیز ہے۔‘‘ بتول بی بی نے اس قہوہ نما گرم پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے تشکر سے کہا۔
ابھی وہ دونوں باتیں کر ہی رہی تھیں کہ دروازہ زور سے دھڑ دھڑایا۔
’’اللہ خیر…‘‘ بتول بی بی دل پر ہاتھ رکھ کر دروازے کی سمت آئیں، جیسے ہی دروازہ کھلا دو لڑکے احرار کو زخمی حالت میں لے کر آندر آئے۔
’’اللہ اکبر … اللہ اکبر… یہ کیا ہوا ہے؟‘‘ بتول بی بی نے آگے بڑھ کر احرار کو ان لڑکوں کے ساتھ سہارا دیتے ہوئے دروازے کے پاس ہی بچھی چارپائی پر ڈالا۔
’’دشمن دراندازوں نے ہمارے پہرے داروں کو پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ ادھر ڈیوٹی پر تھا، زد میں آگیا۔ ہم نے وہاں تازہ کمک بھیجی ہے… خالہ! اس کا دھیان رکھنا، علاقے میں نہ دوائی ہے، نہ علاج کی سہولت… خالہ! جو زندہ ہے غنیمت ہے، ہمیں اپنے زخمیوں کو صحت مند ہونے کے بعد دوبارہ محاذوں پر بھیجنا ہے۔‘‘ لڑکے نے بغیر کسی پریشانی کے پامردی سے کہا۔
’’ہاں… ہاں میرے بچو! مجھے معلوم ہے تمہاری زندگیاں ہیں تو ہمارے حجاب و عفتیں سلامت ہیں، مجھے معلوم ہے۔‘‘ بتول بی بی نے چلمن کی اوٹ سے جھانکتی حجاب پر ایک نظر ڈالی اور دوسری نظر زخمی احرار پر، جس کا چہرہ پیلٹ گنوں کے چھروں سے چھلنی تھا۔
’’خالہ! شکر ہے اللہ کا کہ اس کی آنکھیں بچ گئی ہیں۔‘‘ وہ دونوں لڑکے واپس مڑ گئے۔
’’خدا کا شکر…‘‘ بتول بی بی نے دروازے کو بند کرکے جیسے بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا۔ دروازہ بند ہوتے ہی حجاب بھاگتی ہوئی بھائی کے پاس آئی، ماں کے ساتھ مل کر اس کے زخم دھوئے، ہلدی پیس کر کچھ مرہم کے طور پر لگائی اور کچھ گرم دودھ میں ڈال کر یہ دودھ اسے پلایا اور آرام سے سلا کر اپنے کام میں مشغول ہوگئی۔
بتول بی بی لال خشک مرچوںکو سل پر پیسنے کے بعد انہیں لے کر گھر سے باہر نکلی اور ڈنڈے سے پڑوس کی دکان کے شٹر کو مخصوص انداز سے کھٹکھٹایا تو دیوار کے اوپر سے ایک لڑکے کا سر نمودار ہوا۔
’’جی خالہ مال تیار ہے؟‘‘
’’ہاں بیٹا!‘‘ بتول بی بی نے جلدی سے مرچوں کے بنے ہوئے گولے کی ٹرے اسے تھمائی۔
’’خالہ وہ پچھواڑے کی کھولی والی ماسی اور کلینک والے بٹ صاحب کی بیگم کے گھر سے بھی مال نہیں آیا، تم لادو ناں۔‘‘ اس لڑکے نے التجا کی تو گھر کے باہر سے کنڈی لگاکر مطلوبہ اہداف پورے کرکے بتول بی بی واپس آئی تو حجاب، احرار کے بستر کے پاس کھڑی اسے دیکھ کر روتی نظر آئی۔ بتول بی بی کے دل کو کچھ ہوا مگر اس نے اپنے دل کو فوراً سخت بناکر بیٹی کے آنسو پونچھے۔ ’’بی بی یہ زخم جو بھائی کے چہرے پر ہیں یہ زخم نہیں پھول ہیں، ان پھولوں پر جنت کی نوید ہے، کاہے کو روتی ہو؟ اگر یہ ڈھال نہ بنے تو ہمارے تمہارے سروں کی چادریں محفوظ نہیں رہیں گی، یہ نگہبان ہیں ہمارے، ان کا کام ہی سینے پر گولی کھانا ہے۔‘‘ بتول بی بی نے فخر سے کہا۔
’’اماں! کس دل سے کہہ رہی ہو یہ سب، اگر اسے کچھ ہوا تو میں زندہ نہیں رہوں گی۔‘‘ حجاب یہ کہہ کر بھائی سے لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
’’ہاں پھر تمہیں زندہ رہنا بھی نہیں چاہیے۔ یہ اگر مر گیا ہمارا پردہ، ہماری ڈھال، ہمارا احرار… اگر ہمارے سامنے سے ہٹ گیا تو پھر ہمیں اپنے حجاب سمیت اپنے رب کے سامنے حاضر ہوجانا چاہیے اس سے پہلے کہ حجاب کو کوئی تاراج کردے۔‘‘ بتول بی بی نے گویا کہ بیٹی کو ڈھکے چھپے لفظوں میں وصیت کی اور بہادر بیٹی نے یہ وصیت نصیحت بنا کر پلو میں باندھ لی۔
…٭…
’’ٹھیک ہے ماں! اللہ کی دوبارہ دی گئی زندگی کو دوبارہ اسی کی راہ میں لگانے جا رہا ہوں… دعا کرنا۔‘‘ نہائے دھوئے، عزم و ہمت سے سنورے احرار نے ماں کے ماتھے پر الوداعی بوسہ دیا، حجاب کا سر چوما اور ان کی دعائوں میں قدم بڑھا دیے۔ بتول بی بی اور حجاب پُرنم آنکھوں سے الوداع کرتے سوچ رہی ہیں کہ آگے تخت ہے یا تختہ؟ حجاب کو اپنا حجاب محفوظ رکھنے کے لیے قربان ہونا پڑے گا یا کوئی محمد بن قاسم ان کے لیے آئے گا؟

حصہ