آزادی کا کاروبار

42

سیدہ تبسم
ایک بار پھر یوم آزادی اپنی پوری ظاہر شان و شوکت سے منا کر قوم فارغ ہو گئی۔ جھنڈیوں‘ پرچموں‘ ریلیوں‘ ملّی نغموں کی گونج ہمیں یاد دلاتی رہی کہ ہم آزاد ہیں۔ ہر سال بڑھتا ہوا جھنڈیوں اور پرچموں پر قوم کا لگنے والا پیسوں کا گراف آزادی کے جذبات کا پیمانہ قرار پا رہا ہے۔ یعنی اس بار بھی عوام منہ مانگے دام وصول کرکے آزادی کا کاروبار کرتے رہے اور خریدنے والے اپنی استطاعت کے مطابق ’’آزادی‘‘ خریدتے رہے۔ اس سال آزادی ہم نے نئے پاکستان میں منائی جہاں ہر طرف تبدیلی کے دعوے اور نئے پاکستان کی گونج ہے۔
آزادی کے حسین منظر میں قربانیوں کی ایک نہیں‘ ہزاروں داستانیں ہیں۔ آزادی کی اصل قیمت جن لوگوں نے چکائی ہے وہ ہمارا حال دیکھ لیں تو خون کے آنسو روئیں۔
اس نعمت کے وارث ہو کر بھی بدقسمتی سے ہم قیام پاکستان سے تاحال مقاصد پاکستان کے حصول سے کوسوں دور ہیں۔ کل ہم برطانیہ کے غلام تھے آج ہم امریکی سامراج کے غلام ہیں‘ ہندو ثقافت کے غلام ہیں‘ چینی مصنوعات کے غلام ہیں۔
یہ غلامی کبھی نہ ہوتی اگر ہم نے اپنے ذہنوں کو آزاد رکھا ہوتا۔ اللہ کا غلام ہونے کے بعد کسی کے بھی نظریات و عقائد کو قبول کرنا شرک ہے۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد اللہ کی رحمت ہم سے روٹھ گئی اور ہم اندرونی و بیرونی سازشوں میں روز بروز جکڑتے جارہے ہیں‘ شکنجے میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔
بظاہر ہم آزاد ہیں مگر کس میں آزاد ہیں؟ منافقانہ رویہ اختیار کرنے میں آزاد ہیں کہ پاکستان کے دستور میں اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا ہے اور اس کے باوجود لادینی نظریات ٹھونسنے والوں کو روک نہیں سکتے ہیں۔
ہم آزاد ہیں بداخلاقی میں کہ حالیہ انتخابات کے موقع پر امیدواروں نے اپنے حریف امیدوار کی مخالفت میں ایک دوسرے کے کردار پر خوب خوب کیچڑ اچھالی اور اخلاق کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔
ہم آزاد ہوتے ہوئے بھی اپنا میڈیا یہودیوں اور عیسائیوں کو فروخت کر چکے ہیں اور وہ قوم کو بے حیائی‘ رقص و موسیقی اور غلط پروپیگنڈے کے ذریعے گمراہی کے راستے پر بگٹٹ لیے جاتے ہیں۔
سب کو جھوٹ کی‘ مکر و فریب کی اور کرپشن کی آزادی ہے‘ کوئی پکڑا بھی جائے تو عدالتی نظام کی طویل راہ داریوں میں اپنی زندگی آرام سے گزار کر بغیر کسی سزا کے دنیا سے چلا جاتا ہے۔ رہی آگے کی منزل تو قبر کا حال مردہ جانے کے گمان پر چھوڑ دیتے ہیں کہ اب وہ مجرم بڑی عدالت میں پیشی بھگت ہی لے گا۔
ہاں ہم آزاد ہیں کہ جیسے چاہیں جئیں۔
مگر سوچنے کی بات ہے اگر یہ سارے رویے درست ہیں تو پاکستان میں طبعی اور اخلاقی ترقی کیوں نظر نہیں آتی؟ کیا کوئی اپنے آپ کو بدلنے پر تیار ہے‘ اپنے آپ کو بدلنے پر تیار نہیں لیکن پاکستان کو تبدیل کرنے کے لیے یہ کیسی بے قراری ہے۔ قوم کو اس کی بنیادوں پر استوار کرنے سے ہی ملک مشکلات سے نکل سکتا ہے اور ہماری بنیاد پاکستان کے مطلب سے ہی خوب اچھی طرح واضح ہوتی ہے جو لا الٰہ الا اللہ ہے۔ اس سے رو گردانی کرکے ہم دنیا میں بھی پس ماندہ رہیں گے اور آخرت میں آزادی کی نعمت کا سوال کیا جائے گا تو کہنے کو کچھ بھی نہ ہوگا۔

حصہ