ادب آدمی کے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے

167

ممتاز نقاد افسانہ نگار اور شاعر مبین مرزا کی جسارت سنڈے میگزین سے گفتگو

طارق رئیس فروغ
مبین مرزا ملک اور بیرون ملک کے ادبی حلقوں میں ایک معروف ادبی شخصیت کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ لگ بھگ سینتیس برس سے وہ اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ اُن کے افسانے بہترین افسانوں کے انتخاب میں اکثر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے کئی افسانوں کی ڈرامائی تشکیل ہوچکی ہے۔
نقاد کی حیثیت سے مبین مرزا کا شمار جداگانہ شناخت رکھنے والے ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کی تنقید ، فلسفے، نفسیات، تاریخ اور جدید تھیوریز سے براہ راست سرو کار رکھتی ہے، اور وسیع علمی تناظر میں نتائج ِ فکر کا اظہار کرتی ہے۔ ان کے ہاں موضوعات کا تنوع اور بیان کا سلیقہ بھی نمایاں ہے۔ وہ اکثر و بیشتر مختلف ٹی وی چینلز پر ادبی اور سماجی حیثیت سے شریک ہوتے رہتے ہیں۔
مبین مرزا شاعر کی حیثیت سے بھی جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ملک اور بیرون ملک ادبی جرائد اور اخبارات میں ان کی غزلیں اور نظمیں وقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہتی ہیں۔ وہ طویل عرصے سے کانفرنسز اور سیمینارز میں بھی شریک ہورہے ہیںاور متعدد ممالک میں پاکستان کی ادبی اور ثقافتی تقریبات میں نمائندگی کرچکے ہیں۔ ایک روزنامے میں مستقل کالم بھی لکھ رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی وہ ایک ادبی جریدے مکالمے کے مدیر بھی ہیں۔ مبین مرزا ملک کے ایک معروف اشاعتی ادارے ’’ اکادمی بازیافت ‘‘ کے سربراہ بھی ہیں۔ اوراکادمی ادبیات پاکستان کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی ہیں۔ان کی جو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ان میں خوف کے آسمان تلے (افسانے)، سعادت حسن منٹو، شخص و فن (تنقید)، اردو کے بہترین شخصی خاکے (مرتبہ)، منٹو منتخب مضامین (مرتبہ)، تابانی (شاعری) اور زمینیں اور زمانے (افسانے) شامل ہیں۔ آئیے ان کی گئی گفتگو آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
جسارت میگزین:آپ کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی۔
مبین مرزا:میری پیدائش ۵ جنوری ۱۹۶۵ء کو ملتان میں ہوئی۔
جسارت میگزین:ہمارے قارئین کی دلچسپی کے لیے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام اور ادب سے وابستگی کے بارے میں کچھ مختصراً بتائیے۔
مبین مرزا:ہمارے گھر میں ہم سے پہلے والی نسل میں شعر کہنے یا نثر لکھنے والے لوگ تو نہیں تھے۔ البتہ گھر میں کتابوں سے دلچسپی کا ماحول پہلے سے موجود تھا۔ میرے ماں باپ دونوں کو کتابیں اور رسائل پڑھنے سے دلچسپی تھی۔ ہمارے گھر کئی ڈائجسٹ و رسائل باقاعدہ آیا کرتے تھے۔ دیگر رسائل اور جرائد کے ساتھ ساتھ شورش کاشمیری کا رسالہ چٹان بھی آیا کرتا تھا۔ ہمارے لیے بچوں کے رسالے بھی گھر میں آنے لگے، بچوں کی دنیا، نونہال، تعلیم و تربیت وغیرہ۔ اس طرح ایک ادبی ماحول کے باعث اور کچھ صلاحیتیں من جانب اللہ ہوں تو پھر آدمی چل نکلتا ہے۔ اس طرح ادب سے دلچسپی بڑھتی چلی گئی۔ جبکہ میرے مضامین سائنس کے تھے۔ جیسا کہ اس زمانے میں عام طور پر زمانے کی تعلیم پر زور دیا جاتا تھا۔ پھر ماسٹر کے لیے انگریزی ادب پڑھا اور پولیٹیکل سائنس پڑھی۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو ادب پڑھنا اور لکھنا ایک ذاتی شوق تھا۔ کیونکہ ایسی کوئی خواہش نہیں تھی کہ کسی تدریسی شعبے یا اخبا ر و رسالے میں جانے کا ارادہ ہو۔
جسارت میگزین:آپ نے اپنی تعلیم کہاں مکمل کی۔
مبین مرزا:گریجویشن تک تو ہم ملتان میں رہے۔ اس کے بعد ایم اے انگریزی کے لیے لاہور کے ایف سی کالج میں داخلہ لیا۔ جہاں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ جیلانی کامرا ن تھے۔ اس کے بعد کراچی آکر ایم اے پولیٹکل سائنس کا امتحان دیا۔
جسارت میگزین:شاعری کی ابتداء آپ نے کہاں سے کی۔
مبین مرزا:ملتان میں ہم شعر کہنے لگے تھے اور باقاعدہ ملتان اور قرب و جوار کے کئی شہروں میں مشاعروں میں جانے لگے تھے اور اکثر مشاعروں میں فیض صاحب اور قاسمی صاحب کے ساتھ بھی کلام پڑھا۔
جسارت میگزین:سب سے پہلا مشاعرہ کس عمر میں پڑھا۔
مبین مرزا:یہ غالباً ۱۹۸۱ء یا ۱۹۸۲ء کی بات تھی۔ جب کبیر والا میں مشاعرہ پڑھا تھا۔ اس زمانے میں ظہیر کاشمیری، اقبال ساجد وغیرہ مشاعروں کی جان ہوتے تھے۔
جسارت میگزین:نثر کی ابتداء کیسے ہوئی۔
مبین مرزا:شاعری کے ساتھ ساتھ ہم نثر بھی لکھنے لگے تھے۔ لیکن شاعری کے مقابلے میں نثر کم لکھتے تھے۔
جسارت میگزین: آپ کے حلقہ ء احباب میں کون سے شعراء یا ادیب تھے۔
مبین مرزا:ہمارے احباب میں اطہر ناسخ، اختر شمار صاحب، عباس تابش صاحب ، یہ احباب ہم سے سینئر تھے۔ اس کے علاوہ شفیق آصف صاحب۔ دیگر سینئر احباب جن سے سیکھنے کا موقع ملا ان میں عرش صدیقی صاحب، ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب۔ شاعری کے سلسلے میں ہم بیدل حیدری صاحب کے پاس جاتے رہے ۔ انھوں نے ہماری شاعری دیکھی اور کچھ اصلاح بھی کی۔ لاہور آنا جانا رہتا تھا تو احمد ندیم قاسمی صاحب خاص شفقت کرتے تھے۔ وزیر آغا صاحب سے بھی ملاقاتیں رہیں۔ گو ملاقاتیں کم رہیں، لیکن خطوط کے ذریعہ رابطہ رہتا تھا۔ اس زمانے میں نقوش کے بعد دو ادبی پرچے بہت بڑے مانے جاتے تھے جن میں قاسمی صاحب کا فنون اور وزیر آغا صاحب کا اوراق شامل ہے۔ ان دونوں رسائل میں چھپنا اس بات کی دلیل تھا کہ آپ ادب کی دنیا میں اعتبار پانے لگے ہیں۔ میری دو غزلیں اورپہلا تنقیدی مضمون جو کہ اسلم انصاری صاحب کی شاعری پر تھا، فنون میں شائع ہوا۔ اور پہلا افسانہ اوراق میں وزیر آغا صاحب کے ہاں شائع ہوا۔
جسارت میگزین:آپ ملتان سے ہجرت کرکے کراچی آگئے۔ آپ نے کراچی کے ادبی ماحول کو کیسا پایا اور کن احباب سے ملاقاتیں رہیں۔
مبین مرزا:شروع میں کراچی میں ہمارا کچھ خاموشی کا زمانہ تھا جس کے کچھ اسباب تھے۔ ایک بددلی کی کیفیت سے دوچار رہے۔ اور خیال یہ تھا کہ حالات ٹھیک ہوجانے پر واپس لاہور چلے جائیں گے۔ لیکن واپس جانا نہیں ہوسکا۔ کراچی میں جمال پانی پتی اور مشفق خواجہ سے ملاقات رہی۔ دونوں سینئر احباب کے ہاں جانے کا سلسلہ رہا۔ دونوں ہی انتہائی خلیق اور محبت کرنے والے تھے۔ میری ذہن سازی اور مزاج کی تشکیل میں ان لوگوں نے کردار ادا کیا۔ ان کے ساتھ ساتھ دیگر سینئر احباب جیسے جالبی صاحب، سحر انصاری، پیرزادہ قاسم ، قمر جمیل اور جمیل الدین عالی سے بھی ملاقاتیں رہیں۔بالکل ابتدائی دنوں میں ہمارے دوست اجمل سراج کو کہیں سے معلوم ہوا کہ ہم کراچی آگئے ہیں۔ لاہور میں ان سے ایک آدھ ملاقات ہوئی تھی۔ ان دنوں اجمل سراج ایک بہت ہی پرجوش، فعال اور شاعرانہ مزاج کے آدمی تھے۔ انھوں نے ہمیں کراچی میں ڈھونڈ لیا اور ہماری بیٹھکیں ہونے لگیں۔ اس دوران دیگر دوستوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
جسارت میگزین:ادار ت بھی ایک کل وقتی کام ہے۔ آپ بطور مدیر مکالمہ شائع کررہے ہیں۔ اس بارے میں کچھ بتائیے۔
مبین مرزا:جب بائیس تئیس سال قبل ہم نے جب مکالمہ کا آغاز کیا تو اس وقت کچھ دوست بھی ساتھ تھے۔ اور مقصد یہ تھا کہ ہمارے عہد میں جو ادب لکھا جارہا ہے، اس کا مطالعہ کیا جائے اور اس کے بارے میں رائے قائم کی جائے۔ اس زمانے میں یہ گفتگو چل رہی تھی کہ کیا ہمارا ادب روبہ زوال ہے ، ہمارا ادب پڑھا نہیں جارہا یا لوگوں کی توجہ نہیں ہے۔ ادب غیر ضروری سمجھا جارہا ہے۔ اس طرح کی کچھ گفتگو تھی۔اس زمانے میں اتفاق سے مظفر علی سید تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان سے نیاز حاصل تھی۔ جو کہ پڑھے لکھے اور عالم آدمی تھے۔ ان سے جب ادب کے رو بہ زوال ہونے کے سلسلے میں بات کی تو انھوں نے اس بات سے زیادہ اتفاق نہیں کیا۔ پھر اتفاق سے انتظار صاحب یہاں آئے ہوئے تھے تو ان کے سامنے بھی ہم نے یہ مسئلہ رکھا۔ انھوں نے بالکل برعکس بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ادب میں تو اب کچھ نہیں ہورہا۔ اور وہ جو ادب کا زمانہ تھا وہ لد گیا۔ یعنی ادب کے دو بڑے لوگوں سے بات ہوئی ، اس کے علاوہ اور لوگوں سے بھی بات ہوئی۔ تو اس بارے میں قطعی متضاد خیالات سامنے آئے۔ پھر ہم دوستوں نے سوچا کہ کیوں نہ کوئی پرچہ مرتب کیا جائے۔ تاکہ اس میں تازہ تخلیقات شامل ہوں اور یہ پرچہ اپنے عہد کی ایک دستاویز بن جائے۔ وہ ہمارا جوانی ، جوش اور اپنے بارے میں خوش گمانی کا زمانہ تھا۔ اس طرح مکالمہ کا آغاز ہوگیا۔ دوست تو دوسرے پرچے سے الگ ہوگئے۔ اور مکالمہ کی ساری ذمہ داری ہم پر آگئی۔ لیکن ہم نے مکالمہ جاری رکھا۔ شروع میں تو یہ ہوا کہ آٹھ دس مہینے میں ایک پرچہ آتا تھا۔ لیکن بند نہیں ہوا۔ نہ ہی یہ خیال آیا کہ اسے بند کردینا چاہیے۔ کیونکہ مکالمہ سے بالکل اپنے بچوں جیسی محبت ہوگئی تھی۔ ہم یہ اعتراف بھی سچائی کے ساتھ کرتے ہیں کہ مکالمہ کبھی بھی ہمارے لیے پریشانی کا باعث نہیں بنا۔ جیسا کہ عموماً پڑھتے ہیں کہ مدیروں کے لیے یہ ایک بڑا مسئلہ رہتا ہے کہ اچھا مواد بہت مشکل سے ملتا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں ہمارا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا۔ اور مکالمہ کی ترسیل ہندوستان کے علاوہ امریکہ کینیڈا سعودی عرب اور دیگر یورپی ممالک میں بہ اہتمام رہتی ہے۔
جسارت میگزین:اب مکالمہ کی اشاعت کس طرح ہے۔
مبین مرزا:بیس بائیس پرچوں کے بعد تقریباً دو سال قبل ہم نے فیصلہ کیا کہ پرچہ کو باقاعدہ ماہانہ شائع کیا جائے۔ تاکہ ادب کے تازہ مسائل اور عصری صورتحال میں پیدا ہونے والے سوالات سے اپنے تعلق کا اظہار کرے اور ادیبوں کے خیالات اور ردعمل کو سامنے لاسکے۔ کیونکہ آٹھ دس مہینے میں شائع ہونے کے باعث ادبی سوالات پرانے ہوجاتے ہیں۔اور اس کے بارے میں وہ شدت بھی باقی نہیں رہتی۔ ہمیشہ اپنے زمانے کے اچھے لکھنے والوں کا تعاون مکالمہ کو حاصل رہا، اس لیے پرچے کے لیے مواد کا کبھی کوئی مسئلہ مکالمہ کو نہیں رہا۔ ہندوستان میں قرۃالعین حیدر، شمس الرحمان فاروقی، شمیم حنفی، گوپی چند نارنگ،قاضی افضال حسین ، ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی جیسی قد آور شخصیات سے لے کر بعد کے لوگوں تک، اور پاکستان میں بھی ڈاکٹر جمیل جالبی، انتظار حسین، جمیل الدین عالی،پروفیسر فتح محمد ملک، جیسے سینئر لوگوں سے لے کر اپنے زمانے کے لوگوں تک، مکالمے کو مواد کا مسئلہ کبھی پیش نہیں آیا۔ اب سال میں کم و بیش نو یا دس شمارے شائع ہوجاتے ہیں۔
جسارت میگزین:شاعری کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں۔ ادبی تحریکوں سے شاعری کو کیا فائدہ یا نقصان پہنچا۔
مبین مرزا:یقینا یہ وقت ایسا ہے کہ ہمیں حقیقتاً ایسے سوالوں پر غور کرنا چاہئیے۔ اور ہم اپنے زمانے کو پیچھے پلٹ کر دیکھیں تو شاید اس کے بارے میں نسبتاً کوئی بہتر رائے دے سکیں۔ کیوں کہ ان تحریکوں کا زمانہ اب گزر چکا ہے۔ کیوں کہ آج ہم جس زمانے میں ہیں اول تو آج کوئی ایسی تحریک آپ کو ملے گی نہیں، اور جدیدیت یا ما بعد جدیدیت آپ جسے کہہ سکتے ہیں وہ تحریک کی صورت کبھی نہیں آسکتی۔ انھیں آپ رویہ یا نظریہ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس کی نظریاتی حیثیت بھی ایسی نظر نہیں آتی جیسی اس سے پہلے ہم دیکھتے رہے ہیں۔ آپ سب سے پہلی تحریک سرسید کی تحریک کو کہہ سکتے ہیں جو آپ کے تہذیبی مزاج پر اثر انداز ہو کر کچھ نئے نشانات، نئے مسائل اور کچھ نئے سوالات کو فوکس کیااور ان کے بارے میں آواز اٹھائی۔ اس کے اثرات بھی آپ اپنے معاشرے اور تہذیب میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ اگر اپنے تمام اختلافات کے باوجود کسی تحریک کا ذکر کرسکتے ہیں تو وہ ترقی پسند تحریک ہے۔ لیکن جہاں تک ادب کا معاملہ ہے تو کہنا چاہئیے کہ یہ ایک پیچیدہ چیز ہے۔ ادب پر اثرات نہ ہی براہ راست اس طرح ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ان اثرات کا ہم بہت قطعیت کے ساتھ دو جمع دو کا اصول استعمال کرکے جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس میںبہت موضوعاتی اور انقلابی شاعری ہوئی۔ دوپٹے کو پرچم بنانے کی خواہش، ادب کے ذریعہ معاشرے میں انقلاب لانے کی خواہش اس میں موجود تھی۔ معاشرے کی تہذیب انسانی رویوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تو کیا یہاں واقعی دوپٹہ پرچم بن سکتا تھا یا نہیں، یہ سوال بہت اہم ہے اور ہم آج یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایسا اس معاشرے میں نہیں ہوسکتااور نہیں ہوا۔ اب سوال یہ رہ گیا کہ ادب کے ذریعہ معاشرے میں انقلاب لایا جائے، تو یہ خود ایک بڑا سوال ہے، اس سلسلے میں آپ اپنے معاشرے کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے معاشروں کو بھی پیش نظر رکھیں اور یہ دیکھیں کہ کون سے معاشروں میں ادب نے کامیابی کی منزل تک پہنچ کے انقلاب لانے کا سفر پورا کیا۔ ہمیں دنیا میں کوئی معاشرہ نظر نہیں آتا جس نے انقلاب لانے یا انقلاب کی منزل طے کرنے میں کامیابی حاصل کی ہو۔ یہاں تک رشیا میں جہاں سے یہ تحریک شروع ہوئی، وہاں پر اپنے زمانے کی بات تو کی جاتی ہے، لیکن ادب کا کوئی معمولی حصہ بھی ایسا نہیں نظر آتا جو ان بنیادی سوالات کا حامل ہو۔ میکسم گورکی کی ماں کو ہم گن سکتے ہیں۔ لیکن کیا وار اینڈ پیس کو بھی اس ادب میں شامل کریں گے۔ جو اس سے کہیں زیادہ بڑا ناول ہے۔ کیا برادرز کرمزوف کو بھی آپ انقلابی ادب کا حصہ بنائیں گے جو اس سے کہیں بڑا ناول ہے، اور جس کی ادبی منزلت اب تک قائم ہے۔ پھر آپ بادلئیر کا میڈم باوری دیکھیں۔کیا اس ناول نے انقلاب فرانس میں کوئی کردار ادا کیا۔ کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ادب کا یہ کردار ہی نہیں ہے، ہم ادب پر وہ ذمہ داری یا بوجھ لادنے کی کوشش کررہے ہیں جو اصل میں اس کے لیے ہے ہی نہیں۔ادب تو آدمی کے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے، اور یہ تبدیلی بڑے غیر محسوس طریقے سے ہوتی ہے اور بہت آہستہ رو ہوتی ہے ۔ ایسا نہیں ہوتا کہ آپ نے رات کو ایک شعر پڑھا تھا ، غزل پڑھی تھی ، نظم پڑھی تھی ،دیوان پڑھا تھا، ایک ناول پڑھا تھا اور صبح جب آپ اٹھے تو آپ ایک دوسرے آدمی تھے اور آپ انقلا ب لانے کے لیے چل نکلے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ ادب تو رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ادب تجربے کی جمالیاتی تشکیل کرتا ہے۔ اعتراضات کے باوجود ترقی پسند تحریک میں اچھا تخلیقی کام ہوا ہے۔ لیکن وہ اچھا کام اس تحریک کے بغیر بھی وجوو میں آسکتا تھا۔ جیسے مثال کے طور پر فیض صاحب کا شعر سنیے جو کہ ایوب خان کے جبر کے زمانے کا ہے ’’ نہ سوال ِ وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں ؍؍ ترے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے‘‘اب آپ اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے جب ذکر کریں گے کہ یہ ایوب خان کا زمانہ ہے تو وہ منظر آپ کے سامنے آجائے گا۔مستقل نوعیت کے افکار ، جو انسان کے شعور پر اس کی بنیادی لہر پر اثر انداز ہوتے ہیں، ادب کا سروکار ان سے ہے۔ اور یہی چیزیں ادب میں اپنی جگہیں بناتی ہیں۔ اور زمانے کے لگائے ہوئے بیرئیر ز کو پاس کرتے ہوئے آگے نکلتی ہیں۔ اور زندہ رہتی ہیں۔
جسارت میگزین:ترقی پسند تحریک کے دوران لکھے گئے افسانوں کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں۔
مبین مرزا:وہ افسانے جن میں انقلاب لانے کی خواہش یا انقلاب لانے کا نعرہ زیادہ گونجتا ہے، وہ افسانے تو ہمارے اجتماعی حافظے سے نکل چکے ہیں۔ لے دے کے آپ ان افسانہ نگاروں کے بارے میں بات کرتے ہیں ، جن کا کام اس سے پہلے کا ہے مثلاً منشی پریم چند، جن کا سارا کنٹریبیوشن ترقی پسند تحریک سے پہلے کا ہے۔ حالانکہ وہ پہلے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ اب دیکھیے آج کرشن چندر یا بیدی کے کون سے افسانوں کا زیادہ ذکر ہورہا ہے، جبکہ منٹو تو خود ترقی پسند تحریک کے نقادوں میں تھے۔ ان ادیبوں کے ان افسانوں کا زیادہ ذکر ہوتا ہے جن میں ترقی پسند تحریک زیر اثر لکھے گئے افسانوں کے مقابلے میں مزاحمتی ادب کا ذکر ہوتا ہے۔ جو کسی نہ کسی سطح پر ایسی بنیادی چیزوں سے جڑ جاتا ہے جو ادبی نوعیت کی ہیں اس میں اتفاقاً ایک جہت پیدا ہوتی ہے وہ کسی نظریاتی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اپنے عہد کے کسی ردعمل کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کا بنیادی سروکار انسانی معاملات سے ہے۔

حصہ