کیا کروں۔۔۔؟۔

134

مریم شہزاد
۔’’یل…نہ…‘‘ ثناء غصے سے آگ بگولا ہوتی گھر میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔ ’’یا اللہ خیر، سب خیریت ہے ناں! نہ سلام نہ دعا، یہ کون سی بولی بولتی ہوئی گھر میں داخل ہورہی ہو؟‘‘ امی نے اس کی کلاس لی۔
’’ایک تو امی آپ بھی ناں، خود ہی تو کہتی ہیں کہ گالیاں نہیں دیتے زبان خراب ہوجاتی ہے، اس لیے ’یل‘ سے پہلے ’ذل‘ نہیں لگایا، اور ’نہ‘ سے پہلے ’کمی‘… ہاں دل ہی دل میں پوری دی ہیں۔‘‘ اس نے عبایا اتار کر ایک طرف گولا بناکر پھینکتے ہوئے کہا۔ لیکن امی، جو اس کی بات پر مسکرا اٹھی تھیں اس حرکت پر گھور کر دیکھا تو اس نے عبایا جلدی سے اٹھا کر کھونٹی پر لٹکا دیا۔
’’تو گالیاں دینے کی ضرورت کس کو اور کیوں پڑگئی؟‘‘ فاطمہ نے پوچھا۔
۔’’یہ بس میں بیٹھے چھچھورے لڑکوں کو اور کس کو…! اُف ایک تو گرمی اور پھر ان لڑکوں کے جملے، اور آپی! آپ تو کہتی ہیں کہ عبایا پہن کر نکلو گی تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی چھیڑنے کی، مگر یہاں تو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘‘ ثناء بولتی چلی گئی۔
امی جو اندر کچن میں چلی گئی تھیں، اس کی بات سن کر واپس آگئیں اور بولیں ’’صرف عبایا نہیں، حجاب بھی ساتھ ضروری ہے۔‘‘
’’مگر میں نے تو پورا سر کور کیا ہوا تھا، ایک بال بھی نظر نہیں آرہا تھا۔‘‘ وہ منمنائی۔
۔’’اور یہ جو چاند چہرہ، ستارہ آنکھیں دعوتِ نظارہ دے رہی ہوتی ہیں، اور اس پر یہ آپ کی لپ اسٹک جو لبوں کو گلاب کی کلی جیسا کردیتی ہے۔‘‘ فاطمہ تپ کر بولی تو امی نے بھی حمایت میں سر ہلایا۔ مگر ثناء بھی ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی، اس نے امی اور فاطمہ کے کہنے سے عبایا تو لینا شروع کردیا تھا مگر نقاب کرنے سے اس کا دم گھٹتا تھا اور اس کے لیے وہ عجیب عجیب تاویلیں نکال لاتی تھی۔
’’ہاں تو یہ ہلکی سی لپ اسٹک میں اس لیے لگاتی ہوں کہ بقول شاعر لپ اسٹک لگانے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونق، وہ سمجھتے ہیں بیمار کا حال اچھا ہے۔‘‘اس نے شعر کی ٹانگ توڑی تو شاعری کی دلدادہ فاطمہ خون کے گھونٹ پی کے رہ گئی۔
۔’’بس زیادہ نہیں، ایسے فضول شعر بسوں اور رکشوں کے پیچھے ہی اچھے لگتے ہیں۔‘‘ اس نے کہا اور امی کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا، جو خود اس کو سمجھانے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہی تھیں۔
۔’’دیکھو ثناء! اللہ کا حکم ہے کہ مومن عورتیں اپنے چہرے کو چھپا کر رکھیں تاکہ وہ پہچانی نہ جائیں، ستائی نہ جائیں۔ ابھی تو تم عبایا سے صرف اپنے کپڑے ہی چھپاتی ہو، اگر چہرہ بھی چھپا کر نکلو گی تو گھر سے نکلتے وقت بھی کوئی اندازہ نہیں کرسکے گا کہ عبایا کے اندر تم ہو، میں ہوں یا فاطمہ؟‘‘
۔’’خیر امی یہ تو نہ کہیں، کہاں میں نازک سی، اور کہاں فاطمہ، الگ پتا چل جائے گا کہ شامیانے میں کون ہے اور عبایا میں کون۔‘‘ اس نے فاطمہ کے موٹاپے کی طرف اشارہ کیا۔
۔’’بتاؤں تمہیں! ایسی موٹی بھی نہیں ہوں اب میں۔‘‘ فاطمہ نے کہا اور اندر چلی گئی۔
ثناء نے دل میں سوچا کہ اب تو نقاب پوش بننا ہی پڑے گا، مگر پہلے بہن کو منا لینا زیادہ مناسب ہے کہ شام کی چائے کون پلائے گا۔
۔’’ویسے میں سوچ رہی ہوں کہ نقاب بھی شروع کر ہی دوں۔‘‘ وہ کہتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ فاطمہ ایک دم پلٹی، مگر پھر خیال آیا کہ وہ تو ناراض ہے، سو جواب دیتے دیتے چپ ہوگئی۔
۔’’ہاں ہاں اچھی بات ہے ناں، جب نقاب کرنے سے میرا دم گھٹ جائے گا تو آپ کی بھی جان چھوٹ جائے گی میری بے تکی باتوں سے۔‘‘ ثناء نے ایک اور ہوائی فائر کیا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا، فاطمہ تڑپ کر پلٹی اور بولی’’اللہ نہ کرے، تم باز نہ آنا فضول گوئی سے، کوئی دم وم نہیں گھٹتا نقاب سے، اتنی ساری عورتیں جو بچپن سے پردہ کرتے کرتے بوڑھی ہوگئیں، جب ان میں سے کسی کو کچھ نہیں ہوا، تو تم کو کیوں ہوگا! اور میں بھی تو کرتی ہوں، امی بھی کرتی ہیں، پھر؟‘‘
۔’’خیر اپنی بات تو آپ رہنے ہی دیں، آپ تو خیر سے…‘‘ وہ ایک بار پھر فاطمہ کو تاؤ دلاتے دلاتے بات پلٹ گئی۔
۔’’آپ تو اللہ کی نیک بندی ہیں، اور نیک بندی چائے بہت مزے کی بناتی ہے۔‘‘ اس نے مسکا لگایا اور فاطمہ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے چائے بنانے اٹھ گئی۔

حصہ