پھر ایک حسین رضی اللہ عنہ

164

تنویر اللہ
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کو پچاس برس بھی مکمل نہیں ہوپائے تھے کہ واقعہ کربلا ہوگیا۔
خلافتِ راشدہ کے خاتمے اور اس کے بعد بننے والے حالات کے نتیجے میں بالآخر واقعہ کربلا ہونا ہی تھا۔ اکیلا یزید ہی اس سانحے کا ذمہ دار نہیں تھا، بلکہ حالات ایک طویل عرصے سے اس دن کی تیاری کررہے تھے۔
آخرت میں بحیثیت مسلم ہم سے اس واقعے کی کوئی جواب طلبی نہیں ہوگی، لیکن دنیائے اسلام ڈیڑھ ہزار برس گزر جانے کے بعد بھی اس کو بھلا نہیں پائی، آج بھی یہ واقعہ کسی کے لیے عقیدت ہے، کسی کے لیے محبت ہے، اور کسی کے لیے یہ تقسیم کی بنیاد ہے۔
اس دن نے امام حسینؓ کو ان کے خاندان سمیت خون میں نہلادیا گیا تھا، علی اصغر کے پیاس سے خشک حلق میں تیر ترازو کیا گیا، خاندان کی خواتین کے سروں سے چادر کھینچی گئی، اُنھیں قیدی بنایا گیا۔ لہٰذا کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ حُسینؓ اور ان کے خاندان پر ڈھائے جانے والے مظالم یاد کرکے غمگین نہ ہو۔
موت سب کو آنی ہے، حسینؓ اگر کربلا میں شہید ہوئے تو موت سے یزید بھی نہ بچ پایا۔ نیت اور اعمال کے فرق نے ایک کو شہادت کی عظمت دی اور دوسرے کو ظلم کی علامت بنادیا۔
حسینؓ کی جنگی ناکامی اور شہادت کا نتیجہ دیکھیے، عام طور پر فاتح کا بول بالا ہوتا ہے، اُس کی عظمت کا جھنڈا بلند ہوتا ہے، اور مفتوح کا کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتا۔ لیکن حسینؓ کی یہ کیسی شان دار شکست تھی جو ان کے لیے ہمیشہ کی محبت، عقیدت اور سرفرازی کا سبب بنی… اور یزید کی یہ کیسی بے توقیر فتح تھی جو اس کے لیے ہمیشہ کی ذلت و رسوائی کا سبب ہوئی۔ آج کی جدید تعلیم یافتہ، مہذب دُنیا میں بھی جو عورتیں قیدی بنالی جائیں کوئی اُن کا نام تک لینا پسند نہیں کرتا، لیکن حسینؓ کی جن خواتین کے سروں سے دوپٹہ اُتارا گیا اُنھیں پوری امت نے اپنے سر پر بٹھایا ہوا ہے، اُن کا نام لینا، اُن سے تعلق جوڑنا عزت کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ جن خواتین کو یزید اور اُس کے حواریوں نے بے عزت کرنے کا کام کیا تمام عزتوں کی وہ حقدار قرار پائیں۔ بلاشبہ بڑے کام کرنے والوں کے لیے رائج پیمانے تبدیل ہوجاتے ہیں، یہی حسینؓ اور ان کے خاندان کے لیے ہوا۔
امام حسینؓ سب کی طرح دُنیا سے رخصت ہوجاتے تو وہ صرف ایک ذکر ہوتے، لیکن کربلا نے اُنھیں عظمت کی بلندیوں پر پہنچا دیا، ان کی یاد کو مسلمانوں کی زندگیوں میں شامل کردیا، انھیں دنیا کے لیے معیارِ حق بنادیا۔ آج صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی امام حسینؓ کے نام کو حق پر مر مٹنے والے کی مثال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آدمی مرجاتا ہے لیکن اُس کا عمل ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ اپنے عمل کے نتیجے میں ہی کوئی عزت دار حسینؓ قرار پاتا ہے اور کوئی بے وقعت یزید کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
امت پر ایسا کیا وقت آن پڑا تھا کہ حسینؓ کو عورتوں اور بچوں سمیت اپنے گھر اور شہر سے نکلنا پڑا، اوراُنھوں نے اپنے لیے یقینی شکست اور شہادت کا انتخاب کیا؟ اس کی پہلی اور بڑی وجہ تو یہ تھی کہ یزید کی بادشاہت قرآن اور حکومت کی علیحدگی کا آغاز تھی۔ دوئم یہ کہ اس نے عبادات کو بھی کھیل اور اللہ کے حکم کی پابندی کے بجائے اپنی مرضی کے تابع کردیا تھا۔
اگر حسینؓ نہ نکلتے اور اپنے خون سے کربلا کی مٹی کو سرخ نہ کرتے تو کون یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام ایسا ہوتا!
لیکن ہم نے امام حسینؓ کے اصل کارنامے کو زندہ کرنے کے بجائے کربلا میں ڈھائے جانے والے مظالم کے بیان کو ہی حسینؓ سے محبت سمجھ لیا ہے۔ کربلا میں امام حسینؓ نے مظلومیت کی داستان نہیں لکھی، بلکہ حق اور باطل کے درمیان لکیر کھینچ دی، اور ہم سمجھتے ہیں کہ امام حسینؓ کا اتنا ہی حق ہے کہ اُن کے غم میں سینہ پیٹ لیا جائے، اپنے آپ کو لہولہان کرلیا جائے، اور مصائب بیان کرکے رو لیا جائے… اور یہ سب کرنے سے حسینؓ سے تعلق کا حق ادا ہوگیا۔
امام حسینؓ جب مکہ سے نکلے تو اُن کے ساتھ بہت تھوڑے سے لوگ تھے، اور جو رستے میں اُنھیں ملتا اور ساتھ چلنے کی خواہش کرتا تو حسینؓ اُسے واپس کردیتے تھے۔ مکہ سے نکلتے ہوئے اُم المومنین اُم سلمہؓ نے حضرت حسینؓ سے کہا: بیٹا تمہارا جانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن عورتوں کو لے جانے کا کیا مقصد ہے؟ امامؓ نے جواب دیا: اماں اسلام پر ایسا وقت آگیا ہے کہ میں اس کی راہ میں قتل ہوجائوں اور میری بہن بیٹیاں قیدی بنالی جائیں، کیوں کہ اس کے بغیر مسلمان نہیں جاگیں گے۔
حسینؓ سے محبت کا حق ادا نہیں ہوسکتا جب تک اُن کے کام کو زندہ نہ کیا جائے۔ ممکن ہے یزید شرابی اور بدکردار ہونے کے بعد بھی برداشت کرلیا جاتا، لیکن یزید محض بدکردار ہی نہیں تھا بلکہ وہ اسلام کی گاڑی کو بے راہ کرنے والا پہلا کھٹکا تھا، اور یہ برداشت کرنا امام حسینؓ کے لیے ممکن نہ تھا، جب کہ وقت نے بھی ثابت کیا کہ اگر حسینؓ اس وقت اسلام کی گاڑی کے بے راہ ہونے کی جگہ پر اپنے خون سے نشان نہ لگاتے تو بعد کے وقتوں میں یزید اور اُس کے ساتھیوں کا تخلیق کیا اسلام ہی مسلمانوں میں اصل سمجھا جاتا۔
امام حسینؓ اس وقت اپنے بچوں کو کٹوانے کے سوا تو اور کچھ نہ کرپائے، جمی جمائی بنوامیہ کی حکومت کا وہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے، اور اس حقیقت سے حسینؓ خود بھی اچھی طرح واقف تھے، لیکن ان کی مثال عدالت کی اُس بینچ کے جج کی سی ہے جو سارے ججوں کے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھتا ہے۔ اختلافی نوٹ لکھنے والے جج کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے اس نوٹ کا فیصلے پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور فیصلہ وہی نافذ ہوگا جو ججوں کی اکثریت دے گی، لیکن پھر بھی وہ اپنا فرض ادا کرنے کے لیے محض ’’اختلافی نوٹ‘‘ لکھ دیتا ہے۔ میدانِ کربلا میں امام کا لکھا جانے والا اختلافی نوٹ اُس وقت تو کچھ نہ کرسکا، لیکن یہ اختلافی نوٹ ماضی، حال اور مستقبل کا ایک روشن باب بن گیا۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یزید کے دور میں نماز روزے پر توکوئی پابندی نہ تھی، پھر حکمران کے خلاف جنگ کرنے کی کیا ضرورت تھی! جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ جمعے کا خطبہ مغرب تک جاری رہتا تھا، نمازوں کے اوقات بدل دیئے گئے تھے، اور اس پر کسمانے والے کی گردن اڑا دی جاتی تھی، کوئی بادشاہ کے غلط کام پر لب بھی ہلاتا تو اس کا سر قلم کردیا جاتا تھا۔ نہ کوئی قانون رہا، نہ کوئی عدالت رہی۔ نہ انصاف رہا،نہ بیت المال امانت رہا۔
دیکھنے والی نظر چاہیے آج بھی حسینؓ، یزید، کربلا سب کچھ موجود ہے۔ جو اپنے اقتدار کے لیے بے گناہوں کا قتل کردے وہ یزید کا پیروکار نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ جو اپنے مفاد کے لیے جھوٹ اور دھوکے سے جُڑا رہے اور دوسروں کو بھی اس کا مشورہ دے کیا وہ یزید کا ساتھی نہیں ہے؟ جو بیت المال کو اپنا مال اورحکومتی اختیارکو اپنی ذات کی خدمت کا ذریعہ بنا لے کیا وہ یزید کی پیروکاری نہیں کررہا؟
لیکن ہمیں یہ سب کچھ اس لیے نظر نہیں آتا کہ قرآن کو حکمرانی سے الگ کردیا گیا۔ مغرب حضرت عمرفاروقؓ کے قوانین نافذ کرکے جدید قرار پائے… وہ اسلام کے اصولوں پر مسلمان ہوئے بغیر عمل کرے… اور ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی قرآن کی حکومتی معاملات سے علیحدگی کے فلسفے تخلیق کرتے رہیں۔ کیا یہی سبق لیا ہے ہم نے حسینؓکی قربانی سے؟
اور اب اسلام کے خلاف فلسفے تخلیق کرنے کا زمانہ بھی لد گیا۔ شیطان نے اپنے چیلوں کو سکھادیا ہے کہ صبح و شام اسلامی اصطلاحات کی گردان کرو لیکن عمل سے شیطان کے پیروکار رہو۔ یزید تو ہر طرف موجود ہیں، حالات پھر ایک حسینؓ کا تقاضا کررہے ہیں۔

حصہ