مماثلت

94

یوں تو کہانی بہت پرانی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اس کا جب ادراک کیا تو فرمایا: پاکستان اُس وقت بن گیا تھا جب پہلے مسلمان نے ہندوستان میں قدم رکھا۔
وہ عظیم رہنما بھی جب اس برصغیر پاک وہند میں ہندو مسلم اتحاد کی منافقت سے تنگ آگیا تو پکار اٹھا ’’ہندو ناقابلِ اصلاح (INCORRIGIBLE)، ہیں۔‘‘ میں نے قائداعظم کا انگریزی لفظ خاص طور پر تحریر کیا ہے تاکہ پڑھنے والے جو انگریزی جانتے ہیں، وہ، اور جو نہیں جانتے وہ ڈکشنری کے ذریعے اس لفظ کی سنگینی کا ادراک کرسکیں۔ اردو، عربی، فارسی اور دیگر زبانوں میں بھی اس لفظ کے لاتعداد مطالب ہیں، جن کا لبِ لباب صرف ایک ہے کہ ہزار کوشش کے باوجود بھی جس کی اصلاح نہ ہوسکے اور نہ ہی جس ’’مرض‘‘ کا تدارک ممکن ہو۔
ایسے ہی الفاظ اور اسی طرح کی مسلسل کیفیت کا ذکر مسلمانوں کے حوالے سے اللہ نے قرآن پاک میں دو اقوام کے بارے میں کیا ہے۔ ’’تم یہ بات ضرور محسوس کرلو گے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو کھل کر شرک کرتے ہیں‘‘ (المائدہ : 82)۔ یہود کے بارے میں تو اب پہچان مشکل ہی نہیں رہی کہ جب سے 1916ء میں برطانیہ نے بالفور ڈکلیریشن میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ’’دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے یہودی ایک قوم ہیں اور انہیں اپنی ارضِ موعودہ (Promised Land ) یعنی فلسطین میں جانے کا حق ہے‘‘ تو اس کے بعد یہودیوں نے خود کو چھپانا ترک کردیا ہے۔ ان کا پہلا قافلہ اس اعلان کے ٹھیک چار سال بعد یورپ سے روانہ ہوا اور بحر طبریہ (Sea of Galilee) عبور کرتا ہوا یروشلم کے آس پاس بے آباد زمینوں میں جاکر رہنے لگا، اور اڑتالیس سال بعد وہ ایک ملک بن کر سامنے آگئے۔
لیکن کھلا شرک کرنے والے کون ہیں؟ اللہ نے اس قوم کی شناخت شرک بتائی ہے اور یہ علامت جن میں بھی پائی جائے اُن کی مسلمان دشمنی ’’ناقابلِ اصلاح‘‘ ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اگرچہ عیسائی بھی سیدنا عیسیٰ ؑ کو خدائی میں شریک کرتے تھے، بلکہ قرآن پاک نے بار بار ان کے عقیدۂ تثلیث (Trinity) کا ذکر کیا ہے، جس کے مطابق ان کا ایمان تھاکہ کارِ خداوندی میں اللہ، اُس کا بیٹا اور جبریل شریک ہیں۔ قرآن میں جہاں جہاں اُن عیسائیوں کا ذکر آیا ہے ان کو ’’اہلِ کتاب‘‘ یا ’’نصاریٰ‘‘ کہہ کر پکارا گیا ہے۔ انہیں کھلا شرک کرنے والا نہیں کہا گیا۔ سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کھلے شرک کی سب سے واضح مثال قریشِ مکہ تھے جنہوں نے اپنے ان عظیم بزرگوں یا پاکیزہ ہستیوں کے بت بنا کر خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے تھے، اور وہ ان بتوں کو کارِ خداوندی میں شریک تصور کرتے تھے۔
اس شرک سے مشابہ اور ملتا جلتا شرک اگر آج کے دور میں کسی جگہ نظر آتا ہے تو وہ صرف بھارت ہے۔ ہندو عقیدہ یہ ہے کہ کوئی بھی ایسی ہستی یا شے جو کسی ایک فرد یا لاتعداد افراد کی مرادیں پوری کررہی ہو تو دراصل اس میں پرماتما کی شکتی آجاتی ہے، اس لیے وہ اس قابل ہے کہ اس کا بت مندر میں رکھا جائے، اس کی پرستش کی جائے اور اس کے سامنے ماتھا ٹیکا جائے۔ بلکہ بعض اوقات پرماتما خود بھی کسی انسانی روپ میں زمین پر جلوہ گر ہوتا ہے، تو ایسے انسان کو بھگوان کا اوتار کہا جاتا ہے جیسے ایودھیا کا شہزادہ رام چندر۔ اسی لیے جگہ جگہ رام کے مندر ہیں اور اس کی پوجا کی جاتی ہے۔
بھارت میں جس طرح کی مذہبی رسومات اور تصورات ہیں ان کا موازنہ اگر بعثتِ نبویؐ کے وقت مکہ کے مشرکین سے کریں تو بات مزید کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ آج کی دنیا میں کھلا شرک کرنے والے صرف ہندو ہیں۔ یہودی اور ہندو دونوں اقوام مسلم امہ کے بنیادی علاقے کے دونوں کناروں پر آباد ہوچکے ہیں۔ ایک افریقی صحرائے سینا کے ساتھ ارضِ فلسطین پر، اور دوسرا ارضِ خراسان و سندھ کے ساتھ ہند میں۔ مسلمانوں سے دشمنی میں یہودیوں اور ہندوئوں میں ایک اور مماثلت ہے کہ دونوں اپنے ادیان میں ارضِ موعودہ یا مقدس سرزمین کا ایک نقشہ رکھتے ہیں، اور دونوں اپنی ان مقدس سرزمینوں پر کسی دوسرے انسان کا حق تسلیم نہیں کرتے۔
یہودیوں کی ارضِ مقدس سیدنا ابراہیمؑ کے اس سفر سے شروع ہوتی ہے جو انہوں نے دریائے فرات کے کنارے اپنے وطن ’’ار‘‘ سے شروع کیا تھا۔ یہ شہر ان دنوں ترکی میں ’’عرفہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اور آپؑ پھر فرات کے کنارے کنارے چلتے ہوئے جزیرہ نما عرب سے ہوتے ہوئے الخلیل پہنچے جہاں ان کا مزار مبارک ہے۔ یہودیوں کے نزدیک یہ خطۂ ارضی ہی وہ سرزمین ہے جس پر ایک دن ان کی عالمی حکومت قائم ہوگی۔ اس حکومت کا مرکز ہیکل سلیمانی ہوگا جہاں ان کا مسیحا دائودؑ کے تخت پر بیٹھ کر حکومت کرے گا۔ یہودی اس علاقے کے حوالے سے کسی بھی قوم کے پیدائشی حقِ وطنیت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک یہ زمین صرف اور صرف بنی اسرائیل کی ہے اور وہ ایک دن یہاں پر بسنے والے تمام لوگوں کو اس سرزمین سے نکال دیں گے اور اس مقدس سرزمین پر تالمود اور تورات کے قوانین نافذ کردیں گے۔
ہندوئوں کے نزدیک بھی برصغیر پاک و ہند ایک مقدس، پوتر اور پاک استھان ہے جس میں آسمانوں سے دیوتا تشریف لائے اور اسے ایک خوب صورت سرزمین میں بدل دیا۔ اس میں گنگا جیسی مقدس ندی بہتی ہے۔ شیو کے آنسوئوں سے پھوٹنے والے دو چشمے ’’کٹاس راج‘‘ اور ’’پوشکر‘‘ موجود ہیں۔ یہاں مدتوں صرف دیویاں اور دیوتا رہتے رہے، پھر یہاں کچھ خاص نسلوں کو پیدا کیا۔ انہیں بھگوان نے جسم کے مختلف حصوں سے تخلیق کیا۔ برہمن کو سر سے پیدا کیا اور شودر کو پائوں سے، اسی طرح جسم کے دوسرے حصوں سے کھشتری اور ویش پیدا کیے گئے۔ ہندوئوں کے نزدیک اس برصغیر میں صرف انہی قوموں کو رہنے کا حق حاصل ہے جو دیوتا نے پیدا کیں۔ یہاں پر باہر سے آنے والے تمام حملہ آور اور ان کے ساتھ آباد ہونے والی اقوام ملیچھ یعنی ناپاک ہیں اور ان سے اس پوتر سرزمین کو پاک ہونا چاہیے۔
جس طرح یہودی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ یہودی جو مذہب چھوڑ کر چلا جاتا ہے وہ بنی اسرائیل کا حصہ نہیں رہتا، ویسے ہی ہندو بھی اس برہمن یا راجپوت کو برہمن یا راجپوت کی نسل سے خارج کردیتے ہیں جو ہندو مت یا ویدانتی مذہب چھوڑ جاتا ہے۔ تیسری اور اہم ترین قدرِ مشترک یا مماثلت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں یہودیوں کے ہاں نسلی برتری اور بالادستی کی تحریکیں شروع ہوئیں اور صہیونیت (Zionism) اس کے بطن سے برآمد ہوئی، جس کا برملا اعلان 1920ء کے آس پاس ہوا۔ بالکل اسی طرح انیسویں صدی کے آخر میں ہندو توا کا بیج شیواجی کی شکست کے بعد بویا گیا، اور 1925ء میں راشٹریہ سیوک سنگھ کی بنیاد پڑی، جس کا بنیادی نظریہ اس پوتر سرزمین سے غیر مذہب نسلوں کو نکال باہر کرنا ہے، اور اگر یہاں کی وارث نسلوں برہمن، کھشتری، ویش اور شودروں میں کوئی دوسرا مذہب اختیار کرچکا ہے تو اسے واپس ہندو بنانا ہے۔
آج بھارت اور فلسطین دونوں خطے میرے اللہ کے اس اعلان کی گواہی دے رہے ہیں کہ انسانوں میں مسلمانوں سے دشمنی میں سب سے سخت یہودی ہوں گے یا کھلا شرک کرنے والے۔ اسلام صرف ان کی دشمنی کے بارے میں بتایا ہی نہیں کرتا بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اعلانِ جنگ کرتے ہوئے دو لشکروں کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔ یہ دونوں لشکر کون ہیں؟ ایک وہ جو جہادِ ہند میں شامل ہوگا اور دوسرا وہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ یہودیوں سے جنگ کرے گا۔ (مفہوم حدیث) کون ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کا کلام سچ نہیں ہے، یا پھر کون ہے کہ جو میرے آقاؐ کی احادیث کی اطلاع کو برحق نہیں مانتا۔ اب تو سب روزِ روشن کی طرح واضح ہوگیا ہے۔

حصہ