معروف صحافی محمد اسلام کی کتاب ’’یوٹرن کریسی‘‘ کی تقریب اجرا

64

ڈاکٹر نثار احمد نثار
۔23 اگست کو کراچی آرٹس کونسل کے منظر اکبر ہال میں محمد اسلام کی کتاب ’’یوٹرن کریسی‘‘ کی تقریب اجرا کا اہتمام کیا گیا۔ ڈاکٹر محمد احمد قادری‘ ڈاکٹر شکیل فاروقی اور اکرم کنجاہی مجلس صدارت میں شامل تھے۔ پروفیسر سحرانصاری مہمان خصوصی اور کیپٹن ضیا عالم‘ مہمان اعزازی تھے۔ عنبرین حسیب عنبر نے نظامت کی۔ اظہارِ خیال کرنے والوں میں مجید رحمانی‘ ساجد سلطانہ‘ زیب اذکار اور آصف علی آصف شامل تھے۔ تلاوتِ کلام مجید اور نعت رسولؐ کی سعادت عدنان احمد نے حاصل کی۔ آصف علی آصف نے کہا کہ یو ٹرن کریسی معاشرے کا بیانیہ ہے جس کے مصنف محمد اسلام ہمہ جہت انسان ہیں۔ یہ لطافت اور شگفتگی کے ساتھ معاشرے کے بدلتے ہوئے روّیوں کی نشان دہی کر رہے ہیں اور معاشرتی مسائل کو طنز و مزاح کے لہجے میں لکھ رہے ہیں۔ محمد اسلم کے یہاں پھکڑ پن نہیں ہے۔ ان کی تحریروں میں معیاری طنز و مزاح ہے‘ یہ مذاق کرتے ہیں کسی کا مذاق نہیں اڑاتے۔ ان کی فکر انگیز تحریر قاری کی بصارت اور بصیرت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ ساجدہ سلطانہ نے کہا کہ قلم کار کی تحریریں اس کا آئنہ ہوتی ہیں۔ ’’یوٹرن کریسی‘‘ میں محمد اسلام کی شخصیت ایک معتبر لکھاری کے طور پر سامنے آرہی ہے یہ کتاب طنز و مزاح میں گراں قدر اضافہ ہے۔ قمر اسماعیل نے محمد اسلام کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ مجید رحمانی نے کہا کہ محمد اسلام حساس ذہن اور حساس دل رکھنے والے انسان ہیں انہوں نے خوب صورت جملوں میں معاشرتی کرب لکھا ہے۔ 1997ء میں طنز و مزاح کے مختصر مضامین پر مشتمل کتاب ’’چارلمنٹ ہائوس‘‘ محمد اسلام کی پہلی کتاب ہے۔ ان کی دیگر کتابوں میں عین غین‘ مزاح صغیرہ و مزاح کبیرہ اور یوٹرن کریسی شامل ہیں۔ ان کی تحریروں کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ کرب سے طرب کشید کرتے ہیں‘ ان کے جملے زندگی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ انہوں نے ماضی کے فرسودہ موضوعات سے انحراف کرکے جدید عصری تقاضوں کو نئے اسلوب میں ڈھالا ہے۔ کیپٹن ضیا عالم نے کہا کہ محمد اسلام کرنٹ افیئرز لکھ رہے ہیں‘ ان کا قلم چل رہاہے‘ وہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ مزاح نگاری میں مصروف ہیں‘ ان کی خاکہ نگاری کا اسلوب معروضے‘ نیم مزاحیہ اور دل چسپ ہوتا ہے الفاظ کے ذومعنی استعمال سے مزاح پیدا کرنا ان کی اہم شناخت ہے۔ صاحب تقریب محمد اسلام نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی آرٹس کونسل کے شکر گزار ہیں کہ جس کے تحت آج میری کتاب کی تقریب اجرا ہو رہی ہے۔ بلاشبہ احمد شاہ اور ان کے ساتھیوں نے آرٹس کونسل کراچی کو بہت ترقی دی ہے۔ انہوں نے فنونِ لطیفہ کی تمام شاخوں کو نمائندگی دی ہے۔ آرٹس کونسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے‘ ان شاء اللہ یہ سفر جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزاح نگاروں کے پاس موضوعات کا فقدان ہوتا ہے تاہم میری کوشش ہوتی ہے کہ میں معاشرے کے سلگتے ہوئے مسائل پر قلم اٹھائوں۔ میں نے پوری دیانت داری اور خلوص کے ساتھ لکھا ہے‘ کسی کی خوشامد نہیں کی نہ ہی کسی کی چاپلوسی کی ہے‘ میں نے حقائق بیان کیے ہیں۔ عصرِ حاضر کا انسان گونا گوں مسائل کا شکار ہے۔ فکر معاش‘ گھریلو و معاشرتی مسائل‘ سیاسی ہیجان انگیزی اور ذرائع ابلاغ کی ایسی سنسنی خیز خبریں جن سے نہ صرف بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے بلکہ اعصابی تنائو بھی پیدا ہوتا ہے‘ اس صورت حال کو شکست دینے کے لیے انسان کا مسکرانا ضروری ہے۔ میں عوام الناس میں مسکراہٹیں تقسیم کر رہا ہوں‘ میں کہاں تک کامیاب ہوا ہوں اس کا فیصلہ قارئین کریں گے۔ اکرم کنجاہی نے کہا کہ فکاہیہ ادب کا کینوس بہت وسیع ہوتا ہے‘ محمد اسلام نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے‘ یہ وسیع المطالعہ آدمی ہیں‘ ان کے تجربات و مشاہدات ان کی تحریروں میں نمایاں ہیں‘ یہ معاشرے کے قابلِ ذکر مناظر کو فکاہیہ انداز میں بیان کرکے قابل ستائش کام انجام دے رہے ہیں۔ یہ حالاتِ زمانہ سے اچھی طرح واقف ہیں‘ ان کے یہاں سیاسی شعور نمایاں ہے۔ انہوں نے لطائف کا سہارا لے کر مزاح نگاری میں نئے اسلوب پیدا کیے‘ انہوں نے ایک فرضی کردار ’’حکیم شرارتی‘‘ تخلیق کیا ہے جو بات یہ خود نہیں کہہ سکتے وہ اپنے اس کردار کہلوا دیتے ہیں یعنی حکیم شرارتی کے کندھے پر بندوق رکھ کر معاشرے پر دل کھول کر طنزیہ باتیں کہہ جاتے ہیں۔ پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ محمد اسلام نے تمام نثری اصنافِ سخن میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے لیکن ان کا اصل میدان مزاح ہے کہ انہوں نے مزاح نگاری کے لگے بندھے مضامین کے بجائے معاشرتی پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے‘ ان کا اپنا اسلوب ہے جو انہیں دوسرے مزاح نگاروں سے ممتاز کر تا ہے‘ ان کی خاکہ نگاری نے مجھے بہت متاثر کیا ہے‘ یہ خاکوں کی کتاب لائیں تو بہت اچھا ہوگا‘ یہ تخلیقی ذہن کے مالک ہیں‘ انسانی اقدار اور عالمی امن کے سلسلے میں وہ اپنی تحریروں سے کام لے رہے ہیں‘ اس مقصد کے لیے انہوں نے طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ فکر و بیان کی شگفتگی بھی اپنے اسلوب میں شامل کی ہے۔ ان کا تخلیقی کردار حکیم شرارتی بھی بہت کام کی چیز ہے۔ زیب اذکار نے کہا کہ ’’یوٹرن کریسی‘‘ کی تقریب کا اہتمام کرنا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ آج زندگی کے مختلف طبقات کے بہت سے اہم لوگ یہاں موجود ہیں اس تناظر میں یہ بہت کامیاب تقریب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محمد اسلام کے مضامین سے ہمیں وہ علم حاصل ہوتا ہے جو تخیلاتی مشاہدے سے ملتا ہے۔ ان کے تجربات بہت پختہ اور گہرے ہیں انہوں نے اپنی تحریروں میں اردو کے ساتھ ساتھ فارسی‘ ہندی اور انگریزی زبانوں کے الفاظ اس طرح سمو دیے ہیں کہ وہ اردو کے الفاظ کا مزا دیتے ہیں‘ ان کے یہاں تنوع اور ہمہ گیریت نظر آتی ہے‘ یہ اشاروں اور کنایوں میں بڑی سے بڑی بات باآسانی کہہ جاتے ہیں کہ سننے والے کو لطف آتا ہے‘ ان کی تمام کتابیں اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔ ڈاکٹر شکیل فاروقی نے کہا کہ محمد اسلام حلیم الطبع اور شریف النفس انسان ہیں‘ میں انہیں چالیس برسوں سے جانتا ہوں‘ یہ اپنے قلم سے جہاد کر رہے ہیں‘ جیسے جیسے آپ ان کی تحریر پڑھیں گے آپ پر تہہ در تہہ الفاظ و معنی واضح ہوتے جائیں گے‘ یہ طنز نگاری اور مزاح نگاری کے تمام اصولوں سے واقف ہیں‘ ان کے لفظوں کی کاٹ ہمارے ذہن و دل پر دستک دیتی ہے‘ یہ مزاح نگاروں میں بہت اہمیت کے حامل ہیں اللہ تعالیٰ انہیں مزید عزت و شہرت عطا فرمائے۔ ڈاکٹر محمد احمد قادری نے کہا کہ فی زمانہ لوگ حق بات کہتے ہوئے شرماتے ہیں لیکن محمد اسلام انتہائی باوقار انداز میں سچ لکھ رہے ہیں‘ یہ لوگوں کو آئینہ دکھا رہے ہیں انہوں نے اپنا قلم نہیں بیچا‘ انہوں نے لفظوں کی حرمت پامال نہیں کی‘ ان کی کتابیں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک تک پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کی بنا پر ادبی منظر نامے میں جگہ بنائی ہے۔ تقریب کی ناظمہ عنبرین حسیب عنبر نے بہت خوب صورت سے پروگرام کو ہینڈل کیا انہوں نے محمد اسلام کے فن اور شخصیت پر گفتگو بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ محمد اسلام 1961ء میں کراچی میں پیدا ہوئے‘ 1977ء میں میٹرک کیا‘ 1981ء میں گریجویشن اور 1984ء میں ایم اے کیا‘ 1985ء سے وہ روزنامہ جنگ کراچی سے وابستہ ہیں ان کی یہ کتاب یوٹرن کریسی 174 صفحات پر مشتمل ہے جس میں 20 فکاہیہ مضامین اور 5 فکاہیہ خاکے شامل ہیں۔ فکاہیہ خاکوں میں 2 خاکے ان لوگوں پر مشتمل ہیں جو دنیا میں موجود نہیں ہیں تاہم 3 زندہ شخصیات پر بھی ان کے خاکے موجود ہیں انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم یوٹرن کریسی کے دور میں جی رہے ہیں‘ یہ اصطلاح ہماری سیاست میں شامل ہو چکی ہے‘ ان کی تحریروں میں گیرائی اور گہرائی ہے‘ ان کے یہاں جدید الفاظ ملتے ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں جو موضوعات منتخب کیے ہیں وہ زندگی سے مربوط ہیں‘ ان کا ’’حکیم شرارتی‘‘ بھی دل چسپ جملے بازی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کے ذریعے ہماری معلومات میں اضافہ ممکن ہے۔ اس موقع پر متعدد شخصیات نے صاحبِ اعزاز محمد اسلام کو تحفے تحائف اور گلدستے پیش کیے۔

ہانی ویلفیئر آرگنائزیشن کا سمندری مشاعرہ

ہانی ویلفیئر آرگنائزیشن ایک ایسا اداراہ ہے جو کہ خدمتِ خلق کے حوالے سے اپنی شناخت رکھتا ہے‘ اس کا ہیڈ آفس ریڑھی میاں گوٹھ‘ بن قاسم ٹائون ضلع ملیر کراچی میں واقع ہے جہاں اس ادارے کے تحت ایک اسپتال اور ایک اسکول قائم ہے۔ اسکول میں برائے نام فیس لی جاتی ہے اور بہترین تعلیم و تربیت فراہم کی جارہی ہے جب کہ اسپتال میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں جو برائے نام چارجز پر طبی سہولیات مہیا کر رہے ہیں ان سماجی خدمات کے علاوہ یہ ادارہ اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لیے بھی مصروف عمل ہے اس کا سبب یہ ہے کہ اس ادارے کے روح رواں مظہر ہانی شاعر ہیں لہٰذا وہ اکثر و بیشتر سمندری مشاعرہ منعقد کرتے ہیں تاہم وہ اپنے دفتر میں بھی شعری نشستوںکا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ اس تمہید کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ گزشتہ اتوار مظہر ہانی نے پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی کے اعزاز میں سمندری مشاعرہ ترتیب دیا اس سے پہلے اسحاق خان اسحاق‘ اختر سعیدی‘ رشید خان رشید‘ سلمان صدیقی اور ڈاکٹر نثار کے اعزاز میں سمندری مشاعرے ہو چکے ہیں۔ اس ترتیب کے اعتبار سے یہ چھٹا سمندری مشاعرہ تھا۔ مدعو شعرائے کرام چار بجے شام ریڑھی گوٹھ پہنچ گئے جہاں سے انہیں کشتی کے ذریعے سمندر کی سیر کرائی گئی۔ پھر کشتی کو سمندر میں لنگر انداز کیا گیا اور مشاعرے کا آغاز ہوا جس کی صدارت سرور جاوید نے کی۔ رشید خان رشید نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مظہر ہانی نے خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ سمندری مشاعرہ سیروتفریح کا ایک ذریعہ ہے یہ نیا انداز بھی ہے کہ ہم کشتی میں بیٹھے ہیں اور سمندری لہروں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ شعر بھی سن رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہانی ویلفیئر غریب بچیوں کی شادی کے لیے پچاس ہزار روپے تک کا جہیز فی سبیل اللہ پیش کرتا ہے اس سلسلے میں مستحق اربابِ سخن ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ وہ ہانی ویلفیئر کے مشکور ہیں کہ انہوں نے یہ تقریب سجائی۔ سمندری مشاعرے کا تجربہ اس لیے بھی اچھا لگ رہا ہے کہ سمندر لائف آف نیچر ہے اور فطرت سے جڑے ہوئے تمام مناظر خوش نما ہوتے ہیں۔ اس موقع پر مظہر ہانی کی طرف سے شاداب احسانی کی خدمت میں شیلڈ پیش کی گئی اور دس ہزار روپے نقد بھی پیش کیے گئے۔ صاحبِ صدر اور مہمان خصوصی کو اجرک پیش کی گئی۔ مظہر ہانی کی طرف سے ملنے والے دس ہزار روپے ڈاکٹر شاداب احسانی نے اختر سعیدی کو گفٹ کر دیے ان کے اس اقدام کو تمام لوگوں نے بے حد سراہا اور تالیاں بجا کر داد پیش کی۔ صاحب صدر نے صدارتی خطاب میں کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی ہمہ جہت شخصیت ہیں‘ وہ شاعر ہیں‘ نقاد ہیں‘ محقق ہیں اور ماہر تعلیم بھی۔ وہ کراچی یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے چیئرمین بھی رہے جہاں انہوں نے اپنی زیر نگرانی بہت سے لوگوں کو پی ایچ ڈی کرایا لیکن انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی بنا پر اپنی شناخت بنائی ہے۔ ان کی شاعری شعری محاسن کی آئینہ دار ہے۔ ان کے استعارات و محاورات جدید لب و لہجے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہاں کلاسیکل اشعار بھی پائے جاتے ہیں‘ ان کے مصرعے رواں اور جاذبیت سے بھرپور ہوتے ہیں اگر ہم کراچی کے تیس معتبر شعرا کی فہرست بنائیں تو شاداب کا نام اس میں شامل کرنا پڑے گا۔ اس مشاعرے میں صاحبِ صدر‘ مہمان خصوصی اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ جن شعرا نے کلام پیش کیا ان میں اختر سعیدی‘ حنیف عابد‘ عظمیٰ جون‘ سلیم فوز‘ راقم الحروف ڈاکٹر نثار‘ علی زبیر‘ دلاور علی آذر‘ یوسف چشتی‘ مظہر ہانی‘ یاسر سعید صدیقی‘ علی کوثر‘ عاشق شوکی اور اسحاق خان اسحاق شامل ہیں۔ مشاعرے کے بعد کشتی میں ہی تمام شعرا کو ریفریشمنٹ پیش کیا گیا۔ اس مشاعرے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ تمام شعرا کو کورنگی نمبر 5 سے ریڑھی گوٹھ تک پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی۔ آئندہ مشاعرہ کسی واٹر پارک میں منعقد کیا جائے گا جس کا انتظام و اہتمام مظہر ہانی کریں گے‘ یہ بات راقم الحروف کو اختر سعیدی نے بتائی ہے۔

کرفیو زدہ مقبوضہ کشمیر

ڈاکٹر اورنگزیب رہبر

ایک نہیں، دو چار نہیں، دس بیس نہیں
یہ لاکھوں ہیں!
دیواروں کے پیچھے ہیں
زنجیروں میں جکڑے ہیں
جب تک سر قائم ہیں اپنے
اپنی بات پہ قائم ہیں
آزادی کے متوالے ہیں
مرنے سے کب ڈرتے ہیں !
سنگینوں کے پہرے ہیں
تاریکی اور سائے ہیں
خون میں لتھڑی لاشیں ہیں
سینکڑوں نو مولود بچوں کی
چیخیں ہیں اور آہیں ہیں!
ہمت اپنی قائم ہے
ہرگز ہار نہ مانیں گے
آزادی کے رستے میں ہم
اپنی جانیں واریں گے
غم کے بادل چھائے ہوئے ہیں
دکھ بھی کتنا گہرا ہے
ٹھہرے نہیں ،گھبرائے نہیں
یہ اہلِ جنوں کا ڈیرہ ہے
راہِ جہاد میں لمحہ لمحہ
صبحِ نو کا مژدہ ہے
وادی وادی خون ِ شہیداں
معجزہ ہے ،تابندہ ہے

غزل

گل افشاں

تم نے کہا تھا گھر آؤ گے آؤ نا
میرے لیے تحفہ لائو گے لاؤ نا
خود ہی خود سے باتیں کرتے رہتے ہو
کوئی پہلی ہم سے بھی بجھواؤ نا
دھوکا کھانے والے بھولے ہوتے ہیں
تم بھی ہم سے کوئی دھوکا ! کھاؤ نا
کیوں ہم پر الزام تراشی کرتے ہو
کچھ کھویا ہے تم نے تو پچھتاؤ نا
غم کا بھی تو انت کوئی ہوتا ہو گا
انت سے آگے کیا ہوتا ہے بتاؤ نا
اب کیا میں ہی کانوں میں رس گھولے جاؤں
تم بھی کوئی پریم کہانی سناؤ نا
نا بابا نا مجھ کو سردی نہیں لگتی
کیوں مجھ سے کمبل ہوتے ہو جاؤ نا !

حصہ