صلاح الدین سے معذرت کے ساتھ!۔

191

ویسے تو زرداری صاحب کی ڈنڈہ بردار ویڈیو بھی خوب وائرل رہی جس میں سابق صدرزرداری نے عدالت میں پولیس والے کو ڈنڈا مار کر فریال تالپور کے لئے راستہ لیا۔ لیکن آپ کچھ بھی کہیں تادم تحریر ہفتہ کشمیرکے بعد رواں ہفتہ ’صلاح الدین‘ (مرحوم) کے نام رہا۔ جی ہاں ۔گجرانوالہ کا جواں سال صلاح الدین ،جسے ذہنی معذور ، چور، معصوم اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا گیا۔کمال وہی سوشل میڈیا کا تھا۔ پہلے بینک اے ٹی ایم توڑنے کی ویڈیو وائرل ہوئی ، چوری کی ہیڈلائن اور سب نے اپنے حساب سے اس ویڈیو پر تجزیہ کر کے لائکس،کمنٹس اور شیئرز کا ڈھیر جمع کیا ۔پھر گرفتاری کی خبر اور لیک شدہ ویڈیوزپرہاتھ صاف کیے گئے یہی نہیں اس کے بعد اچانک مرنے پر جو ماحول گرم ہوا وہ اس کی پوسٹ مارٹم کے بعد کی تصاویر اور تدفین تک یہی سلسلہ جاری رہا ۔اسکیچز بنا بنا کر ۔ مرحوم کے مشہورسوال ’تم نے اتنا تشدد کرنا کہاں سے سیکھا؟‘‘سمیت نے سوشل میڈیا پر اس ہفتہ اسے ایک نہایت اہم موضوع بنا دیا۔
اب مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن ایسا سخت والا چل رہا تھا کہ بین الاقوامی صحافیوں تک کے لیے خبر بھیجنے میں مشکلات ہو گئی تھیںاور وہاں سے صرف لاک ڈاؤن ،کرفیو اور سب بندہے کی ہی زیادہ تر خبریں آرہی تھیں ۔پاکستانی حکومت نے ہر جمعہ بول کر صرف پہلے جمعہ کا نصف گھنٹہ ہی کشمیر کے لیے وقف کیا ، جبکہ ’ٹرک کی بتی کے پیچھے ‘دوڑتی ہوئی ملک کی اہم مذہبی و سیاسی جماعت نے کراچی سمیت ملک کے کئی شہروںمیں ایسے شاندار کشمیر مارچ کیے کہ اگلے روز ملک کے اہم اخبار میں سرخی دیکھ کر یقین ہوگیا کہ یہ واقعی ’ دوڑتے ٹرک کی بتی ‘کے پیچھے مارچ کر رہے ہیں ۔سرخی یوں تھی Siraj demands clear roadmap for IOK freedom۔ میں نے سوچا اگلے دن اس سرخی پر کہیں نہ کہیں وضاحت ضرور آئی ہو گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔مطلب یہ بھی روڈمیپ ہی مانگ رہے تھے ۔بہر حال جن سے مانگ رہے تھے وہ کیا کر رہے تھے یہ بھی دیکھ لیں تاکہ میری بات یا یقین ہو جائے ۔ دوسری طرف حال یہ تھا کہ بھارت کے لیے تمام فضائی راستے، تجارت، سفارتی دفاتر سمیت کرتار پور راہداری کے لیے ایسے ہی پلکیں بچھائی جا رہی تھیں جیسی ابھی نندن کو واپس کرتے وقت کی تھیں۔ اب بھلا بتائیے کہ اس ایشو پر کیا بات کی جائے ۔کس سے کی جائے ؟
ایسے میں جب ہر طرف سرکاری و غیر سرکاری نعرے لگ رہے تھے کہ ’کشمیر بنے گا پاکستان ‘تو شاید کسی نے نعروں کا اثر لے کر حالات کی یکسانیت پیداکرنے کیلیے یہ کام کیا ہو۔ جب ’کشمیربنے گا پاکستان تو پھر پاکستان میں بھی کشمیر جیسا ماحول بنانے کے لیے کچھ تو کرنا تھا تو ان کے ہاتھ صلاح الدین لگ گیا۔اس کے ساتھ جو کچھ انہوں نے کیا اس کے لیے معروف کالم نگار ہارون رشید کی یہ ٹوئیٹ ہی سمجھانے کے لیے کافی ہے ۔’’صلاح الدین کس حال میں قتل کیا گیا؟وہ پانی مانگ رہا تھا اور پولیس والا اس سے کتے کی آواز نکلانے کا کا مطالبہ کر رہا تھا۔ عمران خان صاحب! یزید کی فوج ایسے ہی پتھر دلوں پر مشتمل تھی۔‘‘بات یہ ہے کہ صلاح الدین صرف صلاح الدین نہیں تھا بلکہ اس نے اپنے ساتھ کئی قریب کی یادیں بھی تازہ کر دیں۔عبد اللہ شجاعت لکھتے ہیں کہ ’’صلاح الدین کو مار مار کر جان لے لینا پاگل پن نہیں ہے۔کراچی میں سرفراز کا بہیمانہ قتل کرنے والے پاگل نہیں۔ساہیوال میں مظلوموں کو ماردینے کے بعد بھی دندناتے پھرنے والے پاگل نہیں ہیں۔راؤ انوار کے جعلی مقابلوں کو تحفظ دینا پاگل پن کی نشانی نہیں ہے۔بلدیہ فیکڑی میں زندہ جلادینا بھی پاگل پن نہیں ہے۔یہ رویے ہرگز ہرگز پاگل پن یا ذہنی خلل کی عکاسی نہیں کرتے۔پاگل تو درحقیقت وہ ہیں جو یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ معاشرہ اور یہ ریاست عدل وانصاف کا بول بالا کرے گی۔جنونی اور ذہنی مریض تو وہ ہیں جو یہ آس لگائے ہیں کہ انسان کی جان، مال اور آبرو کو مقدم رکھا جائے گا۔صلاح الدین کی منہ چڑاتی تصویر ہماری امید اور آس کے پاگل پن کو ہمیشہ اسکی اوقات یاد دلائے گی۔‘‘اسی کشمیر تناظر میں ایک میم وائرل رہی جس میں کا ٹیکسٹ یوں تھا’’دشمن کو جو جان بوجھ کر قتل کرنے آیا اُسے چائے پلاتے ہو اور اپنوں کو پانی مانگنے کے بدلے کہتے ہو بھونک کر دکھا۔‘‘ صلاح الدین کی بہیمانہ موت اور متعلقہ واقعات کی ترتیب پر اسلام آباد سے سینئر صحافی احسان کوہاٹی لکھتے ہیں کہ ’’یار صلاح الدین! تم کسی اینگرو فرٹیلایزر کے مالک تو نہ تھے، معصوموں کی قاتل ـ’K-Electric‘ کے سند یافتہ فراڈیے عارف نقوی بھی نہ تھے کہ ایوان صدر سے معافی آجاتی۔میرے سیدھے سادے بھائی! تم نے کسی PTVپر حملہ بھی نہ کیا تھا، سپریم کورٹ پر بھی نہ چڑھ دوڑے تھے۔تم ایک غریب بے وسیلہ سرکاری ریٹائرڈ استاد کے بیٹے تھے اپنی اوقات میں رہتے تمہیں خبر نہیں ہوئی تھی کہ اب یہاں تبدیلی آ چکی ہے بڑا ہی سخت وزیراعظم اور انصاف پسند وزیراعلیٰ پنجاب کی مسند پر براجمان ہے اب قانون بڑا ہی سخت اور پھرتیلا ہو چکا ہے عدالت سے پہلے ہی حوالات میں فیصلہ ہو جاتا ہے۔‘‘ امیر عباس لکھتے ہیں کہ ’بچپن میں بزرگوں سے سنتا تھا کہ پچھلے زمانوں میں جب سرخ آندھی چلتی تو لوگ کہتے تھے کہ شائد کوئی بے گناہ قتل ہوا ہے۔ صلاح الدین کے جسم پر سرخ نشان دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر سرخ آندھی چلی تو شاید کبھی نہ تھم سکے۔ عمران خان صاحب آپ روز قیامت ریاست مدینہ کے اصل حکمران کو کیا جواب دینگے؟‘اچھا بات یہاں نہیں رکی اس سب کے درمیان جمعرات کو لاہور میں پولیس اہلکار کی ایک بوڑھی خاتون سے انتہائی بد تمیزی سے کی گئی گفتگو بھی منظر عام پر آگئی ۔اسی طرح صلاح الدین پر پولیس بیانیہ بھی اس انداز سے سامنے آیاکہ ’’سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر جن میں ہاتھ، بازو اور جسم پر کٹ لگے ہیں اور انہیں ٹانکے لگا کر سیا دکھایا گیا ہے، یہ تصاویر پولیس تشدد کی نہیں بلکہ پوسٹ مارٹم کے پروسیجر کی ہیں۔ پوسٹ مارٹم کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ جسم کے مختلف حصوں کو کاٹ کر وہاں سے سیمپل اکٹھے کیے جاتے ہیں ۔ ٹانکوں کی تمام تصاویر پولیس تشدد کی نہیں بلکہ پوسٹ مارٹم کی ہیں۔
دوسری اہم بات جو ان تصاویر کو پھیلاتے وقت کی جارہی ہے، وہ ہے جلد کی رنگت۔ ماہرین طب کے مطابق موت کے بعد جسم کے کچھ حصوں کا اپنی رنگت کھو دینا نارمل بات ہے اور تشدد کے نتیجے میں جلد سفید نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ تصاویر بھی تشدد ثابت نہیں کرتیں۔ پوسٹ مارٹم کیلئے جلد کے کچھ حصوں کو کاٹ کر ان کا سیمپل لیا گیا تھا، اور کچھ تصاویر میں یہ حصے بھی دکھائے جارہے ہیں، اس لئے یہ بھی پراپیگنڈہ ہے، اسے نظرانداز کریں اور فتنے کی نظر مت ہوں۔تیسری بات یہ کہ صلاح الدین کا پوسٹ مارٹم شیخ زائد ہسپتال کے ایم ایس کی زیرنگرانی ہوا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملزم پر کسی قسم کے ایسے تشدد کے نشانات نہیں ملے جن سے ثابت ہوتا ہو کہ اس کی موت تشدد سے ہوئی۔ چوتھی بات یہ کہ صلاح الدین کی پولیس کسٹڈی میں اب تک دو ویڈیو ریلیز ہوچکی ہیں۔ یہ دونوں ویڈیوز پولیس نے بنائی اور انہوں نے خود ریلیز کیں۔ ویڈیوز کو اگر ٹھنڈے دماغ سے دیکھیں تو صاف لگتا ہے کہ پولیس کا صلاح الدین کے ساتھ مجموعی رویہ مذاق اور شغل کا تھا ورنہ پولیس کو پاگل کتے نے نہیں کاٹا تھا کہ وہ ویڈیو بنا کر خود ہی ریلیز کردیتی۔پانچویں بات یہ کہ جس ویڈیو میں اس کے ہاتھ پیچھے کو کھینچ کر پولیس والے نام اور ایڈریس پوچھ رہے ہیں، یہ پاکستانی پولیس کا تشدد نہیں، اس سے زیادہ کھچائی تو سرکاری اسکول کا ماسٹر یا مدرسے کا قاری اپنے طالبعلموں کی کردیتا ہے۔ دوسری چیز جو اس ویڈیو سے واضح ہوتی ہے وہ ہے پولیس کی شائستگی سے بات چیت۔ وہ ملزم سے اردو میں بات کررہے تھے اور لہجے میں نفرت کی کوئی علامت نہیں تھی۔
آخری بات یہ ہے کہ اگر صلاح الدین دماغی طور پر ایب نارمل تھا تو وہ اے ٹی ایم کے پاس کیا لینے گیا؟ ایک نہیں بلکہ دو مختلف جگہوں سے اس کی ریکارڈنگ لی گئی۔ پھر اگر وہ دماغی طور پر معذور تھا تو اس نے اے ٹی ایم کیسے اکھاڑ لی؟ کیا یہ کوئی بچوں کا کھیل ہے؟ اگر مشینیں اتنی ہی ناقص ہوتیں تو اب تک پاکستان کی آدھے سے زیادہ مشینیں کھل چکی ہوتیں۔
صلاح الدین کے باپ سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ دماغی طور پر معذور شخص کو فیصل آباد یا دوسرے شہروں میں اکیلا کیوں چھوڑے رکھا؟صلاح الدین یقینا دماغی طور پر کمزور شخص تھا، اللہ تعالی اسے جنت فردوس میں جگہ دے اور جو محرومیاں اسے دنیا میں دی، ان کے بدلے آخرت میں اس کا مداوا کرے۔اب اس کی آڑ میں پولیس کے خلاف قتل کا مقدمہ دائر کرنا سراسر ظلم اور زیادتی ہوگا۔ البتہ پولیس ریفارمز کا مطالبہ مکمل طور پر جائز ہے اور اگر یہ نہیں ہوتا تو بزدار قوم کا مجرم کہلائے گا اور اسے برقرار رکھنے والا بھی اس جرم میں حصے دار ہوگا۔‘
صہیب جمال نے کراچی سے اس پوری صورتحال پر ایک اور ایشو شفٹ کی جانب اہم اشارہ کیا:’’آپ سب لوگ بہت کشمیر کشمیر کر رہے تھے ، ہر گلی ہر محلّہ ، ہر شہر ، ہر بستی ، ذرائع ابلاغ ، گفتگو ، مباحثے ، کشمیر سے گونج رہے تھے۔اچانک ٹیکس معاف کرنے کا آرڈیننس آیا اور صلاح الدین کے ساتھ ظلم ہوگیا۔پورا میڈیا ، ذرائع ابلاغ ، سوشل میڈیا اور لوگوں کی گفتگو کا رخ بدل گیا ، پہلے دن ٹیکس معافی آرڈیننس کیوں پاس کیا اس پر بحث چلی پھر واپس ہوگیا اس پر بحث چلے گی کہ کیسے واپس ہوا ؟ راوی اس پر بات کریں گے ، ساتھ ساتھ جذباتی واقعہ جنم لیتا ہے جو کشمیر میں جاری مظالم کو ہلکا کرتا ہے ، لگاتار جاری موضوع کو دوسرے موضوع سے توڑا جاتا ہے اس کو کہتے ہیں ’’بات بدلنا‘‘۔ہر جمعہ بارہ سے ساڑھے بارہ تک کھڑا رہنا نصاب میں شامل نہیں کیا جاسکتا ، دنیا میں اور بھی بڑے بڑے کام ہیں ، ابھی پولیس اہلکار گرفتار ہوں گے ، سرکاری بیانات آئیں گے ، صلاح الدین کے مظلوم گھر والوں کی پریس سے باتیں ہوں گی ، اس پر تبصروں کی بوچھاڑ ہوگی۔ میرا خیال ہے مزید بات کرنا بیکار ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے۔
نیا ڈرامہ شروع ہونے والا ہے ڈیل اور ڈھیل ـــ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘۔
اسی طرح 4ستمبر کو ڈی جی آئی ایس پی آرکی پریس کانفرنس بھی خوب موضوع بنی رہی ۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے شہداء کے لیے نئے نغمے کا اجراء ۔ بھارت کو سخت زبانی جواب۔ اس سے کچھ دن پہلے ہی جنرل صاحب نے بھارتی اداکار شاہ رخ خان کی جانب سے نیٹ فلکس پر ایک ایکشن، تھرلر سیریز کی پیداوار( پروڈکشن/سرمایہ کاری)پر اعتراضی و جوابی ٹوئیٹ بھی شدیدوائرل رہی ۔مذکورہ سیریز پاکستان مخالف پرو پیگنڈے اور بلوچستان کو بنیاد بنا کر فلمائی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو اپنے آپ کو محب وطن بھارتی ثابت کرنے کیلیے ہر معنی میں بہت بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے باوجود اس کے کہ وہ صرف نام ہی کے مسلمان کیوں نہ ہوں۔شاہنواز فاروقی نے اپنے کئی کالمزمیں اس حقیقت کا اظہار بھارت میں مسلمان سیلیبریٹیز کے ساتھ ہونے والے اہم واقعات اور ہندو رویوںکی بنیاد پر کیا ہے ۔

حصہ