شہادتِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

186

سید منور حسن

مقام بندگی دیگر مقام عاشقی دیگر
زنوری سجدہ می خواہی زخاکی بیش ازاں خواہی
چناں خودرانگہ داری کہ باایں بے نیازی ہا
شہادت بر وجودِ خود زخون دوستاں خواہی

محرم الحرام ہر سال آتا ہے صدیوں سے یہ مہینہ کیلنڈر میں موجود ہے اپنے وقت پر شروع ہوجاتا ہے اور پھر ختم بھی ہوجاتا ہے۔ یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ حرمت والے چار مہینوں میں محرم بھی شامل ہے دس محرم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے اور یہ سلسلہ ان سے پہلے والی اْمتوں میں بھی تھا۔ اس لیے فرمایا کہ آئندہ سال اگر زندگی ہوگی تو دس محرم کے ساتھ ایک روزہ مزید رکھوں گا تاکہ یہودیوں سے مشابہت نہ ہو۔ چنانچہ اب بھی بہت سے لوگ نویں، دسویں یا دسویں گیارہویں کا روزہ رکھتے ہیں۔
روز وشب کا سلسلہ جاری تھا کہ تاریخ کے کینوس پر نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول، فرزند اسداللہ الغالب علی ابن ابی طالب امام حسینؓ نمایاں ہو کر نظر آئے۔ واقعہ کربلا کی ایک تاریخی حیثیت ہے اس کی ایک حیثیت یہ ہے کہ یہ ایک لوک داستان کی حیثیت سے بہت سے ملکوں اور معاشروں میں زندہ جاوید ہوگئی ہے۔ عرب و عجم کے جس حصے میں اس داستان کو بیان کیا جاتا ہے۔ اس حصے کے رسم ورواج داستان سرائی کے لیے اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس کا مقصد درد والم اور ظلم وستم کی بدرجہ اتم تصویر کشی ہے۔ چنانچہ خود ہندوستان میں لکھنؤ میں امام حسینؓ لکھنوی ہوجاتے ہیں اور پنجاب میں پنجابی ہوجاتے ہیں۔ علیٰ ھذا القیاس۔ افسوس اس بات کاہے کہ آہستہ آہستہ عاشورہ محرم میں ایک تہوار کا رنگ نمایاں ہوگیا ہے۔
مرثیہ لکھا جائے، مجلس پڑھی جائے، جلوس نکالا جائے، نیاز دلائی جائے، کیا یہ کافی ہے اور کیا ان کاموں کے لیے امام عالیٰ مقامؓ نے اپنے اہل و عیال اور قریبی ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش فرمایا۔ یہ جنگ کوئی دو فوجوں کی لڑائی نہیں تھی بلکہ ایک طرف ایک ریاست کی فوج تھی دوسری طرف چند مسافر تھے جن کو گھیر کر نہایت مظلومیت کے ساتھ شہید کیا گیا اور بدخصلت ظالموں نے بچ جانے والی خواتین اور بچوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہ کیا۔ یہ کون لوگ تھے یہ امامؓ کے ناناؐ کے اْمتی اور کلمہ گو مسلمان تھے مگر یہ چیز ان کو ظلم وجبر سے نہ روک سکی۔ آخر وہ کیا مقصد تھا جس کے لیے امام حسینؓ اتنی عظیم قربانی دینے کے لیے تیار ہوئے۔
یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ وہ حصول اقتدار کے لیے نکلے تھے اور جن لوگوں پر انہوں نے بھروسہ کیا انہوں نے ان کو دھوکا دیا۔ تاریخ کی تعبیر کرتے وقت رطب و یابس پر انحصار سے زیادہ ان شخصیات کی زندگی کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے جو کسی واقعہ میں بڑے کردار ہوتے ہیں۔ واقعہ کربلا میں سیدنا امام حسینؓ اور یزید بن معاویہ دو بڑے فریق ہیں ان کی زندگی کا گہرا مطالعہ صحیح نتیجے پر پہنچنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ شہادت حسین پر غور کرتے وقت اس بات کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خلافت راشدہ کے پورے دور اور اس کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ کے زمانے تک بھی سیدنا امام حسینؓ کا خاندان کبھی کشت وخون پر آمادہ نہیں ہوا اس لیے اس کو محض اقتدار کی جنگ سمجھنا سخت ناانصافی اور غلطی ہوگی۔ تو پھر کیا نئی بات سامنے آئی جس کے لیے امام حسینؓ کو کھڑے ہونا پڑا۔ یزید کا کردار ایک ضمنی بات ہوسکتی ہے مگر لوگ مرتد تو نہیں ہوگئے تھے۔ ارکان اسلام موجود تھے اور لوگ ان پر عمل پیرا بھی تھے عدالتوں میں فیصلے اسلامی قانون کے مطابق ہی ہو رہے تھے۔ ان حالات میں ایک عام آدمی کے لیے تو شاید اس کا ادراک بھی ممکن نہ تھا گاڑی راستہ بدل رہی ہے اور کچھ ہی دیر میں اس کی منزل ہی اور ہوجائے گی اور وہ بہرحال اسلام کی مطلوبہ منزل مقصود نہیں ہوگی۔ اس فرق کو امام عالی مقامؓ جیسا صاحبِ نظر ہی محسوس کرسکتا تھا۔
اسلام کا اصل نظام خلافت کا نظام ہے جس میں خلیفہ وقت عامۃ المسلمین کی رائے سے چْنا جاتا ہے اس چنائو کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں مگر اس کی روح یہی ہے کہ جمہور مسلمانوں کی مرضی معلوم کی جائے۔ خلافت راشدہ میں یہ خصوصیت موجود تھی۔ خلیفہ اول کا نام سیدنا عمرؓ نے تجویز کیا، وہ ان کے صلبی رشتہ دار نہیں تھے مگر اْن کی نظر میں اہل ترین فرد تھے اور یہی رائے جمہور مسلمانوں کی تھی۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے سیدنا عمرؓ کو نامزد کیا تو وہ بھی اہلیت کی بنیاد پر ہی تھا چنانچہ اس کو شرف قبولیت حاصل ہوا یوں یہ معاملہ بھی مسلمانوں کی مرضی اور مشورے کے مطابق ہوا، سیدنا عمرؓ نے اپنے بعد ایک اور طریقہ اختیار کیا اور اس میں چھ نمایاں ترین اور اہل ترین افراد کو نامزد کیا کہ ان کے بارے میں رائے لے لی جائے اور جس کو اکثریت پسند کرے اس کو خلیفہ بنالیا جائے۔ اسی طرح سیدنا عثمان غنیؓ اور ان کے بعد سیدنا علیؓ خلیفہ منتخب ہوئے۔ اس کے بعد سیدنا امیرمعاویہؓ کی خلافت میں وہ بات نہ تھی مگر امام حسنؓ نے اْمت میں افتراق ختم کرنے کے لیے صلح کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو سچ ثابت کیاجس میں انہوںنے امام حسنؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اس کے ذریعے اللہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان جھگڑا ختم کرائے گا۔
سیدنا امیر معاویہؓ کے بعد یزید کی نامزدگی اور اس کے لیے بیعت طلبی ایک ایسی بنیادی تبدیلی تھی جس سے اسلام کا نظام حکومت خلافت الٰہیہ کے بجائے شخصی حکومت میں تبدیل ہو رہا تھا۔ اس تبدیلی کو اگر امام حسینؓ جیسا شخص بھی ٹھنڈے پیٹوں قبول کرلیتا تو اسلامی حکومت کا تصور ہی ختم ہوجاتا۔ امام حسینؓ کی شہادت ایک نہ ختم ہونے والا معاملہ ہے اور ہر دور میں لوگوں نے اس علم کو بلند رکھا اور قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کرتے رہے۔ یہ سلسلہ چلتے چلتے برصغیر میں مجد د الف ثانیؒ اور سید احمد شہیدؒ تک پہنچا اور بعد میں بھی مختلف شکلوں میں جاری رہا اور آج بھی جاری و ساری ہے۔ آج کی اسلامی تحریکیں، جہادی تحریکیں اسی مقصد کے لیے کوشاں ہیں۔ آج دنیائے اسلام میں احیائے اسلام کی تحریکیں کامیاب ہوتی نظر آتی ہیں تو یہ بھی سیدنا امام حسینؓ کی قربانی کے ثمرات ہیں۔ انشاء اللہ پاکستان بھی ان کی برکات سے مشرف ہوگا اور یہاں بھی حق کا پھریرا لہرائے گا۔
آج کے دور میں امام حسینؓ کے راستے پر چلنے کے خواہش مند لوگوں یا ان کے نام لیوائوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ امام حسینؓ نے جس اعلیٰ مقصد کے لیے عظیم ترین قربانی پیش کی ان سب کو اسی طرح کی قربانی اسی مقصد کے لیے پیش کرنے کو تیار رہنا چاہیے اگر یہ کام ہوجائے تو دنیا میں اْمت مسلمہ ساری دنیا کی سردار ہوگی اور آخرت کی کامیابی تو بالکل طے شدہ امر ہے۔

غریب و سادہ رنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ہے اسماعیلؑ

حصہ