شہادتِ امام حسینؓ کا حقیقی پیغام

104

راحیلہ چوہدری
محرم الحرام اسلامی سال کا آغاز ہے۔ اس ماہ میں ایسا تاریخی اور انقلابی سانحہ پیش آیا کہ ہر سال یہ عظیم قربانیاں اہلِ ایمان کو یہ درس دیتی ہیں کہ اصل زندگی خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دینا ہے۔
میدانِ کربلا میں غلبہ تو یزیدی سپاہ کا ہوا تھا جب کہ شہادت سیدنا امام حسینؑ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کے حصے میں آئی تھی، لیکن حق اور سچ یہ ہے کہ یہ امام حسینؓ کی جیت تھی۔

قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

امتِ مسلمہ کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو رسم کی شکل دینے کی عادی ہو چکی ہے۔ شہادتِ حسینؓ کا واقعہ بھی سالانہ رسم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ واقعہ کربلا ہر سال جس عظیم مقصد کیے لیے دی گئی شہادت کی یاد دلانے آتا ہے۔ اس مقصد کو کسی بھی جگہ یاد نہیں دلایا جاتا۔ یکم محرم سے ہی میڈیا، سڑکوں، محلوں ہر طرف ماتم کا سما بندھ جاتا ہے لیکن افسوس کہ کسی بھی جگہ حضرت امام حسین ؑ کے مقصدِ شہادت کی بات نہیں دہرائی جاتی۔ محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی اس واقعے پر ہم چند دن خوب ماتم کر کے یہ اطمینان کر لیتے ہیں کہ ہم نے حضرت امام حسینؓ سے وابستگی کا حق ادا کر دیا ہے۔ لیکن حقیقت میں ہم ایسا نہیں کر رہے ہوتے۔ اسلامی تاریخ کا ہر واقعہ اپنے اندر عبرت و موعظت کا بے پناہ سامان رکھتا ہے اور عملی زندگی میں اس سے بہت کچھ رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ کسی بھی تاریخی واقعہ سے عملی رہنمائی حاصل کرنے پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے جب کہ زندہ قومیں ماضی سے روشنی حاصل کرکے مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ واقعہ کربلا کا اگر مطالعہ کیا جائے اور شہادت ِامام حسینؓ کی شہادت کے مقصدکو سمجھا جائے تو امتِ مسلمہ اور ایک مومن کے لیے ان کے شہادت میں سے بے شمار ایسے پیغامات ملتے ہیں جن کے ذریعے امتِ مسلمہ اور ایک مومن کی عملی زندگی کی بہترین رہنمائی ہو سکتی ہے۔ جس کو اپنا کر امتِ مسلمہ اور ایک مومن اپنی زندگی اور معاشرے کو سنوار سکتے ہیں۔
حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا امت مسلمہ کو سب سے بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان کو حق اور دینِ حق سے اس درجہ عشق ہونا چاہیے کہ وہ حق کے لیے جان قربان کرنے سے بھی گریز نہ کرے۔ یزید کی بیعت کے وقت جو صورت ِ حال تھی اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اسلامی نظام حکومت اپنی اصل سے ہٹ رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں خلافت کا نظام رائج تھا اور اسلام جس نظام ِحکومت کی بنیاد رکھتا ہے وہ یہی نظامِ خلافت ہے۔ یزید کی آمد کے ساتھ اسلامی نظامِ حکومت خلافت کی ڈگر سے ہٹ کر ملوکیت میں تبدیل ہو گیا اور یہ اسلامی نظامِ حکومت میں ایسی تبدیلی تھی کہ جس کے اثرات صدیوں تک باقی رہے۔ ملوکیت خلافت کی ضد ہے، خلافت و ملوکیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ خلافت میں امیر المومنین کا طرزِ زندگی ایک عام رعایا کی طرح ہوتا ہے لیکن ملوکیت میں شاہانہ ٹھاٹ باٹ ہوتی ہے۔ خلافت میں لوگوں کو خلیفہ کے محاسبہ کی آزادی ہوتی ہے ملک کا ادنیٰ سا شہری بھی خلیفہ کی باز پرس کر سکتا ہے۔ لیکن ملوکیت میں ایسا نہیں ہوتا۔ ملوکیت میں بادشاہ محاسبہ سے ماورا ہوتا ہے۔ خلافت میں سارے معاملات کتاب و سنت کے مطابق طے کیے جاتے ہیں جب کہ ملوکیت میں بادشاہ سارے فیصلے اپنی انفرادی رائے سے نافذ کرتا ہے۔ خلافت و ملوکیت کے اس فرق سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یزید کا اقتدار میں آنا کسی خطرناک تبدیلی کا پیش خیمہ تھا۔ ایسے موقع پر اگر حضرت امام حسینؓ یزید کے سامنے ڈٹ کر نہ کھڑے ہوتے اور جان کی قربانی نہ دیتے۔ تو اسلامی خلافت کے تصور کا کتابوں میں محفوظ رہنا بھی مشکل ہوتا۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت سے دوسرا بڑا اور اہم پیغام امت مسلمہ کو یہ ملتا ہے کہ ایک مسلمان مومن کو مشکل سے مشکل حالات میں بھی حق پر ڈٹے رہنا چاہیے۔ کیسے بھی حالات ہوں‘ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے‘ باطل کے خوف سے ایمان کو کمزور نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت سے تیسرا اہم پیغام ہمیں یہ ملتا ہے کہ مومن کو مخالفانہ ماحول سے کبھی متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ بیعت یزید کے وقت زیادہ تر لوگ خوف کے مارے خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔ ماحول بالکل مخالفانہ تھا لیکن حضرت امام حسینؓ نے اس کی پروا نہیں کی اور حق کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ مومن کو حق کے دفاع کے لیے ظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔علمبردانِ حق کبھی ظاہری اسباب تعداد و اسلحہ سے مرعوب نہیں ہوتے۔ واقعۂ کربلا سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مصیبت ہو یا خوش حالی ہر حال میں مومن احکام الہٰی کا پابند ہوتا ہے۔ عین حالتِ جنگ میں بھی حضرت امام حسینؓ اور ان کے اہل و عیال نے نماز ترک نہیں کی۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو بھی تاریخ میں بلند مقام عطا فرمایا اسے پہلے آزمائش میں مبتلا کیا۔ ایمان کے ساتھ امتحان ضرور ہوتا ہے۔ اہل ایمان کی زندگی آسان نہیں ہوتی‘ آزمائشوں پر پورا اترنے والے لوگ ہی عظیم ہوتے ہیں۔ اس لیے اہل ایمان کو آزمائشوں سے گھبرانا نہیں چاہیے یہ ان کے لیے بلند درجات کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ واقعہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں ہے یہ حریت، خودداری، شعور، جرأ ت، شجاعت، ایثار و قربانی کی ایک ایسی عظیم داستان ہے جو قیامت تک لکھی پڑھی اور دہرائی جائے گی۔
حضرت امام حسینؓ نے اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات کے لیے اپنی جان کی قربانی دی۔ انہوں نے اپنے عمل سے قیامت تک کے لوگوں کو بتا دیا کہ حق کے لیے سر کٹوایا جا سکتا ہے جب کہ باطل کے آگے سر جھکانا مومن کی شان نہیں۔ مومن کا سر حق کے لیے کٹ تو سکتا ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتا۔
آج امتِ مسلمہ میں جتنے انتشار اور مسائل ہیں‘ وہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے مقصد کو بھلانے کی وجہ سے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے مقصد کو صرف محرم میں نہیں بلکہ ہمیشہ دلوں میں تازہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

حصہ