سنہری مچھلی

61

آخری قسط
یا۔ مچھیرا بھی سبحان اللہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔ سورج افق سے مزید ابھرا تو اس کی رنگت بدل گئی، اس کی روشنی میں چمک اور دھوپ میں حدت آگئی۔ مچھیرے کی بیوی کا سارا میک اپ پسینے کی وجہ سے دھلنے لگا اور مزاج نہایت تلخ ہوگیا۔ بجائے اس کے کہ وہ باغ کے وسط سے اٹھ کر محل کے کسی کمرے کی ٹھنڈی چھت کے نیچے آجاتی، ایک دم جلال میں آگئی اور نہایت رعونت کے ساتھ مچھیرے سے بولی کہ ابھی اور اسی وقت سنہری مچھلی کے پاس جاؤ اور اس ے کہو کہ وہ سورج سے کہے کہ میرے سامنے سے ہٹ جائے اس لئے کہ آج میں باغ میں بچھے تخت سے اٹھ کر کہیں بھی نہیں جانا چاہتی۔ مچھیرے نے ایک مرتبہ پھر اپنی بیوی کو سمجھایا کہ یہ خدائی معاملات ہیں اس میں کسی جن و بشر کا کیا دخل لیکن ہوس نے اس کی بیوی کے دماغ کو بالکل ہی فرعون بنا کر رکھ دیا تھا۔ چیخ کر بولی کہ تم جاتے ہو یا میں اپنے غلاموں کو حکم دوں کہ وہ تمہیں کھینچتے ہوئے دریا کے کنارے لیجائیں۔ نوبت غروریت کی اس انتہا تک آچکی تھی۔ پہلی مرتبہ مچھیرے کے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کیوں نہ اس پاگل اور مغرور عورت کو اپنی زندگی سے دور کردے لیکن اس نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے یہی سوچا کہ اللہ کوئی نہ کوئی اچھی راہ ضرور نکالے گا اور اس کی بیوی کو سبق سکھائے گا۔
مچھیرا دریا کے کنارے پہچا تو وہی خوبصورت آواز اس کے کانوں میں رس کھولنے لگی۔ سنہری مچھلی (پریوں کی ملکہ) نے اس سے کہہ رہی تھی کہ اے نیک دل مچھیرے، کاش تیری بیوی اس حد تک نہ جاتی کہ وہ خدائی کے کاموں تک میں دخل انداز ہونے کی فرمائش کرنے لگتی تو پرستان والوں نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ تم دونوں اسی انداز میں زندگی گزارتے رہو گے۔ تمہاری بیوی کی باتیں ناقابل قبول تھیں لیکن تم نے ان کی ملکہ کے ساتھ یعنی میرے ساتھ جو احسان کیا تھا وہ ان سب باتوں سے کم تھا جو پرستان نے تمہاری بیوی کو دیا تھا لیکن آج کی پر غرور فرمائش کی وجہ سے پرستان نے اپنے سارے اقدامات کی تنسیخ کردی ہے اور اب وہ تمہیں اور تمہاری بیوی کو تمہاری پرانی زندگی کی جانب لوٹا رہے ہیں۔ تم ایک محنت پسند انسان ہو اس لئے پرستان والوں کو یقین ہے کہ تم ایک دن بہت اچھے دن بھی دیکھو گے۔ ہمیں اس بات کا یقین بھی ہے کہ تمہاری بیوی اس سے سبق حاصل کرے گی اور اپنی پرانی زندگی میں لوٹ جانے کے دکھ سے جلد نکل آئی گی اور تم سے اسی طرح پیار کرتی رہے گی جیسے وہ غربت میں کیا کرتی تھے۔ ہم پہلے کی طرح دریا میں پڑے جال میں مچھلیاں پھنسانے میں تمہارے مدد گار رہیں گے۔ اب یہ تمہاری محنت پر ہے کہ تم اس سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ یہ کہہ کر اللہ حافظ کہنے کی آواز آئی اور پھر گہری خاموشی چھا گئی۔
مچھیرا جب بستی کی جانب لوٹا تو راستے میں نہ وہ محل تھا، نہ غلام اور کنیزیں اور نہ ہی نوکر چاکر، وہی پہلے جیسا چٹیل میدان جس میں دھول مٹی اڑ رہی تھی۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے پرانے گھر کی جانب چل دیا۔ گھر کا دروازہ کھلا ہوا پایا، جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی اپنے پرانے کپڑوں میں ملبوس بہت اداس بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے اپنی بیوی کے سر پربہت پیار سے ہاتھ رکھا اور کہا کہ یقین مانوں اس زندگی میں جو مزا ہے وہ اس زندگی میں بالکل بھی نہیں تھا۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا مچھیروں والا حلیہ بدلا، کمرے سے جال نکال کر اپنے کاندھے پر لادا اور دریا کی جانب روانہ ہوگیا۔ آج وہ بہت ہی خوش تھا کہ وہ اپنی زندگی کا آغاز پھر سے ایک مزدور کی حیثیت سے کر رہا ہے اور مزدوری کرنے والے کو اللہ پسند کرتا ہے۔
کچھ مہینوں کے بعد پورے گاؤں نے دیکھا کہ اس کا کاروبار بہت ترقی کرگیا۔ اس کی کئی بڑی بڑی لانچیں ہو گئیں جودریا سے ہی نہیں بلکہ سمندر سے بھی مچھلیاں پکڑا کرتی تھیں۔ گاؤں کے سیکڑوں جوان اس کے ملازم ہوگئے جن کا وہ اپنے بھائیوں سے بھی بڑھ کر خیال کیا کرتا تھا۔ اس نے گھر تو کافی اچھا بنایا لیکن شاہوں جیسی آن بان نہ رکھی اور یہی انداز اس کی بیوی نے اختیار کیا۔ وہ پوری بستی کا وڈیرہ بنادیا گیا اور بستی والے اس کے غلام، نوکر چاکر نہ ہونے کے باوجود بھی اس کی اور اس کی گھر والی کی ایک آواز پر دوڑے چلے آتے تھے۔ اس حقیقی بادشاہت کو دیکھ کر ایک دن مچھیرے کی بیوی اس سے کہنے لگی کہ اللہ مجھے معاف کرے، میں اس کی ناشکری اور تمہاری نافرمان بن کر رہ گئی تھی۔ یقین مانوں اس فرعونیت میں سارے ٹھاٹ باٹ ہونے کے باوجود میرا ایک دن بھی حقیقی سکون میں نہیں گزرا۔ میرے اندر نہ جانے کیسی آگ لگی ہوئی تھی کہ وہ ٹھنڈی ہوکر ہی نہیں دے رہی تھی۔ میری ہر خواہش پوری ہونے پر اور بھڑک اٹھتی تھی۔ میں نے تمہیں بہت دکھ پہنچائے۔ تم مجھے معاف کردو۔
مچھیرے نے کہا کہ میں تو تمہیں بہت پہلے معاف کرچکا ہوں۔ اللہ نے شاید اسی کا صلہ دیا ہے اور شاید تمہاری وجہ سے ہی میں خوش حال ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اللہ اب ہمارے گھر کسی شہزادے یا شہزادی کو بھی ضرور بھیجے گا۔ یہ سن کر مچھیرے کی بیوی کے چہرے پر شرم کی سرخی دوڑ گئی اور اس نے دوپٹے سے اپنے چہرے کو چھپاتے ہوئے کہا کہ میں یہی خوشخبری تو آپ کو سنانا چاہتی تھی۔ بس پھر کیا تھا مچھیرا اسی وقت اللہ کے حضور سجدے میں گر گیا اور اس کی آنکھوں سے شکرانے کے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔

حصہ