جنگ ستمبر 1965ء۔۔۔۔

176

یوم دفاع پاکستان پر چشم کشا حقائق
کیسی جیت، کیسی ہار؟۔

اصل حقیقت تو یہ ہے کہ جنگ ستمبر 1965 ہندوستان اور پاکستان دونوں کی مجبوری تھی ۔ سیاسی صورتحال کچھ یوں تھی کہ ہندوستان میں اگلے سال انتخابات تھے اور پاکستان میں حکومت کو حزب مخالف کی جانب سے تحریک کا سامنا تھا ۔ ہندوستانی حکومت اپنی قوم کوکشمیر میں پاکستانی مداخلت کے جواب میں کچھ کرکے دکھانا چاہتی تھی اور ادھر پاکستان میں ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف عوامی تحریک جو مشرقی پاکستان سے عملا شروع ہوچکی تھی ، اس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ایوب خان کو ایک بڑی سرحدی جھڑپ کی ضرورت تھی تاکہ پاک فوج کا مجاہدانہ اور وطن پرستی کا امیج بہتر بنایا جاسکے ۔
ایوب خان شوق معرکہ آرائی میں پاکستان کو مقبوضہ کشمیر ( ہندوستانی زیر اثر کشمیر) کے اندر لے کر گیا جہاں پاکستان کی جانب سے ‘‘ آپریشن جبرالٹر ‘‘ کا آغاز کیا جا چکا تھا اور بہت بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کاروائیاں جاری تھیںانہی دنوں ہندوستان میں قوم پرست جماعت جن سنگھ جانب سے دلی میں عام ہڑتال اور مرکزی مظا ہرہ ہوا جس میں ایک لا کھ سے زیادہ مظاہرین شریک ہوئے ، ان کا مطالبہ تھا کہ پاکستان پر حملے کے علاوہ کوئی حل قبول نہیں ۔
اسی طرح ہندوستانی افواج کا بھی اصرار تھا کہ کیونکہ رن آف کچھ کے محاذ پر بدترین شکست کے بعد ہندوستانی فوج کے حوصلے بہت پست ہیں اس لئے ہندوستانی فوج کے حوصلے بڑھانے کے لئے فوجی کاروائی لازمی ہوچکی ہے ۔
اور پھر 3 ستمبر 1965 کو جب لال بہادر شاستری نے قوم سے خطا ب کرتے ہوئے دلی اور اس کے ارد گرد علاقوں میں بلیک آوٹ کا اعلان کیا ۔اس بلیک آوٹ کے ساتھ ہی دونوں ملکوں پر جنگ کے بدل منڈلانے لگے ۔اور دونوں طرف کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی ۔
پاکستان نے ہندوستانی کشمیر میں ‘ جوڑیاں ‘ پر قبضے کا اعلان کردیا تھا ۔ اور پاکستانی دستے ‘ اکھنور ‘ سے صرف چھ میل دور فائنل حملہ کرنے تیار بیٹھے تھے ۔ اسی رات ( پانچ۔ستمبر ) ہندوستانی فوج نے بین الاقوامی سرحد کی خلاف وردی کرتے ہوئے لاہور کی جانب پیش قدمی شروع کردی ۔
ممتاز صحافی اور BBC کے دلی میں موجود نامہ نگار جناب آصف جیلانی جو دلی سے حالات رپورٹ کر رہے تھے ۔ان کے مطابق ‘ پاک فوج اکھنور سے صرف چھ میل دور رہ گئی اسی رات ہندوستانی فوج نے بین الاقوامی سرحد عبور کرکے لاہور کی جانب پیش قدمی کی ۔
ہندوستانی وزیر دفاع نے لوک سبھا میں اعلان کیا کہ ہندوستانی فوج پنجاب پر پاکستانی حملے کے خطرے کے پیش نظر سرحد پار کرکے لاہور سیکٹر میں داخل ہو گئی ہے ۔
جناب آصف جیلانی کے مطابق اس اعلان پر پورے ایوان میں ہر طرف سے تالیوں کا ایسا شور اٹھا کہ جیسے ہندوستان نے جنگ جیت لی ہو – چھ سے آٹھ ستمبر تک ہندوستان نے تقریبا ہر محاذ پر ناکامی کا منہ دیکھا ۔ مگر سفارتی محاذ پر ہندوستان نے بلاشبہ پاکستان سے زیادہ پھرتی دکھائی ۔
صحافی وجاہت مسعود کی بات بھی بہت اہم ہے وہ حقائق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘‘ آٹھ ہزار پاکستانی فوجی گلوبل سیکورٹی آرگنا یز یشن میں یہ تعداد 22 سے 30 ہزار بیان کی جاتی ہے ، اس امید پر کشمیر میں داخل کئے گئے تھے کہ کشمیری عوام ان کے ساتھ مل کر ہندوستانی فوج کو نکال با ھر کریں گے ۔’’
جنگ 1965 میں پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل موسی خان اور لیفٹننٹ جنرل گل حسن اس وقت جی ایچ کیو میں تعینات تھے اور جنگی حکمت عملی طے کرنے کی ذمہ داری ا ن ہی کے کاندھوں پر تھی ۔ کامیابیوں کی بھڑکا دینے والی خوش کن خبروں اور پاکستان کے موقف کی ترجمانی ‘ سکریٹری ا طلا عات جناب الطاف گوہر کی تھی ۔
یہ الطاف گوہر کے ہی قلم کا کمال تھاکہ جنگ کے بارے میں ہمارا سرکاری موقف کچھ اسطرح بیا ن کیا جاتا تھا کہ ‘‘ بزدل دشمن نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کردیا ‘‘ ۔ ‘‘ ہماری بہادر افواج نے دشمن کے دانت کھٹے کردئیے ‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔ جبکہ حقیقت حال بالکل برعکس تھی ۔ ہماری انٹیلیجنس کو جب یہ خبر ملی کہ دشمن نے ہم پر حملہ کردیا ہے تو ہمارے پاس اتنا وقت بھی نہیں بچا تھا کہ ہم اپنے ٹروپس کو سرحد کی جانب موو کرواپاتے اور آپریشن جبرالٹر شروع ہوا تو جنرل موسی خان 28 اگست تک اس قدر زچ ہوچکے تھے کہ ان کے سپاہیوں کے پاس لڑنے کے لئے سوائے پتھروں کے کچھ نہیں بچا تھا ۔
پھر ایک اور بھیانک غلطی کہ عین کامیابی کے قریب پہنچ کر فیلڈ مارشل کی جانب سے فوجی کمان کی تبدیلی تھی ۔
ہوا کچھ یوں کہ چھمپ جوڑیاں سیکٹر میں جنرل اختر حسین سے کمان لیکر جنرل یحییٰ خان کو دے دی گئی ۔ اس طرح قیمتی تین دن تبدیلی اور احکامات کی بجا آوری کی نذر ہوگئے ۔ اسی دوران ہمارے جوان ہندوستانی فوج کے گھیرے میں آتے چلے گئے ۔ جن کو بچانے کے لئے پاکستان کو سرحد پار کرکے جانا پڑا ۔
ہندوستانی بری فوجی حملے اور پندھرویں بر گیڈ کی پیش قدمی کو اتفاق سے ہماری فضائیہ نے کشمیر سے واپسی پر دیکھ لیا اور فوری طور پر کاونٹر کیا ۔ یہ ایک اتفاق تھا ورنہ دشمن ہم پر وار کرچکا ہوتا ۔
سترہ روزہ جنگ میں 11 ستمبر کو پاکستان نے دفاع کے بجائے پہلی مرتبہ حملہ کرنے کی واحد کوشش کھیم کرن کے قصبے میں کرنی تھی ۔ مقامی کمانڈرز نے علاقے کی ‘ریکی‘ صحیح انداز میں نہیں کی اور اس وقت ہندوستان نے مادھو پور نہر کا پشتہ توڑ کر پانی کا رخ پاکستانی فوج کی جانب پھیر دیا اور ایسی صورتحال پیدا کردی کہ پاکستان کو حملے کا پروگرام ترک کرنا پڑا ۔
سینکڑوں جوان اور آرٹلری دریا کی لہروں میں بہہ گئے اور آرٹلری سمیت جام شہادت نوش کیا ۔
جنرل موسی کو ائیر فورس کے تابڑ توڑ حملوں سے شدید نوعیت کے اختلافات تھے ۔ ان کا کہنا تھاکہ بغیر سوچے سمجھے آدم پور ، پٹھان کوٹ اور ھلواڑ ہ جیسے دور دراز مقامات چھاتہ بردار دستے اتا رنے کا فیصلہ ہی غلط تھا ۔ 200 کے قریب فوجی اس جنگل میں اتارے گئے جن میں سے بچ کر واپس آنے والے فوجیوں کی تعداد بمشکل دس تھی ۔
ان کا کمانڈر بھی گرفتار ہوکر دشمن کے پاس چلا گیا ۔
چونڈہ کے محاذ پر دنیا کی دوسری بڑی جنگ ہوئی ۔ جس میں طرفین کے نقصانات بھی اسی طرح کے ہوئے ۔ ہندوستان کہتا ہے کہ ہم نے پاکستان کے 152 ٹینک ضبط کئے جبکہ 150 تباہ کئے ۔
پاکستان کا دعوی ہے کہ انھوں نے دشمن کے 128 ٹینک تباہ کئے ۔
آزاد ذرئع کہتے ہیں کہ ہندوستان کے 201 مربع میل کے مقابلے میں پاکستان کا 702 مربع میل رقبہ ہندوستان کے پاس چلا گیا اس زمینی قبضے کی اہم بات یہ کہ ہندوستان نے پاکستان کے سبز علاقے پر قبضہ کیا اور پاکستان کے قبضے میں ریگستانی بنجر زمین ملی ۔
1965 کی جنگ میں ا انڈونیشیا نے پاکستان کا ساتھ دیتے ہوئے ایک جانب تو انڈومن اور نکوہار کے جزائر کا گھیراؤ کیا اور پاکستان کی مدد کے لئے فوری طور پر آبدوزیں روانہ کیں ۔ لیکن یہ مدد پہنچنے سے پہلے ہی جنگ بندی کا اعلان ہوچکا تھا اس جنگ میں ہندوستان کے سات لاکھ فوجیوں کا پاکستان کے دو لاکھ ساٹھ ہزار فوجیوں سے مقابلہ تھااس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دونوں فریق اس جنگ میں بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار تھے اور عالم یہ تھا کہ افواج کو راشن اور ہر قسم کی سپلائی انتہائی دشوار ہوچکی تھی۔ ایک لایعنی جنگ کے پیچھے دونوں ملک اپنے فوجی وسائل برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ پاکستان اپنے فوجی وسائل مکمل طور پر جنگ میں جھونک چکا تھا، جس کے مقابلے پر ہندوستان کی ایک بہت بڑی فوج اب بھی جنگ سے باہر تھی۔
1965ء کی اس جنگ کے حوالے سے معروف صحافی وسعت اللہ خان کا یہ کہنا بہت کافی ہے کہ ’’یہ جنگ ریڈیو پاکستان اور آکاش وانی پر بھی خوب لڑی گئی۔ اس جنگ کے طفیل بھارت میں ہندی میں اور پاکستان میں اردو اور پنجابی میں لہو گرما دینے والے جنگی ترانے تخلیق ہوئے۔ ہوسکتا ہے سندھی، پشتو، بلوچی اور بنگالی میں بھی ترانے گائے گئے ہوں، مگر یہ فقیر لاعلم ہے‘‘۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ’’پاکستان کہتا ہے 1965ء کی جنگ وہ جیتا۔ بھارت کہتا ہے وہ جیتا۔ تو پھر ہارا کون؟‘‘وسعت اللہ خان نے اس جنگ پر یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ’’بھٹو، عزیز احمد، میجر جنرل اختر حسین ملک، ایوب خان اور جنرل موسیٰ آخر کس مفروضے پر یہ جنگی پلان بنا رہے تھے کہ لڑائی کشمیر تک ہی محدود رہے گی اور بھارت بین الاقوامی سرحد عبور کرنے کی حماقت نہیں کرے گا۔‘‘
ہماری جانب سے اس جنگ کے بارے میں اور کشمیر کے محاذ پر لڑی جانے والی مہم’’آپریشن جبرالٹر‘‘ کے حوالے سے جو پلان ترتیب دیا گیا تھا کیا وہ فول پروف تھا؟
پاکستان کی عسکری حماقت دیکھیں کہ جب فوجی کمان تبدیل کی گئی تو تین دن تک جنگ بلاوجہ ہی روک دی گئی۔ بقول ہندوستانی جنرل گوربخش سنگھ ’’اکھنور کی جانب پاکستانی پیش قدمی کا 72 گھنٹے تک خودبخود رک جانا ہمارے لیے آسمانی مدد کے برابر تھا‘‘۔
اندازہ لگائیے کہ ہماری ائیرفورس اور بحریہ کو اس پلان میں شریک ہی نہیں کیا گیا، اور نہ ہی لاہور اور سیالکوٹ کی ڈویژنل کمان کو فارورڈ پوزیشنز پر بھیجنے کے احکامات صادر کیے گئے۔ جنگی حالات کے پیش نظر ہمیشہ چھٹی پرگئے فوجیوں کو طلب کیا جاتا ہے، مگر اس جنگ میں 25 فی صد جوانوں اور افسروں کو طلب کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ وسعت اللہ خان لکھتے ہیں کہ گورنر مغربی پاکستان امیر محمد خان سے بھی سب کچھ مخفی رکھا گیا تھا۔ اور یہ بھی پلان میں شامل نہیں کیا گیا کہ اگر ہندوستان نے دوسرا محاذ مشرقی پاکستان کی طرف سے کھول دیا تو کیا ہوگا؟
کیا جنگ سے پہلے ہائی کمان نے سوچا کہ پاکستان کے پاس کتنے دن کا اسلحہ اور گولہ بارود ہے، اور جنگ طول پکڑتی ہے تو کیا ہوگا؟
جنگ ہمیشہ خاص قومی اہداف حاصل کرنے کے لیے لڑی جاتی ہے۔ اگر پاکستان کا ہدف کشمیر تھا تو ہدف حاصل کیے بغیر کامیابی کس بات کی؟
معاہدۂ تاشقند کے تحت بھارت نے 710 مربع میل علاقہ پاکستان کو، اور پاکستان نے210 مربع میل علاقہ بھارت کو واپس کیا اور دونوں ملکوں کی فوجیں 5 اگست سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔
پاک بھارت جنگ 1965ء کے بعد 10 جنوری 1966ء کو اعلامیہ تاشقند کے نام سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جو Tashkent Declarationکے نام سے جانا جاتا ہے۔ 23 ستمبر کو دونوں ملکوں کے درمیان سترہ روزہ جنگ کے بعد جنگ بندی میں اْس وقت کی عظیم طاقتوں کا عمل دخل تھا۔
عالمی سطح پر سمجھا جارہا تھا کہ ان دو ملکوں کی اس جنگ میں دیگر ممالک جیسے چین، روس، برطانیہ اور امریکا ایک دوسرے کی مدد کے چکر میں شاملِ جنگ ہوجائیں گے اور کہیں یہ ایک بڑی جنگ کا روپ نہ دھار لے۔چنانچہ سوویت ری پبلکن کے وزیراعظم الیکسی کوسیجن نے متحارب ممالک یعنی ہندوستانی وزیراعظم لال بہادر شاستری اور پاکستانی صدر محمد ایوب خان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔ اقوام متحدہ، امریکی اور سوویت اتحاد کے دباؤپر طے ہوا کہ ان ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے اور کوئی مستقل حل تلاش کیا جائے۔ جس کے نتیجے میں 4 جنوری 1966ء کو تاشقند، ازبک سوویت اشتراکی جمہوریہ، سوویت اتحاد (موجودہ ازبکستان) میں مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا۔
اس اجلاس میں پاکستان اور ہندوستان کو پابند کیا گیا کہ دونوں ممالک اپنی سرحد اور کشمیر میں 1949ء کی جنگ بندی لائن کو فوری طور پر بحال کرنے کا اعلان کریں۔ اور پھر اس دباؤ اور ہندوستان کی خواہش کے عین مطابق پاکستانی صدر ایوب خان کو ان شرائط کو ماننا پڑا۔
اعلامیہ
اگرچہ اس اعلامیہ کو بین الاقوامی طور پر بہت بڑی کامیابی تصور کیا گیا اور اسے پائیدار امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک اس بات کے پابند ہوجائیں گے کہ
’’ 1۔ ہندوستانی اور پاکستانی افواج 25 فروری 1966ء سے، تنازعے سے پہلے کے مقام پر واپس چلی جائیں گی۔
2۔ دونوں اقوام ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گی۔
3۔ اقتصادی اور سفارتی تعلقات بحال ہوں گے۔
4۔ دونوں ملکوں کے رہنما دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی تعمیر کی سمت میں کام کریں گے۔‘‘
اس معاہدے کو ہندوستان میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس میں کشمیر میں کوئی جنگ کا معاہدہ یا گوریلا جنگ کی کوئی بھی شق شامل نہیں تھی۔
قدرت اللہ شہاب نے ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ ’’پاکستان اور ہندوستان کے باہمی مذاکرات ایک مقام پر آکر شدید تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔ روس کے وزیراعظم کوسیجن نے کئی بار آکر صدر ایوب پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کو ناکام نہ ہونے دیں اور مسٹر شاستری کے ساتھ اپنی گفتگو جاری رکھیں۔ ایک بار صدر ایوب مذاق مذاق میں مسٹر کوسیجن سے یہ کہہ بیٹھے کہ ’’مجھے ہرگز یہ توقع نہیں کہ اس بالشت ڈیڑھ بالشت کے منحنی سے شخص کے ساتھ کوئی فیصلہ کن گفتگو ہوسکے‘‘۔ مسٹر بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ سنتے ہی مسٹر کوسیجن سیخ پا ہوگئے اور انہوں نے نہایت سختی کے ساتھ صدر ایوب سے کہا ’’مسٹر شاستری ایک عظیم قوم کے مسلمہ اور عظیم لیڈر ہیں، ہم ان کی دل سے عزت کرتے ہیں۔ آپ کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ میرے سامنے اْن کی شان میں اس قسم کے گھٹیا الفاظ استعمال کریں۔‘‘
مسٹر بھٹو کا کہنا تھاکہ وزیراعظم روس مسٹر کوسیجن کی اس ڈانٹ نے صدر ایوب کے دماغ سے خود اعتمادی کا غبارہ بھک سے اڑاکر نکال باہر پھینکا، اور اس کے بعد وہ معاہدہ تاشقند میں شاستری جی کی ہر ضد کے سامنے بلا پس و پیش ہتھیار ڈالتے چلے گئے۔
قدرت اللہ شہاب نے ’’شہاب نامہ‘‘ میں اہم ترین بات لکھی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ’’ایک بار میں نے نواب آف کالا باغ سے اس جنگ کے متعلق کچھ دریافت کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے فرمایا: بھائی شہاب! یہ جنگ پاکستان کی جنگ ہرگز نہ تھی، دراصل یہ جنگ اختر ملک، ایم ایم احمد، بھٹو، عزیز احمد اور نذیر احمد نے شروع کروائی تھی۔‘‘
قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ ’’جنگ شروع کروانے کا مقصد کیا تھا؟ تو نواب صاحب نے جواب دیا: یہ لوگ ایوب خان کو جنگ کے شکنجے میں ڈال کر اپنی طاقت بڑھانا چاہتے تھے۔ اس عمل میں پاکستان کا ستیاناس ہوتا ہے تو اْن کی بلا سے۔‘‘

حصہ