بے حسی آدھی موت ہے

115

قدسیہ ملک
۔’’ارے کیا بتاؤں سارے لوگ دیکھ رہے تھے مگر مجال ہے جو کسی نے کچھ کہا ہو۔‘‘
’’کسی نے کچھ نہیں کہا؟‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا۔
’’ارے کہنا تو دور کی بات، لوگ مجھے دیکھ بھی نہیں رہے تھے۔ اور ان کے جانے کے بعد مجھے دیکھ دیکھ کر ہنس بھی رہے تھے۔‘‘ وہ تاسف سے بولیں۔
واقعہ یوں ہے کہ ایک خاتون کے ساتھ ڈکیتی کی واردات ہوئی۔ وہ ابھی اپنی گلی میں پہنچی ہی تھیں کہ راہزنوں نے ان کا پیچھا کرتے کرتے ان کے گھرکے قریب گن پوائنٹ پر ان سے تمام نقدی، زیورات چھین لیے، اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ان کا پرس بھی لے کر چلتے بنے۔ واقعے کے بعد اہلِ محلہ جمع ہوئے، اور ہر ایک کا یہی کہنا تھا کہ اتنا روپیہ لے کر ہی کیوں گئیں، آپ ہی کا قصور ہے۔ مطلب یہ کہ بندہ ایک تو نقصان برداشت کرے، ڈکیتی کے بعد جان بچ جانے پر اللہ کا شکر ادا کرے یا لوگوں کو اپنی صفائیاں پیش کرتا رہے، یا پھر اس بے حس معاشرے پر روتا رہے۔
دنیا نیوز میں عمارہ گوندل لکھتی ہیں:
۔’’روزانہ ہمارے سامنے کتنے ہی حادثات ہوکر گزرتے ہیں۔ ٹی وی پر مسلسل بریکنگ نیوز چلتی ہیں۔ مگر ہم تو ایک ہی بات سوچتے ہیں کہ ہم سوائے اپنے چند لمحے سوگ کی نذر کرنے کے، اور کر بھی کیا سکتے ہیں! ہم میں کوئی قائد کی روح تھوڑی بستی ہے۔ ہم کسی نیلسن منڈیلا کے علاقے کے باسی نہیں ہیں۔ ہم حسینؓ ابن علیؓ جتنے بہادر نہیں کہ ظالم کے سامنے سر اٹھا سکیں۔
یاد رکھیں، اپنے اردگرد اپنے ہم جنسوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف ردعمل کے لیے کسی بہت بڑے عزم یا بڑی بہادری کی ضرورت نہیں ہے، صرف احساس کی ضرورت ہے۔ آج جو آگ ہمارے پڑوس میں ہمارے ہم جنسوں کو جھلسا رہی ہے وہ ضرور کل ہم تک بھی پہنچے گی، اگر ہم اسی طرح خوابِ غفلت میں کھوئے کسی اقبال کے انتظار میں بیٹھے رہے تو نقصان ہمیں ہی ہوگا۔ اگر آج ہم اپنے راحت کدے سے نکل کر دوسروں کے لیے نہ لڑے تو کل کو ہماری التجائیں بھی بے سود جائیں گی۔‘‘

بے حسی آدھی موت ہے
یعنی ہم لوگ نیم زندہ ہیں

ڈاکٹراظہر وحید دنیا پاکستان میں لکھتے ہیں:
۔ ’’بے حسی کا زہر ایک نشے کی طرح بتدریج رگ و پے میں اُتر جاتا ہے اور بالآخر فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ ہر خودغرض بے حس ہوتا ہے، اور ہر دردمند ایک حساس دل کا مالک ہوتا ہے۔ بے حسی یہ ہے کہ انسان اپنی ظاہری اور باطنی ذمہ داریوں سے غافل ہوجائے۔ ظاہری ذمہ داریاں حقوق العباد کے زمرے میں آتی ہیں اور باطنی ذمہ داریا ں حقوق اللہ کا زمرے میں۔ ظاہر اور باطن میں فرق بغرضِ تفہیم ہے۔ جب تفہیم مکمل ہوجاتی ہے تو فرق نکل جاتا ہے، تفریق ختم ہوجاتی ہے۔ ظاہر اور باطن میں ثنویت کا ایک ربط ضرور ہے لیکن اس ربط میں ہمیشگی نہیں ہے۔ ثنویت کا تعلق صرف انسانی شعور کے ساتھ ہے، وگرنہ حق اور مظاہرِ حق سب لباسِ حقیقت میں ہیں… اور حقیقت میں دوئی کا شائبہ نہیں۔ اس طرح حقوق العباد سب کے سب حقوق اللہ ہی ہوتے ہیں، کیونکہ بندے سارے کے سارے اللہ کے بندے ہی تو ہوتے ہیں۔ بے حسی حقوق کا نعرہ بلندکرتی ہے لیکن اپنے فرائض کی آواز پر کان نہیں دھرتی۔ ایک حساس دل اپنے فرائض تو کیا، نوافل تک ادا کرنے میں منہمک رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے اکثر محلِ قرب میں پایا جاتا ہے۔‘‘
ہم سب نے شاید بنی اسرائیل کا وہ واقعہ پڑھا ہو جس میں اللہ نے بنی اسرائیل کے دور میں ایک بستی پر عذاب کا فرمان جاری کیا۔ فرشتوں نے عرض کیا: یا الٰہ بے شک وہ بستی ظلم و زیادتی،ناانصافی، بے حیائی اور تمام گناہوں کا مرکز بن چکی ہے، لیکن وہاں آپ کا ایک نیک بندہ موجود ہے جو دن رات آپ کی عبادات میں مصروف رہتا ہے۔ دن میں طویل قیام اور راتوں میں طویل سجدے اس کا محبوب مشغلہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’عذاب اسی کے گھر سے شروع کرو۔ اس نے میری اتنی نافرمانی ہونے کے باوجود خاموشی و بے حسی اختیار کیے رکھی۔کسی کو کبھی معروف کا حکم دیا نہ منکر سے روکا۔ وہی سب سے زیادہ نافرمان ہے۔ عذاب کا سب سے بڑا محرک وہی ہے۔‘‘
ہم معاشرے کو ٹھیک نہیں کرسکتے مگر کم از کم غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح تو کہہ سکتے ہیں۔ ہمارا ایمان بھی ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’تم میں سے جو بھی برائی دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو دل سے روکے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 49)۔
مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی برائی جو آپ کے سامنے ہورہی ہے وہ برائی ختم ہونی چاہیے، چاہے وہ آپ کے ہاتھ سے ختم ہو یا کسی اورکے ہاتھ سے۔ اگر اپنے ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو پھر زبان سے روکیں، آپ کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ سنتے ہیں یا آپ سے اعراض کرتے ہیں، بلکہ آپ پر تو صرف اس کی تبلیغ کی ذمہ داری ہے۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کے کلام کی بنا پر اُن میں سے کسی ایک کے دل میں ہدایت ڈال دے، اگر آپ نہ روکیں تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیطان آپ کے ذہن میں یہ دلیل ڈالے کہ وہ تو آپ کی بات ہی نہیں سنیں گے اس لیے آپ برائی کونہ روکیں۔
اردو ویب پر مشہور محقق متلاشی بے حسی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ہماری نوجوان نسل اس بات سے بے خبر ہے کہ وہ سائنس جس کی بنا پر آج کفار ہم پر مسلط اور حاوی ہیں، کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی تھی۔ ہمیں وہ منظر بھلا دیا جاتا ہے جب بغداد میں ہلاکو خان نے نہ صرف لاکھوں مسلمانوں کو خون میں نہلایا بلکہ اُن کی متاع، ان کی کئی قیمتی کتابوں کو دریا میں بہا دیا گیا، اور بقیہ اہم کتابیں وہ اپنے ساتھ لے گیا۔ اسی درد کو دل میں لیے اقبال کہتا ہے:

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں اُن کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

دشمن ہم پر ہر طرف سے وار کیے جارہا ہے، مگر افسوس ہم ہیں کہ دشمن کے وار روکنے کے بجائے، اُسے اپنا دوست اور ہمدرد سمجھ کر اس سے دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ اور ایک مسلمان ہونے کے ناتے، ہم قرآنِ مجید کے کھلے اور واضح ارشادات کو بھول بیٹھے ہیں۔ جن میں سے ایک جگہ اللہ تعالیٰ مومنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے، جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے: ’’اور یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بنائو، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست تو ہوسکتے ہیں، مگر تمہارے نہیں‘‘۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے:’’اور یہود و نصاریٰ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں بن سکتے، جب تک کہ تم ان کی ملت کا اتباع نہ کرنے لگو۔‘‘
قرآنِ مجید کی اس صداقت کو ہم اپنی آنکھوں سے پرکھ بھی چکے ہیں… اور آج ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ’’امریکا کی دشمنی سے امریکا کی دوستی زیادہ بھاری ہے‘‘۔
مگر افسوس آج بھی ہماری سوچ کا یہ حال ہے کہ ہم بجائے ربّ کے محتاج ہونے کے، امریکا کے محتاج بن گئے ہیں۔ ایک دفعہ میری ایک دوست سے اسی بارے میں گفتگو ہورہی تھی کہ جنابِ موصوف فرمانے لگے: ’’اگر آج ہم امریکا کو چھوڑ دیں تو ہم بھوکے مرجائیں، ہمارا ملک تباہ ہوجائے‘‘ (نعوذباللہ من ذالک)۔ گویا ہم مسلمان اور مومن ہو کر بھی کافر کے سامنے سر نگوں ہیں۔ حالانکہ مسلمان کی شان تو یہ ہے، بقول اقبالؒ:۔

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

مگر ہم اسلحہ سے لیس ہونے کے باوجود، ایک ایٹمی ملک ہونے کے باوجود، اپنی جبین امریکا اور مغرب کے سامنے جھکائے ہوئے ہیں۔‘‘
ابھی ماضیِ قریب ہی کی بات ہے، کشمیر کی حساسیت کے پیش نظر جماعت اسلامی اور دوسری حساس جماعتوں نے باہم مل کر کشمیر کے حق میں آواز اٹھانے اور عالمی طاقتوں کو جھنجھوڑنے کے لیے جماعت اسلامی کے تعاون سے ریلی کے حق میں آواز اٹھائی۔ بہترین ریلی نکالی گئی۔ شدید حبس اور بعد میں شدید بارش کے باوجود لوگوں کی تعداد میں کمی نہ آئی۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جذبات میں صرف اللہ اور رسولؐ کی خاطر ایک امت کا درد لیے کشمیر کی ماؤں، بیٹوں کے درد کو محسوس کرتے ہوئے کشمیر کے حق میں نعرے لگاتا رہا۔ واپسی میں تھکے ہوئے جسم گیلے کیچڑ زدہ کپڑوں کے ساتھ جب لوگوں کے درمیان پہنچے تو بے حس ٹولے کی آواز بلند ہوئی’’وہ دیکھو،کشمیر آزاد کرواکر آرہے ہیں‘‘۔ دور سے تشفی نہ ہوئی تو پاس آکر بولے ’’کشمیر کل تک آزاد ہوجائے گا‘‘۔ اور جانے والے دل مسوس کر رہ گئے کہ یاالٰہی یہ کیسے لوگ ہیں نہ خود کوئی درد محسوس کرتے ہیں نہ امت کے درد میں ہم جیسوں کو بے چین ہونے دیتے ہیں! اللہ نے دل میں یہ بات ڈالی کہ سورۃ الانفال کا مطالعہ کیا جائے۔ اور پھر سمجھ میں آیا کہ عبداللہ بن ابی 300 منافقین کو لے کر کیوں الگ ہوا تھا۔ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عمرؓ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ کے دور میں منافقین ہوسکتے ہیں تو اب کیوںنہیں؟ خدارا اس بے حسی سے نکلیے۔ حافظ زوہیب طیب ’نئی بات‘ میں بے حسی کا حل بتاتے ہیں:
۔’’دیر آید، درست آید کے مصداق اگر مزید وقت ضائع کیے بغیر ہم نے اپنے لوگوں کی تربیت کے لیے کام کا آغاز کردیا تو مجھے یقین ہے کہ فوری طور پر اس کے مثبت نتائج ملنا شروع ہوجائیں گے۔ اگر خدانخواستہ ہم نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اور ان کے پس پردہ وجوہات کے خاتمے کے لیے کوئی واضح پالیسی نہ بنائی تو پھر مقدس خونیں رشتے مزید پامال ہوتے رہیں گے، اور یوں کوئی بیٹی اپنے باپ پر، اور باپ بیٹی پر اعتبار نہ کرے گا۔ بیوی شوہر پر، اور شوہر بیوی پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہیں گے۔ بہن، بھائی، ماں اور باپ جیسے رشتے اپنا اعتماد کھو بیٹھیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں ایسا سب کچھ ہونا شروع ہوجائے وہ معاشرے اخلاقی پستی کا شکار ہوکر تباہی و بربادی کے راستے کے مسافر بن جاتے ہیں، اور پھر جہاں کوئی کسی پر اعتبار نہیں کرتا، جہاں سب رشتے مادیت کا شکار ہوکر اپنا وقار کھو بیٹھتے ہیں، اور پھر پاس بیسیوں لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی انسان اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے، اور پھر اپنی تنہائی کے خوف میں مبتلا ہوکر دیوانہ ہوجاتا ہے، اور پھر وہ معاشرہ دیوانوں کا معاشرہ بن جا تا ہے۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔‘‘
ہمیں اپنے آپ کو اس بے حس معاشرے کے رہن سہن سے علیحدہ کرنا ہوگا۔ ہمیں معاشرے اور امت کے درد کو محسوس کرنا ہوگا، جبھی ہم درست مسلمان کہلانے میں حق بجانب ہوں گے۔

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

حصہ