بچے بے راہ روی کا شکار کیوں؟۔

66

افروز عنایت
میری یہ ادنیٰ سی کوشش رہی ہے کہ میرے آس پاس یا ہمارے اس معاشرے میں جو ایسے واقعات اور حالات نظر آئیں جن سے کسی کو عبرت یا سبق حاصل ہو یا کچھ سیکھنے کا موقع ملے اسے ان سطور کے ذریعے آپ سے ضرورت شیئر کرتی ہوں۔
آج بھی ایسی ہی ایک چیز یا بات آپ سے شیئر کروں گی جس کا شکار اکثر گھرانے نظر آتے ہیں اور اکثر خواتین اس موضوع پر پریشان نظر آتیں یا لب کشائی کرتی نظر آئیں…
میرے پچھلے ایک دو مضامین کا موضوع تعلیم وتر بیت یافتہ خواتین کے بارے میں رہا جس سے کافی خواتین متفق نظر آئیں آج کا موضوع بہت سے اچھی تربیت اور ماحول میں پرورش پانے والے بچے بھی بے راہ روی کے شکار ہو جاتے ہیں اس سلسلے میں پڑھی لکھی خواتین سے گفت و شنید بھی ہوئی۔ جنہوں نے اپنے اپنے نظریات اور خیالات کا اظہار کیا لیکن ایک بات جس پر زیادہ تر خواتین متفق نظر آئیں اور میری بھی ناقص رائے یہی ہے کہ اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ صحبت کی اہمیت سے بھی کسی کو انکار نہیں جی ہاں… کسی کے سنورنے اور بگڑنے کے لیے تعلیم و تربیت، ماحول کے ساتھ ساتھ صحبت کا عمل دخل بھی زیادہ ہے۔
٭…٭…٭
ٹیلر کی دکان پر موجود ایک خاتون جو عبایا زیب تن کیے ہوئے تھی جوان بیٹی کے بے باکی پر جھنجھلا رہی تھی جو ٹیلر سے بضد تھی کہ میری پسند کے کپڑے سی کر دیں اس کے گلے میں لٹکا ہوا دوپٹہ سرکتا جا رہا تھا ماں کے رویے سے لگ رہا تھا کہ اسے یہ سب پسند نہیں آخر اس نے اپنی ضد کے مطابق کپڑے سینے کو دیے جس میں بہت چھوٹی شرٹ اور پنڈلیوں سے اوپر ٹاوزر کی لمبائی رکھوائی ماں کی بے بسی اس کی آنکھوں سے عیاں تھی پتا چلا کہ اس کی یونیورسٹی کی تمام دوستوں کی صحبت کی وجہ سے لڑکی ماں کی تربیت کو بھی فراموش کر بیٹھی ہے اور ان ہی لڑکیوں کے رنگ میں رنگتی جا رہی ہے۔ میری بہو اور بیٹی ٹیلر کو کپڑے سینے کے لیے دے کر واپس آئیں تو یہ بات مجھ سے شیئر کی میں نے اپنی بچیوں سے یہی کہا کہ ماں نے تو اس کی تربیت کے لیے ضرور کوشش کی ہوگی لیکن یونیورسٹی میں سہلیوں کی صحبت اسے بگاڑ رہی ہے اس لیے آپ مائوں کی یہ بھی کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارے بچوں کے دوست کسی قسم کے ہیں ان کی کیا سرگرمیاں اور عادات ہیں لیکن ساتھ ساتھ اس بات کا خیال بھی رکھنا ضروری ہے کہ آپ کا طریقہ کار مثبت ہو جس سے بچے نہ برا مانیں نہ ان کی خود اعتمادی مجروح ہو یعنی سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، اس سلسلے میں اماں کا ایک جملہ مجھے ازبر ہے اور میں اپنی بیٹی کی تربیت کے سلسلے میں بھی دہراتی تھی اماں بڑے پر اعتماد لہجے میں ہم سے کہتی کہ مجھے یقین ہے کہ میری بیٹیوں کو تعلیمی درسگاہ اور گھر کے بیچ میں آنے والے کسی راستے سے لگائو نہیں اماں کی یہ بات ہم چاروں بہنوں نے گرہ میں باندھ لی جس کی وجہ سے دوست بناتے ہوئے بھی احتیاط برتی، اس جملے کا بھرپور احساس جب ہوا جب اپنے بچے بڑے ہوئے۔
اماں کے اس جملے اور اسی قسم کے کچھ اور جملوں نے نہ صرف ہم میں اعتماد پیدا کیا کہ اسکول اور گھر کے بیچ جو کچھ ہے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہم بگڑ نہیں سکتے یا اس سے متاثر نہیں ہو سکتے بلکہ قدم قدم پر احتیاط کی اور اماں پر مکمل بھروسہ کیا میری بیٹی بھی میرے اسی طرز عمل کی وجہ سے نہ صرف محتاط رہی بلکہ اپنی ہر بات مجھ سے ضرور شیئر کرتی۔ اسی طرح بیٹیوں کے ساتھ بھی ماں باپ کا یہی طریقہ کار اپنے خصوصاً (ٹین ایج) درمیانی عمر کے بچے ان کی سرگرمیوں اور دوستوں کے بارے میں ماں باپ کو نظر رکھنی ضروری ہے۔ ایک تیس پینتس سالہ لڑکے نے کہا کہ ناممکن ہے کہ یونیورسٹی اور کالج میں پہنچ کر کوئی لڑکا ’’سگریٹ نوشی‘‘ سے بچ پائے کیونکہ وہاں اس کا واسطہ ہر قسم کے دوستوں سے پڑتا ہے ان دوستوں کی صحبت سے ان میں ’’بری عادتیں‘‘ آ ہی جاتیں ہیں اس لڑکے کا کہنا کافی حد تک درست ہے کہ ’’ایسی عادتیں‘‘ دوستوں کی وجہ سے ہی پڑتیں ہیں بلکہ ایسے دوست بامثل ہم تو ڈوبے ہیں تمہیں بھی لے ڈوبیں گے ان سطور کے ذریعے میں ان بچوں سے بھی یہی کہوںگی کہ ایسے لوگوں کی صحبت سے بچیں۔
میرا چھوٹا بیٹا جب اسکول میں زیر تعلیم تھا جماعت ہفتم یا ہشتم میں ایک لڑکا ان کی کلاس میں داخل ہوا کچھ عرصے میں اس کے بارے میں اسکول میں یہ جملے باز گشت کر رہے تھے کہ اس کا تعلق جس گھرانے سے ہے وہاں منشیات کا استعمال اسمگلنگ اور دوسرے قسم کا کاروبار عام ہے مجھے جب عبداللہ نے گھر آکر یہ بات بتائی تو میں نے عبداللہ کو اس سے محتاط رہنے کی تاکید کی اور اس بات پر مجھے خوشی و تسلی بھی ہوئی کہ عبداللہ مجھ سے یہ باتیں شیئر کرتا ہے۔ خیر اگلے سال وہ بچہ اسکول سے چلا گیا انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کے ایک ہفتے بعد عبداللہ نے مجھے بتایا کہ امی وہ لڑکا بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے آج جب میں کلاس روم سے باہر آیا تو وہ مجھ سے آکر بڑی گرم جوشی سے ملا اور حال احوال لینے لگا (مجھے تھوڑی تشویش ہوئی) لیکن اگلے جملے کے بعد میں کچھ مطمئن ہوئی جب عبداللہ نے کہا ایسے لوگوں کی دوستی سے دور ہی رہنا چاہیے۔ بعد میں بھی عبداللہ نے ایک دو مرتبہ بتایا کہ اس لڑکے سے سر سری طور پر صرف ایک آدھ مرتبہ سلام دعا ہوئی ہے۔ اس واقعہ کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور ساتھ ساتھ اس کے دوستوں کے بارے میں معلومات رکھنا بھی ضروری ہے یونیورسٹی میں میری بیٹی کی چند ہم جماعت بچیوں سے دوستی تھی میں نہ صرف ان بچیوں سے بہانے سے یونیورسٹی جا کر ملی (کیونکہ کبھی کبھار بیٹی کو لینے یونیورسٹی جاتی تھی) بلکہ کسی طریقے سے ان کے گھر والوں (مائوں سے بھی) ملاقات کی۔ بے شک صحبت اور ماحول کا اثر انسان پر آتا ہے خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ بدلتا ہے یہ مثل کچھ غلط بھی نہیں میرے آس پاس بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے اندر اچھی صحبت کی وجہ سے مثبت تبدیلی آئی، دینِ اسلام جو ضابطۂ حیات ہے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی تاکید و تعلیم دینا ہے۔ رب العزت نے قرآن پاک میں مسلمانوں کو نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے اور بد لوگوں کی صحبت سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیتوں (احکام شریعت) میں عیب جوئی کررہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہو جا یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ اور اگر تجھے شیطان بھلا دے (کہ تو ایسی مجلس میں جا بیٹھے) تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس نہ بیٹھ‘‘ (پ 7 ع 14) اس آیت کریمہ سے واضح ہے کہ بری مجلسوں یعنی برے لوگوں کی صحبت سے بچو اگر شیطان بہکا کر ان لوگوں تک لے جائے تو یاد آنے پر یا احساس ہونے پر فوراً ایسے لوگوں سے دور ہو جائو۔
اسی طرح ایک اور جگہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش رہ جنہوں نے اپنے دین کو لہو و لعب بنا رکھا ہے اور دیناوی زندگی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔‘‘ (پ 7ع14)۔
آپؐ نے بھی لوگوں کو نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے پر زور دیا ہے ارشاد نبیؐ ہے کہ مومن کے سوا کسی کی صحبت مت اختیار کرو (شکواۃ) ۔
حضرت عباسؓ سے روایت ہے کہ آپؐ سے پوچھا گیا کو ن سا ہم نشیں سب سے اچھا ہے۔ حضورؐ نے فرمایا جس کا دیکھنا تم کو اللہ یاد دلا دے۔ اور اس کا بولنا تمہارے علم میں ترقی دے اور اس کا عمل تم کو آخرت کی یاد دلا دے ان قرآنی آیات اور ارشادات نبویؐ سے صحبت کی اہمیت واضح ہے۔
جس طرح انگور کے گھچھے میں سے ایک دانہ کھا کر اس کے میٹھے اور کھٹے ہونے کا اندازہ ہو جاتا ہے اسی طرح کسی مجلس میں شرکت رکھنے والے کسی ایک شخص سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس محفل کا رنگ کسی قسم کا ہے لہٰذا سوچ سمجھ کر کسی مجلس میں شرکت کریں یا کسی سے دوستی بڑھائیں ایک دم نہ سہی آہستہ آہستہ سامنے والے کا رنگ ضرور آپ پر آسکتا ہے اگر سامنے والا اچھے نیک و عمل و کردار کا مالک ہو گا تو یقینا آپ پر بھی اس کا رنگ آئے گا ذہن میں یہ بات رکھیے گا جس کا رنگ زیادہ اسٹرانگ (پختہ) ہو گا اس کا اثر سامنے والے پر پڑے گا لہٰذا اپنے بچوں کو بھی اچھے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی تاکید کریں اور آپ خود بھی اس بات پر نظر رکھیں کہ ان کا اٹھنا بیٹھنا کسی قسم کے لوگوں کے ساتھ ہے خدا نخواستہ ان میں کوئی منفی تبدیلی نظر آئے تو ضرور اس پہلو پر بھی غور کیجیے کہ ان کی صحبت کس قسم کے لوگوں سے ہے رب العزت ہم سب کو اپنی اولاد کی صحیح رہنمائی کرنے کی توفیق عطا کرنے اور ہر بچے، جوان، بوڑھے کو اچھے لوگوں کی صحبت نصیب ہو جو انہیں راہ حق کی طرف لے جائے آمین۔
میرے والدین محترم اپنی جوانی کی بات بتاتے تھے کہ کچھ ’’معروف‘‘ لوگوں سے ان کی دوستی تھی جب مجھے ان دوستوں کی ’’کچھ بری عادات‘‘ کا پتا چلا تو آہستہ آہستہ میں ان سے دور ہوتا گیا کیونکہ وہ جس ’’لت‘‘ میں گرفتار تھے ان کی صحبت میں رہ کر اس سے دور نہیں رہ سکتا اور دیکھا جائے تو شراب، جوا، سگریٹ نوشی وغیرہ وہ برائیاں ہیں جو دوستوں میں سے ہی لگتیں ہیں اور جو لوگ ان برائیوں میں ملوث ہوتے ہیں وہ ان برائیوں کو برائی نہیں بلکہ ’’فیشن‘‘ کا ایک حصہ سمجھتے ہیں جدید زندگی (ماڈرن زندگی) کی نشانیاں ان ہی برائیوں کو سمجھا جاتا ہے آج کل لڑکیوں کا بے باک انداز، فیشن، لباس یہ اسی جدید زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں جو بچیاں ان برائیوں سے دور رہتی ہیں انہیں دقیانوسی اور گنوار جیسے القا بات سے نوازا جاتا ہے بہت سی بچیاں اپنی دوستوں کے ایسے طعنوں کی وجہ سہلیوں کے یہ انداز اپنانے لگیں ہیں پھر آہستہ آہستہ اسی رنگ میں ڈھل جاتی ہیں لہٰذا بچوں اور بچیوں کو خود بھی یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ان کے ماحول سے مختلف خیالات اور عادات رکھنے والے لوگوں کی صحبت سے دور رہیں میرا ایک بیٹا جو شادی شدہ ہے دوحہ میں رہائش پزیر ہے گرچہ والدین اس عمر میں بچوں سے غافل ہو جاتے ہیں لیکن میں پاکستان میں رہ کر بھی اس کے دوستوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتی ہوں جب وہ اپنے دوستوں کی اچھی باتیں مجھ سے شیئر کرتا ہے تو میں خوش ہوتی ہوں کہ وہ بچے بھی صوم و صلوٰۃ کے پابند اور نیک ہیں مجھے قدرے اطمینان محسوس ہوتا ہے۔ مجھے مزید مطمئن اور خوش کرنے کے لیے جب میں دوحہ جاتی ہوں تو ان کی فیملیز اور ان سے ملاتا ہے ان ’’جماعت کے لڑکوں‘‘ کی دوستی میں میرے بیٹے کو نہ صرف اچھی باتیں سیکھنے کا موقع ملا ہے بلکہ وہ بھی اس کی صحبت سے کچھ حاصل کرتے ہیں جیسا کہ آپؐ کی حدیث سے واضح ہے کہ دوست ایسا جس کا دیکھنا اللہ کی یاد دلائے، اس کا بولنا علم میں اضافہ کرے اور اس کے عمل کی وجہ سے آپ کو بھی آخرت سنوارنے کا موقع ملے رب العزت ہمیں اچھے نیک لوگوں کی صحبت نصیب کرے آمیں تاکہ ہماری دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنور سکے (آمین)۔

حصہ