بدلو سوچ ۔۔۔ بدلو زندگی

73

ناصر محمود بیگ
سقراط کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : ’’بتائیں میرا مستقبل کیسا ہوگا ؟‘‘ سقراط نے ایک کاغذ منگوایا اور کہا اس پر اپنے خیالات لکھو، اس نے جو جو سوچا تھا سب لکھ ڈالا۔ سقراط نے بتا دیا کہ جیسے تمہارے خیالات ہیں اس کے مطابق تمہارا مستقبل ایسا ہو گا ۔معروف مصنف نپولین ہل کہتا ہے:’’دنیا میں اتنا خزانہ زمین میں سے نہیں نکالا گیا،جتنا کہ انسان نے اپنے ذہن، خیالات ،تصورات اورسوچ کے سمندرسے حاصل کیا ‘‘۔اچھی سوچ ایک ایسا خزانہ ہے جس سے مٹی کو بھی سونا بنایا جاسکتا ہے جبکہ منفی اور گھٹیا سوچ رکھنے والا شخص سونے کو ہاتھ ڈالے تو وہ بھی مٹی بن جائے ۔ا چھا سوچنے والے لوگ مسائل کو حل کرنے کی بہتر اہلیت رکھتے ہیں ۔وہ اپنے آپ کو دوسروں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑتے کہ ایسے ان سے کوئی نا جائز فائدہ اٹھائے اور ان کو دھوکا دے ۔جن کی اپنی آزاد سوچ ہوتی ہے ان کو غلام نہیں رکھا جا سکتا ۔اور قوموں کی غلامی اصل میں سوچ کی غلامی ہوتی ہے ۔تاریخ کے مشہور آمر حکمران اڈولف ہٹلر نے کہا تھا :’’ہم جیسے حکمرانوں کو لوگوں پر حکومت کرنے کا موقع آسانی سے مل جاتا ہے کیونکہ اکثر لوگوں کے پاس سوچ اور فکر نہیں ہوتی‘‘۔جان میکسویل نے چالیس سال دنیا کے کامیاب لوگوں پر تحقیق کی۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ ایک وصف ان سب میں مشترک ہے اور وہ یہ کہ ان سب کا سوچنے کا انداز ایک جیسا ہوتا ہے۔یہ اندازفکر ہی ہے جو کامیاب اور ناکام شخص میں تفریق پیدا کرتا ہے۔میکسویل نے یہ بھی بتایا کہ اچھا سوچنا بھی ایک فن ہے جو سیکھنا پڑتا ہے،اچھے خیالات کوئی ایسی چیز نہیں جو آپ کو ڈھونڈتے پھریں یاپھرآپ کے ذہن میں خود بخود آجائیںبلکہ آپ کو انہیں تلاش کرنا پڑتا ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی سوچ بہتر ہوجائے اوراچھے اچھے خیالات آپ کے ذہن میں آئیں تو جان میکسویل کے بتائے ہوئے چند طریقوں پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔
؎برتن میںجو ڈالو گے ،وہی باہر آئے گا
ایک آفاقی اصول ہے کہ برتن میں سے وہی چیز باہر آئے گی جو اس میں ڈالی گئی ہو گی،یہ نہیں ہو سکتا کہ اس میں ڈالیں پانی اور نکلے شہد۔۔۔۔۔آپ اپنے روز مرہ معمولات میں جو کچھ دیکھیں گے،پڑھیں گے،سنیں گے یا جس قسم کے ماحول میں آپ رہیں گے اسی قسم کے خیالات آپ کے ذہن میں پیدا ہونے لگیں گے۔دنیا کے کامیاب مفکرین اور فلاسفروں نے ہمیشہ اپنے ماحول سے متاثر ہو کر ہی اتنے زبردست نظریات پیش کیے۔نیوٹن کے سر پر اچانک درخت سے سیب گر کر لگتا ہے، پھر وہ اس کی وجہ پر غور وفکر کرتا ہے اور آخر کار کشش ثقل کا قانون پیش کر دیتا ہے۔مشہور انگریزی نظم ’’ڈیفوڈلز‘‘ کا شاعر’’ورڈزورتھ‘‘ فطرت کے دلفریب نظاروں کا دلدادہ نہ ہوتا تو ایسی شاندار نظم تخلیق کبھی نہ ہوتی۔اس لیے اچھی اچھی کتابیں پڑھنا،بڑے لوگوں کی باتیں سننااورفطرت کے قریب رہنا ،سوچ کے بند دروازے کھول دیتا ہے۔
جیسی صحبت ویسی سوچ
مشہور انگریزی مقولہ ہے کہ اگر کسی انسان کے کردار کو پرکھنا ہو تو اس کے دوستوں کو دیکھ لیں ۔آپ کا اٹھنا بیٹھنا جس قسم کے لوگوں میں ہو گاان کا رنگ آپ کی سوچ پر ضرور چڑھ کر رہے گا۔خوشبو کی دکان پر جائیں گے تو کچھ نہ بھی خریدیں پھر بھی کپڑوں میں خوشبو رچ بس جائے گی۔کوئلے کی دکان پر جائیں گے تو کوئلہ نہیںخریدیں گے تب بھی کپڑوں پر کالک لگ جائے گی۔ا گر آپ کے ارد گرد تیز طراراورکاروباری سوچ رکھنے والے لوگ ہوں گے تو آپ کی سوچ میں بھی تیزی آجائے گی۔آپ اپنی سوچ کو جس سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیںاسی شعبے کے لوگوں سے میل جول بڑ ھا دیں ۔لہذااچھا سوچنے والوں کی دوستی بھی انسان کو اچھی سوچ کا مالک بنا دیتی ہے۔
اچھے خیالات کا انتخاب کریں
انسان کے ذہن میں ہر وقت خیالات آتے اور جاتے رہتے ہیں ان میں کچھ اس کے لیے مفید اور مثبت ہوتے ہیں اور بعض اس کو غلط راستے پر چلا دیتے ہیں۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ خیالات کو اچھی طرح چھان پھٹک کر اپنی عادات اور کردار کا حصہ بنائیں۔ذہن میں کسی خیال کا آنا ہمارے اختیار میں نہیں ہوتامگر ان میں سے اچھے خیالات کا انتخاب کرکے انہیں عملی جامہ پہنانا ہمارا کام ہے۔کسی دانشور کا قول ہے: ’’ دل کے دروازے پر دربان بن کر بیٹھ جائواور دیکھو کہ کون سا خیال آتا ہے اورکون سا خیال جاتا ہے‘‘۔جس طرح ہم گھر کا دروازہ کھلا نہیں چھوڑ تے تاکہ کوئی آوارہ کتا یا چور وغیرہ گھر میں داخل نہ ہو جائے ، اسی طرح ہمیں یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ذہن میں آنے والا خیال مثبت ہے یا منفی؟کیا یہ میرے کام کا ہے یا نہیں؟
اپنے اچھے خیالات پر خود بھی عمل کریں
خیالات اور نظریات کی زندگی بہت مختصر ہوتی ہے،یہ بہت جلد اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔یہ انسان کا کردار اور عمل ہی ہے جو اس کی سوچ کو زندہ رکھتا ہے۔ دنیا میں بہت سے مفکر اور دانشور گزرے جنہوں نے کامیابی کے موضوع پر درجنوں کتابیں لکھ ڈالیں مگر ان میں سے بعض اپنی ذاتی زندگی میں بری طرح ناکام رہے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے اوروں کو تو کامیابی کے فارمولے بتائے مگر اپنی زندگی میں ان پر عمل نہ کر سکے۔اس لیے بہت سا اچھا سوچ کر اس پر عمل نہ کرنے سے بہتر ہے کہ تھوڑا سا اچھا سوچ کر اس پر عمل پیرا ہو جائیں۔
سوچ کو جذبات سے آزاد رکھیں
اچھی سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جو محسوس کریں اس پر فوری کوئی رائے یا خیال پختہ نہ کر لیں۔کسی واقعہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرنے پہلے اس کا اچھی طرح تجزیہ کر لیں۔ہمیشہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔کبھی بھی جذبات کی رو میں بہہ کر کوئی منصوبہ نہ بنائیں۔یاد رکھیں ،محسوس کرنے اور سوچنے میں فرق ہوتا ہے ۔جذبات دریا کی موجوں کی طرح عارضی ہوتے ہیں جبکہ سوچ دریا کا نہ رکنے والا بہائو کا نام ہے۔ اپنی سوچ کی نائو کو جذبات کی لہروں کے رحم و کرم پر مت چھوڑیں بلکہ اپنے محسوسات اور جذبات کو اپنے اچھے خیالات کے تابع کریں۔
اچھے خیالات کا تسلسل جاری رکھیں
زندگی میں کامیابی کے لیے صرف ایک اچھا خیال کافی نہیں ہوتا ،جیسے اگر ایک شاندار کھیل پیش کرنے والا کھلاڑی ،صرف ایک کتاب کا مصنف،ایک تقریر کرنے ولا مقرر اور ایک ایجاد کاموجداپنی پہلی کامیابی پر تکیہ کر کے بیٹھ جائیں ،مزید آگے نہ بڑھیں،خوب سے خوب تر کی تلاش نہ کریں تو یہ ان کی خام خیالی ہو گی۔اسی طرح اچھے خیالات کو ذہن میں جگہ دیں اور نئے نئے خیالات کو ہمیشہ خوش آمدید کہیں۔
سوچ ۔۔۔۔انسانی زندگی کے اہم ترین عوامل میںسے ہے جو اس کے اعمال،عادات،اخلاق، کردار اور مستقبل پر اثراندازہوتی ہے۔تحقیقات سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والی سب اہم شے اس کی سوچ ہی ہے۔سوچ دو طرح کی ہوتی ہے، مثبت اور منفی۔سوچ منفی اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی کو سوچنا نہیں آتا،اس کے ذہن میں پہلے سے منفی یادداشتوں کی بھر مار ہوتی ہے وہ ہر واقعہ اور تجربہ کو ایک ہی عینک سے دیکھنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے ۔اس کے پاس منفی سوچ کے مقابلے میں مثبت سوچ کی متبادل آپشن ہی نہیں ہوتی۔اگر سوچنے کا فن آجائے تو اس کو مثبت اور منفی میں سے انتخاب کرنا آجاتا ہے۔منفی سوچ کو مثبت بنانے کا فن سیکھنا کچھ مشکل نہیں۔ جان میکسویل نے اپنی کتاب ’’کامیاب لوگ کیسے سوچتے ہیں؟‘‘ میںبتایا کہ ان اقدامات سے ہم بھی اپنی زندگی سے منفی سو چ کوکم کر سکتے ہیں۔مثبت سوچ کے محرکات کو اپنا کر،اچھی سوچ کے مالک افراد سے دوستی کر کے،مثبت خیالات کا انتخاب کر کے،اپنی اچھی سوچ پر خود عمل کر کے ،سوچ کو جذبات سے آزاد کر کے اور اچھے خیالات پر مسلسل کام کر کے سوچ بدلنا ممکن ہے۔بس رکاوٹ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنی سوچ کو خود نہیں بدلنا چاہتا۔

حصہ