اہلِ ایمان کی آزمائش

80

سیدہ عنبرین عالم
۔’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں‘ اور توبہ نہ کی‘ ان کے لیے دوزخ کا عذاب بھی ہے اور جھلسا دینے والا عذاب بھی ہے۔‘‘ (سورۃ البروج، آیت 10)۔
محمد عثمان حیدرآباد دکن کے نواحی علاقے افضل گنج میں رہتے تھے۔ اس علاقے میں مسلم آبادی کم تھی، یہ علاقہ انڈیا کے اُن چھوٹے شہروں میں سے تھا جہاں متوسط سے بھی نچلا طبقہ رہائش پذیر تھا۔ حجام، موچی، کمہار، بڑھئی اور ایسے ہی چھوٹے موٹے کام کرنے والے۔ پرانا حیدرآباد دکن ایسا شہر ہے جس کے چاروں طرف مغل گورنر مُبارز خان نے 1712ء میں اونچی دیوار بنائی تھی، افضل گنج اس دیوار کے باہر تھا۔ صدیوں سے ہندو اور مسلمان مل جل کر رہ رہے تھے، یہی وجہ تھی کہ محمد عثمان کے والدین نے تقسیم ہند کے وقت پاکستان کی طرف ہجرت نہیں کی تھی۔ محمد عثمان 62 برس کے ہوگئے تھے اور اب بس گھر سے مسجد اور مسجد سے گھر تک محدود تھے۔ جو میل جول تھا مسجد میں ہی تھا، البتہ ان کے دو بیٹے تھے اکرم اور ندیم، اُن دونوں نے ایک ہندو دوست اشوک سے شراکت داری کرکے فارمی مرغی کا گوشت اور انڈے بیچنے کی دکان کھول لی تھی۔ اس علاقے میں پہلے ہی گوشت کی کوئی دکان نہیں تھی اس لیے دکان خوب چل گئی۔ اب تو ہندو بھی کثرت سے مرغی کا گوشت کھانے لگے تھے۔ زیادہ تر اچھوت آبادی تھی، وہ تو ویسے ہی زیادہ مذہبی نہیں ہوتے، پھر لوگوں کے اصرار پر جمعہ کے روز ایک بکرا بھی ذبح کرنے لگے جو ہاتھوں ہاتھ بک جاتا۔ اس طرح گھر میں خوش حالی آگئی۔ محمد عثمان رب کے اور زیادہ شکر گزار ہوگئے، مزید کثرت سے عبادت کرنے لگے اور علاقے کی بیوائوں اور بے سہارا عورتوں کے مہینے کے پانچ سو یا ہزار بھی باندھ دیے، مگر ظاہر ہے وہ یہ نیکی صرف مسلم خواتین کے ساتھ کررہے تھے، کیوں کہ پورے انڈیا کی طرح افضل گنج میں بھی مسلم آبادی دیگر اقلیتوں کی بہ نسبت بہت زیادہ خستہ حال تھی۔ بہرحال یہ گھرانا اب سب کی نظروں میں آگیا تھا، کچھ لوگ عزت کرنے لگے تو کچھ حسد کرنے لگے۔
بھارت میں ہندوئوں کی ایک دہشت گرد جماعت وشوا ہندو پریشد ہے جس کے سربراہ راجیش پانڈے ہیں۔ ان کا نوجوان ونگ ’’بجرنگ دل‘‘ کہلاتا ہے۔ ان کا نظریہ ہندوتوا کا ہے۔ یہ 8 اکتوبر 1984ء میں بنی تھی۔ اس جماعت کا ایجنڈا یہ ہے کہ ہندوستان کا مطلب ہندوئوں کا دیس ہے اور ہندوستان میں صرف ہندو رہنے چاہئیں۔ یہ ہر اقلیت کے خلاف ہیں، لیکن مسلمانوں سے زیادہ نفرت کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں نے ان کو ایک ہزار سال تک غلام بناکر رکھا اور یہ چوں تک نہ کرسکے۔ یہ اس غلامی کا بدلہ اب ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں سے لینا چاہتے ہیں۔ اشوک کا تعلق اسی جماعت سے تھا، وہ ذات کا راجن تھا، جو اصل میں کھشتری ہوتے ہیں۔ اس کی دوستی اکرم اور ندیم سے کالج میں تھی، جب اسے پتا چلا کہ اس علاقے میں گوشت کی کوئی دکان نہیں تو اس نے اپنا سرمایہ لگا دیا، ورنہ وہ تو اچھوت اور دلت لوگوں کے علاقے میں کبھی بھی نہ آتا۔ اب بھی نہیں آتا تھا، دکان پر صرف اکرم اور ندیم کام کرتے تھے، وہ صرف اپنا منافع لینے کے لیے آتا تھا۔ سرمائے سے کئی گنا زیادہ رقم وہ وصول کرچکا تھا، مگر اب بھی احسان جتاتا تھا کہ میرا پیسہ نہ ہوتا تو تم لوگ آج بھی مزدوری کررہے ہوتے۔ تین سال سے یہ طعنہ سن سن کر ندیم کا خون کھول جاتا، اکرم بڑا ہونے کے ناتے اسے چپ کراتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے بجرنگ دل کے کسی آدمی سے جھگڑا مول لینا انتہائی خطرناک ہے۔
رمضان کا مہینہ تھا، علاقے میں خاصی غربت تھی، محمد عثمان نے اپنی بیگم اور بیوائوں سے مشورہ کیا کہ ایک افطار مسجد میں صرف خواتین کا رکھا جائے، مرد حضرات تو کہیں نہ کہیں دعوت اڑا ہی آتے ہیں، نہیں تو امیر علاقوں کی مسجدوں میں جاکر ڈھنگ کا افطار کر آتے ہیں، لیکن روزہ دار خواتین سارا دن مزدوری کرتی ہیں اور پھر افطار میں وہی روکھی سوکھی دال روٹی۔ کم از کم ایک دن تو اچھا افطار کرلیں گی۔ علاقے کی ساری عورتیں عثمان صاحب کو ’’ابا میاں‘‘ کہا کرتی تھیں اور دکھ پریشانی میں انہی سے رابطہ کرتیں۔ بیٹوں نے بھی کبھی باپ کو نہ روکا، بلکہ خوش ہوتے تھے کہ اتنی دعائیں ملتی ہیں۔ لہٰذا عثمان صاحب ایک ایک گھر خود جاکر دعوت دے کر آئے۔ بچے اور عورتیں ملا کر تقریباً 500 لوگ بنتے تھے۔ مسجد کے باہر ٹینٹ لگایا، مرغ بریانی کی دیگیں چڑھیں، ساتھ میں مرغ حلیم کو گھوٹے لگنے لگے۔ شام پانچ بجے اشوک اپنی ماہوار وصولی کے لیے آیا، دکان پر اکرم اور ندیم کو نہ پاکر محلے کی طرف گیا تو جشن کا سا سماں۔ عورتوں کا تو نام تھا، محلے کے سارے مرد مل کر کھانا پکا رہے تھے، کوئی چاول چن رہا تھا، کوئی ٹماٹر کاٹ رہا تھا، کوئی حلیم کے لیے ہرا مسالہ بنا رہا تھا تو ماہر لوگ دیگوں پر کھڑے تھے۔ اشوک نے ماجرا پوچھا، کسی نے ساری کہانی کہہ سنائی۔ اشوک دانت پیس کر رہ گیا ’’اچھا تو میرے پیسے پر یہ ملیچھ مسلمان اس قدر عیاشی کررہے ہیں، پورے پورے محلے کی دعوت ہورہی ہے، سبق سکھانا پڑے گا‘‘۔ اس نے سوچا۔ اللہ رحم کرے، بس یہی وہ لمحہ تھا جب عثمان صاحب کے خاندان کی بربادی شروع ہوگئی۔
اشوک اُس وقت تو واپس ہوگیا، دوسرے دن پھر پہنچ گیا۔ ’’اکرم یار! تم لوگ یہ علاقہ چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ اتنی کمائی ہے، کسی اچھی جگہ گھر لو، افضل گنج میں تو سب نیچ لوگ رہتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا۔
۔’’ابا میاں ہاتھ میں کچھ نہیں رہنے دیتے، اصل میں ہمارے قرآن میں لکھا ہے کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو، وہ اللہ کی راہ میں دے دو، تو روز گھر کا سودا آنے کے بعد جو پیسے بچتے ہیں وہ ابا رکھ لیتے ہیں۔ پھر بجلی، گیس کے بل ہوں، گھر کی کوئی مرمت کی چیز، بچوںکی فیس، سب ابا کرتے ہیں۔ پھرجو پیسے بچتے ہیں وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے ہیں۔ کوئی بینک اکائونٹ بھی نہیں ہے ہمارا۔ اب کوئی پیسے جمع ہوتے تو گھر خریدتے۔ اور پھر یہاں کے لوگوں سے بھی کافی دلی لگائو ہے، ہم کہاں جائیں گے!‘‘ اکرم نے جو بات تھی، بتا دی۔
۔’’یہ تو بے وقوفی ہے، کبھی کوئی برا وقت آئے تو کسی سے بھیک مانگتے پھرو گے!‘‘ اشوک نے برا سا منہ بنا کر کہا۔
۔’’نہیں، ابا کو اور لوگ بھی صدقہ خیرات دے جاتے ہیں، ہمارا برا وقت ہو یا ہمارے کسی اور مسلمان بھائی کا، ابا کچھ نہ کچھ انتظام کر ہی دیتے ہیں، جو اللہ سے محبت کرتے ہیں میرا اللہ ان کی عزت رکھتا ہے‘‘۔ اکرم نے اب بھی برا نہ مانا۔
۔’’تمہارے ہاں تو زکوٰۃ کا حکم ہے، وہ بھی سال میں ایک بار، تو یہ سارا سال کیوں پیسہ برباد کرتے ہو؟‘‘ اشوک نے پوچھا۔
۔’’ہاں جس کو جیسی سہولت ہے ویسے کرتا ہے، لیکن پیٹ تو سال بھر کھانا مانگتا ہے‘‘۔ اکرم نے جواب دیا۔
۔’’اچھا اکرم یار! اب میں اس کاروبار سے الگ ہونا چاہتا ہوں، میرا سرمایہ واپس کردو، مہربانی ہوگی‘‘۔ اشوک نے کہا۔
اکرم ہکا بکا رہ گیا۔ ’’کیوں اشوک بھائی کوئی ناراضی، کوئی شکوہ، کیا بات ہوگئی؟‘‘ اکرم نے گھبرا کر پوچھا۔
۔’’بس یار! کچھ رقم کی ضرورت پڑگئی ہے، پھر پیسہ تو میرا ہے، میں جب چاہے واپس مانگ لوں‘‘۔ اشوک نے کہا۔
ندیم جو اتنی دیر سے اشوک کی بکواس سن رہا تھا، اب برداشت نہ کرسکا۔ ’’اشوک بھائی! وہ بھی پیسہ ہی تھا جو آپ ہر مہینے آکر لے جاتے ہیں، اپنے سرمائے سے بہت زیادہ رقم آپ وصول کرچکے ہیں، کسی ایک دن بھی آکر کوئی ایک مرغی بھی ذبح کی ہے آپ نے؟ ساری محنت ہماری، ہم اپنی محنت کا پیسہ جہاں چاہے خرچ کریں، اس پر بھی آپ کو اعتراضات ہیں۔ اب آپ کو سرمایہ بھی یاد آگیا!‘‘ وہ بلند آواز سے کہنے لگا۔
۔’’میں تم جیسا گھٹیا ملیچھ مسلمان نہیں ہوں کہ مرغیاں ذبح کروں، یہ غلیظ کام تم ہی کرسکتے ہو‘‘۔ اشوک نے کہا۔
۔’’اور اس غلیظ کام کا پیسہ کھاتے ہوئے آپ کو ذرا بھی غلاظت محسوس نہیں ہوتی؟‘‘ ندیم نے کہا۔
۔’’بس کرو ندیم… اشوک بھائی تھوڑی مہلت دے دیں، ہم آپ کا سرمایہ واپس کردیں گے‘‘۔ اکرم نے کہا۔
۔’’نہیں اکرم بھائی!‘‘ اشوک غصے سے لال ہو رہا تھا ’’مجھے علاقے کے ہندوئوں کا بھی غم ہے، انہوں نے شکایت کی ہے کہ مسلمانوں کی الگ جماعت بن گئی ہے، بڑی بڑی دعوتیں ہورہی ہیں، لیکن کسی ہندو کو ایک لقمہ بھی نہیں ملتا، تم لوگ تو پھر سے علاقے میں الگ پاکستان بنا رہے ہو‘‘۔ وہ چلّایا۔
ندیم اپنی جگہ سے باہر نکل آیا۔ ’’تمہیں غم ہے تو ان میں سے کسی ایک ہندو کے ساتھ تم بیٹھ کر کھانا کھا کر دکھائو، پھر ہم بھی انہیں اپنے ساتھ کھانا کھلائیں گے‘‘۔ اس نے کہا۔ اکرم نے اسے دھکا دے کر دکان کے اندر کیا۔
۔’’اچھا میں ان نیچ دِلتوں کے ساتھ کھانا کھائوں؟‘‘ اشوک نے چیخ کر کہا۔ ’’میں سب کو بتائوں گا کہ تمہارا باپ ہر وقت عورتوں کے ساتھ بیٹھا رہتا ہے، میں بتائوں گا کہ تمہارے باپ نے گائے کے گوشت کا حلیم پکا کر مسلمانوں کی دعوت کی، اس لیے کسی ہندو کو نہ کھلا سکا‘‘۔ وہ چیختا ہوا اپنی گاڑی میں چلا گیا۔
۔’’جاہل آدمی! روزہ افطار مسلمان کرتے ہیں، ہندو کا تو روزہ ہی نہیں ہوتا، تو افطار کیوں؟‘‘ ندیم چلّایا۔ اور ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر پڑا۔ اکرم غصے سے کانپ رہا تھا۔ ’’وہ بجرنگ دل کا آدمی ہے، تُو نے سب کو مروا دیا، ارے کہیں سے اکٹھے کرکے اُسے پیسے دے دیتے، جھگڑا کیوں کیا؟‘‘ اکرم غصے سے چیخا۔
۔’’بھائی! اسلام میں جہاد کا حکم ہے، آپ تو بات کرنے سے بھی ڈر رہے ہیں، کیسے مسلمان ہیں!‘‘ ندیم نے کہا۔
۔’’اب کر جہاد، جب تیرے اور میرے چار چار سال کے بچے کٹیں گے پھر یاد آئے گا جہاد‘‘۔ اکرم نے کہا اور عثمان صاحب کے پاس پیسوں کا انتظام کرنے چلا گیا۔ اشوک کو کئی فون کیے کہ آکر پیسے لے جائو، مگر اس نے لینے سے انکار کردیا، اس کا مقصد تو فساد تھا، اور وہ ہوگیا تھا۔
تین دن خیریت سے گزر گئے، ندیم بار بار اکرم سے کہتا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں، کچھ نہیں ہوگا، مگر اکرم ہندوئوں کی فطرت سے واقف تھا، اس نے محلے کے تمام مسلمانوں کو الرٹ کردیا، چھروں اور ڈنڈوں کا انتظام کیا گیا، عورتوں اور بچوں کو علاقے سے باہر رشتے داروں کے پاس بھیج دیا گیا، دکانیں بند کرکے محلے کا پہرہ دیا جانے لگا، نماز کی بھی دو جماعتیں ہوتیں، آدھے لوگ پہرہ دیتے، آدھے نماز پڑھتے۔ چوتھے دن خبر ملی کہ اشوک ہندوئوں کے محلے میں آیا ہے، بجرنگ دل کے کرتا دھرتا بھی اس کے ساتھ ہیں، سارا دن ہندوئوں کی ٹریننگ ہوئی، انہیں نارنجی رومال سرپر باندھنے کے لیے دیے گئے۔ ڈنڈے، چھرے اور پیٹرول کی بوتلیں دی گئیں… ’’سواسٹکا‘‘ (Swstika) کے نشانات والے نارنجی جھنڈے علاقے میں پہنچ چکے تھے۔ اِدھر امام صاحب نے ’’آیتِ کریمہ‘‘ جو حضرت یونسؑ کی دُعا ہے، کے ورد کا حکم دے دیا۔ سارے مسلمان روزے سے تھے اور دن رات آیتِ کریمہ کا ورد کررہے تھے، صرف افطاری روز ہوتی، سحری کا انتظام نہ تھا۔ مسلمان بوڑھے روز افطار میں دال چاول تیار کرتے اور پہرے پر متعین نوجوان باری باری آکر افطار کرتے۔ صاف نظر آرہا تھا کہ کسی طوفان کی آمد آمد ہے، علاقے کے ہندوئوں میں بڑی رقمیں تقسیم ہوئی تھیں۔
پانچویں روز موبائلیں بھر بھر کر بھارتی پولیس آئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ اب کوئی مسلمان علاقے سے فرار نہیں ہوسکتا تھا۔ DPO چار پولیس والوں کے ساتھ مسلمانوں کے محلے میں داخل ہوا اور محمد عثمان کو پوچھنے لگا۔ محمد عثمان مسجد میں تھے، تمام پولیس والے جوتوں سمیت مسجد میں گھس گئے اور محمد عثمان صاحب گریبان سے پکڑ لیا۔ ’’ہاں بڑا مائی باپ بنتا ہے علاقے کا، عورتوں کو لالچ دے دے کر ورغلاتا ہے، اوپر سے گئو ماتا کے گوشت کی حلیم بنائی تُو نے‘‘۔ DPO بولا۔
۔’’حلیم مرغی کے گوشت کی تھی، ختم ہوگئی۔ ورنہ آپ کو لیب ٹیسٹ کے لیے دے دیتے‘‘۔ عثمان صاحب بولے۔
DPO نے زوردار تھپڑ عثمان صاحب کے چہرے پر رسید کیا۔ ’’تم لوگوں نے مرغیاں ذبح کرلیں، بکرے ذبح کرلیے، گائے کاٹنے میں کتنی دیر لگتی ہے! ہمارے پاس پکی اطلاع ہے‘‘۔ وہ بولا۔
۔’’معاف کردو صاحب، ہمارا علاقہ چھوڑ دو، بھلے مجھے لے جائو، جو مرضی سزا دو‘‘۔ عثمان صاحب نے ہاتھ جوڑے۔ DPO نے چھڑی سے عثمان صاحب کو مارنا شروع کردیا۔ ندیم، اکرم اور دوسرے لڑکے مسجد پہنچ چکے تھے۔ بہت ساری پولسی بھی مسجد کے آس پاس تھی اور کوئی مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔
۔’’بول! جے شری رام، بول، جلدی بول…‘‘ DPO عثمان صاحب کو حکم دیتا جاتا اور مارتا جاتا۔ عثمان صاحب نے بآوازِ بلند کلمہ طیبہ کا ورد شروع کردیا۔ اب سارے پولیس والوں نے لاتیں اور مُکّے مارنے شروع کردیے۔ عثمان صاحب کا سفید شلوار کرتا اب خون میں رنگنا شروع ہوگیا تھا، آخر DPO نے ان کے بال پکڑ کر سر دیوار پر مارا ’’بول جے شری رام‘‘ وہ چنگھاڑا۔
۔’’لا الٰہ الا اللہ…‘‘ یہ عثمان صاحب کے آخری الفاظ تھے، ساتھ ہی ان کی لاش زمین پر گر پڑی۔ DPO اور پولیس والے ان کی لاش گھسیٹ کر مسجد سے باہر لائے، سب نے جو عثمان صاحب کی لاش دیکھی تو چلّاتے ہوئے مسجد کی طرف دوڑے اور پولیس نے لاٹھی چارج شروع کردیا، ساتھ ہی علاقے کے ہندو ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگاتے، مسلمانوں کے محلے پر ٹوٹ پڑے۔ لڑکے مقابلہ تو کررہے تھے، کئی مسلمان زخمی ہوئے، تو کئی ہندوئوں کے خون نے بھی زمین کو رنگین کیا، مگر بازی اُس وقت پلٹی جب پولیس نے فائرنگ شروع کردی، 9 لڑکے تو اسی وقت شہید ہوگئے، پھر ہندوئوں نے آگے بڑھ کر مسلمانوں کے گھروں پر پیٹرول چھڑکنا شروع کردیا۔ جلد ہی شعلے آسمان تک بلند ہونے لگے، کئی مسلمان گرفتار کرلیے گئے، میڈیا کے لوگ پہنچ چکے تھے، مگر علاقہ گھیرے میں تھا اور انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ دو گھنٹے کے اندر اندر سب کچھ تباہ ہوگیا، اب فضائوں میں صرف ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے تھے، شیطان جیت گیا تھا۔
دوسرے دن کے اخبار کی ہیڈلائن ’’افضل گنج کے علاقے میں ہندو مسلم فساد۔ فساد محمد عثمان نامی شخص کے گائے کی حلیم بناکر دعوت کرنے پر شروع ہوا۔ محمد عثمان کو اس کے انجام تک پہنچا دیا گیا، مزید مجرم گرفتار ہیں اور تفتیش جاری ہے، علاقے میں کرفیو نافذ۔‘‘
۔’’خندقوں والے ہلاک کردیے گئے، آگ جو ایندھن سے بھڑکائی گئی، وہ اس کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے، اور جو کچھ وہ اہلِ ایمان کے ساتھ کررہے تھے، وہ اپنے سامنے دیکھ رہے تھے، ان کو مومنوں کی بس یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو طاقتور بھی ہے اور سب تعریفوں کے لائق بھی۔ جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے، اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘ (سورۃ البروج، آیت 9-5)۔

حصہ