یہ اُمت زندہ ہے

185

کبھی کبھی اُمتِ مسلمہ کا درد مروڑ بن کر اُن کے پیٹوں میں اٹھتا ہے جن کی پوری زندگی امتِ مسلمہ کے خلاف لکھتے، اس کے اسلاف کو گالیاں دیتے، اور اس کے تصورِ اُمت کی تضحیک کرتے گزرتی ہے۔ ان میں منافقت کمال درجے کی ہے۔ یہ اپنی ساری توانائیاں ایسے تمام غیر مسلم افراد کو ہیرو بنانے پر صرف کرتے ہیں جو اپنے ملک میں انقلاب اور آزادی کا جھنڈا اٹھاتے ہیں، اور حالات سازگار نہ ہوں تو دوسرے ملکوں میں جاکر باقاعدہ ہتھیار اٹھاکر لڑائی کرتے ہیں۔ مثلاً چی گویرا، جو ارجنٹائن کے شہر روساریو میں پیدا ہوتا ہے، جوان ہونے پر کمیونسٹ انقلابی گوریلا بن جاتا ہے، اپنے ملک سے جدوجہد شروع کرتا ہے، لیکن پھر ایک دم گوئٹے مالا جا پہنچتا ہے اور وہاں مسلح جدوجہد میں حصہ لیتا ہے، میکسیکو کے سفارت خانے میں پناہ لے کر وہاں سے فرار ہوتا ہے تو کیوبا میں فیڈل کاسترو کے ساتھ جا کر ہتھیار اٹھا لیتا ہے، حکومت آنے پر وہاں وزیر بھی بن جاتا ہے، لیکن جیسے ہی کانگو میں گوریلا جنگ شروع ہوتی ہے تو وہاں جا پہنچتا ہے، گوریلا لیڈروں سے مایوس ہوکر بولیویا آتا ہے، پچاس مسلح لوگوں سے تحریک کا آغاز کرتا ہے۔ دھماکے، فوج پر حملے، سب کچھ ہوتا ہے، پکڑا جاتا ہے اور سزا کے طور پر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے۔ اس کی یہ تمام جنگ امریکا اور سی آئی اے کے خلاف تھی، مگر اس شخص کی تصویریں آج بھی گھروں، دفتروں اور دکانوں میں نظر آتی ہیں، اس پر مضمون لکھے جاتے ہیں، نظمیں کہی جاتی ہیں۔ بالکل ویسی ہی لڑائی جیسی سعودی عرب میں پیدا ہونے والے اُمتِ مسلمہ کے فرزند اسامہ بن لادن نے سوڈان اور افغانستان میں لڑی اور وہ پاکستان میں امریکیوں کے ہاتھوں شہید کیا گیا۔ لیکن امتِ مسلمہ کے درد میں کراہنے والوں کے نزدیک وہ دہشت گرد ہے، کیوں کہ ان کے مطابق وہ ’’مسلمان‘‘ جو اپنا ملک چھوڑ کر، گھر بار ترک کرکے فلسطین میں لڑے، افغانستان یا کشمیر میں لڑے، سب کے سب دہشت گرد ہیں۔ کیا آج تک کشمیر میں جامِ شہادت نوش کرنے والے کسی پاکستانی کی برسی چی گویرا کی طرح منائی گئی؟ اس کی یاد میں نظمیں لکھی گئیں؟ ایسے ہر فرد کی شہادت اس بات کی علامت ہے کہ امتِ مسلمہ زندہ ہے جس کے لیے ان افراد نے اپنا گھر بار چھوڑا۔
پوری مہذب دنیا اُس مصنف کے گن گاتی ہے جس نے گوریلا جنگ پر ایک تفصیلی کتاب ’’مکھی کی جنگ‘‘ (war of the flea) لکھی۔ رابرٹ ٹیبر (Robert Taber ) نے صرف یہ کتاب ہی نہیں لکھی بلکہ وہ اپنا ملک امریکا چھوڑ کر اسی کے خلاف کیوبا اور ویت نام میں لڑتا رہا۔ آج دنیا کا ہر بڑا پبلشنگ ادارہ اس کی کتاب بھی شائع کرتا ہے، اور اس کتاب کو آزادی وحریت کے لیے لڑنے والے گوریلوں کے لیے رہنمائی کا درجہ بھی حاصل ہے۔
کیا چیچنیا، بوسنیا، مندنا اور دیگر غلام مسلمان علاقوں میں دوسرے مسلمان ملکوں سے گھربار چھوڑ کر لڑنے کے لیے جانے والوں کی دنیا میں ویسے عزت ہے؟ اُمتِ مسلمہ کے فرزند تو مطلوبہ افراد کی فہرستوں میں شامل ہوتے ہیں۔ الجزائر کے مسلمان فرانس سے آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کررہے تھے، آج کے دور کا فلسفی اور ناول نگار اپنا وطن فرانس چھوڑ کر ان کی مدد کے لیے وہاں چلا گیا۔ یار لوگوں نے اسے سیکورٹی رسک قرار دے کر گرفتار کرنے کے لیے کہا تو اُس وقت فرانس کے صدر ڈیگال نے بلند آواز میں پکارا ’’میں سارتر کو کیسے گرفتار کرسکتا ہوں! سارتر تو فرانس ہے۔‘‘
امتِ مسلمہ کے درد میں کراہنے والوں کو یاد پڑتا ہے کہ کتنی دفعہ حافظ سعید اور مسعود اظہر کو گرفتار کیا گیا اور اس گرفتاری پر انہوں نے کتنا احتجاج کیا! منافقت کا عالم یہ ہے کہ ہم دنیا کو یہ بھی کہتے پھرتے ہیں کہ ممبئی حملوں میں ہم ملوث نہیں ہیں، لیکن گرفتاریاں بھی ہم تمہاری مرضی، تمہارے خوف سے کریں گے۔ ہم ان کی ایمبولینس سروس بھی بند کریں گے، ان کے تمام رفاہی اداروں کو سیل کردیں گے۔ اس لیے کہ ان کا جرم صرف ایک ہی ہے کہ وہ پاکستانی ہوکر اُمتِ مسلمہ کے مظلوم عوام کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔
تمہارا کوئی منہ ہے کہ تم اُمتِ مسلمہ کا گلہ کرسکو! اس اُمت کے عام لوگوں نے تو ایک اُمت ہونے کا ہمیشہ ثبوت دیا تھا۔ مائوں نے اپنے جگر گوشے دعائوں کے ساتھ 1979ء میں روس کے ملحد فوجیوں سے لڑنے کے لیے افغانستان بھیجے تھے۔ تمام عالمی قوانین کے تحت ان کی مدد جائز تھی۔ کیوں کہ روس ایک غاصب ملک تھا۔ مفاد کے تحت دنیا کی تمام قوتیں بھی ان کے ساتھ تھیں۔ لیکن کیا افغانستان میں کسی امریکی، برطانوی یا فرانسیسی نے افغانوں کی آزادی کے لیے جان دی…؟ نہیں…! افغان عوام کے شانہ بشانہ صرف اس اُمتِ مسلمہ کے بیٹے ہی قربان ہوئے تھے۔ جائیں اور افغانستان کے قبرستانوں میں مراکش سے لے کر برونائی تک امتِ مسلمہ کے شہدا کی قبریں دیکھیں، اور پھر خود پر غور کرتے ہوئے شرم و ذلت سے ڈوب مریں کہ جب اسی افغانستان میں روس کی طرح امریکا اور عالمی اتحاد کی افواج ویسے ہی حملہ آور ہوئیں تو تم نے اُمتِ مسلمہ کے ان چھ سو فرزندوں کو پکڑ کر امریکیوں کے ہاتھ بیچا جو صرف کلمہ طیبہ کے رشتے کے حوالے سے وہاں مسلمان افغان عوام کی آزادی کے لیے لڑ رہے تھے۔ تم سے تو وہ سیکولر، لبرل ملک زیادہ بااصول و باغیرت تھے جو اپنے شہریوں کو گوانتا نامو بے سے چھڑا کر لے آئے۔ برمنگھم کا معظم بیگ جو اپنی بیوی کے ساتھ طالبان حکومت میں لڑکیوں کے اسکول کھولنے گیا تھا، جسے راولپنڈی سے پکڑ کر امریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا، اگر وہ برطانوی شہری نہ ہوتا تو 2005ء میں کبھی باہر نہ آتا، بلکہ آج تک اُن پاکستانیوں کی طرح ہوتا جو بگرام اور گوانتا نامو بے کی جیلوں میں اللہ کی نصرت کا انتظار کررہے ہیں۔
یہ ہے اصل امتِ مسلمہ جو اپنے بھائیوں کے دکھ میں تڑپتی ہے۔ جو کہیں بھی رہتی ہو، شام کے مہاجروں کے لیے فنڈ اکٹھا کرتی ہے۔ پاکستان کے سیلاب زدگان اور زلزلے کے شکار افراد کے لیے مدد فراہم کرتی ہے۔ روہنگیا کے مسلمانوں کے لیے بے تاب ہوجاتی ہے۔ پوری دنیا میں اپنے بھائیوں کی مدد کرنے میں سب سے فراخ دل کہلاتی ہے۔ تم کبھی اس امت کی بات نہیں کرو گے، کیوں کہ اس کی تعریف و توصیف کرنے سے بھی تمہارے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں۔ تم ان عالمی طاقتوں کی تخلیق کردہ قومی ریاستوں پر مسلط کردہ حکمرانوں کو امتِ مسلمہ کا نام دے کر اس امت کو گالی دیتے ہو۔ یہ سب کے سب حکمران سیکولر لبرل ڈکٹیٹر ہیں جو اس امت پر مسلط کیے گئے ہیں۔ یہ سب اپنے ملک میں شریعت کے نفاذ سے ڈرتے ہیں۔ تمام ممالک میں سیکولر نظام اور سیکولر قوانین نافذ ہیں۔ ایسے میں اگر مودی کو ایوارڈ دیا جاتا ہے تو پھر اس سیکولر طرزِ زندگی کو گالی دو، جہاں ائرپورٹ پر دیگر اشیاء کے ساتھ سورکا گوشت بھی سجاکر رکھا ہوتا ہے۔ کیا تمہاری اوقات ہے کہ تم ان سیکولر لبرل عرب حکمرانوں سے امت کے نام پر سوال بھی کر سکو! تم اپنے ملک سے مال چوری کرکے، لوٹ مار کرکے وہاں جائدادیں خریدتے ہو، کاروبار کرتے ہو۔ تمہارے حکمران اور سیاسی لیڈر نائی، چوکیدار اور مزدور کے نام پر فراڈ کے لیے اس ملک کے اقامے لیتے ہیں۔ جن دو ملکوں سعودی عرب اور ایران میں چند شرعی تعزیرات نافذ ہیں ان کے مداحین بھی ایک دوسرے پر وار کرکے امت کو ذلیل کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔ مودی اگر ایران جائے تو ایک گروہ کے لوگ تصویریں شییر کرکے امتِ مسلمہ کی پھبتیاں کستے ہیں کہ دیکھو مشرکین سے دوستی ہے، سعودی عرب جائے تب دوسرا گروہ آلِ سعود کے نام پر امتِ مسلمہ کو گالی دیتا ہے۔ دبئی میں ایوارڈ لے تو وہ یزید ہوجاتا ہے، لیکن تہران جائے تو اس کے سارے گناہ دھل جاتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے پروانوں نے اس امت کے عام مسلمانوں کو اس کھیل میں کھلونا بنا کر رکھ دیا ہے، اور یہ دونوں ان سیکولر لبرل دوستوں کے لیے راحت کا سامان بنتے ہیں جو کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس میں اسلام اور امتِ مسلمہ کی تحقیر ہو۔ لیکن یہ امت آج بھی زندہ ہے اُن شہیدوں کے لہو سے جو اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ کہاں پیدا ہوئے، اور مظلوموں کی مدد کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں، ان صاحبانِ دل کے وجود سے کہ جو کہیں بھی رہتے ہوں، اپنے اپنے مصیبت زدہ مسلمانوں کے لیے جان، مال، وقت سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔

حصہ