قصور وار کون؟۔

99

افروز عنایت
آج معاشرے میں چاروں طرف ایک شکوہ ضرور سنائی دے رہا ہے کہ بیٹیوں کے لیے اچھے رشتے نہیں مل رہے، یا ہر دوسرے گھر میں بیٹیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں۔ اس سلسلے میں اکثر بیٹے والوں کو قصوروار مانا جاتا ہے کہ لڑکے اور لڑکے والوں کے مطالبات بڑھتے جارہے ہیں۔ بے شک اس سے انکار نہیں کہ کسی حد تک لڑکے والوں کا بھی قصور ہے لیکن… ایمان داری سے سوچیں کہ کیا لڑکی والے اس سلسلے میں سراسر بے قصور اور مظلوم ہیں…؟ ذرا غور کریں اور چاروں طرف ہونے والے واقعات اور صورتِ حال کو جانچیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آج کل اس سلسلے میں زیادہ قصور لڑکیوں اور اُن کے گھر والوں کا نظر آتا ہے۔ چند حقیقی جھلکیاں پیش خدمت ہیں جس سے بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بات کس حد تک درست ہے۔
٭…٭…٭
آنٹی ریحانہ: بیگم ارشد آپ ضرور جائیے گا، لڑکی حافظِ قرآن ہے، گرچہ بہت خوبصورت نہیں لیکن قابلِ قبول ہے۔
بیگم ارشد نے جب سنا کہ لڑکی حافظِ قرآن ہے تو انہوں نے اس کے گھر جانے کا پکا ارادہ کرلیا۔ وہ اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ، اعلیٰ عہدے پر فائز خوبرو بیٹے کے لیے رشتہ تلاش کررہی تھیں، لیکن ان کی کوشش تھی کہ لڑکی دینی تعلیم کی بھی حامل ہو۔
٭…٭…٭
بیگم ارشد: مسز احمد ہمیں آپ کی بیٹی پسند ہے، مگر میں استخارہ ضرور کروں گی، جب تک آپ بھی ہمارے گھر تشریف لائیں، دونوں فیملیز کا ایک دوسرے کو جاننے کے لیے ایک دو ملاقاتیں کرنا ضروری ہے۔
٭…٭…٭
اگلے ہفتے مسز احمد اپنی بڑی بیٹی نائلہ اور شوہر کے ساتھ بیگم ارشد کے گھر تشریف لائیں۔ انہیں گھر دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ ان کے مقابلے میں بیگم ارشد کی فیملی خاصی خوشحال ہے، ان کا بیٹا نہ صرف خوبرو بلکہ بیرونِ ملک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے۔ مسز احمد کی صرف دو بیٹیاں ہی تھیں، بڑی بیٹی کا نکاح اس کے کزن کے ساتھ ایک سال پہلے ہوا تھا۔ نائلہ نے آسٹریلیا کا ویزا حاصل کرلیا تھا اور شوہر کے ویزے کے لیے کوششوں میں مصروف تھی۔ اس کی دلی خواہش تھی کہ وہ آسٹریلیا شفٹ ہوجائے۔
٭…٭…٭
جاتے جاتے مسز احمد نے اپنی رضامندی اس رشتے کے لیے ظاہر کردی۔ بیگم ارشد نے ان سے کہا کہ آپ گھر جاکر اطمینان سے سوچ سمجھ کر اور بیٹی سے بھی عندیہ معلوم کرکے مجھے جواب دیجیے گا۔ بیگم ارشد کو بھی اس رشتے سے انکار نہ تھا، وہ مسلسل دو دن سے استخارہ کی دعا بھی پڑھ رہی تھیں۔ ابھی اس بات کو چند دن ہی گزرے تھے کہ بیگم ارشد کے بیٹے نے بیرونِ ملک (دبئی) سے فون کیا کہ ماں میں جس ملازمت کے لیے پاکستان میں ٹیسٹ اور انٹرویو دے کر آیا تھا اس کا اپائنٹمنٹ لیٹر آج ہی موصول ہوا ہے، اگلے مہینے مجھے جوائن کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ بیگم ارشد بہت خوش ہوئیں، وہ بیگم احمد کے فون کا انتظار کرنے لگیں کہ یقینا وہ بھی یہ سن کر خوش ہوں گی، کیونکہ ان کی بڑی بیٹی آسٹریلیا جا رہی تھی، جبکہ چھوٹی بیٹی اپنے ملک میں اُن کی نظروں کے سامنے رہے گی۔ اگلے دن بیگم احمد نے فون کرکے اس رشتے کے لیے ہاں کہا۔ بیگم ارشد نے انہیں بیٹے کی ملازمت کی خوش خبری سنائی تو وہ ایک دم خاموش ہوگئیں اور یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا ہے۔ بیگم ارشد ان کے اس رویّے پر بہت حیران ہوئیں۔ خیر، دو دن بعد بیگم احمد نے فون کرکے معذرت کی کہ میری بیٹی باہر جانا چاہتی ہے اس لیے ہم یہ رشتہ نہیں کرسکتے، بچوں کی خواہش کو دیکھنا پڑتا ہے، میں اس رشتے پر اس لیے راضی ہوئی تھی کہ آپ کا بیٹا باہر رہتا ہے۔
٭…٭…٭
ساجدہ بیگم: اوہو… اچھا جوائنٹ فیملی… میرا مطلب ہے کہ بہو آپ کے ساتھ رہے گی۔
رقیہ: جی… لیکن گھر میں تو میں اور صرف میرا ایک بیٹا ہی ہے، بیٹی کی تو اگلے ماہ رخصتی ہوجائے گی، جبکہ بڑی بیٹی کی پہلے ہی شادی ہوچکی ہے۔
ساجدہ بیگم: نہیں نہیں، میرا مطلب ہے کہ … خیر میں آپ کو چند دنوں میں جواب دوں گی۔
ساجدہ بیگم نے رقیہ کے جانے کے بعد گھر والوں سے مشورہ کیا ’’ویسے تو سب ٹھیک ہے لیکن ماں کی ساری ذمہ داری لڑکے کے اوپر رہے گی ہمیشہ، وہ ہر بات میں ماں کی رضا مندی کا خیال رکھے گا‘‘۔ بیٹی نے چونک کر ماں کو دیکھا، اسے بھی ماں کی بات دل کو لگی، لہٰذا اگلے دن ساجدہ نے فون کرکے رقیہ کو منع کردیا۔
٭…٭…٭
راشدہ باجی: رشتہ اچھا ہے، لڑکا بڑا محنتی اور آگے ترقی کرنے والا لگ رہا ہے، فیملی بھی اتنی بڑی نہیں، خوشحال اور آسودہ گھرانا ہے، بس یہی ان کی شرط ہے اور… یہ کوئی بڑا ایشو نہیں کہ ایسے اچھے رشتے کو ٹھکرا رہے ہیں۔ ماشاء اللہ آپ کی تین بیٹیاں ہیں، سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ اگر وہ لڑکی کی ملازمت کو پسند نہیں کررہے تو کیا حرج ہے! فی الحال نوکری چھوڑ دے۔
٭…٭…٭
عالیہ (شوہر سے): راشدہ باجی کا فون آیا تھا، کیا جواب دوں…؟ اچھی خاصی نوکری پر لگی ہوئی ہے ہانیہ… آج کل لڑکے والوں کو بہو نہیں نوکرانی چاہیے، اسی لیے ملازمت والی پسند نہیں کرتے۔ گھر بٹھاکر اس کی تعلیم کو ضائع کردوں! آپ ہی بتائیں کیا کروں؟
عابدہ (دیورانی): بھابھی میں آپ سے چھوٹی ہوں… لیکن ایک بات کہوں، دیکھیں یہ میرا مشورہ نہیں لیکن… ایک مرتبہ اور سوچ لیں، پھر جواب دیجیے گا۔ ایسے رشتے بار بار نہیں ملتے۔ بھائی صاحب آپ ہی بھابھی کو سمجھائیں۔تعلیم تو اس کی کبھی ضائع نہیں جائے گی۔ تعلیم یافتہ لڑکیاں اپنے گھر بار کو اچھی طرح سنبھال لیتی ہیں، اور پھر جب بھی موقع مناسب لگے ہانیہ دوبارہ ملازمت شروع کرسکتی ہے۔
٭…٭…٭
عالیہ نے بیٹی ہانیہ سے بھی مشورہ کیا۔ دونوں ماں بیٹی کا یہی خیال تھا کہ کسی بھی صورت ملازمت سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔ آخر اس ملازمت کی وجہ سے رشتے سے انکار کردیا گیا۔
٭…٭…٭
تبسم: بیٹا عبیر، آپا کا فون آیا تھا آج بھی، انہیں کیا جواب دوں؟ عامر پڑھا لکھا، اعلیٰ عہدے پر فائز اور بڑا نیک بچہ ہے۔ ہاں… بس یہ ہے کہ اسے عورتوں کی آزادی زیادہ پسند نہیں، تھوڑا دیندار ہے… لیکن شادی کے بعد ایسے لڑکے خود ہی سدھر جاتے ہیں۔
عبیر: ماما… آپ بھی کیا بیکار کی بحث لے کر بیٹھی ہیں۔ آپ کو اپنا بھتیجا بہت پیارا ہے، لیکن مجھے وہ ’’ملّا‘‘ ٹائپ لگتا ہے (زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے) اس لیے سوری ماما… یا تو آپ نے مجھے بھی شروع سے ہی ایسے پالا ہوتا کہ میں اس کی تابعدار بیوی بن کر رہتی۔
٭…٭…٭
عبیر کی بات کوئی غلط بھی نہ تھی۔ تبسم نے شروع سے ہی عبیر کی ایسی پرورش کی تھی کہ وہ ہر بات میں من مانی کرتی۔ ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ ضرور باہر کا کھانا، آئے دن شاپنگ کرنا وغیرہ اس کے مشاغل تھے۔ لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی تبسم کو اپنے بھائی سے معذرت کرنی پڑی۔
٭…٭…٭
یہ چند جھلکیاں جو میں نے اپنے آس پاس دیکھیں آپ سے شیئرکیں، جس سے یقینا آپ بھی انکار نہیں کریں گے…
رشتے اور جوڑ کے لیے کہیں نہ کہیں سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ کہیں مشترکہ خاندان، کہیں لڑکے کی موجودہ آمدنی کا کم ہونا، کہیں زیادہ فیملی ممبر ہونا، کہیں دیندار اور سادگی پسند فیملی ہونا، یا لڑکی کی ملازمت کو ناپسند کرنا… یہ اتنے بڑے ایشو نہیں کہ انکار کردیا جائے، یا لڑکی کو بھی کھلی چھوٹ دی جائے کہ وہ من مانی کرے۔
دینِ اسلام میں زوج تلاش کرتے ہوئے بنیادی سوچ اور چیز جس کا ہونا لازمی شرط ہے وہ دینی تعلیم و عمل سے آشنائی ہے، جسے دونوں طرف سے پس پشت ڈال دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے آج خاندانوں میں انتشار اور ٹوٹ پھوٹ عام ہوگئی ہے۔ اپنے طور پر جانچ پڑتال اور دیکھ بھال کرکے محنتی اور تعلیم یافتہ ’’بر‘‘ ڈھونڈیں۔ ماں باپ بچیوں کے لیے آئے ہوئے رشتوں پر انکار کرنے سے پہلے ضرور ایک مرتبہ یہ سوچ لیں کہ کہیں آپ بھی تو کوئی ایسی غلطی نہیں کررہے ہیں، کیونکہ ایسی ہی غلطیوں کے نتیجے میں مجھے اپنے آس پاس بہت سی دوشیزائیں تمام تر خوبیوں کے باوجود کنواری نظر آتی ہیں۔

حصہ