سچی محبت

146

سیدہ عنبرین عالم
جبران 20 سال کا ہوچکا تھا۔ انٹر کے بعد الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا تھا۔ ابو فریج، اے سی وغیرہ ٹھیک کرتے تھے، چچا نے پان کا کیبن رکھا ہوا تھا۔ مشترکہ خاندانی نظام تھا۔ گھر میں تقریباً 12 افراد تھے اور ٹی وی ایک تھا، جب کب ہر فرد چاہتا تھا کہ ٹی وی پر اپنی پسند کا پروگرام دیکھے۔ ابو گھر پر ہوتے تو صرف خبریں ہی چلتیں۔ ابو نہ ہوتے تو چچا کا قبضہ ہوجاتا جو صرف کھیلوں کے چینل لگاتے۔ ابو اور چچا دونوں نہ ہوتے تو امی، چاچی اور پھوپھو ڈرامے لگا کر بیٹھ جاتیں۔ بچوں کی باری کبھی نہ آتی۔ لامحالہ بچے بھی وہی ڈرامے دیکھتے جن میں رونا دھونا، تشدد، طلاقیں، طعنے، سازشیں سب کچھ موجود تھا۔ نہ تھا تو تربیت اور علم۔ مگر امی کو ان ڈراموں میں اتنا مزا آتا کہ ان ڈراموں کے منفی پہلوئوں کو نظرانداز کردیا جاتا اور سارے گھر والے دن رات یہی ڈرامے دیکھتے رہتے۔ جتنا ظلم ہوتا، جتنا عشق و عاشقی ہوتی اور جتنا غیر معیاری روایات کو بڑھاوا دیا جاتا، اتنا ہی مزا آتا۔
جبران ان ڈراموں سے بہت متاثر تھا۔ اس نے یہ سیکھ لیا تھا کہ ’’محبت‘‘ کوئی اچھوتا سا جذبہ ہے جو کسی نوجوان، کنواری اور خوب صورت لڑکی سے ہوجاتی ہے، پھر اس کی خاطر دنیا سے ٹکر لی جاتی ہے، پھر شادی ہوجاتی ہے۔ دن رات جو عشق و عاشقی کی تربیت ٹی وی سے دی جارہی تھی، اس نے یہ خیال جبران کے دل میں پکا کردیا تھا کہ محبت زندگی میں ایک بار ہونا ضروری ہے،‘ محبت بہت اعلیٰ چیز ہے اور اس کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ اُسے یقین تھا کہ ذرا کمانے لگا تو اس کی شادی چچا کی کسی بیٹی سے کردی جائے گی جن سے اس کی ہر وقت جنگ رہتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی ڈراموں جیسی زندگی ہو، بڑا سا بنگلہ، نوکر چاکر، گاڑی، اور خوب صورت سی بیوی۔ یہ سب حاصل کرنے کے لیے محبت کرنا ضروری تھا، وہ بھی کسی امیر باپ کی بیٹی سے، جو محبت میں اندھی ہوکر کالے، سوکھے اور بھینگے جبران سے شادی کرلے اور اپنی ساری دولت جبران کو سونپ دے۔
جبران کے دو بڑے بھائی عدنان اور کامران ابو کے ساتھ کام کرتے تھے، مگر جبران کو اپنے دوست شاہد کے ساتھ الیکٹریشن کا کام سیکھنے میں ہی مزا آتا تھا۔ جبران کی ایک چھوٹی بہن عظمیٰ تھی، جب کہ چچا کی تین بیٹیاں تھیں فرحین، نوشین اور تمکین۔ ابو نے بچپن میں ہی چچا کی تینوں بیٹیاں اپنے تینوں بیٹوں کے لیے لے کر چچا کو ہر فکر سے آزاد کردیا تھا۔ استاد جہاں بھی کام کرنے جاتا، جبران اور شاہد کو ساتھ لے جاتا، تاکہ یہ دونوں بھی کام سیکھ لیں اور استاد کی مدد رہے۔ یہ دونوں جس گھر میں بھی جاتے تانک جھانک کرتے کہ کوئی لڑکی ملے تو محبت وغیرہ کا کوئی معاملہ شروع ہو۔ مگر عام طور پر گھر کے مرد ہی کام کراتے تھے، اور وہ بھی علاقے کے غریب گھرانے ہی تھے جہاں جبران اور شاہد کے اونچے خواب ہرگز پورے نہیں ہوسکتے تھے، وہ تو چائے تک نہ پلاتے تھے۔
آخرکار دونوں نے طے کیا کہ کسی بڑے شاپنگ مال جانا چاہیے، جہاں بڑے لوگوں کی بیٹیاں پیسہ برباد کرنے آتی ہیں، یا کسی ریسٹورنٹ میں جانا ہوگا۔ تو جناب دونوں جیسے ہی پانچ بجے کام سے فارغ ہوتے، تیار ہوکر کسی مہنگے ریسٹورنٹ یا شاپنگ مال جا پہنچتے۔ اس مقصد کے لیے دونوں نے لنڈا بازار جاکر دل کھول کر شاپنگ کی۔ جبران نے دو شرٹیں لیں ایک سرخ اور ایک توتا گرین، ساتھ میں پیلے رنگ کی ایک پینٹ۔ پھر پچاس روپے والے دھوپ کے چشمے بھی دونوں نے لیے۔ سائیکل تو شاہد کے پاس تھی ہی۔ کئی ریسٹورنٹس میں تو انہیں گھسنے ہی نہ دیا گیا، جہاں گھس جاتے تو ایک کولڈ ڈرنک لے کر دونوں پیتے۔ ایک دو بار کسی لڑکی سے فری ہونے کی کوشش کی تو ریسٹورنٹ کے گارڈ نے اٹھاکر باہر پھینک دیا۔ آخرکار جدوجہد شاپنگ مالز تک محدود کردی گئی۔ پھر خیال آیا کہ ساری خرابی کالے رنگ کی وجہ سے ہے، دونوں نے رنگ گورا کرنے والی کریم لگانی شروع کردی۔ دونوں کو افسوس تھا کہ موبائل فون خریدنے کی اوقات نہیں ہے، ورنہ آدھے سے زیادہ کام تو فون پر ہی مکمل ہوجاتا۔
طارق روڈ کے ایک بڑے شاپنگ مال میں دونوں کی آوارہ گردی جاری تھی، ایسے ایسے حسین چہرے، عقل دنگ رہ جائے کہ یہ اس جہاں کی مخلوق ہے یا چاند سے اتری ہوئی پریاں!
’’یار! ایسی لڑکیاں ہمارے علاقے میں پیدا نہیں ہوتیں، میک اَپ بھی اتنا تو نہیں کمال دکھا سکتا۔‘‘ جبران بولا۔
’’ابے جاہل! سارا پیسے کا کمال ہے، بچپن سے اچھی خوراک کھاتی ہیں، اے سی میں رہتی ہیں، کوئی فکر نہ پریشانی، خوب صورتی تو آئے گی ہی۔ ہمارے علاقے کی لڑکیاں تو چھ سال کی عمر سے پونچھے لگانا، روٹیاں پکانا اور اپنے بھائی بہنوں کو سنبھالنا شروع کردیتی ہیں، کیسے روپ آئے گا!‘‘ شاہد نے دانش وری جھاڑی۔
’’یار دیکھ وہ لڑکی، بہت امیر لگتی ہے، اکیلی بیٹھی ہے، میں جاکر بات کرتا ہوں۔‘‘ جبران کو موقع مل گیا تھا۔
’’جاجا! اللہ تیری خیر کرے، تیری لاٹری لگ جائے، دور سے بات کریو۔‘‘ شاہد نے مشورہ دیا۔
جبران لڑکی کے پاس گیا اور ٹائم پوچھا، لڑکی نے بتادیا، مگر جبران کا حلیہ اور گلے میں ڈھیر سارے تعویذ دیکھ کر وہ مسکرا دی۔ اس پر جبران سمجھا کہ کام ہوگیا، وہ پوری بتیسی نکال کر مسکرانے لگا۔
’’آپ بہت خوب صورت ہیں باجی!‘‘ جبران بولا اور باجی کہنے پر خود اپنا ہی سر پیٹ لیا۔
’’تھینکس… آپ بھی ہر ہفتے باقاعدگی سے منہ دھو لیا کریں، آپ بھی خوب صورت لگیں گے۔‘‘ لڑکی نے مسکرا کر کہا۔
’’جی میں تو ہوں ہی بہت خوب صورت، مجھے ہر وقت نظر لگ جاتی ہے، اس لیے اماں نے تعویذ ڈالا ہے۔‘‘ جبران نے کہا۔
لڑکی کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ جبران کا خوشی سے برا حال ہوگیا ’’مجھے آپ سے محبت ہوگئی ہے‘‘ وہ بولا۔
’’زبردست! باجیوں سے محبت کرنا بہت اچھی بات ہے، آپ بہت اچھے بھائی ہیں‘‘ وہ لطیف لہجے میں بولی۔ اتنے میں ایک ہینڈسم سا لمبا چوڑا لڑکا آیا، شاید اس کا شوہر تھا، وہ اس کے ساتھ چلی گئی۔
تو جناب! کوشش جاری رہی۔ کئی لڑکیوں سے مار کھائی، لڑکیوں کے بھائیوں سے مار کھائی، گھر پر شکایتیں پہنچیں، گھر والوں سے مار کھائی۔ آخرکار دونوں نے طے کرلیا کہ ان کے اندر کوئی مینوفیکچرنگ فالٹ ہے جس کی وجہ سے انہیں محبت نہیں ہوپارہی، ورنہ تو ڈرامے، فلمیں بھرے پڑے ہیں سچی محبت کے واقعات سے۔ جبران کے ابو نے اس کا گھر سے باہر نکلنا بند کردیا۔ گھر میں رہ کر وہی عشقیہ ڈرامے۔ جبران کی کوفت بڑھتی جارہی تھی۔ گھر میں ہر فرد اس سے نفرت کرنے لگا تھا، وہ خاندان کی بے عزتی کا باعث جو بنا تھا۔ بس ایک پھوپھو تھیں جو اس سے بات بھی کرتی تھیں اور کھانے پینے کا بھی پوچھ لیتی تھیں۔
’’پھوپھو! مجھے سچی محبت کیوں نہیں ملی، میں نے بہت ٹرائی کی؟‘‘ وہ بولا۔
پھوپھو مسکرا اٹھیں ’’کس نے کہا تمہیں سچی محبت نہیں ملی! میں کرتی ہوں تم سے سچی محبت۔ تمہارے ابو امی کرتے ہیں تم سے سچی محبت۔ تمام گھر والے کرتے ہیں تم سے سچی محبت۔ سب سے بڑھ کر تمہارا رب تم سے سچی محبت کرتا ہے، جبھی اس نے تمہیں کسی گناہ میں پڑنے سے بچا لیا۔‘‘ انہوں نے سمجھایا۔
’’کیا محبت کرنا گنا ہے؟ محبت کرنا تو عبادت ہے۔‘‘ جبران افسانوی انداز میں کسی فلم کے جملے دہرانے لگا۔
’’بیٹا بے شک محبت کرنا عبادت ہے، مگر محبت کرو اپنے رب سے، جو تمہیں رزق دیتا ہے، صحت دیتا ہے، چلتے پھرتے ہاتھ پائوں دیتا ہے۔ کسی نامحرم کی طرف تو آنکھ اٹھاکر دیکھنا بھی گناہ ہے۔ میرے رب نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ’’مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں‘‘۔ جب کہ آج کل کی فلمیں تو شروع ہی بدنگاہی سے ہوتی ہیں، پھر ملاقاتیں، کھانا پینا، موبائل فون میں بیلنس ڈلوا کے دینا، سال کے سال جوڑے تحفے میں دینا… یہ تو برائی کے ابتدائی مراحل ہیں، محبت نہیں۔‘‘ پھوپھو نے سمجھایا۔
جبران کے چہرے پر اب بھی انکار تھا ’’اگر ایسا ہے تو سب اخبار، رسالے، ڈرامے، فلمیں، گانے محبت کا سبق کیوں دے رہے ہیں؟ کیا سب کے سب جھوٹے ہیں؟‘‘ اس نے بے زاری سے پوچھا۔
’’اچھا مان لیا نامحرم سے محبت اور سگے رشتے داروں سے ضد بحث ہی آج کا سب سے بڑا سبق ہے، تو جس رب نے انسان کو بنایا، کیا وہ یہ سبق دینا بھول گیا؟ کوئی لیلیٰ مجنوں کی داستان، کوئی شیریں فرہاد کا قصہ قرآن میں کیوں درج نہیں ہے؟ اور تو اور، میرے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس اہم باب میں نسلِ انسانی کی تربیت نہیں کی۔ کیا کسی صحابیؓ نے کسی نامحرم عورت سے محبت کے دعوے کیے؟ کیا میرے رسولؐ نے نامحرموں کے آپس میں تعلقات کی حوصلہ افزائی کی؟‘‘ پھوپھو نے پوچھا۔
جبران جہالت اور حماقت منہ پر لیے بیٹھا تھا ’’مجھے کیا پتا پھوپھو کہ اللہ اور رسولؐ نے کیا کہا‘‘ وہ بولا۔
’’یہی تو بات ہے، ہم اخلاق بگاڑنے اور دین کو تباہ کرنے والے تمام پروگرام اپنے بچوں کو دن رات دکھاتے ہیں، مگر تربیت کے نام پر اللہ اور رسولؐ کا ایک فرمان انہیں نہیں سناتے‘‘ پھوپھو نے غصے سے کہا۔
’’مگر پھوپھو محبت کرکے شادی کرلینی چاہیے، پھر نامحرم نہیں رہیں گے، پھر محبت جائز ہے۔‘‘ جبران نے کہا۔
’’اوّل تو نامحرم کی طرف دیکھنا ہی ناجائز ہے، نامحرم سے شادی سے پہلے محبت کیسے جائز ہوگی! اور بالفرض جائز ہے پھر بھی ہم انگریز تو نہیں ہیں کہ لڑکا لڑکی نے محبت کرلی، شادی کرلی، سب سیٹ ہوگیا… نہیں بیٹا! ہم مسلمان ہیں، ہم دو افراد کی شادی نہیں کرتے، دو خاندانوں کا ملاپ ہوتا ہے، آپ جس لڑکی کو لا رہے ہیں، وہ آپ کے خاندان میں گزارہ کرسکتی ہے یا نہیں؟ وہ آپ کی تعلیم اور پیشے کے ساتھ ہم آہنگی رکھتی ہے یا نہیں؟ وہ آپ کی مذہبی اقدار اور خاندانی رجحانات سے سمجھوتا کرپائے گی یا نہیں؟‘‘ پھوپھو نے کہا۔
جبران ہنسنے لگا ’’اگر کوئی مسئلہ ہو تو طلاق دے دو۔ ڈراموں میں تو فوراً طلاق دے دیتے ہیں، کوئی زندگی بھر کا روگ نہیں پالتا، کوئی نئی ہیروئن فوراً ہی مل جاتی ہے۔‘‘ اس نے فوراً حل پیش کردیا۔
پھوپھو سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ ’’میں جانتی ہوں کہ ہر چینل کے ہر ڈرامے میں طلاق ضرور ہوتی ہے اور کچے ذہن کے بچے اسے ایک آسان اور معمول کی چیز سمجھنے لگے ہیں۔ مگر یہ دنیا کی سب سے مکروہ چیز ہے۔ ہم انگریز نہیں ہیں کہ ہر دو سال بعد نئی شادی کریں۔ ہم تمام عمر کے لیے یہ رشتہ نبھاتے ہیں۔ کسی رسول نے آج تک طلاق استعمال نہیں کی۔ بیٹا تم اُن دلوں کا کرب کیا جانو جن کے گھر ٹوٹ جاتے ہیں، بچے نفسیاتی مریض ہوجاتے ہیں، یتیموں والی زندگی گزارتے ہیں، مائیں دن بھر گھر سے باہر روٹی کمانے کے لیے رُل رہی ہوتی ہیں پھر بھی سو، سو طعنے سننے پڑتے ہیں۔‘‘ انہوں نے جبران کو سمجھایا۔
’’یعنی سچی محبت ہے تو زندگی بھر رہنی چاہیے، مگر ہمارے ہاں تو سب رشتے بڑے طے کردیتے ہیں۔ جب محبت کے بغیر شادی ہوگی تو کیسے چلے گی! شکل دیکھے بغیر بھی شادیاں ہوجاتی ہیں۔‘‘ جبران بولا۔
پھوپھو نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’بیٹا! میرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شادی ہمیشہ اپنے جیسے لوگوں میں کرو۔ چلو تم اپنی جیسی شکل اور خاندانی ماحول پر، کوئی امیر گھرانے کی پری جیسی لڑکی لے بھی آئو تو کیا تم احساسِ کمتری کا شکار نہیں رہو گے؟ ہمیشہ دب کر رہنا پڑے گا، کیا تمہیں قبول ہے؟ آج سے سو سال پہلے محبت وغیرہ کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، بغیر دیکھے صرف مائوں کے کہنے پر لڑکے شادی کرتے تھے، یقین کرو سو سال میں طلاق کے صرف ایک دو کیس ہوتے تھے، تصور ہی نہیں تھا کہ طلاق ہوسکتی ہے۔ اور اب جب محبت کی شادیوں کا دور ہے تو عدالتوں میں بھرے پڑے ہیں طلاق اور خلع کے کیس۔ پہلے کے لوگ بھی محبت کرتے تھے، مگر شادی کے بعد محرم سے محبت‘‘۔ انہوں نے سمجھایا۔
’’لیکن اوّل تو آج کل روزگار کا مسئلہ ہے۔ نہ کام دھندا شروع ہوگا نہ شادی ہوگی۔ پھر جو ماں بہو لے کر آتی ہے، وہی بہو کی سب سے بڑی دشمن بن جاتی ہے۔ شادی تو مسئلہ بن گئی ہے، اس لیے کوئی گرل فرینڈ ہو تو خرچا بھی نہیں ہوتا اور دوستی بھی چلتی رہتی ہے۔‘‘ جبران نے تجویز دی۔
’’بیٹا! اللہ کا ایک نظام ہے۔ دیکھو پہلے زمانے میں کاغذات پر انگوٹھا لگایا جاتا تھا۔ پھر تعلیم کے نام پر دستخط شروع ہوئے، اور آج پتا لگا کہ وہی نظام ٹھیک تھا۔ دنیا پھر ’’بائیو میٹرک‘‘ کے نام انگوٹھے کے نشان پر آگئی۔ پہلے کچے پھل، سبزیاں کھائے جاتے تھے، ترقی کے نام پر سب کچھ Processesed ہونے لگا، آج پھر ایک ایک ڈاکٹر تلقین کرتا ہے کہ کچے پھل، سبزیاں کھائو۔ انسان جتنا مرضی فطرت سے دور جانے کی کوشش کرے، اس کی بقا اللہ کے نظام میں ہی ہے۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کہ وہ شخص مومن نہیں جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مومن محفوظ نہیں۔ اگر ہر ساس اور ہر بہو‘ بلکہ ہر مسلمان یہ قول یاد رکھے تو گھریلو جھگڑے نہیں ہوں گے۔‘‘ پھوپھو نے سمجھایا۔
’’ہاں پھوپھو! یہ باتیں تو آپ ٹھیک بتا رہی ہیں، اللہ ہمیں ہدایت دے۔‘‘ جبران کو بات سمجھ آرہی تھی۔
’’بیٹا آپ کو معلوم ہے کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی تکلیفیں کیوں اٹھائیں، گھر سے بے گھر ہوئے، سارے عرب کو اپنا دشمن بنا لیا، کئی کئی وقت کی بھوک کاٹی… کیوں؟ بیٹا! ان کو عشق ہوگیا تھا، ان کو میرے رب سے عشق ہوگیا تھا۔ ابوبکرؓ جو اپنے گھر کا تمام سامان لا کر رسولؐ کے قدموں میں ڈھیر کردیتے ہیں، عمرؓ جو آدھی دنیا پر اسلام رائج کرتے ہیں، عثمانؓ جو موقع بے موقع اپنی دولت لٹاتے ہیں، علیؓ خیبر فتح کرتے ہیں، کیوں؟‘‘ پھوپھو نے پوچھا۔
جبران سوچتا رہا پھر بولا ’’انہیں عشق ہوگیا تھا، سچی محبت میرے رب سے۔ سوائے محبت کے یہ کیفیات نہیں ہوتیں۔ ان کو بھوک نہیں لگتی تھی، پیٹ پر پتھر باندھ کر گزارہ کرلیتے تھے، ان کو نیند نہیں آتی تھی، ساری رات عبادت کرتے تھے، ایسی دیوانگی سوائے عشق کے کچھ نہیں۔ انسان ایسا بے نیاز صرف عشق میں ہوتا ہے۔ کیسا بابرکت تھا وہ عشق، دنیا کا نقشہ اور روحوں کی دنیا بدل گیا۔ ایک یہ ڈراموں والا عشق ہے، صرف ہوس، بربادی اور خودغرضی۔ یہ کفر ہے، شیطان ہے، گناہ ہے۔‘‘ اس نے پورے ہوش میں جواب دیا۔
پھوپھو کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ’’درست بالکل درست! بیٹا! ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں، ہمیں صرف وہ عشق کرنے کی اجازت ہے جو محمدؐ اور محمدؐ کے صحابہؓ نے کیا۔ یہ سیدھا راستہ ہے۔ محمدؐ کے راستے کے سوا ہر راستہ شرک اور گمراہی ہے۔ آپ شادی کرو، اپنے بیوی بچوں سے محبت کرو، ان کی ضروریات پوری کرو، یہ سب بہت مستحسن ہے، مگر اللہ کے نظام کے خلاف جائو گے تو آپ بھی برباد ہوگے اور دنیا بھی برباد ہوجائے گی۔ جو گمراہی ڈراموں اور فلموں کے ذریعے پھیلائی جارہی ہے یہ نجس ہے، ناجائز ہے، اور مومنوں کے لیے کسی صورت جائز نہیں۔ یہ شیطان کے ہتھکنڈے ہیں۔ شیطان یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ انسان نیابت کے لائق نہیں۔ تم شیطان کو ہرا دو بیٹا۔‘‘ انہوں نے جبران کو سمجھایا۔
’’شیطان ہارے گا پھوپھو! ان شاء اللہ ضرور ہارے گا۔‘‘ جبران نے ایک عزم سے جواب دیا۔

حصہ