حجاب میرا سرمایۂ افتخار

137

افشاں نوید
یہ سڈنی ایئرپورٹ تھا۔ ہم مقررہ وقت سے کچھ قبل ہی پہنچ گئے تھے۔ ملبورن تک کا سفر در پیش تھا۔ وقت گزاری کے لیے کافی لے لی۔ بالکل سامنے کوئی دس گز کے فاصلے پر دو انگریز خواتین موجود تھیں۔ وہ بھی کولڈ ڈرنکز و اسنیکس کے ساتھ وقت گزاری کر رہی تھیں۔ میرے ساتھ میرے شوہر اور داماد تھے۔ ان خواتین کی نظریں مسلسل مجھ پر تھیں۔ ان میں سے ایک نے ڈھیلا سا چھوٹی آستین کا ٹی شرٹ پہنا ہوا تھا۔ دوسری نے فل آستین کی جرسی کے ساتھ چھوٹا سا اسکرٹ لیا ہوا تھا۔ دونوں کے بال لائٹ برائون ڈائی کیے ہوئے تھے۔ کوئی نصف گھنٹہ ہم اجنبی یونہی ایک دوجے کے روبرو بیٹھے رہے ہوں گے۔ ہاں یہ بتاتی چلوں ان خواتین کی عمریں چالیس سے پچاس برس کے درمیان تھیں۔
دائیں میز پر ایک کورین نوجوان ماں ڈیڑھ دو برس کے بچے کو چپس کھلا رہی تھی۔ بائیں جانب بیٹھے طالب علم دکھائی دیتے تھے۔ کچھ لیپ ٹاپ سے جڑے بیٹھے تھے کچھ دیگر مشروبات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ایک جیسے انسان، ایک جہاز، ایک ایئرپورٹ ایک فضا میں سفر کریں گے مگر کتنا فرق ہے انسان اور انسان کے درمیان۔ کتنا فرق ہے سفر کے مقاصد میں ہاں! کتنا فرق ہے ہماری امنگوں اور آرزوئوں میں!!
ان دو انگریز خواتین میں جو کم عمر تھی وہ میری جانب دیکھتے ہوئے سر گوشی میں پہلو میں بیٹھی خاتون سے کچھ کہہ رہی تھی۔ میں گمان کر سکتی ہوں مجھے حجاب میں دیکھ کر وہ کیا کہہ رہی ہو گی۔ وہ مجھے کتنا مظلوم اور دکھی گردان رہی ہو گی۔ اس کا خیال ہو گا کہ مجھ ’’بے چاری‘‘ نے کبھی آزاد فضائوں میں سانس ہی نہیں لی ہے۔ وہ سوچ رہی ہوں گی کہ یہ جو میرے دائیں بائیں بیٹھے دو مرد ہیں انہوں نے مجھ پر کتنے ستم ڈھائے ہیں۔ میری آزادی کو سلب کر رکھا ہے۔ اس اکیسویں صدی میں بھی عورت کتنی مجبور اور بے بس ہے۔ اکیسویں صدی میں جب کہ مریخ پر کاشت کاری کے منصوبے بن رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کو مٹھی میں لیا ہوا ہے۔ ہر دن نئی ایجادات کا دن ہے۔ مگر یہ عورت آج بھی محبوس ہے۔ اس کو پردوں میں چھپا کر دراصل مرد اپنی کم نظری کا ثبوت دیتے ہیں۔ ایسا کیا ہے ان عورتوں کے پاس جس کو اتنا چھپا کر رکھا جائے؟ چھپتے تو مجرم ہیں! آخر کیا جرم کیا ہے ان عورتوں نے کہ ان کو پردے کی ’’قید‘‘ میں جکڑ کر رکھا جائے۔ کاش یہ شدت پسند آزاد ہو سکتے۔ شاید وہ ایک دوسرے سے کہہ رہی ہوں ہم اس بے چاری عورت سے مل کر کیا سوال کر سکتے ہیں؟ اس کو تو شاید اسکول یا تعلیمی ادارے کی ہوا بھی نہ لگنے دی ہو گی۔ کاش ان کے مردوں کو کوئی سمجھا سکتا۔ یہ عورتیں اپنے مردوں کے خلاف آواز بھی بلند نہیں کر سکتیں۔ یہ قید میں ہیں۔ یہ روشن خیال ہوتے تو کیا بگڑ جاتا۔ ان کی عورتیں تو سانس بھی مشکل سے ہی لے پاتی ہوں گی۔ شاید سفید ٹی شرٹ والی نے جرسی والی سے زیر لب ’’طالبا نائزیشن‘‘ کہا ہو!
حجاب کو مغرب میں جبر کی علامت ہی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں ہمارے مرد شاطر ہیں، ہم پر غلبہ رکھتے ہیں۔ ہمیں حجاب میں قید کرکے خود چار چار شادیوں کا حق رکھتے ہیں۔ ہم زمانے کے تقاضوں کو نہ سمجھتی ہیں، نہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ہم جیسی ’’مجبور‘‘ بے شمار عورتیں دنیا سے گزر چکی ہیں۔ اب ہم لمحہ موجود میں ایک نسل کے نمائندہ ہیں۔ ہماری آئندہ نسلیں شاید روشن خیال ہو جائیں مگر ہم نے وقت کی آہٹوں کو نہ سنا، نہ محسوس کیا۔ ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہی رہ گئے۔ ہماری سوچوں کو بھی اس پردے میں قید کر دیا گیا ہے!!!۔
میں خواہ مخواہ ہی ان کے بارے میں اتنا سوچ رہی ہوں۔ شاید وہ میرے بارے میں کچھ بھی نہ سوچ رہی ہوں۔ مگر وہ ایک دوسرے سے بار بار کچھ کہہ رہی تھیں ان کی آنکھوں سے جو جذبات مجھ تک منتقل ہوئے وہ میرے لیے خوش گوار نہ تھے۔ مگر اتنی بڑی دنیا ہے بھانت بھانت کے لوگ ہمیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔ مگر کام سے کام رکھنے کا یہ مطلب کیا ہے کہ ہم سوچ پر پہرے بٹھا دیں۔ میں نے کافی کے کپ لے کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے سوچا کہ عورتوں نے کتنا فتنہ پیدا کیا ہوا ہے مردوں کے مقابلے میں؟ یہ عورت کا غیر ساتر لباس نہ صرف عورت بلکہ مرد کو بھی کتنے بڑے فتنے سے دو چار کرتا ہے۔ آخر یہ اتنی بڑی بڑی ڈگریاں لینے والے، اتنے ترقی یافتہ لوگ کیوں نہیں جانتے کہ عورت کا ساتر لباس اس روئے زمین کی ضرورت ہے۔ عورت کا لباس تعمیرات کی دنیا کا کوئی ’’ٹرینڈ‘‘ نہیں ہے کہ کبھی انسان غاروں میں رہتا تھا، کبھی پہاڑوں میں گھر تراش کر۔ تعمیرات کے انداز وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ ہر صدی کا الگ طرز تعمیر ہوتا ہے ایسا نہیں ہے کہ عورت کا با حجاب ہونا کل کی ضرورت تھا لیکن آج کے ماڈرن دور کو وہ پردے میں رہتے ہوئے نہیں سمجھ سکتی۔ آج کا برانڈ لباس سے بے نیاز عوت ہے!
ان خواتین کو جن کے اوپر کے جسم بالکل کھلے تھے تو کچھ کی ٹانگیں۔ میں حسرت و افسوس کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دیکھتے ہوئے سوچا کرتی کاش ان تک ہدایت پہنچ جاتی۔ شاید ہم ان کو بتا نہیں سکے کہ ہم خود کو کتنا محفوظ تصور کرتے ہیں۔ ہمارے چھپے ہوئے سراپے نہ صرف ہمارے لیے تحفظ کا ذریعہ ہیں بلکہ ہم نے اپنے مردوں کو بھی بد نگاہی کے فتنے سے محفوظ کر رکھا ہے۔ ہم پاکیزہ سماج کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ہماری مائوں نے شرم و حیا ہماری گھٹی میں ڈالی کہ مسلمان عورت کے لیے حیا ہی اس کا سب سے قیمتی زیور ہے۔
سچ گو یہ ہے کہ مسلمان عورت کا حجاب ہی ایک مستحکم خاندان کی بنیاد رکھتا ہے۔ وہ اپنے پاکیزہ طرز عمل سے اپنی اولاد کو بھی حیا کی تعلیم دیتی ہے۔
مغربی معاشروں میں حجاب ہی مسلم اور غیر مسلم کے درمیان شناخت ہے۔ مسلمان عورتیں ساتر لباس کے ساتھ سر ڈھانپنے کو پسند کرتی ہیں۔ ایسا کیا ہے کہ ایک عورت کلمۂ شہادت پڑھتے ہی خود کو ڈھانپ لیتی ہے۔ کیا وہ خود کو مجبور پاتی ہے کیا وہ اپنے نفس کی خواہش کے خلاف جبراً ایسا کرتی ہے!! آپ مل کر دیکھیں نو مسلم خواتین سے وہ حجاب میں خود کو کس قدر محفوظ تصور کرتی ہیں۔ حیا تو اللہ نے انسان ہی نہیں جانوروں کی بھی فطرت میں ودیعت کی ہے۔
میں آسٹریلیا میں ہائی اسکول کی چھٹی کے وقت جب دیکھتی کہ سولہ اور سترہ برس کی لڑکیاں فراک میں کھلی ٹانگوں کے ساتھ اسکول سے نکل رہی ہیں دائیں بائیں اسکول کے لڑکے ۔ مجھے ان لڑکوں پر بڑآ ترس آتا تھا کہ ان کے معاشرے نے انہیں کس شدید آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ قابل رحم بچیاں بھی ہیں جن کے اندر سے کھرچ کھرچ کر مادہ شرم کو اس سماج اور ان کے والدین نے نکالا۔
ایک مسلمان عورت اپنی حیا کی حفاظت کی خاطر اپنی جان دے سکتی ہے۔ اس کے لیے اس کی حیا کائنات کا قیمتی خزانہ ہے۔ وہ مجبور ہے نہ بے بس۔ نہ ترقی کے نام نہاد معیارات پر پوری اترنا چاہتی ہے۔ وہ خود کو قابل فخر سمجھتی ہے کہ اس کے حجاب نے معاشرے کو تحفظ عطا کیا ہوا ہے۔ وہ معاشرے جہاں عورت کی بے حجابی اور بے باکی نے معاشروں کو تعفن زدہ کر رکھا ہے۔ اموات ڈرگز کی زیادتی سے واقع ہوتی ہیں۔ شراب کی کثرت نے معاشرے کو انارکی سے دو چار کیا ہوا ہے۔ ذمہ داری ہماری بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ اس عظیم آفاقی پیغام کو ’’حیا‘‘ جس کا شعار اول ہے ہم نے اس کو غیر مسلم اقوام تک کتنا پہنچایا؟

حصہ