بزم نگارِ ادب پاکستان کا جشن ِ آزادی مشاعرہ

105

ڈاکٹر نثار احمد نثار
یوم آزادیٔ پاکستان ہر سال نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے اس تناظر میں مختلف تنظیمیں اور ادارے پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔ تحریک ِ قیامِ پاکستان میں شعرا کا بھی اہم کردار ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر جاذب قریشی نے بزمِ نگارِ ادب پاکستان کے جشن آزادی مشاعرے کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے محسنوں شہیدوں کو یاد کرنا ایک اچھی روایت ہے‘ پاکستان کے لیے آج تک جن لوگوں نے جانیں قربان کی ہیں وہ سب اہم لوگ ہیں‘ ہمیں چاہیے کہ ہم آزادی کی قدر کریں اور دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیں۔ اس وقت پاکستان دشمن عناصر ہماری آزادی کے درپے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بزمِ نگار ادب پاکستان کے چیئرمین سخاوت علی نادر علم و ادب کی ترقی کے لیے قابل تحسین کام کر رہے ہیں انہوں نے کراچی کے مختلف علاقوں میں ادبی پروگرام منعقد کیے ہیں ان کے ہر پروگرام میں لوگ دور دور سے پہنچ جاتے ہیں‘ یہ ان کی P.R کا کمال ہے‘ یہ خود بھی بہت اچھے شاعر اور بہت عمدہ منتظم ہیں۔ ان کی تنظیم کے تمام اراکین و عہدیداران قابل مبارک باد ہیں کہ آپ لوگ مل کر اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہیں۔ میں نے آپ کی تنظیم کی گونج امریکا میں بھی سنی ہے۔ بزمِ نگار ادب پاکستان کے جشن آزادی مشاعرے میں مجلس صدارت قائم کی تھی جس میں پروفیسر جاذب قریشی اور انور شعور شامل تھے۔ اس موقع پر انور شعور نے کہا کہ شعرائے کرام کو وقت کی پابندی کا خیال رکھنا چاہیے‘ پانچ بجے شام کے بجائے مشاعرہ پونے دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا ہے‘ اس قسم کی لاپروائی سے منتظمین مشاعرہ مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بہت اچھی شاعری سامنے آئی ہے اس کا کریڈٹ سخاوت علی نادر اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے کہ انہوں نے اچھی سلیکشن کی‘ میں کامیاب مشاعرے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ سخاوت علی نادر نے خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ ہم ایک آزاد قوم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایٹمی قوت بھی ہیں جس کے باعث بھارت ہم سے ڈرتا ہے۔ ہم نے اپنی آزادی کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے کہ ہمارے دشمن آج بھی ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور ہمارے محافظ شہید ہو رہے ہیں۔ اہم اپنے محافظوں اور شہیدوں کو سلام پیش کرتے ہیں‘ ہم اپنے دشمن کے خلاف متحد ہیں اور ان شاء اللہ ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاعر معاشرے کا نباض ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنے لوگوں کو بتاتا ہے کہ اب انہیں کن مسائل کا سامنا ہے اور اس کا حل کیا ہے جو قومیں قلم کاروں کو نظر انداز کرتی ہیں وہ ترقی نہیں کر پاتیں۔ اس پروگرام کے مہمانان خصوصی رونق حیات تھے‘ فیاض علی فیاض اور جمیل ادیب سید مہمانانِ اعزازی تھے جب کہ واحد حسین رازی اور شائق شہاب نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ تلاوتِ کلام مجید کی سعادت وسیم احسن نے حاصل کی اور حسنین کاظمی نے سخاوت علی نادر کی تحریر کردہ نعت پیش کی۔ مشاعرے میں سامعین بھی موجود تھے جنہوں نے انور شعور‘ پروفیسر جاذب قریشی‘ رونق حیات‘ فیاض علی فیاض‘ جمیل ادیب سید‘ راشد نور ‘ عبدالمجید محور‘ اوسط جعفری‘ نظر فاطمی‘ احمد سعید خان‘ سخاوت علی نادر‘ حامد علی سید‘ نسیم شیخ‘ کشور عدیل جعفری‘ حنیف عابد‘ سعد الدین سعد‘ خالد میر‘ سلمان عزمی‘ حمیرہ ثروت صدیقی‘ یاسمین یاس‘ چاند علی چاند‘ یاسر سعید صدیقی‘ تنویر سخن‘ مہتاب عالم مہتاب‘ واحد رازی‘ کاشف ہاشمی‘ شائق شہاب‘ وسیم احسن‘ ساجدہ سلطانہ‘ اطہر حسین کاظمی اور ثنا سبحان کو سماعت کیا اور ہر اچھے شعر پر داد دی۔ تنظیم کے جوائنٹ سیکرٹری نے کلماتِ تشکر اداکیے‘ رات گیارہ بجے یہ مشاعرہ ختم ہوا جس کے بعد عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔

۔’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے موضوع پر جمعیت الفلاح کا مشاعرہ

جمعیت الفلاح وہ ادارہ ہے جو کہ مختلف حوالوں سے بڑی اہمیت کا حامل ہے تاہم اردو زبان و ادب کے لیے بھی یہ بہت فعال ہے اس سلسلے میں تواتر کے ساتھ ادبی تقریبات کا انعقاد اس کے منشور کا حصہ ہیں‘ اگست کا مہینہ قیام پاکستان کی وجہ سے مشہور ہے‘ یوم آزادی ہمارے لیے بہت اہم ہے‘ ہم اس دن قومی پیمانے پر تقریبات ترتیب دیتے ہیں اس وقت ہمارے دشمن ملک بھارت نے کشمیر پر غاضبانہ قبضے کی شروعات کر رکھی ہیں جس کے باعث پاکستان میں بے چینی پائی جاتی ہے‘ پاکستان کے لیے کشمیر کا مسئلہ موت و زندگی کا مسئلہ ہے اس سلسلے میں ہر فورم پر آواز بلند کی جارہی ہے‘ شعرائے کرام اپنے اشعار کے ذریعے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہیں اسی تناظر میں جمعرات 22 اگست کو جمعیت الفلاح نے اپنے جھنڈے تلے ایک مشاعرہ اور مذاکرے کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام کی صدارت اعجاز رحمانی نے کی۔ پروفیسر عنایت علی خان مہمان خصوصی تھے۔ نظر فاطمی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مقررین میں قیصر خان‘ یونس بارائی‘ سعید احمد صدیقی‘ مظہر زیدی اور جہانگیر خان شامل تھے جنہوں نے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی بعدازاں مشاعرہ ہوا جس میں اعجاز رحمانی‘ پروفیسر عنایت علی خان‘ سرور جاوید‘ فیاض علی فیاض‘ ظفر محمد خاں ظفر‘ اختر سعیدی‘ اجمل سراج‘ عبدالمجید محور‘ حامد علی سید‘ نجیب ایوبی‘ نورالدین نور‘ احمد سعید خان‘ نظر فاطمی‘ نعیم الدین نعیم‘ الحاج نجمی‘ اکرم راضی‘ شہود ہاشمی‘ جمیل ادیب سید‘ صدیق راز‘ عاشق شوکی‘ علی کوثر‘ چاند علی چاند‘ محمد طالب رشید‘ وہاب قاسمی سحر اور جریر اسد نے کلام پیش کیا۔

اکادمی ادبیات پاکستان کا مذاکرہ اور مشاعرہ

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی گزشتہ پانچ برس سے ہفتہ واری ادبی نشستوں کا اہتمام کر رہا ہے‘ ان کا پروگرام گیارہ بجے شروع ہوتا ہے ہر شاعر کو ایک ہی کلام کی پابندی سے گزرنا ہوتا ہے اس لیے ایک بجے یہ پروگرام ختم ہو جاتا ہے۔ گزشتہ بدھ کو اکادمی ادبیات پاکستان کراچی میں معروف افسانہ نگار حاجرہ مسرور کی یاد میں ادبی ریفرنس کی بعد مشاعرے کا اہتمام کیا تھا جس کی صدارت پروفیسر جاذب قریشی نے کی۔ سرور جاوید‘ راشد نور‘ رخسانہ صبا‘ عقیل دانش‘ راقم الحروف نثار احمد‘ سہیل ضرار اور شاہین برلاس مہمانان خصوصی ڈیکلئر کیے گئے جب کہ ادارے کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے نظامت کے فرائص کے ساتھ حاجرہ مسرور کے فن اور شخصیت پر سیر حاصل گفتگو میں کہا کہ اردو افسانے میں حاجرہ مسرور کا نام بڑی عقیدت کا حامل ہے‘ افسانوی ادب ایک صدی کا قصہ ہے اس صنفِ سخن میں آج بھی لکھا جارہا ہے اور زندگی کے مختلف موضوعات زیر بحث آرہے ہیں حاجرہ کے ابتدائی افسانوں میں جذباتیت‘ کڑواہٹ اور جھنجھلاہٹ کا غلبہ نظر آتا ہے لیکن قیام پاکستان کے بعد ان کے فن میں نکھار پیدا ہوا۔ وہ معاشرتی زندگی سے اپنے افسانوں کا موضوع تلاش کرتی تھیں اور اپنے کرداروں کے میلانات اور رجحانات کی خوبیوں اور خامیوں کی عکاسی بڑی ہنر مندی سے کرتی تھیں۔ گھریلو عورت اور نسائی مسائل کے بارے میں ان کا مشاہدہ بہت وسیع تھا‘ وہ خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں۔ صاحب صدر پروفیسر جاذب قریشی نے کہا کہ قادر بخش سومرو ایک اچھا کام کر رہے ہیں کہ وہ یادرفتگان کے حوالے سے پروگرام کر رہے ہیں تاہم میری تجویز ہے کہ عہد حاضر کے زندہ لوگوں پر بھی پروگرام کیے جائیں‘ ان کی تخلیقی اور تہذیبی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے ویسے بھی کراچی کے ادبی حلقوں میں بڑے نام کم ہوتے جارہے ہیں ان کی پزیرائی کیجیے نیز جب آپ مشاعرے میں شریک ہوتے ہیں تو خاموش تماشائی مت بنیے بلکہ اپنی موجودگی کا احساس دلایئے‘ شعرا کی حوصلہ افزئی کیجیے‘ جب تک فنکار کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی اس میں اعتماد کا فقدان رہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حاجرہ مسرور جس تہذیب کی خاتون تھیں وہ روایت آسان نہیں تھی‘ 1944ء میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’چرخے‘‘ شائع ہوا تھا اس وقت افسانوی ادب میں کئی اہم افسانہ نگار موجود تھے لیکن حاجرہ مسرور نے نسائی تجربوںکو خاص لب و لہجے میں لکھ کر عزت و شہرت حاصل کی اور اپنی شناخت بنائی‘ ان کے افسانوں سے بھی متوسط طبقے کے جنسی اور معاشرتی رویوں کو زبان ملی ان کے افسانوں میں گہرائی اور وسعت ہے انہوں نے افسانوی ادب میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ہر افسانہ زندگی سے مربوط ہے ان کی تحریر میں مشاہدے کی گہرائی‘ شعور کی پختگی اور تجربے کی وسعت نمایاں ہے۔ سرور جاوید نے کہا کہ حاجرہ مسرور کی افسانوں میں عورت کی مظلومیت کا اس طور ذکر ہوتا ہے کہ بے اختیار افسانہ نگار کی صنف کا احساس نمایاں ہوجاتا ہے اس میں شک نہیں کہ مردوں کے معاشرے میں عورت کے بارے میں سماجی تعلقات اور مسائل پر آج بھی بات ہو ہی ہے حاجرہ نے عورت کی مظلومیت کو اپنی تحریروں کا محور بنایا کیوں کہ وہ عورتوں کی نفسیات سے واقف ہیں اور عورتوں پر ہونے والے مظالم ان کے سامنے تھے انہوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اسی لیے ان کے افسانوں میں حقیقت نگاری کا رجحان غالب دکھائی دیتا ہے ان کے افسانوں کے پلاٹ بہت آسان ہوتے تھے‘ لفظیات پر انہیں گرفت تھی‘ زبان و بیان پر عبور حاصل تھا‘ وہ ثقیل اور بوجھل الفاظ کے بجائے سادگی اور روانی کی قائل تھیں۔ انہوں نے ضیا الحق کے مارشل لاء کے خلاف اپنی آخری افسانہ لکھ اس میں مارشل لا سے پیدا ہوئی خرابیوں کا تفصیلی ذکر ہے اور ضیا الحق کے کوڑوں کا تذکرہ بھی ہے۔ وہ معاشرے میں امن کی خواہاں تھیں۔ سرور جاوید نے مزید کہا کہ اب افسانہ نگاری دھیرے دھیرے دم توڑ رہی ہے کوئی بڑا افسانہ نگار سامنے نہیںآرہا۔ معیاری تخلیقات کم ہوتی جارہی ہیں اسی لیے قاری کتاب سے دور ہوتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر رخسانہ صبا نے کہا کہ حاجرہ مسرور کے افسانے زندگی کے متوازن مزاج کے آئینہ دار ہیں‘ ان کی کہانیوں میں انسانی حیات نظر آتی ہے‘ وہ فرد کی ذہنی اور جذباتی کیفیتوں سے بھی غافل نہیں تھیں‘ وہ پورے اخلاص کے ساتھ زندگی سے رشتہ جوڑے رہیں وہ انسانی فکر و عمل کے ان پہلوئوں کا انتخاب کرتی تھیں جن پر دوسروں کی نظر نہیں پڑتی تھی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو انہوں نے ہمارے ماحول کی دکھتی رگوں پر انگلیاں رکھی ہیں۔ انہوں نے سلگتے ہوئے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا‘ ان کے افسانوں پر ترقی پسند عناصر کا غلبہ ہے لیکن انہوں نے نسائیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا‘ وہ ترقی پسند تحریک کے اجلاسوں میں برقع پہن کر شریک ہوتی تھیں۔ راشد نور نے کہا کہ حاجرہ مسرور نے افسانوں میں کمال حاصل کیا لیکن انہوں نے ارتقائی منازل بہت محنت اور لگن سے طے کیں‘ ان کے ابتدائی افسانوں میں زندگی کے تجربات کم ہیں البتہ دھیرے دھیرے ان کے فن میں پختگی اور شعور پیدا ہوا۔ انہوں نے نوجوان لڑکیوں کے جنسی مسائل کے اظہار میں بے باکی سے کام نہیں لیا بلکہ اشاروں کنایوں میں ان کی ترجمانی کی ان کے یہاں رومانس بھی ہے اور معاشرتی کرب بھی اور طنزیہ جملے بھی۔ اس پروگرام کے دوسرے دور میں مشاعرہ ہوا جس میں صاحب صدر‘ مہمانان خصوصی اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ جن شعرا نے کلام پیش کیا ان میں عرفان عابدی‘ صدیق راز‘ عارف شیخ‘ یوسف چشتی‘ افضل ہزاروی‘ سجاد احمد‘ ریحانہ احسان‘ فرح کلثوم‘ شگفتہ شفیق‘ اوج ترمزی‘ ظفر معین‘ شہناز رضوی اور دیگر شعرا شامل تھے۔

حصہ