ہند کی تباہی چائنا کے ہاتھوں

218

آج سے صرف بیس سال قبل جو افراد، علمائے کرام اور جدیدیت میں جکڑے ہوئے مفکرین قیامت کے قرب میں ہونے والی بڑی جنگوں کے بارے میں ابوابِ فتن میں موجود احادیث کی اسناد پر بحث کرتے تھے، کسی کو من گھڑت، کسی کو ضعیف اور کسی کو سیاسی مقاصد کے تحت تخلیق کردہ قرار دے کر مسترد کردیتے تھے، آج حیرت میں گم ہیں۔ کیوں کہ ان کے نظریہ علت و معلول (cause and effect) کے تحت اللہ نے یہ اسباب کی دنیا بنائی ہے، اس لیے جیسے حالات ہوں گے، ویسے ہی نتیجے برآمد ہوں گے۔ ان اصحاب اور ملحدین میں صرف ایک فرق ہے کہ ملحدین سرے سے خدا کے وجود کا انکار کردیتے ہیں، جب کہ ان کا تصورِ خدا اتنا محدود ہے کہ اس نے یہ دنیا تخلیق کی، اسے ایک قانون کے تابع کیا، پیغمبروں کے ذریعے ہدایت بھیجی اور قیامت کی آمد کے انتظار تک وہ اب اس کے معاملات سے بے دخل ہوگیا ہے۔ اب جیسا لوگ یہاں کریں گے اس کا نتیجہ بھی ویسا ہی برآمد ہوگا۔ البتہ غلط اور صحیح عمل پر جزا و سزا آخرت میں دی جائے گی۔ لیکن اسلام کا اللہ سمیع و بصیر بھی ہے اور اپنے فیصلوں پر بھی قادر ہے۔ وہ آج بھی لوگوں کو اپنی طرف واپس لانے کے لیے آزمائش اور عذاب میں بھی ڈالتا ہے اور آزمانے کے لیے نعمتوں میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ وہ ہر گھڑی لوگوں، قوموں اور گروہوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کے بارے میں مسلسل فیصلے بھی صادر فرماتا رہتا ہے۔ اس کے اسی حسنِ انتظام کا ایک بڑا حصہ وقت سے پہلے لوگوں کو ڈرانے (warnings) کا بھی ہے۔
وہ فرماتا ہے ’’اور اس بڑے عذاب سے پہلے بھی ہم انہیں کم درجے کے عذاب کا مزا ضرور چکھائیں گے، شاید و باز آجائیں‘‘ (السجدہ21)۔ یعنی قیامت سے پہلے وہ قوموں کے افعال دیکھ کر انہیں مختلف عذابوں سے جھنجھوڑتا ہے تاکہ وہ باز آجائیں۔ یہ اس کی، لوگوں کی زندگیوں میں مسلسل براہِ راست مداخلت (intervention) ہے۔ وہ پیغمبروں کے ذریعے ہدایت دینے کے بعد بھی ہمیں روز یہ دعا مانگنے کی تلقین کرتا ہے ’’چلا ہمیں سیدھے راستے پر‘‘( الفاتحہ)۔ یہی وجہ ہے کہ اختتامِ دنیا سے قبل چوں کہ دنیا کے حالات اس قدر دگرگوں ہوجائیں گے کہ آدمی کا ہدایت پر قائم رہنا مشکل ہوگا، تو اسی مقصد کے لیے اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے قیامت سے کچھ عرصہ قبل یعنی آخر الزماںؐ کے بارے میں بہت تفصیل سے پیش گوئیاں عوام تک پہنچائیں۔ یہ پیشگوئیاں صرف سید الانبیاؐ کی احادیث کی صورت میں نہیں ملتیں، بلکہ تینوں ابراہیمی مذاہب کی کتب میں ایک بڑا حصہ قیامت کے قریب ہونے والے واقعات کے بارے میں موجود ہے۔ یہودیوں کے ہاں لیسعیاہ (Isaiah) کی کتاب اور دانیال کے مکاشفات، اور عیسائیوں کے ہاں بھی ان دونوں پیغمبروں کی کتب کی عہدنامہ قدیم میں موجودگی کے علاوہ متی، بوایل اور مکاشفہ کے ابواب میں قیامت سے پہلے کے دور کے بارے میں مکمل تفصیل موجود ہے۔ بشارتیں، پیش گوئیاں اور جنگوں کا احوال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی بحیثیت قوم گزشتہ ایک سو سال پہلے یعنی 1920ء سے ان پر یقین کرکے اس مقدس جگہ یعنی یروشلم میں جاکر آباد ہونا شروع ہوگئے تھے، اور اب وہ ایک طاقتور اسرائیل کے طور پر ان پیش گوئیوں کی سچائی کی علامت بن چکے ہیں۔ جبکہ انہی گزشتہ سو برسوں میں مسلمانوں کے سامنے قرآن میں اس علامت کا ذکر موجود تھا، فرمایا ’’اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا، تم زمین میں بسو لیکن جب آخری وعدے کا وقت آئے گا تو ہم تم کو واپس اکٹھا کردیں گے۔‘‘(بنی اسرائیل:106)
لیکن اس آیت کو عقلیت پرست روزِ حشر سے منسلک کرتے رہے اور اللہ نے ان کے سامنے ہی اسی بنی اسرائیل کو جسے کہا تھا ’’ہم نے تم کو مختلف علاقوں میں تقسیم کردیا‘‘ (الاعراف:164) اپنے وعدے کے مطابق واپس یروشلم میں اکٹھا کردکھایا۔ لیکن عقل و خرد کے پروانوں کو غیب پر یقین کی لذت بڑی مشکل سے ملتی ہے۔ غور کرو کہ اب مصر سے لے کر برصغیر تک جو کچھ برپا ہے، جن خطوں میں قتل و غارت اور تباہی و بربادی ہے، وہ پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ دیکھو سب کچھ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بتائی گئی پیش گوئیوں کے عین مطابق ہورہا ہے۔ شاید اب کسی کو احادیث کی سند ڈھونڈنے، راوی کے کردار اور نظریات پر بحث کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ آفتاب آمد دلیلِ آفتاب (سورج کا نکلنا ہی اس کی دلیل ہوتا ہے)۔
اس دلیلِ آفتاب پر پختہ ایمان اُن یہودیوں کا ضرور ہے جو دنیا کے شاندار ملکوں کا عیش و آرام چھوڑ کر بے آب و گیاہ اسرائیل میں آکر آباد ہوئے ہیں۔ وہ اپنی مقدس کتب میں موجود ایک ایک پیش گوئی کی روشنی میں اپنے فیصلے کرتے ہیں۔ چند دن پہلے، 9 اگست 2019ء کو اسرائیل کے تمام اخبارات میں ایک ہیڈلائن تھی، جس میں ذکر تھا کہ ہیکل سلیمانی (Temple Moun) پر لومڑیوں کا نظر آنا اس پیش گوئی کی صداقت ہے کہ اب یہاں پھر ہیکل دوبارہ تعمیر ہوگا۔ یہ لومڑیاں یروشلم کی مغربی دیوار کے ساتھ گھومتی نظر آرہی ہیں۔ اس کا ذکر ان کی کتاب گریہ Lamentations کی آیت 5:18 میں ہے کہ ’’بابل کے لوگ ہیکل سلیمانی تباہ کردیں گے اور ایک دن اس میں لومڑیاں گھومیں گی۔‘‘ یہ پیش گوئی پیغمبر حضرت اوریا کی ہے۔ جبکہ اس سے براہِ راست متعلق دوسری پیش گوئی تالمود میں حضرت زکریا کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’’ایسا اگر ہوا تو ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر ہوگا۔ (مکوتB-24) یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے اسرائیل میں خوشی کی ایک لہر دوڑی ہوئی ہے کہ اب ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر ہونے والی ہے اور وہاں سے تختِ دائود پر بیٹھ کر پوری دنیا پر حکومت کرنے کے دن قریب ہیں۔
یہ سب تو ان کی کتابوں کے مطابق ہوتا جا رہا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بھی بالکل اس کی نشاندہی کرتی ہیں۔ لیکن ایسا ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن یہودیوں کے لیے ایک وارننگ دیتا ہے ’’لیکن اگر تم وہی کام کرو گے تو تم کو تہس نہس کرکے رکھ دیں گے‘‘ (بنی اسرائیل :8)۔ اس تہس نہس کا سارا نقشہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترتیب سے بتادیا جس کا آخری منظر یہ ہوگا کہ مسلمان یہودیوں کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ پتھر اور درخت پکاریں گے کہ ’’میرے پیچھے یہودی چھپا ہے، اسے قتل کرو‘‘ (مفہوم حدیث: مسلم، مشکوٰۃ)۔ دلیلِ آفتاب کی علامت ایک اور حدیث بھی ہے جس کی سند پر گزشتہ کئی سو برسوں سے بحث جاری ہے، لیکن آج وہ حدیث بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی جارہی ہے۔ یہ حدیث دورِ آخر میں ملکوں کی تباہی اور ہلاکت کے بارے میں ہے۔ لیکن اس سے پہلے قرآن پاک کی پیش گوئی دیکھ لیں ’’اور کوئی قوم ایسی نہیں جسے ہم روزِ قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا اسے سخت عذاب نہ دیں، یہ بات کتاب میں لکھی جاچکی ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل :59)
اس خرابی و تباہی اور عذاب کا تفصیلی تذکرہ دو احادیث میں ملتا ہے، ایک کے راوی حذیفہؓ بن یمان ہیں، جسے قرطبی اور نعیم بن حماد نے درج کیا ہے۔ اور دوسری کے راوی وہبؓ بن منبہ ہیں جو السنن الواردفی الفتن میں موجود ہے۔ اس حدیث کے مطابق دنیا میں خرابی و تباہی پھیل جائے گی اور یہ اُس وقت تک نہیں ہوگا جب تک مصر خراب نہ ہوگا، مصر تب خراب ہوگا جب بصرہ میں خرابی آئے گی، اور بصرہ کی خرابی، عراق کی خرابی سے شروع ہوگی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرابی کی وجوہات بتائیں جن میں مکہ و مدینہ کی خرابی بھوک سے ہوگی۔ اسی حدیث میں سندھ یعنی موجودہ پاکستان اور ہند یعنی موجودہ بھارت، اور الصین یعنی موجودہ چین کا بھی ذکر ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سندھ کی خرابی ہند سے اور ہند کی خرابی چین سے۔ آج کے تناظر میں صرف اس حدیث کو سامنے رکھ کر حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لیں تو پورا منظر کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ اس وقت بھارت کے خلاف سیکورٹی کونسل میں سب سے توانا آواز چین کی ہے جس نے اسے اپنے مفادات پر حملہ قرار دیا ہے۔ یہ تنائو کہاں تک جائے گا، یقینا ہند (بھارت) کی تباہی تک جائے گا۔ یعنی اس حدیث کے عین مطابق، جس میں غزوۂ ہند میں ہند کے بادشاہوں کو جکڑنے کا ذکر ہے، بھارت پہلے ہی کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے گا اور پھر غزوہ ہند کا آغاز ہوگا۔ سندھ (پاکستان) اور ہند (بھارت) کے درمیان ہونے والی لڑائی کو بھی سامنے رکھیں جس میں تباہی ہی تباہی ہے، اور پھر اس کے ساتھ ساتھ خراسان کے لشکر کا بیت المقدس میں جانا اور وہاں امام مہدی کی نصرت کرنا، پھر وہاں سے جہادِ ہند کے لیے لشکر روانہ کرنے کی روایت نظر میں ہو تو آنے والے دنوں کا نقشہ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ پاک بھارت جنگ، جس کے نتیجے میں خطے کا امن تباہ، چین کی دخل اندازی، بھارت کا حصوں میں بٹنا، یروشلم میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر، خراسان سے فوج کا کمک کے لیے پہنچنا، سیدنا مہدی کا اقتدار، اور پھر ہند سے لڑنے کے لیے پاکستان کی جانب فوج کی روانگی، اور دونوں کی مل کر غزوہ ہند میں شمولیت، ہند کی مکمل تباہی، اس کے خزانوں کو بیت المقدس تک لے جانا اور اس دوران سیدنا عیسیٰؑ کا نزول۔ احادیث سے ترتیب تو یہی لگتی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

حصہ