پاکستانی جھنڈے کی کہانی

54

راحت جبین
میں ہو ں پاکستان کا قومی جھنڈا۔ میری کہانی بھی عجیب ہے۔ کہیں پر مجھے عزت اور احترام دیا جاتا ہے توکہیں مجھے جلایا جاتا ہے اورکہیں جانے انجانے پاوں تلے روندا جاتا ہے۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی میری مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پورے پاکستان کے گلی کوچوں میں جھنڈے فروخت ہوتے ہیں۔ ہر گھر کے اوپر ایک جھنڈا ضرورلہرایا جاتاہے۔ دن کو سڑکوں پر ہر طرف جھنڈے ہی جھنڈے ہوتے ہیں تو رات کو سفید اور سبز رنگ کے برقی قمقمے روشن ہوتے ہیں۔ کپڑوں پر میری تصویریں آویزاں ہوتی ہیں۔ چوڑیوں سے لے کر کپڑوں تک، سفید اور سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ دیواروں پر بھی رنگ کرکے انہیں خوشنما بنایا جاتا ہے۔ غرض چاروں جانب سبز اور سفید رنگ ہی نظر آتا ہے۔ 14 اگست تک میری بہت تعظیم کی جاتی ہے۔ مجھے اپنی قسمت پر رشک آنے لگتا ہے مگر یہ تعظیم اور احترام وقتی ہوتا ہے۔ تقریبات مکمل ہونے کے بعد مجھے گلی کوچوں میں پھینک دیاجاتاہے اور آتے جاتے لوگ مجھے بے دردی سے قدموں تلے روندتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اپنے عظمت و تکریم کی خوشیاں مناوں یا پھر اپنے روندے جانے پر ماتم کروں۔
جہاں تک بات جان بوجھ کر جلانے اور روندے جانے کی ہے وہ تو سمجھ آتی ہے کہ لوگ اپنی ذاتی دشمنی، بغض، نفرت اور نا انصافی کا بدلہ مجھے جلا کر یا جان بوجھ کر پاوں تلے روند کر لیتے ہیں مگر مجھے حیرت اور افسوس تو ان پر ہوتا ہے جو ہر 14 اگست کو یا 06 ستمبر کو محبت سے جھنڈے خریدتے ہیں۔ گلی کوچوں کی رونق بناتے ہیں اور ان لوگوں کو وطن سے دشمنی کا طعنہ دیتے ہیں جنہوں نے کوئی بھی جھنڈا نہیں لگایا ہوتا مگر جب تقریبات اختتام کو پہنچتی ہیں تو محبت کے دعوے دار سارے جھنڈے بے دردی سے پھینک دیتے ہیں۔مجھے اب تک یہ بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہر کوئی اپناغصہ نکالنے کے لیے میرے وجود کا استعمال ہی کیوں کرتا ہے۔ آئیے آج میں آپ سب کو اپنی کہانی سناوں۔ میرا پورا نام پرچم ستارہ و ہلال ہے۔
قائد اعظم کی ہدایت پر سید امیر الدین قدوائی نے میرا ڈیزائن بنایا۔ جس میں دو تہائی سبز رنگ رکھا اور ایک تہائی سفید رنگ۔ سبز رنگ مسلمانوں کی اکثریت کو ظاہر کرتا ہے اور سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مقصد یہی تھا کہ ایک مسلم مملکت ہونے کے باوجود یہاں اقلیتوں کے حقوق پامال نہیں ہوں گے۔سبز رنگ کے اوپر چاند ستارہ بنا ہے۔ چاند ترقی اور ستارہ علم کو ظاہر کرتا ہے۔ 14 اگست، 23 مارچ اور 06 ستمبر کو مجھے بلند رکھا جاتا ہے۔ قائد اعظمؒ، لیاقت علی خان اور علامہ اقبالؒ کے یوم وفات پر مجھے سرنگوں رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی خاص مواقع پر پرچم کی بلندی کی تقریبات ہوتی ہیں۔
مجھے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ میرے ہی ملک کے لوگ اور مجھ سے محبت کے دعوے دار مجھے پاوں تلے روندتے ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھ کرمیں اپنے ہم وطنوں کو یہی مشورہ دوں گا کہ خدارا اپنی وطن دوستی کے لیے میرا استعمال بند کریں بلکہ اگر اپنی وطن دوستی کا ثبوت دینا ہی ہے تو اس ملک کی خوشحالی اور ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اپنے ملک کو پرچم اور سجاوٹ کے ساتھ ساتھ سبزہ اگا کر بھی ہرا بھرا کریں۔ ہر کوئی ایک پودا اپنے ہاتھوں سے لگائے، اس کو سینچے اور ملک کو ہرا بھرا رکھے۔ ساتھ ہی اپنے ارد گرد کے ماحول کو ممکنہ حد تک صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کریں۔ یہی ان کی ملک دوستی کا پختہ ثبوت ہوگا اور مجھ سے محبت کا مان بھی۔ اس طرح بے حرمتی بھی نہ ہوگی۔

حصہ