شوق

63

آسیہ بنت ِ عبداللہ
اللہ اللہ کرکے ایک خوب صورت لڑکی سے اس کی شادی ہوئی۔ سب بہت خوش تھے۔ اس کے والدین سعودی عرب سے آئے اور شادی کے بعد واپس چلے گئے۔
مختصر سا جہیز ملا۔ ڈبل بیڈ، الماری، سنگھار میز اور ڈیوائیڈر، جس میں ٹی وی بھی جا سکتا تھا۔ فرنیچر کے چار پیس میں پانچ شیشے لگے تھے اور ہر ایک میں منہ دیکھا جاسکتا تھا۔ دو قدِ آدم آئینے بھی لگے تھے، یعنی سر سے پیر تک تمام خوبصورتیوں کو جانچ لو، لباس کی فٹنس کو پرکھ لو۔ کہیں دعوت میں جانا ہو تو کم از کم دو گھنٹے سنگھار میز کے سامنے گزارنا لازمی تھے دلہن بی بی کے۔
شروع میں تو دولہا صاحب یہ سمجھتے رہے کہ نیا نیا شوق ہے، دلہناپے کے لوازمات ہیں، رفتہ رفتہ اعتدال پر آجائے گی۔ مگر یہ اس کی خوش فہمی تھی۔ بہنیں اپنے اپنے گھر چلی گئیں۔ اب گھر میں صرف وہ دونوں تھے۔ ایک بھائی تھا شکیل، جو میڈیکل کے پہلے سال میں تھا، اُسے تعلیم مکمل ہونے تک ملک میں رہنا تھا۔ وہ ہاسٹل میں رہتا تھا، ویک اینڈ پر آیا کرتا۔
چھٹیاں ختم ہوگئی تھیں، صبح اسے آفس جانا تھا۔ صبح سات بجے کے الارم سے ندیم کی آنکھ کھلی، اس نے دیکھا صبا مزے سے میٹھی نیند سو رہی ہے۔
’’صبا اٹھو، مجھے آفس جانا ہے۔‘‘ اس نے آہستہ سے کندھا ہلایا۔
جواب میں ذرا کسمسائی اور یہ کہہ کر پھر سو گئی کہ ’’ابھی بہت ٹائم ہے، اٹھ جائوں گی۔‘‘ساڑھے سات اور پھر آٹھ بج گئے، جب وہ اٹھی تو اسے ڈھارس بندھی کہ اب مجھے ناشتا بھی مل جائے گا اور کپڑے بھی تیار ملیں گے۔
اٹھتے ہی وہ واش روم میں گھس گئی، دس پندرہ منٹ بعد برآمد ہوئی تو سنگھار میز پر جا بیٹھی، بڑے اطمینان سے اسٹائلش سے بال بنائے۔ جب ندیم واش روم سے باہر آیا تھا تو دیکھا کہ اب وہ سرخی، پائوڈر اور کاجل سے دو دو ہاتھ کر رہی ہے۔
’’ارے مجھے ناشتا بنا کر دو بھئی، دیر ہورہی ہے۔‘‘
’’جی بس ابھی بناتی ہوں…‘‘ ابھی کہتے کہتے اس نے آئی لائنر اور مسکارا بھی لگایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’لائو میرے کپڑے، جب تک ناشتا بنائو میں چینج کرلوں۔‘‘
’’آپ تھوڑی دیر رک جائیں میں استری تو کردوں۔‘‘ بڑے آرام سے جواب ملا۔
’’کیا، تم کو ابھی استری بھی کرنی ہے…! اُف خدایا، میں کب دفتر پہنچوں گا۔‘‘ اپنے امنڈتے ہوئے غصے کو قابو کرکے وہ وہیں بیڈ پر ٹک گیا۔
تیار ہونے تک صبح کے ساڑھے نو بج چکے تھے، آج تو باس سے ضرور ڈانٹ پڑے گی۔ ’’بھئی اب ناشتا بنانے کی ضرورت نہیں، صرف چائے دے دو… اوہ نہیں، چائے بنانے میں بھی وقت لگے گا… جا رہا ہوں اللہ حافظ۔‘‘
حقیقت میں صبا کو بہت افسوس ہورہا تھا کہ ندیم بغیر کھائے پیے چلے گئے، ساس اماں پہلے ہی بتا چکی ہیں کہ وہ گھر سے باہر ایک پیالی چائے تک نہیں پیتا۔ وہ بری طرح پریشان ہوگئی۔ ’’یااللہ اب کیا کروں، تُو ہی مدد کر میرے مولا۔‘‘
موبائل کی بیل بج رہی تھی، دیکھا تو امی کا فون تھا۔ ہاں امی سے پوچھوں، یقینا اچھا مشورہ دیں گی۔
’’السلام علیکم امی!‘‘
’’وعلیکم السلام! میری بیٹی کی آواز سے پریشانی جھلک رہی ہے، خیر تو ہے! ندیم گھر پر ہے یا آفس چلا گیا؟ آج اسے دفتر جانا تھا ناں؟‘‘ انہوں نے ایک ہی سانس میں تین سوال کرلیے۔ ’’یہ مائیں اپنے بچوں کی کیفیات سے کتنا گہرا تعلق رکھتی ہیں۔‘‘ صبا نے سوچا۔
’’امی، ندیم دفتر جا چکے ہیں اور بغیر ناشتا کیے مجھ پر ناراض ہوکر گئے ہیں۔‘‘
’’ہیں… یہ میں کیا سن رہی ہوں؟ بتائو صبح صبح وہ کس بات پر ناراض ہو کر چل دیا، تمہیں جگایا بھی نہیں؟‘‘
’’جگایا تھا… امی! مجھے اٹھتے اٹھتے آٹھ بج گئے، پھر میں اپنے بال بنانے بیٹھ گئی، پھر ان کے کپڑے دیکھے تو استری نہیں ہوئی تھی، استری کرنے میں دیر ہوگئی، بس غصہ ہوگئے۔‘‘
’’میں جانتی ہوں تم نے صرف بال نہیں بنائے ہوں گے بلکہ پورا میک اَپ کیا ہوگا… ہے ناں؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’اسی لیے میں ہمیشہ تمہیں ٹوکا کرتی تھی کہ میک اَپ کی اس قدر عادت نہ ڈالو، مگر تم سنتی ہی نہیں تھیں۔ بیٹا بڑوں کی بات سن لینے اور مان لینے میں بہت فائدہ ہے، انسان ڈانٹ پھٹکار سے بچا رہتا ہے۔‘‘
’’امی اب بتا بھی دیں میں کیا کروں؟‘‘
’’اب یوں کرو کہ اس کے آنے تک اس کی پسند کا کھانا بنا لو، گھر صاف ستھرا کرلو، اور ہاں میک اَپ تھوپنے کی بالکل ضرورت نہیں، صرف بال بناکر کاجل اور لپ اسٹک لگا لو۔ اور سنو، سرخ چنگھاڑتی لپ اسٹک نہ لگانا، گھر میں کافی کلر کی لگایا کرتے ہیں۔‘‘
پھر شام میں سب کچھ ویسا ہی تھا۔ ندیم اداس دل اور طرح طرح کے اندیشے لیے گھر پہنچا۔ پہلی بیل پر ہی صبا نے گیٹ کھولا۔ گاڑی اندر لاتے ہوئے بھی اس نے صبا کی طرف نہیں دیکھا، اترتے ہی اس نے ہاتھ بڑھایا ’’لایئے بیگ مجھے دے دیجیے‘‘۔ اب تو ندیم نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔ وہ تو پوری طرح اس کے پسندیدہ روپ میں ڈھلی ہوئی تھی۔ صاف ستھرا نکھرا چہرہ، ہلکی سی مسکراہٹ لیے اس نے ندیم کے چہرے پر خوشی رقص کرتے ہوئے دیکھ لی تھی۔
’’آپ ایزی ہوجائیں، میں کھانا لگاتی ہوں۔‘‘ کھانے کی میز پر دو چار نوالے جب اندر اترے تو اس نے کہا ’’صبا مجھے بتائو وہ کون مہربان ہے جس نے تمہاری کایا ہی پلٹ دی، میں اس کا تہِ دل سے شکریہ ادا کروں گا۔‘‘
’’اس بات کو چھوڑیں، جس میں آپ خوش اُس میں ہم بھی خوش۔‘‘
’’دیکھو صبا، اعدال اور توازن زندگی کے ہر معاملے میں ضروری ہے۔‘‘
’’ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ…‘‘
صرف دو دن بعد عیدالاضحی تھی، شادی کے کتنے ہی سوٹ سلے ہوئے تھے، ابھی ان کی شادی کو دو مہینے ہی ہوئے تھے، انہی میں سے ایک جوڑا نکال کر استری کرلی۔ ندیم کے بھی سوٹ رکھے تھے، ایک نکال کر استری کیا۔ نمازِ عید سے واپس آیا تو دیکھا صبا گلدستہ سجانے کے لیے کیاری سے پھول چن رہی ہے۔ رائل پنک جارجٹ کے سوٹ میں خود بھی ایک گلاب لگ رہی تھی جسے شبنم کے قطروں نے ہر آلودگی سے پاک کردیا ہو۔ جب دل میں پھول کھلے ہوں تو ہر طرف ہر چیز گلاب ہی جیسی لگتی ہے۔
’’الحمدللہ‘‘ اس نے اپنے رب کی تعریف بیان کی جس نے انسان کو ہر طرح سے درست اور پُرکشش بنایا۔

حصہ