سپر ہیروز کا سوشل میڈیا

163

امریکہ دنیا کا چوہدری ایسے ہی نہیں بنا ہوا۔اس نے (امریکہ سے منسوب )ایسے کئی کردار تخلیق کیے ہیں یا کرائے ہیں جو اکیلے ہی پوری دنیا کو بچانے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔جدید ترین ویژول ایفیکٹس کے ساتھ سپر ہیروز کے عنوان سے ہالی ووڈ، والٹ ڈزنی تو اب مارول سینماٹک یونیورس MCUگویا ایک الگ دنیا نہیں کائنات ہی بنا ڈالی ہے ۔بلاشبہ کارٹون نے طویل عرصہ اپنی راج دھانی قائم کررکھی، مگر جدید دور میں ویژول ایفیکٹس پھر 3Dکے کمالات نے انسانوں کو ہی مشین کی مدد سے کارٹون کا ایسا متبادل بنا دیا کہ اب کامک بکس سے شروع ہونے والے کارٹون کیریکٹر اسکرین کی حد تک تواتر سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔شروع میں امریکہ یا دنیا بھر کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں یہ کردار کامک بکس اور پھر کارٹون ٹی وی سیریز تک محدود تھے ۔
اب آپ یہ دیکھیں کہ جنگ عظیم دوم 1939-1945کا زمانہ ہے ، جنگ عظیم اول کے بعد امریکہ نے پر نکالنا شروع کر دیئے جو کہ جنگ عظیم دوم کے بعد وہ ایک عالمی قوت کے طور پر روس کی طرح ہی سامنے آچکا تھا۔یہی 1940کی دہائی میں امریکہ میں سپر ہیروز کا بڑی اسکرین کی جانب تیز جنم شروع ہوتا ہے ۔گرین ہارنٹ ،فینٹم، کیپٹن امریکہ، سپر مین ،پھر بیٹ مین اور اسپان سے ان کرداروں کو کامک کی کتابوں سے ٹی وی سیریز اور اگلے مرحلے میں بڑی اسکرین پر متعارف کرانے کاسلسلہ شروع ہوا۔ عوامی پسندیدگی دیکھ کر 1978میں روبو کاپ ،پھر بیٹ مین پھر بیٹ مین ریٹرن، کیٹ وومن، اسی طرح سپر مین یکے لیے فلم کی سیریز ، اسپائیڈر مین، کیپٹن امریکہ، آئرن مین پھر توکبھی ایونجرز ،کیپٹن مارول، اینٹ مین، ایکوامین ،تھور، ونڈر وومن، ہلک، وولورائن، ڈیڈ پول ، گارجین آف گلیکسی، فنٹاسٹک فور، شزام2018، ایکس مین ، ڈارک نائٹ جیسے دھواں دھار ایکشن سے بھرپور ( غیر کارٹونی)کردار کئی کئی بار نئے انداز سے تخلیق کیے گئے۔اچھا شروع میں ان میں سے کچھ تو کارٹون کیریکٹر کے طور پر سامنے آئے تھے مگر بعد میں بلکہ اس صدی میں 3ڈی کمالات نے انسانی کرداروں سے بھی یہ کام لے لیے۔اس کا اندازہ آپ کو ان فلموں کی میکنگ کی ویڈیوز دیکھ کر بخوبی ہو جائے گا۔1978میں سپر مین کے کردار کو جب باقاعدہ فیچر فلم کی صورت پیش کیا گیا تو بڑی اسکرین پر تو ہلچل مچ گئی۔اس فلم نے باکس آفس رپورٹ کے مطابق 1978میں 13کروڑ ڈالر کا بزنس کیا ۔ سپر مین سیریز کی اب تک کل 7فلمیں بن چکی ہیں جن میں سے ہر ایک کا اوسط بزنس 16کروڑ ڈالر بنتا ہے جو کہ صرف امریکی سینماؤں کا ہے۔
یہ تمام کردار خود تو غیر انسانی خصوصیات کے حامل ہیں اور جیساکہ آپ نے بھی نوٹ کیا ہوگا کہ اکثریت جانوروں کی خصوصیات بلکہ ان کے ناموں سے وابستہ ہیں۔جیسا کہ مکڑی یعنی اسپائیڈر مین ، چیونٹی یعنی اینٹ مین، چمگادڑ یعنی بیٹ مین ، بلی یعنی کیٹ وومن، بھیڑیا یعنی وولورائن شامل ہیں۔ کمال یہی ہے کہ جانوروں سے مشابہت اور خصوصیت رکھنے والے یہ سپر ہیروز انسانیت کا درد رکھنے والے کردار کے طورپر ان کے ہمدرد اور مددگار نظر آتے ہیں۔یہ تمام کردار اپنی ’ویژول ایفیکٹس والی جان پر ‘کھیل کر دنیا دشمن افراد سے دنیا بلکہ کبھی تو پوری کائنات کوبچاتے ہیں ۔ اچھا یہ بھی اہم بات ہوتی ہے کہ ان کے مقابلے پر جو قوتیں آتی ہیں وہ بھی کسی عام انسان جیسی نہیں ہوتیں کہ ان سے عام انسانی ہتھیاروں سے مقابلہ کیا جائے ۔بھاری بجٹ کی یہ فلمیںپوری دنیا میں پذیرائی پاتی ہیں۔ناظرین کی ایک بہت بڑی تعداد خصوصاً بچوں ، نوجوانوں کی کثیر تعداد انہیں دیکھتی اور خوب پسند بھی کرتی ہے۔ ان فلموں سے باربار یہی بتایا جاتا ہے کہ پوری دنیا کو شدید خطرات لاحق ہیں ، کچھ ظالم یا کوئی ظالم پوی دنیا پر اپنا را ج یا تسلط بے رحم طاقت کے بل پر قائم کرنا چاہتا ہے اور ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ میدان عمل میں نکل آتے ہیں اور پھر دنیاکو بچاتے ہیں۔یہ بات تو ٹھیک ہے کہ خیر و شر کے معرکہ میں بلاآخرخیریا نیکی کی قوت ہی کو غالب آنا ہے تاہم امریکہ اپنے سپر پاور ہونے اور اس سوچ کے ساتھ کہ وہی تمام مسائل ، تمام دنیا کو بچ سکتا ہے کی مانند سوچ کو پروان چڑھاتا ہے۔ یہ بات صرف فلموں تک محدود نہیں ہوتی پھر آپ دیکھتے ہیں کہ یہ کرداراسکرین سے نکل کرآپ کو یہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف چھوٹے بڑے بازاروں، شاپنگ سنٹرز میں یہ کردار گھومتے نظر آتے ہیں ۔ان کے کاسٹیوم کپڑوں کی دکانوں پر ، ان کے نام ، ان کے ڈیزائن ، تصاویر ، ان کے نام سے پانی کی بوتلیں ، لنچ باکسز ، پینسل باکسز ، کپ و دیگر اشیاء پر وہی چھائی ہوتی ہیں اور بچوں کا اصرار بھی ہوتا ہے کہ ہمیں یہی لینی ہیں۔اب آپ اندازہ کر لیں کہ یہ سپر ہیروز کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔اب آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ موضوع تو سوشل میڈیا تھا یہ سپر ہیروز کہاں سے آگئے؟
اب ہوا یہ کہ گذشتہ دنوں ٹوئٹر پر SaveSpidermanکا ٹرینڈ دو دن تک چلتانظر آیا ، معلوم یہ ہوا کہ ایک خالص بزنس ڈیل تھی جو کہ سونی انٹرٹینمنٹ اور مارول اسٹوڈیوز کے مابین تھی۔
امریکا کے معروف سونی پکچرز نے تصدیق کی کہ مارول اپنے سپر ہیرو ’اسپائیڈر مین‘ سے علیحدہ ہو گیا۔ڈزنی کی ملکیت والے مارولز اسٹوڈیوز اور سونی اسٹوڈیوز میں مالی معاملات پر مذاکرات طے نہ پاسکے اور انہوں نے سپر ہیرواسپائیڈر مین کو علیحدہ کر دیا۔اس فیصلے کے آتے ہی اسپائیڈر مین کے مداحوں نے دنیا بھر میں اپنے چہیتے اداکار کے الگ ہوجانے پر غصے کا اس حد تک اظہار کیا کہ ٹوئٹر پر SaveSpiderManکی مہم مختلف ہیش ٹیگز کے ساتھ دو دن چلتی رہی ۔ یہ وہ دن ہیں جب کشمیر پر مسلط بھارتی افواج نے سخت کرفیو کے دو ہفتے مکمل کیے ۔اسی طرح ایمیزون کے جنگلات میں تین ہفتوں سے لگی آگ بھی بالآخر ٹوئٹر ٹاپ ٹرینڈپر پہنچ گئی ۔ اس بدترین آگ سے تباہی کا شکار ہونے والے جنگلات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ ٹوئٹر پر اس ہفتہ پاکستانی کرکٹر کی دبئی میں بھارتی مسلمان لڑکی سے شادی بھی خوب مبارک بادوں کے ساتھ موضوع بنی رہی ۔ یہی نہیں معروف اداکار حمزہ عباسی نے حج کے دوران اور واپسی پر بھی کشمیر ایشو پر مضبوط موقف کے ساتھ جہاں بھارت کو منہ دیکر پاکستانی ہیرو بنے وہیں موقع جانتے ہوئے انہوں نے اسی ہفتہ بھی پاکستانی ڈرامہ اداکارہ نیمل خاور سے اپنی شادی کا اعلان بھی کر دیا۔ یہ تو آپ کو پتا ہی ہے کہ شادیاں سماجی میڈیا کا ہمیشہ سے پسندیدہ موضوع ہوتا ہے۔
اب چلتے ہیں حساس اور سنجیدہ ترین موضوع یعنی کشمیر کی طرف جو کہ اس وقت خود ایک سپر ہیرو کا متقاضی ہے ۔سورۃ النساء کے مطابق تم کیوں ان بے کس و مجبور و مظلوم مسلمانوں کی مددنہیں کرتے جو تمہیں مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔محققین بتاتے ہیں کہ دنیا کی اس وقت تقریباً آدھی آبادی سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے، جب کہ مغربی اور شمالی یورپ میں دس میں سے نو افراد فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، وی چیٹ یا ملتے جلتے نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں۔معاملہ یہ ہوا کہ کشمیر کے موضوع بحث بنتے ہیں تمام پاکستانی سوشل میڈیا جغادریوں ، یو ٹیوبرز ، وی لاگرز وغیر وغیرہ سب کو عوام اور ان کے سیکڑوں ،ہزاروں، لاکھوں مداحوں نے متوجہ کیا کہ آپ اتنے اہم موضوع پر کیوں خاموش ہیں ۔ شام ادریس، زید علی، شاہویر جعفری، دکی بھائی ، تھری ایڈیٹس، جنید اکرم وائنزو دیگر بھائیوکچھ کرو۔ کوئی بات کرو، کوئی ویڈیو بناؤ۔ کوئی پوسٹ کرو۔مگر مجموعی طور پرسب چپ ہی رہے۔ یا تو کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں تھا یا پھر دوسری بات یہ تھی کہ اکاؤنٹ بند یعنی دھندہ( دکان) بند ہونے کا بھی ڈر تھا۔ برہان وانی کیس اس کی تازہ مثال تھا۔ پھر انڈیا نے بھی دو تین دن ٹوئٹر کے خلاف خوف پرو پیگنڈا کیا ۔بھارتی الیکٹرانک میڈیا اس حد تک گیا کہ اس نے ٹوئٹر کو پاکستان کی حمایت کرنے اور بھارت کیخلاف منفی پرو پیگنڈے کا حمایتی قرار دے کر کئی ہیش ٹیگ بنائے #TwitterwithPak۔ جبکہ حقیقت میں بھارت یہ گندا کھیل پاکستان کے خلاف کھیل رہا تھا اپنے عالمی امن کو بچانے کے لیے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان نے عملی طور پر سفارتی کوششوں سے کشمیر کے ایشو پر توجہ پا لی تھی ۔سماجی میڈیا ایک اہم میدان بن چکا ہے ۔ اکاؤنٹ سسپینڈ کردینے کے عمل سے اور بھارت کی جانب سے مستقل تکلیف کے اظہار نے مزید اس بات کومہمیز دیاکہ ٹوئٹر ، انسٹا و دیگر پر بھارت کے خلاف لکھنے سے رائے عامہ بدلتی ہے اور بھارت اس کا اثر لے رہا ہے ۔ لوگ اور سماجی میڈیا مجاہد بن کر میدان میں اترے۔ اسی دوران حمزہ عباسی ، زید حامد نے جارحانہ انداز میں بھارتی درندگی کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں آئی ایس آئی کے پے رول پر ہونے کا لیبل لگایا گیا۔بہر حال بات ہو رہی تھی کہ سماجی میڈیا پر خوب شور اٹھا اور متعلقہ افراد کو توجہ بھی دلائی گئی ۔ ایسے میں صرف وقار ذکاء نے ہمت پکڑی اور ماضی ( برما و دیگر ایشوز)کی طرح اس نے وی لاگ بنائے ۔اب ہوا یہ کہ ایک اور معروف پاکستانی وی لاگر ’ عرفان جونیجو‘نے ایک ٹوئیٹ کر دی کہ ’ چونکہ ماضی میں بھی کسی سیاسی یا مذہبی ایشو پر موقف نہیں دیا اس لیے ابھی بھی خاموش ہوں۔‘ اس کی ایک دلیل یہ بیان کی موصوف نے کہ ’ ان کا بہت ابتدائی تجربہ تھا کہ اس سے کسی کی رائے نہیں بدلتی۔‘ دوسرا یہ کہ ’ انہیں اول تو خود پتا ہی نہیں تھا کہ معاملہ ہے کیا؟ اور پھر یہ بات انہوں نے اپنے ایک ساتھی وی لاگر سے جانی و سمجھی تو اسی کو ری ٹئیوٹ کرنے یا آگے بڑھانا ہی کافی قرار دیا۔ بات شاید یہاں ختم ہوجاتی لیکن موصوف نے دیگر ایشوز کی مثال دیتے ہوئے ،’ کوئٹہ قتل عام، ( شیعہ برادری)، ہالینڈ خاکے و دیگر کا جب حوالہ دیا تو مسئلہ ٹیڑھا ہو گیا۔ اول تو موصوف کی علمی قابلیت بلکہ حالات حاضرہ کی معلومات یا وژن سامنے آگیا دوم یہ کہ عوام کو ، ان کے شائقین کو ایشو ہاتھ لگ گیا۔ وہ بھی بغیر سوچے سمجھے اس کے خلاف ہیژ ٹیگ بنا کر اس کی شہرت کو مزید فروغ دینے نکل پڑے ۔محض47ہزار ٹوئٹر فالور رکھنے والے کو بے شک گالیوں کے ساتھ اتنی شہرت دی گئی کہ وقار ذکاء کو ایک الگ ویڈیو سے سمجھانا پڑا۔ پھر اس کے جواب میں عرفان نے بھی ویڈیو لاگ ڈال کر دوبارہ اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی جسے کوئی ساڑھے چار لاکھ یو ٹیوب ویوز مل گئے ۔ اس میں عرفان نے خود ویڈیوز سے پیسہ کمانے ، بھارتی شائقین کے لائک کم ہوجانے ، آمدن ڈسٹرب ہونے یا مالی مفادات پر ضرب لگنے کے اشارے دیئے۔اب آپ اندازہ کر لیں کہ ٹوئٹر پر کشمیر بنے گا پاکستان چھوڑ کر عرفان جونیجو کا ٹرینڈ بنا کر کس دانش مندی کا ثبوت دیاگیا۔اس پر ویسے تو جنید اکرم نے بھی مداحوں کی جانب سے حب الوطنی پر شک کرنے کاشدید غصہ اور سخت الفاظ کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت کی کہ انہوں نے ماضی میں بھارت کے خلاف کئی ویڈیوز بنائیں پیسہ کمانے کے مقصد کے بغیر تاہم کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ویڈیوز ، مظاہروں ، کشمیر کمیٹیوں ، قراردادوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ویسے ان سب کے ہونے کے بعد اس ہفتہ ہی پشاور سے تعلق رکھنے والے OurVinesاور کراچی کے ساجد علی نے ایک ایک ویڈیو ضرور بنا کر یو ٹیوب پر ڈالی ۔اب پیسہ کمایا یا نہیں البتہ اپنے طور پر پیغام پہنچانے کی کوشش ضرور کی۔دونوں ویڈیوز پر تاحال پابندی نہیں لگی اور دیکھی جا سکتی ہیں۔انہوں نے در پردہ یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ تمام تر سفارتی کوششوں کے باوجود ، اجلاسوں ، ریلیوں،مظاہروں کے باوجود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کاؤنسل کشمیر کی صرف چند علاقوں کی ٹیلیفون لائن ہی بحال کر اسکی ہے ۔ باقی ٹرمپ کے دو ٹیلی فون بھی اہل کشمیر پر جاری بدترین کرفیو کا ایک منٹ بھی کم نہیں کرا سکے۔ حکومت عالمی عدالت جانے کے چکر میں ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا۔ افسوس ناک بات یہی سامنے آئی کہ اتنے سارے وی لاگرز کو نہ ایشو پتہ ہے، نہ اس پر کیا بات کرنی ہے یہ معلوم ہے ، نہ جدو جہد کا پتا ہے نہ مسئلہ کا حل پتا ہے۔بس یہ ضرور جانتے ہیں کہ اگر آج بھی بھارتی تسلط سے آزادی کے ہیرو برہان وانی کی تصویر آپ نے اپنے پیج پہ لگائی یا کچھ لکھا تو اکاؤنٹ سسپنڈ ہو جاتا ہے۔
بھئی آپ چاہے جتنے اسپائیڈر مین، سپر مین، آئرن مین کے کپڑے پہن لیں یا کچھ بھی کہیں ہمارا سپر ہیرو تو وہ ہے جو مر کر بھی زندہ رہتا ہے، وہ جس کے نام لکھنے سے بھی ظالموں کی روح کانپتی ہے اور وہ ہے میرا سپر ہیرو برہان وانی۔

حصہ