دولہا میڈ اِن چائنا

62

عطیہ جمال
شہلا نے بڑی بہن کے لیے رشتہ لے کر آنے والوں کی خاطر مدارات پر بڑا سا منہ بنایا اور یہ کہہ کر کمرے سے نکل گئی ’’بی بنو! خواب دیکھنا چھوڑ دو۔‘‘
’’کیوں بھئی کیوں نہ دیکھوں خواب! امیروں کی طرح غریبوں کا بھی خوابوں پر تو حق ہوتا ہی ہے جناب۔‘‘
’’معلوم نہیں کیا انجام ہوگا مفت کی اس دعوت کا۔‘‘
سجیلا نے بالوں کی لٹ کو ایک ادا کے ساتھ پیچھے کیا اور خواب ناک لہجے میں بولی ’’بڑا سا گھر، لمبی گاڑی، برانڈڈ ڈھیروں ملبوسات اور خوب صورت جیولری۔ سونے کے بھاری سیٹ۔‘‘ اس کے آگے خواب ہی تھے۔ امیدوں اور امنگوں کے سارے رنگ اس کے چہرے پر عیاں تھے۔
پانچوں بہنیں سجیلا کے گرد جمع تھیں۔ کچھ مہمانوں پر تبصرہ کررہی تھیں، کچھ باتیں کرنے اور سجیلا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ میں مصروف تھیں۔
احمد علی ایک اوسط درجے کے کلرک تھے، ان کی زندگی کوئی خوب صورت خواب نہیں بلکہ طویل جدوجہد کی ایک کہانی تھی، مگر بیٹیاں اس جدوجہد سے لاعلم تھیں۔ کسی ایک کی بات بھی پکی نہیں ہوئی تھی۔ اس مادہ پرست معاشرے میں لوگوں کے دل بھی پتھر کی طرح سخت ہوچکے تھے جہاں کسی کی پریشانی، پریشانی لگتی ہی نہیں تھی۔ ہر ایک اپنی زندگی میں مگن تھا۔
ارم اور شہنیلا دونوں ابھی چھوٹی تھیں، مگر شہلا، سجیلا، انیلا میں محض سال، سال کافرق تھا، ایک جیسی ہی لگتی تھیں۔ خدا نے سیرت اور صورت دونوں سے نوازا تھا۔ عادتاً چلبلی اور حاضر جواب تھیں۔ آج بھی وہ بستر پر دراز ہوکر سجیلا کو چھیڑ رہی تھی۔
’’دولہا چاہیے… دولہا… سب ملے گا… وہ بھی میڈ ان چائنا…‘‘ شہلا کی مسلسل شرارت پر سجیلا نے اپنا تکیہ اس پر اچھالا جو اس نے بڑی مہارت سے پکڑ لیا۔
’’میڈ ان چائنا دولہا کی کیا کہانی ہے…؟‘‘ سجیلا نے بھنویں اچکائیں۔
نبیلہ یکدم اٹھ بیٹھی۔
’’اس میں بھی لازمی پاکستانی حکومت کا کچھ نہ کچھ فائدہ ہوگا۔‘‘ نبیلہ زیر لب سوچتے ہوئے بولی اور فوراً سوال داغا ’’آپی کیا تم میڈاِن چائنا دولہا چاہتی ہو؟‘‘
شہلا درمیان میں بولی ’’ماں باپ کی نظر میں رہو، روکھی سوکھی کھائو اور اپنے نصیب کے ساتھ جوڑ کا انتظار کرو۔‘‘
’’چائنا میں تو بڑے کام کرنے پڑتے ہوں گے، مجھے تو ذرا شوق نہیں اپنے ملک سے دور جانے کا۔‘‘ انیلا نے ناک سکیڑی۔
’’تم کیا سمجھو… اصل زندگی تو ہے ہی وہاں…‘‘ سجیلا کے خواب اس کی آنکھوں میں واضح تھے۔
’’دھڑ … دھڑ…‘‘ دروازے پر زور کی آہٹ ہوئی۔
’’بھئی کہاں ہو لڑکیو…؟‘‘ بڑی خالہ اندر داخل ہوتے ہی ہمیشہ کی طرح سب کو پکارنے لگیں اور کچھ ہی لمحوں میں سب صحن میں جمع ہوچکی تھیں۔
باتوں ہی باتوں میں فاخرہ بیگم نے آنے والے رشتے کی روداد سنائی تو پہلے وہ خاموشی سے سب سنتی رہیں، پھر بولیں ’’آپا تم نے لڑکیوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔‘‘ فاخرہ بیگم دھیمے لہجے میں بولیں’’ مگر بات بنتی نظر نہیں آتی۔ میڈ اِن چائنا دولہا کا شوشا تو ان لڑکیوں نے چھوڑا ہے۔‘‘
لیکن بعد میں جو کچھ خالہ نے ان لوگوں کے گوش گزار کیا وہ سب کے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا۔ خالہ نے جو باتیں سن رکھی تھیں وہ من و عن کہہ ڈالیں:
’’ارے بھئی یہ کوئی عورت کو بساتے نہیں ہیں۔ یہ لڑکیوں اور عورتوں کی خریدوفروخت کرنے والا گروہ ہے۔ بظاہر شادی کرتے ہیں اور چین اسمگلنگ کا یہ کاروبار یہاں موجود ان کے کارندے کرتے ہیں۔ بھارت، فلپائن اور دوسرے ملکوں سے بھی ہوتا ہے۔‘‘
فاخرہ بیگم نے یہ سنتے ہی دل تھام لیا۔ خالہ نے بغیر توقف کے مزید بتایا: ’’یہی نہیں بلکہ یہ گینگ ہے جو 18 سے 35 لاکھ فی جوڑا وصول کرتا ہے۔ گینگ کا سربراہ مقامی ایجنٹوں کے ذریعے لڑکیوں کا سراغ لگاتا ہے، شادی ہونے کی صورت میں افراد کی مالی معاونت 50 تا 70 ہزار روپے سے کی جاتی ہے۔‘‘
’’لیکن پاک چین دوستی کے تو بہت چرچے ہیں۔‘‘ نبیلہ کا چہرہ سوالیہ تھا۔
خالہ میٹھے لہجے میں گویا ہوئیں: ’’حقیقت پسند بنو، سوچو جو مسلمان نہیں وہ ہمارے لیے اچھا کیوں سوچیں گے؟‘‘ چائے کا گھونٹ پیتے ہوئے پھر کہنے لگیں: ’’بھئی میں تو کہتی ہوں خاک پڑے ان رویوں پر، جو ہمارے سماج میں رواج پا گئے ہیں۔ میری بچیو وہ خواب کی دنیا ہے۔ ہماری اسلامی تہذیب میں کیا کمی ہے، بالکل مکمل اور کامیابی کے راستے پر چلانے والی۔ دیکھو سماج نے اس سے دامن چھڑایا تو اس کا دامن کس طرح داغ دار ہوگیا۔ معلوم نہیں ہم کب سمجھیں گے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے خالہ، فاخرہ بیگم جیسی بہت سی مائوں کو سوچ دے گئی تھیں۔

حصہ