بادشاہ کا جانشین

57

مدیحہ گوہر
بہت عرصے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا جسکے سات بیٹھے تھے ایک دن اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے لیے بیویاں تلاش کرلیں۔ اس نے ان سے کہا کہ وہ اپنے تیر کمان ساتھ لیجائیں اور ہوا میں تیر چلائیں وہ تیر جہاں گریں انہیں ان جگہوں پر رہنے والی عورتوں سے شادی کرنی ہو گئی۔
چھ شہزادوں کے تیر دوسری بادشاہتوں میں جا کر گرے اور انہوں نے شہزادیوں سے شادی کر لی۔ سب سے چھوٹا شہزادہ اتنا خوش قسمت نہیں تھا۔ اسکا تیر ایک جنگل میں ایک ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی کے سامنے گرا۔ اس جھونپڑی میں ایک بوڑھی رہتی تھی شہزادے نے بوڑھی عورت سے پوچھا کہ آپ کی کوئی بیٹی ہے۔
اس نے کہا کہ اسکی کوئی بیٹی نہیں ہے اسنے کہا اس کے پاس ایک بندریا ہے جو اسکے ساتھ رہتی ہے۔
شہزادے کو بڑی مایوسی ہوئی لیکن اس نے بندریا سے شادی کر لی۔ کچھ عرصے کے بعد بادشاہ نے محسوس کیا کہ اس کا آخری وقت آن پہنچا ہے ایک اسکا جانشین ہونا چاہیے۔
اس نے اس مقصد کے لیے تین امتحانوں کا منصوبہ بنایا اور کہا کہ جو بھی ان امتحانوں میں پورا اْترے گا اور بادشاہ بن جائیگا۔پہلے امتحان کے لیے بادشاہ نے یہ مطالبہ کیا کہ شہزادی کے ہاتھ سے بنا ہوا خوب صورت کپڑا پیش کریں یہ کپڑا اس قسم کا ہونا چاہیے کہ جو پہلے کبھی کسی نے نہ دیکھا ہو۔
ساتواں شہزادہ اس قدر پریشان تھا کہ وہ پلنگ پر لیٹ کر چیخنے لگا۔ اسکی بیوی بندریا نے اس سے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے اس نے چلا کر کہا مجھے اکیلا چھوڑ دو تم بیکار اور بدصورت چیز ہو تمہاری وجہ سے میں کبھی بادشاہ نہیں بنوں گا۔ پھر بھی وہ بندریا اس سے مسلسل پوچھتی رہی کہ بات کیا ہے۔
تو بالآخر شہزادے نے وجہ بتائی کہ وہ کیوں چیخ رہا ہے بندریا نے اس سے کہا کہ فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ اس مسئلے سے نبٹ لے گی۔ شہزادے نے طنزیہ کہا کہ تم کیا کر سکتی ہو تم تو محض ایک بندریا ہو۔ آخر کار بادشاہ کو کپڑے پیش کرنے کا دن آپہنچا۔
شہزادوں نے ایک بعد دیگرے کپڑے پیش کئے اور ہر کپڑا دوسرے کپڑے سے بہتر نظر آتا تھا آخری لمحے پر بندریا آئی اور اپنے کپڑے پیش کئے۔ وہ تمام کپڑوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے وہ خالص ریشم سے بنے ہوئے تھے اور ان پر بیش قیمت جواہرات ٹنکے ہوئے تھے۔
سب سے چھوٹا شہزادہ ہکا بکا رہ گیا۔ بادشاہ نے بندریا کے بنائے ہوئے کپڑوں کو سب سے اچھے کپڑے قرار دیا۔ اسکے بعد بادشاہ نے دوسرا امتحان پیش کیا۔ اس نے کہا کہ ایک دعوت کا انتظام کرو میں تمہارے گھروں میں آؤںگا کھانا کھا کر دیکھو نگا کہ کس گھر میں سب سے اچھا کھانا پکا ہے۔
سب سے چھوٹا شہزادہ اپنے پلنگ پر جا کر لیٹ گیا اور چیخنے لگا اسکی بیوی پوچھتی رہی کہ کیا بات ہے اور بالآخر اس نے بتایا کہ دوسرا امتحان کیا ہے اس نے کہا کہ جاؤ آرام کرو اس دعوت کا انتظام مجھ پر چھوڑ دو۔شہزادہ سخت تعجب میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ آخر بندریا کس طرح اس امتحان سے گزریگی۔
وہ جھوٹ موٹ سوتا ہوا بن کر لیٹ گیا اور جب اس نے سوچا کہ اب کافی وقت گزر چکا ہے وہ اْٹھا اور یہ دیکھنے گیا کہ اسکی بیوی کیا کر رہی ہے وہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی بیوی نے بندریا کی کھال اتار رکھی تھی جو وہ عام طور پر پہنے رہتی تھی وہ ایک انتہائی خوبصورت پری تھی۔
اتنی خوب صورت کہ وہ اسکا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا اس نے دیکھا کہ وہ پریشان ہے اور پریوں کو بلا رہی ہے اور ان سب نے مل کر دعوت کی تیاری شروع کر دی۔ جب شہزادے نے یہ دیکھا تو وہ پری کتنی خوب صورت ہے اس نے بندریا کی کھال جلانے کا فیصلہ کیا بندریا نے اسے ایسا کرنے ہوئے دیکھ لیا اور وہ بہت پریشان ہوئی۔
وہ اور دوسری پریاں غائب ہو گئیں اور دعوت کے لیے تیار کھانا چھوڑ گئیں۔ جب بادشاہ نے ساتوں شہزادوں کی دعوتوں کے لیے تیار کئے ہوئے کھانے کا ذائقہ لیا۔ تو اس نے پری کا تیار کیا ہوا کھانا سب سے زیادہ مزیدار قرار دیا۔ اسکے بعد چھوٹا شہزادہ پری کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
وہ سب سے پہلے بوڑھی عورت کی جھونپڑی پر گیا۔ جہاں وہ بندریا سے ملا تھا اور جو پری نکلی تھی جب اس نے بوڑھی عورت سے پوچھا کہ اس نے پری دیکھی ہے تو اس نے کہا کہ اب وہ پری کبھی نہیں بنے گی۔ شہزادے نے غصے میں آکر بوڑھی عورت کو قتل کر دیا اس سے وہ پری اس سحر سے آزاد ہو گئی جو اس بوڑھی عورت نے (جودرحقیقت ایک جادو گرنی تھی) اس پر کر رکھا تھا۔
یہ سب کچھ آخری امتحان سے ذرا پہلے بالکل وقت پر ہوا۔ بادشاہ نے اعلان کیا تھا کہ سب شہزادے اپنی بیویوں کو اس کے سامنے لائیں تاکہ وہ یہ انتخاب کر سکے کہ ان میں سب سے زیادہ خوبصورت کون ہے۔ اس پری کو خوب صورت ترین قرار دیا گیا اور سب سے چھوٹا شہزادہ بادشاہ کا جانشین نامزد کیا گیا۔

حصہ