اپنی اصلاح کیسے کریں؟۔

66

راحیلہ چوہدری
دنیا کے مشکل ترین کاموں میں ایک کام اپنی اصلاح آپ کرنا ہے۔بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فتنوں کے اس دور میں سب سے مشکل کام ہی اپنے آپ کودرست سمت میں رکھنا ہے ۔ہر انسان اپنی خوبیوں اور خامیوںکے بارے میں جانتا ہے۔لیکن اپنی خامیوں کو دور کیسے کرنا ہے یہ کوئی کوئی جانتا ہے۔اپنی اصلاح کیسے کی جائے ؟ یہ سوال انسان اکثر اپنے آ پ سے کرتا ہے ۔لیکن جب جواب نہیں ملتا تو پریشانی اور مایوسی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔اور نتیجہ کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کی صورت میں نکلتا ہے۔
ٓآ ج ہم دیکھیں گے کہ اپنی اصلاح کے لئے وہ کونسی چند ایسی چیزیں ہیں جنہیں اپنا کر ہم ہمیشہ درست سمت میں رہنے کی کوشیش کر سکتے ہیں۔
اپنی اصلاح کے لیے سب سے پہلے جس چیز کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے ’’نماز‘‘ اگر آپ نماز پابندی سے نہیں پڑھتے تو نماز کوپابندی سے ادا کرنے کی کوشش کیجیے۔دوسری اہم چیز اگر نماز کا ترجمہ یاد نہیں تو ترجیحی بنیادوں پر نماز کے ترجمہ کو یاد کیجیے ۔نماز پڑھتے ہوئے اگر لاشعور میں نماز کو سمجھ کے نہ پڑھا جائے تو اس کے بغیر نماز کی اصل روح کو نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی تعلق باللہ مضبوط کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم نماز پڑھ کر بھی ہلکا پھلکا محسوس کرنے کے بجائے بوجھل محسوس کرتے ہیں ۔قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘‘اس آیت کی روشنی میں ہم سب کو اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔کیا ہماری نماز ایسی ہے جو ہمیںواقعی ہی برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے ۔
اصلاح کے لئے دوسری اہم چیز’’ دعا ‘‘ہے۔روزانہ کی بنیادوں پر اپنی دعا کے الفاظ پر غور کریں کہ میں اللہ سے کیا مانگ رہا ہوں۔اور مجھے اللہ سے کیا مانگنا چاہیے۔دعا میں صرف اللہ سے اپنی دنیاوی ضروریات کا مطالبہ مت کیجیے ۔اپنی آخرت اور اپنے مقصد حیات کو اللہ سے بار بار مانگیے۔اللہ سے باربار یہ سوال کریں کہ میرا مقصدِحیات کیا ہے۔ میں دنیا میں کس کام کے لیے آیا ہوں۔ یہ دعا آپ کو اپنے مقصدِ حیات کی طرف توجہ دلائے گی اوراللہ تعالی آپ کے لیے راستے نکالیں گے۔ مقصدِ حیات کی جستجو ہی آپ کو دنیا اور آخرت میں کامیابی دلائے گی ۔اپنی اصلاح کے لئے یہ ایک انتہائی ضروری امر ہے کہ انسان کو اپنا مقصدِ حیات کا علم ہو ۔اگر آپ کو اپنا مقصدِ حیات کا علم نہیں یا بنایا نہیں تو آج ہی سے اپنے مقصد ِ حیات کو تلاش کیجیے۔اللہ سے اس کے لیے خاص طور پر رجوع کیجیے۔
واصف علی واصف کہتے ہیں: ’’بے مقصد زندگی چاہے کتنی طویل کیوں نہ ہو ، موت سے بد تر ہے ۔‘‘مقصدِ حیات کے لئے ضروری ہے کہ آپ کبھی کبھی تہجد کا اہتمام کیجیے اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے پورے خشو ع وخضوع کے ساتھ دعا کیجیے۔
نماز اور دعا کی درستگی کا جا ئزہ لینے کے بعد تیسری اہم چیز جو ہمیں اپنی زندگی میں شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے وہ ہے’’ روزہ‘‘۔ہر ماہ تقریباََ تین نفلی روزوں کا خاص طور پر اہتمام کیجئے۔نفلی روزوں اور نفلی عبادتوں کے بغیر عمل کی پختگی اور نفس کی درستگی ممکن نہیں۔زمانہ اس وقت جو رخ اختیار کر چکا ہے گناہ جھولیوں میں آکر گر رہے ہیں عمل کی پختگی اور نفس کی درستگی کے لیے کبھی کبھی خاص طور پر نفلی روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے ۔ نفلی عبادتوں کے بغیر خود شناسی سے خدا شناسی تک کے سفر کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا ۔
آج کل بیسیا ر خوری ایک فیشن بن چکا ہے۔افسوس کے ساتھ خاص طور پر نوجوان نسل نے اپنا مقصدِ حیات اور خوشی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہی اچھا کھانے پینے کو بنا لیا ہے ۔ نوجوانو ں میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی اور زنا با الجبر کے بڑھتے ہو ئے واقعات کی اصل وجہ بھی یہی بیسار خوری کی عادت اور نفلی عبادات سے دوری ہے۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں:
’’ جب انسان کا پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے تو اس کے اعضا بھوکے ہوتے ہیں( یعنی اس میں جنسی حس زیادہ ہوتی ہے)اس وقت اس پر حیوانیت طاری ہوتی ہے ۔اور اگر اس کا پیٹ خالی ہو تو اس کے اعضا سیر ہوتے ہیں(یعنی جنسی جذبات سرد پڑ جاتے ہیں۔)‘‘
اس قول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میری خاص طور پر مائوں سے درخواست ہے کہ وہ فرض روزوں کے ساتھ ساتھ نفلی روزوں کو اپنے گھروں میں سختی سے رواج دیں ۔تاکہ ہم اپنے بچوں کو گناہِ کبیرہ کے پاس بھی پھٹکنے سے بچا سکیں۔
آئے دن آنکھوں کے سامنے سے یونیورسٹی اور کالجز میں زنا با لجبر کے واقعات کی خبریں گزرتی رہتی ہیں تو روح کانپ کے رہ جاتی ہے ہمارا آج کا مسلمان نوجوان کیا کررہا ہے ۔کیا یہ ہمارے بچے ہیں؟؟؟ اور یہ کس کی ذمہ داری ہیں؟؟؟ آج کا نوجوان یہ تربیت کہاں سے لے کر آ رہا ہے ؟؟؟ افسوس کہ آج کے اساتذہ اور والدین نے بچوں اور نوجوانوں کی روحانی تربیت کے حوالے سے اپنی آنکھیں بالکل بند کر لی ہیں۔پاکستان کے گھروں میں اب لوگوں کے معاملات زندگی میں میرے پیارے نبیؐ کے روز شب کہیں دور دور تک بھی نظر نہیں آتے۔اپنی اصلاح کے لئے چوتھی اور اہم چیز ’’ذکر الہٰی‘‘ ہے۔نبیؐ نے فرمایا: دل دو چیزوں غفلت اور گناہ سے زنگ پکڑ تا ہے اور دو چیزوں سے ہی زنگ دور کیا جاسکتا ہے۔’’استغفار اور ذکرِ الہٰی‘‘نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، یہ سب عبادتیں تو ذکرِ الٰہی ہیں ہی لیکن کچھ تسبیحات ایسی ہیں جن کو پڑھنے کی نبیؐنے بے شمار جگہ بڑی تاکید فرمائی ہے،ان تسبیحات کو زندگی میں قطرہ قطرہ روزانہ کی بنیاد پر شامل کرنے سے انسان بہت سے گناہ کرنے سے بچ جاتا ہے اور انسان تھوڑے وقت میں زیادہ اجر اکھٹا کر لیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ذکر کرنے سے انسان کوئی بھی عمل کرتے ہوئے ہمیشہ اللہ کو اپنے سامنے اور ساتھ پاتا ہے اور نفس کو درست سمت میں رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔سورۃ الا عراف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ اور تو اپنے رب کو صبح شام اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ یاد کیا کراور اُونچی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ اور غافلوں میں سے نہ ہو جانا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور عاجزی کے ساتھ صبح اور شام اپنے نفس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر اور اس کی یاد سے غفلت مت برت۔اس آیت سے ہمیں ذکرِ الٰہی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کے نفس کو درست سمت میں رکھنے کے لیے ذکر کتنا ضروری ہے۔
ایک دفعہ آپؐ کی لختِ جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے چکی کی مشقت اور دیگر معمولات کی زیادتی و تکالیف کی شکایت کرتے ہوئے آپؐ سے خادم طلب فرمایا۔’’توآپؐ نے سیدہ فاطمہ کو خادم دینے کی بجائے رات کو سوتے وقت33 مرتبہ سبحان اللہ،33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔اور فرمایا خادم کی بجائے یہ کلمے تمہارے لئے بہتر ہیں۔‘‘
ایک دوسری جگہ نبیؐ نے فرمایا:
’’ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیںجس شخص نے اللہ اکبر،الحمدللہ،لا الہ الا اللہ اور استغفراللہ کہا، اور لوگوں کے راستے سے پتھر یا کانٹے یا ہڈی کو دور کر دیا یا نیکی کا حکم یا برائی سے منع کیا اور یہ کام تین سو ساٹھ عدد کے برابر کیا تو وہ اس روز اس طرح چلتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم سے بچا لیا۔‘‘اگر ہم اپنی اس مصروف زندگی میں صرف اس ایک تسبیح کو اپنا لیں ۔اور روزانہ اس کو اطمینان اور سکون سے پڑھ لیں ۔میرے خیال سے ہم پچاس فیصد اپنے نفس کو درست رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔
اپنی اصلاح کے لئے زندگی میں دو چیزوں کو ہمیشہ کے لئے اپنا لیجئے۔پہلی چیز گرمیوں میں ہر وقت وضو کی حالت میں رہنے کی کوشیش کیجئے۔اور دوسرا سردیوں میں زیادہ سے زیادہ روزے کی حالت میں رہنے کی کوشیش کیجئے۔ان دو اصولوں کو اپنانے سے انشا اللہ باقی دین پہ عمل کرنا آسان ہو جائے گا ۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ کو قلب ِسلیم اور عقلِ سلیم عطا فرمائیں۔ہمیں زیا دہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

حصہ