۔ “متاعِ شام سفر” محمد انور عباسی کی شگفتہ خود نوشت

142

نعیم الرحمن

(دوسرا اور آخری حصہ)

۔’’متاعِ شام سفر‘‘ کا پہلا باب ’’خواب و خیال‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں 1940ء میں مصنف کی پیدائش سے 1957ء تک کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ایک اور دل چسپ انداز ہر باب کے آغاز میں، مختصراً اس کا خلاصہ کرنے کا اختیار کیا گیا ہے۔ کسی خودنوشت کے لیے یہ بالکل نیا اور پُرلطف انداز ہے۔ اب ذرا انور عباسی کی پیدائش کا پُرلطف بیان ملاحظہ کریں، جو پہلی ہی سطر سے قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لیتا ہے: ’’رات گہری ہوچکی۔ دوسرے لوگ نیند کی نرم و گداز آغوش میں جانے کی سوچ رہے ہیں اور میں ماضی کی تاریک بھول بھلیوں میں جانے کے لیے یادوں کے دیپ جلا کر دل کی آنکھیں وا کرتا ہوں۔ روایت ہے کہ 1940ء اور جولائی کی 2 تاریخ تھی جب علامہ اقبال کی نصیحت پر عمل کرنے کے لیے مابدولت زمین دیکھنے کے لیے دنیا میں تشریف لائے۔ روایت میں یہی بتایا گیا ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ اہلِ مذہب کے ہاں جو روایت میں شک کرے اس کا ایمان ہی مشکوک ہوجاتا ہے۔ ویسے ’’تاریخی حقائق‘‘ بھی اسی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس کا ثبوت ہماری میٹرک کی سند ہے جس میں یہی تاریخ لکھی ہے۔ درست بھی یہی دکھائی دیتی ہے کیوں کہ بھلے دنوں میں 17 برسوں سے پہلے میٹرک کرنے کا تصورکم ہی تھا۔ تو اس کو طے ہی سمجھیے کہ 17 برسوں میں میٹرک کرنے کے حساب سے بھی ہماری تاریخ نہ سہی سن تو یقینا 1940ء ہی بنتا ہے۔ یہ دوسری جنگِ عظیم کا زمانہ ہے، لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ ہماری وجہ سے شروع ہوئی، کیوں کہ تاریخی کتابوں میں لکھا ہوا ملتا ہے کہ یہ ایک سال پہلے شروع ہوچکی تھی۔‘‘
کسی قاری نے مصنف کی پیدائش کا ایسا دل چسپ بیان پہلے کبھی پڑھا ہے؟ یہ اسلوب ِ تحریر کتاب کے اختتام تک قائم رہتا ہے اور اس سے عیاں ہے کہ محمد انور عباسی میں ایک عمدہ مزاح نگارکی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ خودنوشت کے بعد بھی انہیں قلم سے ناتا جوڑے رکھنا چاہیے۔ لکھتے ہیں کہ ’’گاؤں کے ہر فرد کے پاس اپنا مکان اور قطعہ زمین تھا۔ زمین سے مکئی اور گندم کی فصلیں، ہر قسم کی سبزیاں اور دالیں وافر مقدار میں حاصل ہوتی تھیں۔ مکئی اور گندم کے علاوہ کنگنی اور چین نامی دو فصلیں ہوا کرتی تھیں جن کا آج کل نام بھی سننے میں نہیں آتا۔ آج کی نوجوان نسل شایدکنگنی(کنگن کی زوجہ محترمہ سمجھ کر) کو ایک طرح کا زیور اور چین کو ایک ملک سمجھے، لیکن واللہ یہ فصلوں کے نام ہیں۔ چین کی لیس دار روٹی بنائی جاتی جس کو ہم نے کبھی پسند نہیں کیا، لیکن پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اس کو من و سلویٰ کا درجہ دینا پڑتا۔ شک گزرتا ہے بنی اسرائیل کو بھی یہی ٹیسٹ وغیرہ کی شکایت رہی ہوگی۔ کنگنی کے دانے نکالنے کے لیے اسے ’’اوکھلی‘‘ (اب اوکھلی کے نام سے نئی نسل ناآشنا ہے، صرف محاورے میں اس کا وجود پایا جاتا ہے) کے حوالے کرنا پڑتا۔ اس کا کاڑھا بناکر نزلہ بخار کا علاج کیا جاتا۔ اسے تیار کرنے کے لیے کچی مکئی کے دانے نکال کر ٹھیکری میں بھونتے، جس کا کاڑھا بنایا جاتا۔ رات کو اسے پی کر (یا کھا کر) لحاف کے اندر گھس جاتے اور پسینے میں نہاتے۔ صبح اُٹھتے تو نزلہ زکام ختم ہوچکا ہوتا۔‘‘
کس خوبی سے انور عباسی نے گاؤں کی بود و باش بیان کی ہے۔ ایک تصویر سی قاری کی نظر میں پھر جاتی ہے۔ معاشرت کا انداز، فصلوں کا بیان اور دیسی طریقۂ علاج… غرض ایک پیرے میں کیا کچھ سامنے نہیں آ گیا! دیہی ثقافت کا بیان اس خوبی سے کیا ہے کہ وہ سب کچھ کسی وڈیو کی مانند نظروں کے سامنے آجاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہ سب پڑھ نہیں، دیکھ رہے ہیں۔ بہت کم کسی تحریر میں یہ خوبی ہوتی ہے:
’’دودھ، دہی، گھی کے لیے کوئی کسی کا دستِ نگرنہیں تھا۔ دودھ، دہی کی خرید و فروخت کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ عقیدۂ توحید کے بعد یہ عقیدہ سب سے مضبوط تھا کہ دودھ تو نور ہوتا ہے، اور نورکی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ہر گھر میں مرغبانی کا شعبہ قائم تھا۔ گوشت اور انڈے وافر مقدار میں ہوتے تھے۔ تعلیم تو عام نہیں تھی لیکن اخلاقی حس عام تھی۔ اس صورت میں لوگ اپنے پڑوسیوں کا خاص خیال رکھتے۔ دہی، لسّی اور ساگ سبزی میں سب کو شریک کرنا ایک طرح کا دستور تھا۔ اس ترقی یافتہ دور میں معلومات تو عام ہوئیں، لیکن ہم سب اخلاقی حس سے بے حس اور محروم ہوگئے۔‘‘
دیہی ثقافت میں موجود رواداری تو شاید آج بھی باقی ہے، لیکن شہری افراد اس طرزِ زندگی اور باہمی اخلاص و تعاون کا تصور بھی کرسکتے ہیں؟ یہ وہ تصاویر ہیں جو’’متاعِ شام سفر‘‘ کے ہر صفحے پر بکھری ہیں۔ سونے پہ سہاگے کی صورت کتاب میں بھی کچھ تصاویر شامل کی گئی ہیں۔ گاؤں کے ان مکینوں کی روزمرہ زندگی کیسے بسر ہوتی تھی، ان کا رہن سہن، ذرائع آمدن، مختلف پیشے اور ان سے وابستہ افراد کا بیان، شادی بیاہ، خوشی غمی کی مشترکہ تقاریب… غرض کس کس کا ذکر کیا جائے! پھرساتھ بعض متروک اشیاء کا ذکر: ’’بارش کے موسم میں ایک مصیبت نازل ہوتی تھی جس کو ’’اتھرو‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ اتھرو سے جان چھڑانے کے لیے پُولیں ہی کام آتی تھیں۔ کچھ مکان ہوتے تھے جن کی چھتوں پرگھاس پھوس ڈال کر مٹی سے ڈھانپ دیا جاتا تھا۔ ایسے میں جب بارش ہوتی تو بسا اوقات باہرکم اور اندر زیادہ پانی جمع ہوجاتا، وہ یوں کہ بارش تو ختم ہوجاتی لیکن اتھرو (چھتوں سے پانی ٹپکنا) جاری رہتا۔ انہی پُولوں سے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر مٹی کو دائیں بائیں ترتیب وار ایک ردھم کے ساتھ دباتے جاتے۔ یہ فطری ناچ لیس دار مٹی کی لیک کو ختم کردیتا اور چھت ٹپکنا بند ہوجاتی۔ اتھرو کو ختم کرنے کا ایک اور سائنسی طریقہ بھی موجود تھا۔ ایک پتھر منتخب کیا جاتا، گول مٹول یا چوکور سا۔ اس کے درمیان سوراخ کرکے ڈنڈا لگایا جاتا تھا۔ اس کو ہم ’دُرمُٹ‘ کے فصیح لفظ سے پکارتے تھے۔ دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اتھرو زدہ چھت پر مسلسل ضربیں لگائی جاتیں۔ ضربِ شدید یا خفیف کی کوئی قید نہیں تھی، بس طاقت درکار تھی، اور طاقت ہی سے لیک ختم ہوجاتی اور اتھرو بند۔‘‘
کیا نظروں میں یہ منظر پھر نہیں جاتا! یہی ایک اچھے مصنف کی خوبی ہے کہ وہ اپنی تحریر قاری کے دل میں اتار دے۔ اس منظرکا تصور شہروں میں کچے گھروں کے باسی بھی بہ خوبی کرسکتے ہیں۔
’’گھر عام طور پر ایک ہی کمرے پر مشتمل ہوتے۔ یہ کمرہ ’’بسنی‘‘ کہلاتا، اس لیے کہ انسان اسی میں بستے۔ یہی بیڈ روم، یہی ڈرائنگ روم اور یہی کچن۔ دادا، دادی، ماں، باپ اور ان کے بچے تین چار چارپائیوں میں دھرے ہوئے ملتے۔ بہت کم گھرانے ایسے ہوتے جودوسرا کمرہ، جسے کوٹھی کہا جاتا، افورڈ کرتے۔ والدین جب بچوں کی شادی کرتے تو دولہا اور دلہن کو اسی کمرے کا کوئی کونا الاٹ کردیتے اور خود دَم سادھ کر سوجاتے، یا سونے کی کوشش کرتے۔ مال مویشیوں کی رہائش کے لیے گھرکے اسی ایک کمرے میں ایک طرف ’اعلیٰ انتظام‘ ہوا کرتا۔ ہمارے ’بیڈ روم‘ میں کسی پارٹیشن کا تکلف نہیں کیا جاتا تھا۔ بس ایک تین چار فٹ کی آدھی دیوار سی کھڑی کی جاتی، وہ بھی شاید اس لیے کہ بھینس وغیرہ کہیں ہمارے چولہے کو ہی نہ روند ڈالیں۔ اسی چولہے پر کھانا بھی پکتا اور اسی پر مال مویشیوں کو گرمی پہنچانے کا سامان کرتے۔ آج کل کی نسل یقینا اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ دن کو تو مویشیوں کو چرنے چُگنے کے لیے آس پاس جنگلوں یا کھیتوں میں چھوڑ دیا جاتا، لیکن ’ڈنر‘ بہرحال ان کو اپنے بیڈ روم میں ہی مہیا کیا جاتا۔ انسان تو رفع حاجت کے لیے کھیتوں اور جنگلوں کا رُخ کرتے لیکن مال مویشیوں کو یہ سہولت حاصل ہوتی کہ وہ اپنے بیڈ روم سے ہی مستفید ہوسکیں۔ ظاہر ہے اس ’حسنِ انتظام‘ کے نتیجے میں انسان مویشیوں سے حاصل ہونے والی بائی پراڈکٹس یعنی ’خوشبو‘ اور دوسرے ذرات سے ’مستفید ‘ ہوتے رہتے تھے۔‘‘
کیا لفظوں کی پھلجھڑیاں ہیں کہ قاری زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ لطف اندوز ہوتا ہے اور یہ صورت حال اپنی تصور میں دیکھتا بھی ہے۔ اُس دور کی صنعت و حرفت میں پیری فقیری شامل تھی۔ درزی، لوہار، جولاہے، کمہار، موچی، میراثی وغیرہ، سب کا حصہ مقرر تھا۔ معاوضے میں نقدی کا تو رواج نہیں تھا۔ ہر سال فصل پر سب کو اُن کا حصہ مل جاتا تھا۔ سرجیکل انڈسٹری کا پُرلطف بیان دیکھیں: ’’گاؤں کے میراثی شادی بیاہ پر ڈھول بجانے، کھانا پکانے اور نامہ و پیام کے علاوہ بھی کئی خدمات انجام دیتے۔ ہردو، تین ماہ بعد وہ نائی بن کر ہر گھر کا رخ کرتے اور بچوں اور بڑوںکے بال کاٹنے میں مہارت کا مظاہرہ کرتے۔ ایک اور ذمہ داری بھی انہی کی ہوتی کہ ’’پیدائش کے موقع پر ایک دفعہ نومولود کے کان میں اذان دے کر مسلمان بنانے کی ابتدا تو کرلی جاتی تھی لیکن اس کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وقفہ درکار ہوتا۔ ہمارے ہاں نائی کے بنائے ہوئے مسلمان کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ خاندان میں یہ ایک اسپیشل موقع ہوتا تھا جس کی تیاری دیدنی ہوتی۔ ایک بڑی صاف ستھری کھاری لے کر اس کو اوندھا کرکے اس کے اوپر ایک صاف چادر ڈالتے اور اندر حسبِ استطاعت ایک یا دو مرغیاں رکھ دیتے۔ خاندان کے بڑے ٹوکری کے اوپر بچے کو بٹھاکر جور و ستم اور ابتلا کے مراحل سے گزارتے۔ سرجن صاحب اپنا واحد انسٹرومنٹ اُسترا ہاتھ میں لے کر اپنے ہدف کی طرف پیش قدمی کرتے، اُسترے کو تیز کرنے کے لیے ہتھیلی پر پھیرا جاتا یا چمڑے کی پٹی پر رگڑا جاتا۔ یہی اُسترا بعد میں شرفا کی داڑھی اور سر کے بال اتارنے کے کام آتا۔ اُس زمانے میں سُن اور بے ہوش کرنے کی سہولت تو میسر ہوا نہیں کرتی تھی، لہٰذا بچے کو قابو میں رکھنے کے لیے مردِ توانا کی ضرورت ہوتی، بصورتِ دیگر نتائج مسلمانی سے بڑھ کر کچھ اور بھی ہوسکتے تھے۔ سرجن صاحب اور خاندان کے بڑے ایک اَن دیکھی چڑیا کی طرف اشارہ کرتے کہ دیکھو دیکھو کتنی خوب صورت چڑیا آگئی ہے۔ بچے کی توجہ ذرا ہٹی کہ معاملہ ختم ۔ اس عمل سے بچے کی چیخیں بلند سے بلند تر ہوجاتیں۔ لیکن ’’اُسترا‘‘ تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں۔ گمان کیا جاتا ہے کہ مرغی کو ٹوکری کے اندر اس لیے رکھا جاتا ہوگا کہ مرغی کی چیخیں بچے کی چیخوں پر غالب آجائیں اور امی زیادہ پریشان نہ ہوجائیں۔ یہ مرغی بعد میں سرجن صاحب کی ملکیت بن جاتی۔‘‘
محمد انور عباسی نے ’’متاعِ شام سفر‘‘ میں کئی مختصر اور انتہائی دل چسپ شخصی خاکے بھی لکھے ہیں جن میں حمید چچا، منشی بوستان چچا، پرائمری استاد میاں فیروز دین، اور مولوی نور شاہ کے علاوہ مڈل اسکول کے اساتذہ ماسٹر حیات، ماسٹر ظہور احمد، مولوی فضل احمد شامل ہیں۔ عباسی صاحب کے اندر ایک بہت عمدہ خاکہ نگار بھی چھپا ہے۔ انہیں اس جانب توجہ کرنا چاہیے۔ کئی اسفار کا بھی ذکر موجود ہے۔ یہ میدان بھی ان کے لیے موجود ہے۔ کتاب کا ایک انتہائی قابل ِ قدر باب ’نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی‘ کے نام سے ہے، جس میں مطالعے اور جماعتِ اسلامی سے وابستگی کے حوالے سے کئی اہم امور بیان کیے گئے ہیں۔ مولانا مودودیؒ سے خط کتابت بھی دل چسپ اور معلومات افزا ہے۔474 صفحات کی خودنوشت کی دل چسپی کسی مرحلے پر بھی کم نہیں ہوتی۔ کتاب کے خاتمے پر قاری کے لبوں سے بے اختیار یہ دعا نکلتی ہے’’اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ۔‘‘

غزلیں

سرور جاوید

سوادِ عشق نہ کارِ ملال کچھ بھی نہیں
سفر بھی ختم ہوا اور مال کچھ بھی نہیں
میں آپ اپنی شناسائیوں کا منکر ہوں
وہ مل بھی جائے تو اب عرضِ حال کچھ بھی نہیں
سپاٹ گزرے ہے اب ترکِ عشق کی ہر شام
نہ زخم ہیں نہ غمِ الزمال کچھ بھی نہیں
گزشتہ عمر کی پرچھائیں بتاتی ہیں
متاعِ عشق بہ جُز خد و خال کچھ بھی نہیں
میں بجھ بھی جائوں تو کیا ہے کہ میری نظروں میں
بچھڑ کے اس سے عروج و زوال کچھ بھی نہیں
غزل کے باب میں سرورؔ میرا نشانِ ہنر
سوائے تجربۂ ماہ و سال کچھ بھی نہیں

فیاض علی فیاض

جامِ الفت پلا دیا مجھ کو
اک تماشا بنا دیا مجھ کو
اب پلٹنا بھی میرا مشکل ہے
اتنا آگے بڑھا دیا مجھ کو
پاؤں کیسے زمین پر رکھوں
تم نے اُڑنا سکھا دیا مجھ کو
تم نے بے چہرگی کے موسم میں
آئینہ کیوں بنا دیا مجھ کو
اُس کی فیاضؔ مہربانی ہے
جس نے مجھ سے ملا دیا مجھ کو

حصہ