پاکستانی معاشرہ

77

ذیشان احمد چغتائی
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا دور آیا تو لوگ ایک دوسرے سے دینی گفتگو کیا کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھا کرتے تھے کہ بتاؤ کتنا قرآن پڑھتے ہو، روزانہ نفلی عبادت کا کیا معمول ہے، حقوق وفرائض کی کتنی پابندی سے ادائیگی کرتے ہو۔ اس کے برعکس حجاج بن یوسف اور ہشام بن عبد الملک کے دور میں لوگوں کا موضوعِ بحث ظلم کے متعلق اور قتل وغارت کے متعلق ہوا کرتا تھا کہ کل کتنے لوگ حجاج کی آمریت کے بھینٹ چڑھے؟ رات کسے موت کے گھاٹ اتارا گیا؟ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا دور چوں کہ امن و امان کا مثالی دور تھا۔ ان کی ترجیحات مذہبی تھیں، اس لیے رعایا بھی مذہبی گفتگو کیا کرتی تھی۔ اس کے برعکس ہشام اور حجاج نے اپنی رعایا پہ ظلم و ستم روا رکھا تھا۔ تو رعایا کی ترجیحات اور ان کی محافل کے موضوعِ سخن ظلم و ستم کی داستانیں ہوا کرتا تھا۔
میرا ان واقعات سے تمہید باندھنے کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ یہ بحث ومباحثے، موضوعات اور ترجیحات حکومتوں کے رویوں کی بنا پہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ہمارے حکمران اور بااثر افراد ہمیشہ ہمیں انہی معاملات میں الجھا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ان کے مقاصد ہمیشہ یہی ر ہے ہیں کہ عوام سیاست جیسے معاملات میں الجھاؤ کا شکار رہے۔ اسے سیاست سے ہٹ کر کچھ سوچنے کا موقع ہی نہ ملے۔
آج بھی جہاں چار بندے بیٹھے نظر آئیں، ان کا موضوع صرف سیاست ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پہ 60 فیصد سیاست اور 40 فیصد باقی موضوعات پہ بحث ہوتی ہے کیوں کہ ہمارے حکمرانوں کے رویوں نے ہر بندے کو سیاستدان بنا دیا ہے اور سیاست بھی ہر شعبہ ہائے زندگی پہ اثر انداز ہوتی ہے۔ آپ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، افسر یا مولوی، صحافی یا کوئی بھی ہوں سیاست آپ کی اولیں ترجیح میں شامل ہوتی ہے۔ آپ کسی کے ساتھ مذہبی گفتگو کریں جواب آپ کو سیاسی ہی ملے گا۔ کسی کو کاروبار کا مشورہ دیں جواب سیاسی انداز میں ہوگا۔ کسی کی صحت کے متعلق سوال پوچھ لیں اس کا جواب سیاسی لفافے میں لپٹا نظر آئے گا۔
اس سیاسی دیوالیہ پن اور مخلص قیادت کے فقدان کے باعث ہر مرد‘ عورت ‘بوڑھا اور جوان سیاست زدہ ہو چکا ہے اور ستم ظریفی یہ کہ ہر سیاسی مریض ساتھ ساتھ سیاسی ڈاکٹر بھی ہے۔ حتی کہ پرائمری لیول کے بچے بھی میں نے گلی کوچوں میں سیاست جیسے موضوعات پہ لب کشائی کرتے دیکھے ہیں۔ عمر کے اس لیول میں ہم مٹی کھایا کرتے تھے۔
ہر بندہ اپنی نصف انرجی سیاست جیسے موضوعات پہ ضائع کرتا نظر آتا ہے۔ میں کسی پہ تنقید نہیں کررہا میرا خود یہی حال ہے اور یہ ہمارے معاشرے کا ایسا المیہ ہے جسے المیہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ سیاسی بحث کا چسکا بھی کسی افیون بیڑی کے نشے سے کم نہیں ہے۔ میں نے اس بیماری کے علاج کے متعلق پوسٹ لگائی تھی تو مجھے جو استفادہ ہوا اس کا خلاصہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
پہلی بات تو یہ کہ سیاست پہ بحث کریں ہی نہیں۔ سیاستدانوں کو اتنی ہی اہمیت دیں جتنی وہ آپ کو دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ شائع ہونے والے آرٹیکل چھوڑ کر مذہبی، ادبی، علمی، تاریخی کتا بوں کا مطالعہ کریں۔ قرآن کی تلاوت کریں۔ ایسے گروپ پیچ اور فرینڈ ان فالو کردیں یا سوشل میڈیائی زندگی سے نکل کر عائلی زندگی پہ فوکس رکھیں۔ دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگائیں، عزیز واقارب کے گلے شکوے دور کریں۔ صبح اور عصر کے بعد کا وقت کسی پارک کی سیر کریں۔ مہنیے دو مہینے بعد کسی کھلے ماحول کی سیاحت کریں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کو سیاست کے علاوہ آپ کو بے شمار موضوعات میسر آجائیں گے۔ نہیں تو سیاست سے مفر ممکن ہی نہیں۔
ہاں اگر آپ سیاست کے موضوعات پہ گفتگو کرنا ہی چاہتے ہیں تو پھر تین اصول یاد رکھیں کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی ہیں۔ ہم مشرقی روایات کے وارث ہیں اور محمد عربیؐ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ انہی تین اصولوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آپ سیاست پہ بحث کریں کیوں کہ کسی ایک دائرہ کی حدود سے بھی تجاوز کریں گے تو گمراہی کی جانب چلے جائیں گے۔ اسلام کو سیاست سے نکالیں گے تو سیاست چنگیز ی بن جائے گی۔ وطن عزیز پاکستان کی متعین کردہ حدود سے نکلیں گے تو اغیار اور طاغوت کے آلہ کار بن جائیں گے اور یہ راستہ آپ کو غدار وطن بنادے گا۔ اپنی مشرقی روایات کو پس پشت ڈالیں گے میراثِ اسلاف ترک کریں گے۔ دانش ِ فرنگ اپنائیں گے مغربی ترجیحات کو پیش نظر رکھیں گے۔ تو یادرکھیں مغرب کی جانب تو سورج بھی غروب ہو جاتا ہے، تو ثریا سے منہ کے بل گر جاؤ گے۔
انہی اصولوں کے مطابق آپ تنقید کریں یا کسی کی تعریف۔ شخصیت پرستی خوشامدی اور چاپلوسی سے نکل کر پاکستان اور نظریہ پاکستان کے محافظ بنیں۔ کسی کی ذاتیات کو ہدف تنقید مت بنائیں۔ آپ کا لیڈر بھی فرشتہ نہیں ہے اور مخالف لیڈر بھی۔ لہٰذا غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح نظر سے دیکھیں نہ کہ اپنی ترجیحات کی نظر سے۔ کسی سے اختلاف رائے ہو تو تہذیب میں رہ کر گالی گلوچ سے پاک انداز میں کریں۔ حریف کو دلائل سے قائل کریں۔ دلیل نہ ہو تو ہار مان جائیں۔ اپنی طاقت کو دلیل مت بنائیں۔ ہٹ دھرمی سے اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں۔ آپ بھی اتنے ہی پاکستانی مسلمان ہیں جتنا آپ کا فریق مخالف ہے۔ اسے غدار اور کافر بنانے کی کوشش مت کریں۔ اگر آپ مذکورہ اصولوں کے مطابق سیاسی بحث کرسکتے ہیں تو کریں نہیں تو سکوت اختیار کریں۔ کیوں کہ خاموشی بری گفتگو سے ہزار درجہ بہتر ہے۔

حصہ