میرے رنگین آنسو۔۔۔

90

توقیر عائشہ
سچ کہوں تو چھ چاند تو ہوگئے ہوں گے بقرعید گزرے… جنت میں سب بکرے کھیل رہے تھے مگر ایک وہ اکیلا بیٹھا تھا۔
ایک بکرے نے کہا: ’’آئو تم بھی ہمارے ساتھ کھیلو۔‘‘۔
اُس نے کہا: ’’میں تمھاری طرح بھاگ نہیں سکتا، کیونکہ میری ایک ٹانگ سلمیٰ آپا کے فریزر میں پڑی ہے۔‘‘
صاحبو حقیقت تو یہ ہے کہ یہ اس بکرے پر ہی نہیں، مجھ پر بھی بڑا ظلم تھا۔ غضب خدا کا… سلمیٰ آپا جب یوسف بھائی بجلی والا کی شاپ میں داخل ہوئی تھیں تو پڑھی لکھی معقول خاتون معلوم ہورہی تھیں، کیونکہ وہ سیلزمین سے گفتگو میں خوب انگریزی کے الفاظ استعمال کررہی تھیں۔ وہ سیدھی دکان کے اُس حصّے میں آئیں جہاں میں دیگر برقی آلات کے ساتھ بڑی شان سے براجمان تھا۔ میں نے سوچا اگر یہ مجھے لے جائیں تو میں اپنے اوپر پڑنے والی دھوپ سے بچ جائوں گا جو شیشے کی دیوار سے مجھ پر آتی ہے۔ اور ہوا بھی یہی، انہوں نے بڑی محبت سے سودا کیا اور مجھے اپنے گھر لے گئیں۔
گھر کے لائونج میں موجود ایک درمیانی سائز کے فریج کے برابر مجھے احتیاط سے رکھ دیا گیا۔ اسٹیبلائزر کے ساتھ چلایا۔ سب گھر والے میرے اردگرد کھڑے تھے۔ جب سب کو اطمینان اور خوشی حاصل ہوگئی تو سلمیٰ آپا نے کروشیا کا بنا سفید رنگ کا ٹکڑا مجھ پر لاکر بچھا دیا۔ آہ… مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ توجہ اور التفات صرف چار دن کی چاندنی ہے۔
میری اوپری سطح پر اگر کوئی گلاس یا اخبار بھی رکھ دیتا تو سلمیٰ آپا خوب ناراض ہوتیں۔ رگڑ رگڑ کر میری ہر طرف سے صفائی کی جاتی۔ آہستہ آہستہ میرا پیٹ مختلف قسم کے غذائی لوازمات سے بھرتا چلا گیا۔ گوشت، مرغی، قیمے کے مختلف سائز کے پیکٹ، گوالے کے لائے ہوئے تازہ دودھ کے پیکٹ، مٹر، کباب، کچھ ادھ پکے کھانے کہ کوئی مہمان آئے تو فوراً تیار ہوسکیں۔
ملازمہ کو دینے کے لیے بچ جانے والے سالن کی چھوٹی چھوٹی تھیلیاں…آہستہ آہستہ ہر وہ چیز میرے اندر ڈالی جانے لگی جو ضرورت سے زائد تھی۔ پھر یہ حال ہوگیا کہ رکھنے والوں کو یاد بھی نہیں رہتا کہ کیا چیز کس پیکٹ میں رکھی تھی۔ اُس دن سلمیٰ آپا کی بڑی نند کو آنا تھا۔ بیٹی نے ایک دو پیکٹ گوشت کے ڈھونڈے اور پھر دھپ سے کور بند کردیا، اور کہہ دیا کہ فریزر سے نکال کر پکایا تو دیر ہوجائے گی، اس لیے تازہ گوشت منگا دیں۔
پھر ایک دن چکن کا کچھ بون لیس پکانا تھا تو ساری ہڈیاں شاپر میں ڈال کر مجھ میں پھینک دی گئیں۔ جھوٹ نہ بولوں تو وہ کوئی دو ماہ تک اندر ہی لڑھکتی رہیں، اور لڑھکتے تو وہ مٹر بھی بہت تھے جو تھیلی پھٹ جانے کے سبب تہ میں پڑے تھے۔ میرے برابر میں رکھا فریج جانے کس کام کا تھا کہ ہر چیز میرے اندر ہی ڈال دی جاتی تھی۔ میں نے چاہا کہ ایک دن اُچک کے دیکھوں کہ آخر اِس میں کیا ہے؟ مگر ناکام رہا۔ البتہ دروازہ کھلا تو دروازے میں رکھے پیکٹ اور بوتلیں دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ بھی عمروعیار کی زنبیل سے کم نہیں ہوگا۔ اِس پر مستزاد بجلی کا جانا۔ چند گھنٹے تو برداشت کرلیتا ہوں لیکن جب مشقت طویل ہوجائے تو میں اندر رکھے پیکٹوں سے لڑنا شروع کردیتا ہوں۔ اِس کے نتیجے میں وہ روتے ہیں۔ یوں گوشت کے پیکٹ کے لال آنسو، دودھ کے سفید آنسو، بچے ہوئے سالن کی تھیلی کے تیل والے آنسوئوں سے بننے والی یہ ساری قوس قزح میری تہ میں جاکر جمع ہونے لگتی ہے۔ میری بے بسی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے۔
ارے بھائی! کبھی میرے حال پر نظر کرلو۔ تم بھی نہاتے دھوتے ہو۔ مجھے کیوں صفائی سے محروم رکھتے ہو؟ ایک دن سلمیٰ کی ساس نے میرے نچلے حصّے سے پانی ٹپکتا دیکھا تو کہنے لگیں کہ ’’دلہن کب سے فریج صاف نہیں کیا؟‘‘ سلمیٰ آپا نے جواب دیا ’’امّاں وقت ہی نہیں ملتا…‘‘ ارے رہنے دیں سلمیٰ آپا! یہیں ہوتا ہوں میں ٹی وی لائونج میں۔ ہر وقت کھلا ہوا L.C.D بھی مجھے خوب دِکھتا ہے۔ سامعہ، رضوان اور سلمیٰ آپا موبائلوں میں گم رہتے ہیں اور کہتی ہیں کہ وقت ہی نہیں ملتا۔ اور ہاں وہ کروشیا کی چادر کہاں گئی؟ اب تو جس کا جو دل چاہتا ہے وہ وہاں رکھ دیتا ہے۔ جگہ جگہ سے بدرنگ ہوگیا ہوں اور نچلی سطح پر زنگ لگ چکا ہے۔ اِس گھر میں میری کوئی فریاد سننے والا ہے کہ نہیں؟
جب میرے دل و جان پر بہت بوجھ پڑا تو میں نے کراہنا شروع کردیا کہ شاید کوئی متوجہ ہوجائے۔ اِس سے سلمیٰ آپا کی سمجھ میں یہ آیا کہ شاید وولٹیج کا مسئلہ ہورہا ہے۔ کہنے لگیں کہ تھوڑی دیر کے لیے سوئچ بند کردیتے ہیں۔ جب اِس عارضی حل سے کچھ نہ بنا تو الیکٹریشن کو بلایا گیا۔ اُس نے آتے ہی کہا ’’اِس کے اندر تو آپ نے اتنا کچھ بھر رکھا ہے… بھئی یہ چیزیں بھی مناسب صفائی مانگتی ہیں، سروس مانگتی ہیں۔‘‘ اور اتنا کچھ سنایا کہ بجلی جانے کے باوجود میرے دل میں ٹھنڈ سی پڑ گئی۔ پھر میں نے کچھ دن صبر کیا، لیکن کب تک؟ میرا ارادہ کسی کو نقصان پہنچانے کا نہ تھا، مگر کوئی خود ہی اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو تو میں کیاکروں! میری مشینری میں موجود تاروں پر ایک جگہ مسلسل پانی ٹپکتا تھا۔ آپ تو جانتے ہیں پانی ٹپکے تو پتھر میں بھی سوراخ کردیتا ہے، پھر یہ تو تار تھے، اندر ہی اندر نقصان کی طرف لے جارہے تھے، مگر دیدۂ بینا کہاں تھی گھر والوں کے پاس؟ وہ تو اسکرینوں پر چپک کر رہ گئی تھی۔
ایک دن سلمیٰ آپا نے کسی کام سے میرے اوپر ابھی ہاتھ رکھا ہی تھا کہ چیختے ہوئے ہاتھ ہٹا لیا۔ اَب سلمیٰ آپا کو عقل آگئی کہ نہ وہ مجھ پر اتنا ظلم کرتیں، نہ میں ایسی حرکت کرتا…کسی پر اتنا ہی بوجھ ڈالنا چاہیے جتنا وہ برداشت کرسکے۔ پھر ہوا یوں کہ اُن کا دل میری طرف سے کھٹا ہوگیا۔ اُنہوں نے مجھے نکال باہر کیا، مگر کہاں…؟ جب تک میں اُن کے کام کا تھا اُن کے لائونج کی زینت بنا ہوا تھا۔ اَب بدشکل ہوکر زینے کی نیچے والی جگہ میں پرانے برقی آلات خریدنے والے کا انتظار کررہا ہوں۔ اب میرا بس یہی مصرف ہے کہ ایک بلی نے میری آغوش میں پناہ لے لی ہے۔

حصہ