تبدیلی یوں بھی آتی ہے

92

زاہد عباس
پچھلے دنوں خالہ خیرن انتقال کرگئیں۔ عمر کے حساب سے تو وہ ہماری دادی کے برابر تھیں، لیکن سارے محلے کے لوگ انہیں خالہ خیرن پکارا کرتے تھے، اس لیے ہم بھی انہیں خالہ ہی کہتے۔ پرانے لوگوں کی باتیں نرالی ہوتی ہیں، اُن کی بچوں سے محبت اور شفقت کا کوئی ثانی نہیں، یہی وجہ تھی کہ محلے کے سارے بچے خالہ کے گھر جمع رہتے۔ قصے کہانیاں اور مزے مزے کے لطیفے سنانا اُن کی عادت میں شامل تھا، لیکن میرے نزدیک بچوں کی، خالہ کے گھر ڈیرے ڈالنے کی سب سے بڑی وجہ اُن کا پاندان تھا، جس میں رکھے پان ہم سب کی کمزوری تھے۔ وہ جب بھی سروتا ہاتھ میں لیتیں، سارے بچے اُن کے گرد ایک دائرہ بنا لیتے۔ خالہ اپنے وقتوں کے قصے سناتیں اور پان کی چھوٹی چھوٹی کترنیں کاٹ کر ہمیں دیا کرتیں۔ ہمارے گھرانے میں چونکہ پان کھانا معیوب سمجھا جاتا تھا اس لیے زیادہ تر وقت ہم خالہ خیرن کے گھر پر گزارتے۔ اگر کسی دن پان نہ ملتا تو پیپل کے پتوں پر نمک مرچ لگاکر یا چینی ڈال کر کھاتے۔ خیر یہ سب بچپن کی باتیں ہیں، اور بچے تو بچے ہوتے ہیں، وہ ناسمجھی میں بہت کچھ کیا کرتے ہیں، بس اُن دنوں کی یادیں ہی ذہنوں میں پیوست ہوکر رہ جاتی ہیں، مثلاً خالہ خیرن کہا کرتی تھیں کہ پان کھانا ہماری تہذیب ہے، شادی بیاہ ہو یا کوئی بھی تقریب… آنے والے مہمانوں کو پان پیش کیے جاتے۔ پان بطور علاج بھی استعمال ہوتا تھا۔ بچوں کے مختلف امراض میں یہ بہت مفید ثابت ہوتا تھا۔ کسی متورم حصے پر پان کو گرم کرکے باندھنے سے ورم زائل ہوجاتا، کھانسی میں لوگ سینے پر گھی مَل کر پان سے سینکتے۔ سردی کی وجہ سے ہونے والی کھانسی میں پان ایک قسم کا روغن ہوتا۔ تازہ ہرا پان چونا یا تیل لگا کر گرم کرکے کنپٹی کی طرف باندھنے سے سر درد رفع ہوجاتا، زخم پر اس کی پٹی باندھنے سے زخم تیزی سے ٹھیک ہونے لگتا، پان کا عرق آشوبِ چشم، اور اس کا نیم گرم پانی کان کے درد میں استعمال کیا جاتا تھا۔ خالہ خیرن کے مطابق پان منہ کے خراب ذائقے کو دور کرتا ہے، ذیابیطس اور گردے کی سوزش میں بھی مفید ہے، پان معدے کی اصلاح کرتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے، زبان کے ذائقے کو درست کرتا ہے، دانتوں کو مضبوط کرتا ہے، معدے سے فاسد مادے کو نکالتا ہے، منہ اور مسوڑھوں کی رطوبت کو رفع کرتا ہے۔ پان کھانے والوں کو انتہائی خطرناک اور جان لیوا بیماریاں لگنے سے متعلق خالہ کی رائے تھی کہ یہ بیماریاں تمباکو یا دوسری مضر صحت اشیاء کی آمیزش سے ہوتی ہیں، نہ کہ پان سے۔ سادہ پان صحت کے لیے ہر حال میں مفید ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر بچیوں کے جہیز کے لیے جو سامان بنایا جاتا اُس کے ساتھ مختلف دھاتوں سے بنے پاندان، خاصدان، پیک دان، ان پر چڑھانے کے لیے ریشمی غلاف، چونے اور کتھے کی خوبصورت چھوٹی چھوٹی ڈبیاں اور چمچے، چھالیہ کترنے کے لیے سروتا، پان رکھنے کے جیبی بٹوے، پان پیش کرنے کی خوبصورت طشتریاں بطور خاص دی جاتی تھیں۔
خالہ خیرن کی جانب سے پیش کردہ پان کے طبی فوائد سے آپ اتفاق یا اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن یہ بات اپنی جگہ بالکل سچ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تہذیب اورگھر پر پان بناکر کھانے والی نسل آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جارہی ہے۔ کہتے ہیں کہ پان کی تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے جس کے مطابق ہندو لارڈ کرشنا جی نہ صرف پان کھاتے تھے بلکہ ہزاروں برس سے ہندو وید اس کو بطور دوا بھی استعمال کرواتے تھے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اصل پان کی تاریخ برصغیر میں مغلیہ دورِ اقتدار سے ملتی ہے۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ پان کھانا نورجہاں نے ایجاد کیا۔ یہ دربار سے ہوتے ہوئے امیروں میں آیا، اور پھر شاہانِ مغلیہ سے سلطنت ِآصفیہ کو ورثے میں ملا،یہاں کے امیروں سے پھر عام وخاص میں بھی پھیل گیا۔میں اس تاریخ سے تو زیادہ واقف نہیں، لیکن ہاں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ایک زمانہ تھا جب کراچی میں سب سے زیادہ پان کھایا جاتا تھا،شہر میں جس جگہ نظر گھماتے، وہاں پان کی دکان نظر آتی اور ساتھ ہی پان تھوکنے والے افراد اور جگہ جگہ پیک کے نشانات بھی دکھائی دیتے۔ یہ سوغات ایک تھکے ہارے مزدور سے لے کر معروف سماجی شخصیت تک کو پسند ہوتی تھی۔ شہر کے ہر علاقے میں ایک سے بڑھ کر ایک مشہور دکان ہوتی تھی، کراچی کا کوئی ریسٹورنٹ ایسا نہ تھا جس کے ساتھ پان کی دکان نہ ہو۔ 1971ء کی جنگ کے دوران جب پان کی سپلائی منقطع ہوئی تو بازاروں میں گٹکا سپلائی ہونے لگا۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک طرف گٹکے نے تو دوسری طرف بڑھتی مہنگائی نے پان کی مانگ پر گہرے اثرات مرتب کیے اور رفتہ رفتہ پان کی دکانیں کھوکھوں میں تبدیل ہونے لگیں۔ ظاہر ہے جب پان کھانے والوں کی تعداد کم ہوتی جارہی تھی تو شہر کے پُررونق کاروباری علاقوں اور بازاروں میں اپنی قیمتی دکان میں فضول بیٹھ کر کوئی کیوں اپنا وقت ضائع کرتا! بس اسی بنیاد پرپان فروشوں نے دکانیں فروخت کرکے اپنے پیسے سیدھے کرنے شروع کردیے۔ یوں بہترین، کشادہ اور خوبصورت دکانوں پر چلنے والا یہ کاروبار گلی کے نکڑ پر لگے کھوکھے تک محدود ہوگیا۔پان کل تک جس شہر کی تہذیب تھا، وہ شہر گٹکے،مین پوری اور مضر صحت ماوے کی فروخت کا مرکز بن گیا۔
اسی طرح 1970ء کے عشرے تک اس شہر کا کوئی رہائشی اور کاروباری علاقہ ایسا نہیں تھا، جہاں ملباری اور ایرانی ہوٹل نہ ہوں۔ ویسے تو ایرانی اور ملباری ہوٹلوں کی چائے کا ذائقہ ایک دوسرے سے خاصا مختلف تھا، لیکن ان ہوٹلوں کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں ایک مرتبہ چائے پینے والے کو ایسا چسکا پڑتا کہ وہ پھرکسی دوسرے ہوٹل کا رخ نہ کرتا۔ ان ہوٹلوں کی یہ خصوصیت تھی کہ ان کی دیواروں پر ’’شراب پی کر ہوٹل میں آنا منع ہے‘‘، ’’سیاسی گفتگو سے پرہیز کریں‘‘، ’’فالتو بیٹھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں‘‘ جیسی عبارتیں تحریر کی جاتی تھیں۔ 1970ء کی دہائی میں جب پاکستانی ہنرمندوں، محنت کشوں اور تعلیم یافتہ افراد کو مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ملازمتوں کے مواقع میسر آنے لگے اور پاکستانی جوق در جوق ملازمت کے حصول کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک جانے لگے تو اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی غرض سے ملباریوں نے بھی کراچی سے اپنا چائے کا کاروبار سمیٹ لیا۔ یوں سارے شہر میں قائم ملباری ہوٹل بند ہونے لگے۔ اسی طرح ایرانی ہوٹل بھی اپنا ایک خاص تاریخی پس منظر رکھتے ہیں، ملباریوں کے برعکس ایرانیوں نے اپنے چائے کے کاروبارکو کراچی کے اولڈ سٹی ایریا تک ہی محدود رکھا۔ ان کی چائے کی پتی فروخت کرنے کی زیادہ تر دکانیں اور ہوٹل صدر سے لے کر کھارادر تک کے علاقوں میں قائم تھے، اس کے علاوہ طارق روڈ پرکیفے لبرٹی کے نام سے ایک ہوٹل جو اب معدوم ہو چکاہے، صدر میں فریڈرک کیفے ٹیریا، شاہراہ لیاقت کے انٹر سیکشن پرکیفے جارج، اور اسی سڑک کے دوسری طرف انڈیا کیفے ہائوس ہوا کرتا تھا، جو تقسیم ہند کے کئی برس بعد تک اسی نام سے قائم رہا، پھر زیلنس کافی ہائوس اور بعد ازاں ایسٹرن کافی ہائوس کے نام سے چلایا گیا۔ ایسٹرن کافی ہائوس کو یہ خصوصیت بھی حاصل رہی کہ وہ جلد ہی شاعروں، ادیبوں، طالب علم رہنمائوں اور ترقی پسند ٹریڈ یونین رہنمائوں کے بیٹھنے کا مرکز بن گیا۔ زیب النساء اسٹریٹ پر بھی ایک ایرانی ہوٹل کیفے پرشیئن کے نام سے مشہور تھا۔ اس کے بالمقابل سڑک کے دوسری طرف کیفے گلزار بھی تھا جہاں شہر بھر کی سیاسی شخصیات بیٹھک لگایا کرتی تھیں۔ صدر کے علاقے لکی اسٹار کے قریب کیفے سبحانی اور عبداللہ ہارون روڈ کے ساتھ کیفے درخشاں بھی ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔ کراچی کے ایرانی ہوٹلوں میں سے اگر کوئی ہوٹل آج بھی قائم ہے تو وہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہوٹل ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کراچی کے قدیم ترین ایرانی ہوٹلوں میں سے ایک ہے جو قیام پاکستان سے 15سال قبل 1932ء میں قائم ہوا تھا۔
کراچی میں گٹکا، مین پوری اور دوسری مضر صحت اشیاء کی بڑھتی ہوئی سپلائی کی وجہ سے ایک طرف اگر پان کی دکانیں نایاب ہوگئیں، تو دوسری طرف ایرانی اور ملباری چائے کو سارے شہر میں کوئٹہ چائے نے اڑا کر رکھ دیا۔ صوبہ بلوچستان کے علاقوں پشین، لورالائی، چمن سے آنے والوں نے عمدہ اور لذیذ چائے تیار کرنے کے وہ وہ ہنر دکھائے کہ سارے شہر کو ہی اپنا گرویدہ بنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کا کوئی محلہ یاکوئی گلی ایسی نہیں جہاں وائی فائی اور کیبل نیٹ ورک فری سہولت کے ساتھ بسم اللہ، چمن، لورالائی، اچکزئی اور کوئٹہ چائے پراٹھا ہوٹل نہ ہو۔

حصہ