بہترین صدقہ

132

سیدہ عنبرین عالم
عبدالغفور صاحب نام کے ہی مغفرت کرنے والے کے بندے نہ تھے، بذاتِ خود بھی انتہائی شریف النفس اور حلیم الطبع انسان تھے۔ دو بیٹیوں ریحانہ اور فرزانہ کے والد تھے۔ بیگم ندرت جہاں سارے جہاں کا غصہ عبدالغفور صاحب پر اتارتی تھیں، وہ چاہتی تھیں کہ ان کے شوہرِ نامدار بھی زمانے کی چابک دستیاں سیکھیں… اور عبدالغفور صاحب کا یہ حال کہ کوئی مانگنے والا بھی اپنی دکھ بھری داستان سناتا تو اُس کے ساتھ رونے بیٹھ جاتے، اور اُٹھا کے گھر کا پکا ہوا کھانا تک دے آتے، چاہے گھر والوں کے لیے ایک لقمہ نہ بچے۔ انہی عادتوں کی وجہ سے ندرت جہاں تنخواہ آتے ہی ان سے چھین لیا کرتیں اور سوائے کرائے کے، ایک روپیہ نہ دیتیں، ہاں کھانا باندھ کر دیتیں۔ وہ بھی آفس کے یار دوست ہنسی مذاق میں کھا جاتے، اور یہ بھوکے ہی گھر آتے۔ بچیوں کو بھی ہمیشہ ایثار اور خوش اخلاقی سکھائی۔ بچیاں ماں سے ڈرتی تھیں، ہاں باپ سے دل کی ہر بات کرلیتیں، ہر مسئلہ بیان کرتیں، گھنٹوں دین پر بھی گفتگو رہتی اور سیاست پر بھی۔
عبدالغفور صاحب کی سالگرہ تھی، دونوں بچیاں خاص طور پر تحفہ دینے کے لیے پرفیوم خرید کر لائیں، ایک کالا واسکٹ باپ کے لیے خریدا، گھر میں کیک، بریانی اور کباب وغیرہ تیار کیے۔ وہ گھر میں آئے تو بے چین، بے چین سے تھے۔ خیر نہا دھوکر چائے پی، کیک کاٹا، تحفے وصول کیے۔ اب کھانا کھانے بیٹھے، تو ایک لقمہ کھاکر دس دس منٹ کروٹیں بدلتے۔ ندرت جہاں نے زور سے گھُرکا تو سہم گئے اور جلدی جلدی کھانا کھانے لگے۔ ندرت جہاں نے مرغی کی بڑی سی ٹانگ اور دو کباب بھی پلیٹ میں رکھ دیے، حالانکہ جانتی تھیں کہ ان کے مجازی خدا کو بیٹیوں کے زیادہ سے زیادہ گوشت کھانے سے خوشی ہوتی ہے۔ خود کم سے کم کھاتے کہ بیٹیاں زیادہ کھا لیں۔ بہرحال جب کھانا ختم ہوا اور ندرت جہاں اِدھر اُدھر ہوئیں تو فرزانہ نے چپکے سے باپ کی خیریت دریافت کی۔ بولے ’’باہر چبوترے پر ایک عورت دو بچے لیے بیٹھی ہے، بہت غریب لگ رہی ہے، بھیک بھی نہیں مانگ رہی، بس چپ چاپ بیٹھی ہے، اسے کھانا دے آئو۔‘‘
فرزانہ گھبرائی ’’ابا! آج دو مہینے بعد گوشت پکا ہے، اگر غریب عورت کو دے دیا تو اماں نے کل میرے مٹن کی ہانڈی بنادینی ہے، کیوں مجھے بقرعید سے پہلے ذبح کرانا چاہتے ہیں!‘‘۔
’’اچھا یوں کرو بوٹیاں نہ دو، خالی بریانی کے چاول اور رائتہ دے دو، پلیٹ بھر ہی دے دو‘‘۔ عبدالغفور صاحب بیٹی کے آگے گڑگڑائے۔
فرزانہ اور ریحانہ باپ کے مزاج سے واقف تھیں کہ اگر وہ عورت اور بچے بھوکے رہ گئے تو ابا تو رات بھر سو بھی نہ پائیں گے۔ دیکھا تو اماں عشاء کے لیے بیٹھ چکی تھیں، اب وہ رات کے 12 بجے تک تو عبادت کرتیں، لہٰذا باورچی خانے میں جاکر چار پانچ پراٹھے ڈال کر، دو آملیٹ اور چائے کے ساتھ باہر اس غریب عورت کو خاموشی سے دے دیے، جب کہ اپنے ایک دو پرانے سوٹ بھی دے دیے۔ وہ عورت کھا پی کر دعائیں دے کر چلی گئی، تب جاکر عبدالغفور صاحب کا موڈ خوش گوار ہوا۔ تحفوں کی بھی خوب داد دی اور کولڈ ڈرنک پیتے ہوئے بیٹیوں سے گپیں لڑانے بیٹھ گئے۔
ریحانہ: ’’ابا! کیا آپ کو گوشت بالکل پسند نہیں ہے؟ جب بھی پکتا ہے آپ کھاتے ہی نہیں۔‘‘
عبدالغفور صاحب: ’’اللہ نہ کرے! میں کون ہوتا ہوں اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں مین میخ نکالنے والا، میری کہاں ایسی مجال؟ اگر تم لوگ بیٹے ہوتے تو میں بھی خوب گوشت کھاتا۔‘‘
فرزانہ: ’’لو بھلا! پکتا ہی آدھا کلو گوشت ہے، آپ بھلا کہاں سے خوب کھاتے! اور بیٹی بیٹے کا کیا فرق؟‘‘
عبدالغفور صاحب: ’’بھئی بیٹے ہوتے تو انہوں نے ساری زندگی میرا سر کھانا تھا، وہ کون سا کہیں چلے جاتے، ان کا لحاظ کیوں کروں! لیکن میری شہزادیاں تو اپنے شہزادوں کے گھر جائیں گی، پتا نہیں کیا ملے، کیا نہ ملے۔ بس میری آنکھوں کے سامنے خوب کھا پی لو تو میرے دل کو قرار آجائے، تم نے کھا لیا تو بس میرا پیٹ بھر گیا۔‘‘۔
ریحانہ: ’’واہ ابا! آپ کی بھی عجیب منطق ہے۔ گوشت وغیرہ کھایا کریں تاکہ امی سے آپ کو ڈر نہ لگے۔‘‘ (قہقہہ)۔
عبدالغفور صاحب: (ہنستے ہوئے) ’’بھلا ہم کیوں ڈرنے لگے! یہ تو بس ہماری محبت ہے، ہم گھر کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے، یہ تو سوچو کہ وہ غلط کیا کہتی ہیں؟ ہمیں بچت کرنے کو کہتی ہیں، پیٹ بھر کر کھانے کو کہتی ہیں، کتابیں پڑھنے کو کہتی ہیں، لوگوں سے مرعوب ہونے سے منع کرتی ہیں، اس میں کیا غلط ہے؟ وہ جو کہتی ہیں ہماری محبت میں کہتی ہیں۔ پہلے پیار سے سمجھاتی تھیں، ہم نہ مانے تو آہستہ آہستہ مزاج میں تلخی آتی گئی۔ بیٹا یہ تو دیکھو کہ ہماری ننھی سی تنخواہ میں وہ کس مہارت سے گھر چلا رہی ہیں، سارے بل، گھر کا کرایہ، آپ لوگوں کی پڑھائی، کھانا پینا، کپڑا لتا… کل تو میں حیران رہ گیا، آپ دونوں کے لیے وہ موتیوں میں سونے کے دو سیٹ بھی بنا چکی ہیں، میں تو کہتا ہوں آپ کی اماں کو تو ورلڈ بینک کا ہیڈ ہونا چاہیے۔‘‘
فرزانہ: ’’ابا یہ آپ کی غلط فہمی ہے، اماں کام کرتی ہیں تو پیسے آتے ہیں، آپ کو اس لیے نہیں بتاتیں کہ آپ کا دل چھوٹا نہ ہو کہ عورت کی کمائی گھر میں آرہی ہے۔ وہ جو رشتے کرانے کا کام کرتی ہیں اُس کا معاوضہ وصول کرتی ہیں۔‘‘
عبدالغفور صاحب: ’’اچھا! میں تو سمجھا کہ فی سبیل اللہ کرتی ہیں۔ اس کام کا معاوضہ لینا تو غلط ہے، میں منع کروںگا۔‘‘
فرزانہ: ’’ابا! آپ کا بس چلے تو آپ نوکری بھی فی سبیل اللہ کر آئیں۔ میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو تم اپنے اہل و عیال پر کرو، اگر اماں چھت کی مرمت نہ کراتیں تو اِس سال بھی سارا سامان بارش میں بھیگ جاتا، مالک مکان نے اسی لیے تو کرایہ نہیں بڑھایا کہ اماں نے گھر کی مرمت کرالی۔ دو سلائی مشینیں وہ کہاں سے لائیں، ہم دونوں کو کہا ہے کہ کالج کے بعد کپڑے سیو۔ آج میں نے تین جوڑے سیے اور ریحانہ نے دو، عذرا آنٹی 2,500 روپے سلائی کے دے کر گئی ہیں، آج آپ کے لیے تحفے لانے کے پیسے بھی اماں نے دیے، وہ بالکل صحیح کرتی ہیں۔‘‘
عبدالغفور صاحب چپ ہوگئے، پھر کچھ توقف کے بعد بولے: ’’بیٹی! میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے چاندی کے کچھ سکے آگئے تھے، رات کا وقت تھا تو وہ سکے لے کر ہی حضرت عائشہؓ کے حجرے میں آگئے اور تکیے کے نیچے رکھ لیے، انتہائی بے چین۔ حضرت عائشہؓ نے سبب پوچھا تو فرمایا کہ یہ سکے میرے پاس رہ گئے اور میں جاں سے گزر گیا تو اللہ کو کیا جواب دوں گا… لہٰذا رات کو ہی جا کر وہ سکے خیرات کیے، پھر سوسکے۔‘‘
ریحانہ: ’’تو وہ سکے امانت تھے، انہوں نے امانت ادا کردی، آپ تو اپنے ذاتی پیسے بھی گھر والوں پر خرچ نہیں کرنا چاہتے، اماں آپ کی تنخواہ نہ لیں تو آپ سب باہر ہی خرچ کرکے آجائیں، ہم کس کی ذمے داری ہیں؟‘ُ
فرزانہ: ریحانہ! ایسے بات نہیں کرتے۔ ابا! ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بڑی ریاست یعنی عرب کے سربراہ تھے، میں مان ہی نہیں سکتی کہ وہ ایک پیسہ بھی نہ رکھتے ہوں۔ ایک پوری سلطنت چلانے کے لیے جس حُسنِ انتظام کی ضرورت ہے، وہ وسائل کے بغیر ممکن نہیں۔ ہتھیاروں کی خریداری، فوجوں کی خوراک کا انتظام، سلطنت کے کرتا دھرتا بھی پیٹ رکھتے ہیں، اُن کی تنخواہوں کی ادائیگی، سرکاری اداروں کے اخراجات… اگر میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب کچھ خیرات کردیتے تھے تو یہ سب کیسے ہوتا تھا؟ کیا وہ ایک ایک کام کے لیے مخیر حضرات کے منتظر رہتے تھے کہ کوئی امداد کرے تاکہ سرکاری عمال کی تنخواہیں ادا ہوں، کوئی زکوٰۃ نکالے تو سرکاری ادارے تعمیر ہوں؟‘‘
عبدالغفور صاحب: ’’ہم نے تو یہی سنا ہے کہ جنگ سے پہلے اللہ کے رسولؐ تمام مدینہ میں اعلان کرتے تھے کہ جنگ کے اخراجات کے لیے امداد ہو۔ حضرت عمرؓ اپنے گھر کا آدھا سامان لے آئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ تو اپنے گھر کا تمام ہی سامان لے آئے۔ میرے رسولؐ نے پوچھا کہ تم نے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: میرے گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کا رسولؐ کافی ہے۔‘‘
فرزانہ: بالکل صحیح کیا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے۔ آج بھارت اور پاکستان کی جنگ ہوجائے تو ہم بھی جانوں سمیت اپنی ہر چیز اللہ کی راہ میں قربان کردیں گے۔ ابھی جنگ نہیں ہورہی، کل مجھے یونیورسٹی میں اپنے سمسٹر کے 25 ہزار روپے جمع کرانے ہیں، یہ سرکاری یونیورسٹی کے نرخ ہیں، کیا میں لوگوں سے بھیک مانگوں؟ کیوں کہ آپ کی نظر میں صرف بھیک مانگنے والوں کو پیسہ دیا جاسکتا ہے، اولاد کو نہیں۔ اگر اماں دو سال سے میری یہ فیسیں نہ بھر رہی ہوتیں تو میری تعلیم نامکمل رہ جاتی، اور آپ چاہتے ہیں کہ وہ بھی فی سبیل اللہ رشتے کرائیں۔ کیا یہ آپ کا فرض نہیں تھا کہ ہمارے تعلیمی اخراجات اٹھاتے؟‘‘
عبدالغفور صاحب: ’’یعنی جو کچھ اللہ کے رسولؐ اور صحابہ کرامؓ کا اندازِ زندگی تھا، وہ غلط تھا؟‘‘
فرزانہ: ’’استغفراللہ، اسلام ابتدا میں انتہائی نازک اور بے دَم تھا، انہی صحابہؓ کی قربانیوں نے اسلام کو نئی زندگی دی۔ آج بھی اسلام خطرے میں ہیں، شیطانی قوتیں اسلام کے پائوں اکھاڑ چکی ہیں اور ہمیں پھر سے اس جذبے کی ضرورت ہے جو ابتدائے اسلام میں تھا، ویسے قائد کی ضرورت ہے جو ابتدائے اسلام میں تھا، ایک باقاعدہ تحریک اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے، اور ان کاموں کے لیے اپنی ضرورتوں کو بھی قربان کرکے تحریک کو بقا عطا کرنا عین رضائے ربانی ہے، مجھے اس سے ہرگز اختلاف نہیں۔ لیکن آپ تو دین کے قیام کے لیے کسی جماعت سے منسلک نہیں ہیں، آپ اللہ کا پیغام پہنچانے یا خود قرآن پڑھنے کے لیے بھی متحرک نہیں ہیں، پیشہ ور بھکاریوں کو اولاد کا حق کھلا کر آپ کس دین کی خدمت کررہے ہیں؟‘‘
ریحانہ: ’’اماں بھی اللہ کی راہ میں دیتی ہیں، بہت دیتی ہیں، مگر وہ ایک جماعت سے منسلک ہیں، اسی جماعت کو دیتی ہیں، اور وہ جماعت منظم انداز میں دین کی بقا اور مساکین کی فلاح کے لیے کام کرتی ہے۔ آپ یہ تو دیکھیں کہ رسولؐ اور صحابہؓ ایک جماعت تھے، بکھرے ہوئے نہیں تھے۔ کیا یہ سنت لائقِ توجہ نہیں؟ پھر جب ہم جماعت سے منسلک ہوں گے تو ہمارے وقت پر ہمارے ساتھی ہماری مدد بھی کریں گے، یہ اسلامی نظام ہے۔‘‘
عبدالغفور صاحب: ’’تم لوگوں کی نظر میں غلط صرف تمہارا باپ ہے، ماں نہیں۔ ٹھیک ہے وہ پیسہ جو زیادہ کماتی ہیں، تم لوگوں پر خرچ کرتی ہیں، دنیا پیسے کی ہے، مگر میں اللہ کی راہ میں ہی خرچ کروں گا۔‘‘
فرزانہ: ’’ابا! ایک بات بتائیں، خیرات کن لوگوں کو دی جاتی ہے؟ جن کی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہورہی ہوں۔ اگر سب کے باپ باہر خیرات کریں، اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کریں تو سب کو خیرات کی ضرورت ہوگی۔ اور اگر سب باپ ہی اپنے بچوں کی ضروریات پوری کردیں تو کسی کو خیرات کی ضرورت نہ ہو۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کب کہا کہ سب دے کر خالی ہاتھ بیٹھ جائو۔ یہ تو قرآن میں بھی ہے کہ سب ہی نہ دے بیٹھو کہ بالکل درماندہ ہوجائو۔ میرے رسولؐ نے میانہ روی کا حکم دیا ہے، آپ اپنی پوری پوری تنخواہ خیرات کردیتے تھے اس لیے اماں نے آپ کی تنخواہ لینی شروع کی۔ آپ سربراہ ہیں گھر کے، مگر آپ کی ذرا سی تنخواہ ناکافی ہے۔ اماں سارا سارا دن دھوپ میں اِس گھر سے اُس گھر گھومتی ہیں تو یہ گھر چلتا ہے۔ آپ کوئی پارٹ ٹائم نوکری کرنے کے بجائے اپنی اولاد کو خیرات کے لائق بنادیں گے۔‘‘
عبدالغفور صاحب: ’’ٹھیک ہے بیٹا! میں آپ لوگوں سے ناراض نہیں ہوں۔ اچھا ہوا آپ لوگوں نے مجھے یہ سب بتا دیا، آپ کی اماں تو مروت میں کبھی یہ سب نہ بتاتیں۔ جو مجھے سمجھ آیا وہ یہ ہے کہ انسان کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ خیرات لینے کے لائق نہ بن جائے، اس کے بچے ایک نارمل زندگی گزار سکیں۔ خیرات دینا اتنی بڑی نیکی نہیں جتنا خیرات لینے سے بچنے کی کوشش نیکی ہے۔ اگر سب اتنی زیادہ محنت کریں کہ ان پر خیرات لینے کا وقت نہ آئے تو یہ اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔‘‘
فرزانہ: ’’ابا! آپ دیکھیں کہ صحابہ کرامؓ اور میرے رسولؐ کتنی ز یادہ خیرات کرتے تھے، لیکن کیا کبھی آپ نے یہ سنا کہ ان میں سے کسی نے اپنی ذات کے لیے کچھ لیا ہو! پیٹ پر پتھر باندھ لیتے مگر کسی سے طلب نہ کرتے۔ یہی ایک مومن کی شان ہے۔ اور پھر اسی محنت سے امتِ رسول پر وہ وقت آیا کہ لوگ زکوٰۃ لے کر در در پھرتے تھے اور کوئی لینے والا نہ ہوتا تھا۔ پیسہ کمانا اور پیسہ کمانے کے لیے محنت کرنا کوئی برائی نہیں ہے، جیسے اماں سارا دن رشتوں کے سلسلے میں اِدھر اُدھر بھٹکتی ہیں اور رات کو عبادت کرتی ہیں، پھر اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے جماعت سے منسلک ہیں، اللہ کی راہ میں خرچ بھی کرتی ہیں اور اپنی اولاد کو بھی محرومیوں سے بچا کر رکھا ہوا ہے۔ یہ مومن ہے، جو ہمہ جہت ہے۔‘‘
عبدالغفور صاحب: ’’ہم تو ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ دولت رکھنا اور دولت کے پیچھے بھاگنا اللہ کو ناپسند ہے۔‘‘
فرزانہ: ’’دولت رکھنا اللہ کو ناپسند نہیں ہے، حضرت عثمان غنیؓ کے پاس دولت نہ ہوتی تو وہ یہودی سے منہ مانگے داموں پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کیسے کرتے؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس دولت نہ ہوتی تو وہ حضرت بلالؓ کو خرید کر آزاد کیسے کرتے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانؑ کو ہفت جہاں کی دولت عطا فرمائی۔ دولت بری نہیں ہے، دولت کمانے کے طریقے اور خرچ کرنے کے طریقے اللہ کی رضا کے مطابق ہونے چاہئیں۔ یہی دولت جنت بھی بھیج سکتی ہے اور جہنم بھی پہنچا سکتی ہے۔‘‘
عبدالغفور صاحب: ’’سمجھ گیا بیٹا! کوئی پارٹ ٹائم نوکری بھی ڈھونڈوں گا تاکہ آپ کی اماں کی تگ و دو میں کچھ کمی آئے۔ جو میری ذمے داری ہے، وہ میں ہی اٹھائوں گا، ان شاء اللہ۔

…٭…

اللہ کے فضل سے فرزانہ کا اچھی جگہ رشتہ طے ہوگیا تھا، لڑکا سعودی عرب میں انجینئر تھا، اچھا خاندان تھا۔ ندرت جہاں نے عبدالغفور صاحب کے موبائل فون میں 500 روپے کا کارڈ لوڈ کروایا کہ لڑکے کو سعودی عرب فون کرکے بات کرلینا۔ وہ دفتر چلے گئے، واپس آئے تو ندرت جہاں نے پوچھا کہ لڑکے سے کیا بات ہوئی؟‘‘
عبدالغفور صاحب آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ جب ذرا سختی سے پوچھا تو بتایا کہ ’’میرے فون پر ایک میسج آیا کہ ایک بچی اسپتال میں ہے اور اس کی ماں کو فون میں بیلنس کی اشد ضرورت ہے، اللہ اور رسول کی قسمیں دے کر وہ ماں بیلنس مانگ رہی تھی، تو میں نے سارا بیلنس اسے بھیج دیا۔‘‘۔
تینوں ماں بیٹیاں اپنا سر پیٹ کر رہ گئیں، ’’ایسے میسج تو لفنگے روز ہر ایک کے فون پر کرتے ہیں تاکہ مفت کا بیلنس ہاتھ آجائے، آپ جیسے سادہ دل لوگ ہی تو ان کا نشانہ ہوتے ہیں، کچھ تو عقل سے کام لیا کریں، اب سعودی عرب میں وہ لڑکا سارا دن منتظر رہا ہوگا‘‘۔ ندرت جہاں چلّائیں۔
عبدالغفور صاحب سر جھکائے بیگم کی ڈانٹ کھاتے رہے اور منتظر رہے کہ بیگم پانچ سو روپے کا ایک اور نوٹ دیں تو وہ فون میں بیلنس لوڈ کروا کر سعودی عرب بات کریں، مگر ندرت جہاں اب کہاں ایسی غلطی کرتیں! انہوں نے اپنے فون میں بیلنس ڈلوا کر خود ہی لڑکے سے بات کی اور شادی کے انتظامات میں بھی ایک پیسہ عبدالغفور صاحب کے حوالے نہ کیا۔

حصہ