۔”تمہاری کھال لے کر جاؤں گا”۔

127

’’السلام علیکم… آپ کے گھر قربانی کا جانور آیا ہے، براہ مہربانی چرمِ قربانی ہمیں دیں۔‘‘
’’بیٹا کس جماعت کی طرف سے آئے ہو؟ ویسے ہمارا ارادہ ہے کہ اِس مرتبہ چرمِ قربانی محلے کے مدرسے کو دیں۔‘‘
’’کوئی بات نہیں انکل، آپ کی مرضی۔‘‘
’’بیٹا تم نے بتایا نہیں کہ کون سی جماعت کی طرف سے آئے ہو؟‘‘
’’انکل ہم بیواؤں، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرتے ہیں، ہماری جماعت کے تحت پورے پاکستان میں ہزاروں فلاحی ادارے کام کررہے ہیں، صحت کے بیسیوں مراکز اورگشتی شفاخانے چل رہے ہیں، غریب بچوں کے لیے مفت تعلیم اور بے سہارا بچیوں کی شادیوں پر جہیز کا بندوبست کیا جاتا ہے، عوامی خدمت کے کئی اور بھی دوسرے کام ہیں جنہیں ہماری جماعت بخوبی انجام دے رہی ہے۔ یہ سب کچھ چرم قربانی اور آپ جیسے گھرانوں کی اعانت سے ہی کیا جاتا ہے۔‘‘
’’تمہاری باتوں نے مجھے بہت متاثر کیا، تمہاری عاجزی و انکسار دیکھ کر خوشی ہوئی۔ سب سے زیادہ خوشی تو اس بات کی ہے کہ جو کچھ بھی تم نے کہا یعنی جن فلاحی کاموں کا ذکر تم نے کیا، میں ان کے بارے میں خاصی معلومات رکھتا ہوں۔ واقعی تمہاری جماعت فلاحی کاموں میں قابلِ ذکر خدمات انجام دے رہی ہے۔ تم عید کے پہلے دن آجانا اور چرم قربانی لے جانا۔‘‘
عدنان بھائی کو اس جماعت کے کارکنوں کے ساتھ کیے جانے والے وعدے سے زیادہ اس بات کی خوشی تھی کہ وہ گزشتہ چند ہی برسوں سے اپنی مرضی کے مطابق چرم قربانی دے رہے ہیں۔ کبھی اس شہر میں کانا، بھینگا، لنگڑا، چریا اور ٹینشن جیسے نامور لوگ چرم قربانی وصول کرنے آیا کرتے، جن کا انداز ہی وکھرا ہوتا تھا۔ میری نگاہوں میں ایسے کئی مناظر آج بھی محفوظ ہیں۔ اُن دنوں ہمارے محلے میں ایک ایسا ہی کردار افضل ٹی ٹی بھی تھا، جسے چرم قربانی جمع کرنے کا چیتا کہا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ عید سے ایک روز قبل افضل ٹی ٹی بھائی ہمارے گھر آئے اور یوں گویا ہوئے: ’’سنا ہے تم ہماری پارٹی کو اپنی کھال نہیں دیتے!‘‘
’’نہیں نہیں ایسی بات نہیں ہے، بھائی آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے، ہم تو ہر عید پر سر جھکائے اس کارِخیر میں حصہ لیتے ہیں، اور پھر آپ کے ہوتے ہوئے بھلا کسی کی کیا مجال، کھال لینا تو دور کی بات جانور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔‘‘
’’بس بس، زیادہ باتیں بنانے کی ضرورت نہیں، کل میں خود آؤں گا اور تمہاری کھال لے کر جاؤں گا۔ اگر میرے سوا کھال کسی اور کو دی تو پھر سمجھ لینا۔‘‘
پھر کیا تھا، میری تو زندگی داؤ پر لگ چکی تھی، صبح جانور ذبح ہوتے ہی چرم قربانی دینے کے لیے میں خود افضل ٹی ٹی کو ڈھونڈنے لگا۔ ظاہر ہے جو شخص میرے گھر تک آن پہنچا تھا وہ ایک کھال نہ ملنے پر کچھ بھی کرسکتا تھا۔ بس اسی بات کو ذہن پر سوار کیے میں سارا دن افضل ٹی ٹی کی تلاش میں گلیوں کی خاک چھانتا رہا۔ اس دن اُس کے کئی ساتھی کھال وصول کرنے ہمارے گھر آئے، لیکن وعدہ تو وعدہ ہوتا ہے۔ اور پھر ایک ایسے شخص سے کیا ہوا وعدہ، جو خود آنے کا کہہ کر گیا ہو، جس کے نام کے ساتھ ’’ٹی ٹی‘‘ بھی لگا ہوا ہو… ایسے میں بھلا کون کسی دوسرے کو چرم قربانی دے سکتا تھا! خیر، گلیوں کی خاک چھاننے کے بعد شام ڈھلے اس سے ملاقات ہوئی۔ یوں میں نے چرم قربانی اُس کے حوالے کرکے اپنا اندراج زندہ رہنے والوں میں کروا لیا۔ اُس وقت ایسے واقعات کا ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔ کسی گھر سے کھال وصول نہ ہونے کی صورت میں اس کے مساوی پیسے وصول کیے جاتے، کبھی قربانی کے لیے لائے گئے جانوروں پر گولیاں برسا دی جاتیں، کسی فلاحی ادارے کی جانب سے اکٹھی کی گئی کھالیں چھین لی جاتیں، تو کہیں کسی مدرسے میں جمع کی گئی چرم قربانی پر ہاتھ صاف کیا جاتا۔ سارا دن اسی قسم کی ’’محنت، مشقت‘‘ کے بعد یہ نوجوان نئے ملبوسات زیب تن کیے بڑے فخریہ انداز میں انہی لوگوں سے عید ملنے نکلا کرتے جوکسی نہ کسی طور ان کے عتاب کا شکار رہے ہوں۔ بات یہیں تک محدود نہ تھی، بلکہ کراچی کے عوام کو ان حالات کا سامنا ہر تہوار پر ہی کرنا پڑتا۔ عیدالفطر پر فطرانہ اور زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھی ایسے ہی طریقے اپنائے جاتے تھے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب بظاہر شہر کے حالات بدلے، لیکن بدقسمتی سے کراچی سیاست کے نام پر لسانی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ اس تقسیم سے غریبوں کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آتی! جنہیں پہلے ایک سوراخ سے ڈسا جاتا تھا اس تقسیم کے بعد اُن پر دو دھاری تلوار سے وار کیے جانے لگے۔ ظاہر ہے شہر پر قبضے کی جنگ کے بعد لسانی تقسیم کے یہی نتائج برآمد ہونے تھے، جسے کراچی کے عوام کو تین دہائیوں تک بھگتنا پڑا۔
ذکر ہورہا تھا اپنی مرضی سے چرم قربانی دینے کا، اور بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ اُس دور میں ان گروہوں کے دبائو میں آکر لوگ چرم قربانی تو دیتے رہے، لیکن اس جبر سے چھٹکارا حاصل کرنے کی جستجو بھی کرتے رہے۔ پھر وہ وقت آیا جب اس مسئلے کا حل جگہ کی کمی اور مویشیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بہانہ بناکر اجتماعی قربانی کی صورت میں نکال لیا گیا۔ متوسط طبقے کے گھرانوں کو اجتماعی قربانی کے ذریعے چرم قربانی حق داروں تک پہنچنے کا طریقہ محفوظ دکھائی دینے لگا۔ اس لیے یہ رجحان تیزی سے بڑھا۔ یوں ضرورت مندوں، مدارس اور فلاحی اداروں کو بھی تھوڑی بہت چرم قربانی ملنے لگیں۔ میں مانتا ہوں کہ اب وہ حالات نہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہی اس شہر کے ماضی کی تلخ یادیں ہیں جنہیں بھلانا کوئی آسان کام نہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود پرانی یادوں کی تلخیوں کے ساتھ ہی سہی، آگے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چرم قربانی کسے دیں اورکس ادارے کو نہ دیں؟
اس کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، چرم قربانی اُس فلاحی ادارے کو دیں جو نادار اور مستحق طبقے کے لیے کم قیمت میں صحت عامہ کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ جس کے تحت 22 میٹرنٹی ہوم، 19 جنرل اسپتال، 154کلینک وڈسپنسریاں،109 ڈائیگنوسٹک سینٹر، کلیکشن سینٹر، 5 بلڈ بینک، 3 تھیلے سیمیا سینٹر اور298 ایمبولینس چلائی جارہی ہیں، جس نے تھرپارکر اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سمیت ملک بھر میں 417 فری میڈیکل کیمپ منعقد کیے، جس کی جانب سے قائم کیے گئے صحتِ عامہ کے پراجیکٹس سے گزشتہ سال 67 لاکھ سے زائد مریضوں نے استفادہ کیا، جو خاص طور پر ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے اقدامات اٹھا رہا ہے، جو شعبہ تعلیم میں الفلاح اسکالرشپ اسکیم کے تحت ملک بھر میں ایسے ذہین طلبہ و طالبات کے لیے وظائف کا اہتمام کرتا ہے جو وسائل نہ ہونے کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔ جس ادارے کی جانب سے گزشتہ سال میڈیکل، انجینئرنگ، ایڈمنسٹریشن، کامرس سمیت دیگر شعبوں میں 863 طلبہ و طالبات کو وظائف دئیے گئے۔ چرم قربانی دینے کے لیے اس فلاحی ادارے سے بہتر کون سا ادارہ ہوسکتا ہے جس کے تحت خیبر پختون خوا، سندھ اور پنجاب سمیت دیگر علاقوں میں 60 سے زائد اسکول نہ صرف کام کررہے ہیں بلکہ مستحق طلبہ و طالبات میں یونیفارم، اسٹیشنری اور اسکول بیگ بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 13 لاکھ اسٹریٹ چلڈرن ہیں جو حکومتی عدم توجہ اور معاشرتی رویوں کے باعث گھروں اور تعلیمی اداروں میں اپنا وقت گزارنے کے بجائے سڑکوں پر وقت گزارنے پر مجبور ہیں، جس ادارے نے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں 18چائلڈ پروٹیکشن سینٹر چلائے، جن میں 750 بچوں کو رسمی و غیر رسمی تعلیم، صحت کی بنیادی سہولیات، حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک کے ساتھ ساتھ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں فراہم کی جارہی ہیں۔ ایجوکیشن پروگرام میں اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر کے قیام، 37 اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر، صاف پانی کے منصوبوں پر کام کرتے ہوئے جس فلاحی ادارے نے ملک بھر میں 96 واٹر فلٹریشن پلانٹ، 1750 کنویں، 4225 ہینڈ پمپ،350 سب مرسبل واٹر پمپ،88 گریوٹی فلو واٹر اسکیم اور389 دیگر منصوبہ جات لگائے۔ اتنے منصوبے دیکھ کر ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں ایک ہی نام کی گونج سنائی دے گی، صاف طور پر دکھائی دینے لگے گا کہ کون سا فلاحی ادارہ صحیح سمت میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان جھوٹے دعویداروں، دین کے نام پر ٹھگنے والوں، یتیموں، بیوائوں، مفلسوں اورغریبوں کے نام پر کھالیں اور چندہ جمع کرنے والوں پر سختی سے نگاہ رکھنی ہوگی جو محض سیزن کمانے کی غرض سے کسی نہ کسی کاغذی فلاحی تنظیم کا نام استعمال کرتے ہیں۔ کیوں کہ صحیح مستحقین تک ان کا حق پہنچانے سے ہی عیدالاضحی کے حقیقی تقاضے پورے ہوسکتے ہیں۔ اور یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی ہوگی کہ قربانی جانور ذبح کرنے اور گوشت کھانے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایثار و جاں نثاری، تقویٰ وطہارت، مومنانہ صورت و سیرت اور مجاہدانہ کردار کا نام ہے۔
فرمانِ خداوندی ہے: ’’اللہ تک تمہاری قربانیوں کا گوشت یا خون ہرگز نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ (سورہ الحج :37)
فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
’’بے شک اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم:2567)
لہٰذا قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمارا فرض ہے کہ سنتِ ابراہیمی دکھلاوے کے بجائے اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ادا کریں۔

حصہ